سوال ذہنوں کا ہے اور ذہن بند ہیں

نقطہ نظر - ایاز امیر

09 نومبر 2019

The question is of the mind and the mind is closed

عوام کا ذہن نہیں، عوام کو تو جو راستہ دکھایا جائے گا اُسی پر چل پڑیں گے۔ ریاست نے جو بھی پالیسیاں بنائیں عوام نے اُن کا نعرہ لگایا۔ بند ذہن ہے تو ریاست کا۔ ریاست کی سوچ ایسی بن چکی ہے اور ریاست کی ترجیحات ایسی ہیں کہ اِن کے ہوتے ہوئے آپ لاکھ جتن کریں پاکستان Pakistan اِس گرداب سے نہیں نکل سکتا جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کو سُنیں تو ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔ دنیا کو اور کوئی کام نہیں سوائے پاکستان Pakistan دشمنی کے۔ درحقیقت پاکستان Pakistan کو بیرونی خطرہ کوئی نہیں۔ خطرہ کوئی ہے تو اندرونی ترجیحات کی وجہ سے۔ جیسے بارڈر ہمارے بند ہیں، نہ آمد و رفت ہندوستان کے ساتھ نہ وہ تعلقات افغانستان Afghanistan کے ساتھ جو ہونے چاہئیں، یہاں نہ سرمایہ کاری ہو سکتی ہے نہ کوئی ڈویلپمنٹ۔ معاشی مسائل تو ہیں ہی لیکن پاکستان Pakistan دنیا کا واحد ملک نہیں جس کو ایسے مسائل کا سامنا ہے۔ دیگر ممالک میں پاکستان Pakistan سے بڑے معاشی بحران آئے ہیں اور اُن ممالک نے اُن کا سامنا کیا ہے۔ لیکن ہماری مخصوص نفسیات بن چکی ہے۔ جب تک اُس میں تبدیلی نہ آئے اچھے راستے نہیں کھل سکتے۔ بغور جائزہ تو لیں سرکار کے کاموں سے لیکر روزمرّہ کی عادات تک، کوئی شائبہ نہیں ملتا کہ یہاں کے باسی ماڈرن دنیا میں رہتے ہیں۔ قوم کو آئی ایم ایف کے پیسوں کی اتنی ضرورت نہیں جتنا کہ کسی جھٹکے کی ضرورت ہے۔ ایسا جھٹکا جس سے لوگ سوچنے پہ مجبور ہو جائیں کہ اگر اپنے حالات بدلنے ہیں، اقوام عالم میں اپنا مقام بنانا ہے، تو ہمیں اپنی قومی عادات تبدیل کرنا پڑیں گی۔

دو چیزیں ہم کر لیں تو جھٹکے کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ ایک تو جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کے چند مخصوص قوانین کو قانونی کتب سے نکال دیا جائے۔ جو ہمارے ہاں قوانین رائج ہیں سعودی عرب Saudi Arabia جیسے ملک میں تو ایسے ہوں گے لیکن جنہیں آپ ماڈرن یا روشن خیال معاشرے کہتے ہیں اُن میں نہیں ہیں۔ اِن قوانین کا نام کیا لینا۔ کئی چیزوں کے بارے میں ہماری حساسیت زیادہ ہے اورکھل کے بات ان پہ ہو نہیں سکتی۔ لیکن اتنا تو احساس ہمیں ہونا چاہیے کہ 1970ء کی دہائی کے آخر میں اور 1980ء کی دہائی کے شروع میں جو سماجی قسم کے قوانین بنائے گئے جب تک اُن کو مٹا نہ دیا جائے‘ ذہنی طور پہ پاکستان Pakistan ایک آزاد اور روشن خیال مملکت نہیں ہو سکتی۔ ہم غلامی کی بات کرتے ہیں لیکن ایک عجیب قسم کی غلامی میں ہم نے اپنے آپ کو جکڑا ہوا ہے۔

افسوس اِس بات کا ہے کہ جنرل ضیاء کے بعد کسی حکمران میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ مطلوبہ تبدیلیاں لا سکے۔ نام نہاد جمہوری لیڈران اپنے سایوں سے ڈرتے رہے‘ انہوں نے جنرل ضیاء کے ورثے کو کیا چھیڑنا تھا لیکن فوجی طاقت سے لیس حکمران جنرل پرویز مشرف جن کے پاس موقع تھا کہ بہت کچھ کرتے‘ وہ بھی اِن مخصوص قوانین پہ ہاتھ نہ رکھ سکے۔

پتہ نہیں ہم اپنے سکولوں میں کیا پڑھاتے ہیں۔ چین China سے دوستی پہ ہمیں بڑا ناز ہے۔ کچھ چینی انقلاب کے بارے میں ہی پڑھ لیں۔ چیئرمین ماؤ کی زندگی کا مطالعہ کر لیں۔ چینی معاشرہ ہم سے زیادہ پسماندہ تھا۔ چین China کو افیمچی قوم کہا جاتا تھا۔ چیئرمین ماؤ اور چینی کمیونسٹ پارٹی نے اُس قوم کی ہیئت بدل ڈالی۔ چین China خواہ مخواہ ترقی نہیں کر رہا۔ چینی انقلاب نہ آتا تو چین China ایک سپر پاور بننے نہ جا رہا ہوتا۔ ہم نے چین China سے کیا سیکھا ہے؟ ترقی کی پہلی شرط سڑکیں یا ریلوے لائنیں نہیں۔ پہلی شرط ذہنی آزادی ہے۔ پہلی شرط سوچ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ وہ نہ ہو تو آپ ایک چھوڑ کر درجن سی پیک CPEC ترتیب دے ڈالیں قوم ذہنی پسماندگی سے نہیں نکل پائے گی۔

ترکی سے دوستی پہ بھی ہمیں بڑا ناز ہے۔ دوستی ہے تو ترکی کی تاریخ تو پڑھ لیں۔ مصطفی کمال کی زندگی کا مطالعہ کر لیں۔ میدان جنگ میں اپنا نام منوایا۔ پھر غیر ملکی تسلط کے خلاف جنگ کی کمان کی۔ اُسی پہ اکتفا نہ کیا۔ بطور لیڈر اپنی قوم کو گریبان سے پکڑ کر پرانی سوچوں میں سے نکال کر نئی دنیا میں لے آئے۔ قدامت پسند سلطنت تھی۔ اُسے ایک ماڈرن ری پبلک بنا دیا۔ اور تو اور اپنے دیس کا لباس، مردوں اور عورتوں کا، تبدیل کر ڈالا۔ ترکی زبان کی سکرپٹ تبدیل کر دی۔ اَتا تُرک نہ ہوتے تو ماڈرن ترکی معرضِ وجود میں نہ آتا۔ اَتا تُرک کا تشکیل کردہ ترکی نہ ہوتا تو طیب اردوان ایک بڑے لیڈر کی حیثیت سے نہ اُبھر سکتے۔

بتائیے ہم میں وہ کونسی چیز ہے جو چین China یا ترکی سے مماثلت رکھتی ہو؟ بس باتیں ہم کیے جاتے ہیں۔ سوچ اور عمل کا مکمل فقدان ہے۔ جمہوریت رہنی چاہیے، اِس پہ کبھی کوئی آنچ نہ آئے۔ لیکن اعلیٰ اقدار کی لیڈرشپ کی بھی ضرورت ہے۔ وہ کہاں سے آئے گی؟ ایسی قیادت جو قومی سوچ میں تبدیلی لا سکے۔ ہر اطراف کے جھگڑے ختم کرنے کی شروعات کرے۔ یہ کیا ہم نے اپنا قومی فلسفہ بنا رکھا ہے کہ ہمیں ہندوستان سے خطرہ ہے؟ ہندوستان کیا ہمارا کر سکتا ہے؟ ہماری فوج کوئی چھوٹی فوج نہیں ہے۔ اِس میں ملک و قوم کے دفاع کی پوری صلاحیت ہے۔ ہندوستان کی فوج ہم سے جتنی بھی بڑی ہو ‘ افواج پاکستان Pakistan کی بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے سبب مشرقی بارڈر پہ دفاعی اعتبار سے ایک برابری کی حالت موجود ہے۔ ہندوستان کے پاس ٹینک کچھ زیادہ ہوں گے لیکن ہمارے پاس بھی کم نہیں۔ ایٹمی قوت اُن کے پاس ہے تو ہمارے پاس بھی ہے۔ تو ڈر پھر کس بات کا ہے؟ ہر چیز کو ہندوستان کے زاویے سے دیکھنا، یہ روش ہمیں ترک کر دینی چاہیے۔ ہندوستان دشمنی ہماری عالمی پہچان بن چکی ہے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ ہمیں اِس سے نکلنا چاہیے۔ اِس سے بڑھ کر ہمیں ہندوستان والا بارڈر نرم کرنا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں میں آمدورفت بڑھے۔ نریندر مودی narendra modi وہاں کے وزیر اعظم Prime Minister ہیں تو یہ حادثاتِ زمانہ کا حصہ ہے۔ لیڈر کوئی دائمی نہیں رہتا۔ ملک رہتے ہیں۔ جغرافیے کی اٹل حقیقت ہوتی ہے۔ ہم ہمسایے تبدیل نہیں کر سکتے اور یہ جو پکی دشمنی ہم نے بنا رکھی ہے اِس سے ہندوستان کو تو جو نقصان ہونا ہے ہو گا ہمیں بھی اِس کا بہت نقصان ہے۔ پاکستان Pakistan نے خود کو محصور کر کے رکھا ہوا ہے۔ ماسوائے چین China کے ہمارے سارے بارڈروں پہ تناؤ کی کیفیت ہے۔ اِس کیفیت سے پاکستان Pakistan کو نکلنے کی ضرورت ہے۔

نہ صرف بارڈر نرم ہوں بلکہ تجارت کی ریل پیل ہندوستان سے لے کر وسطی ایشیاء اور چین China تک ہو اور پاکستان Pakistan اس تجارت کا کلیدی حصہ ہو۔ جس کو بھی کہیں جانا ہے یہاں سے گزر کے جانا ہو گا۔ اس میں ہمارا فائدہ ہے یا نقصان؟ اور یہ جو اقدام ہیں کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کے اوپر سے اُڑنا چاہیں اور ہم اجازت نہ دیں‘ ایسے اقدامات تنگ نظری کی علامت ہیں۔ اِن کے کرنے سے ہمارا قد بڑھتا نہیں۔ رہا کشمیر تو جذبات سے ہٹ کر دیکھنا یہ چاہیے کہ کون سی چیز ممکنات میں سے ہے۔ اظہارِ جذبات سے مسائل نے حل ہونا ہوتا تو مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ کشمیر پہ ہمارا مؤقف نہیں بدلنا چاہیے لیکن کشمیر کی وجہ سے اور راستے بند نہیں ہونے چاہئیں۔

ایسی رائے پاکستان Pakistan میں مقبول نہیں۔ ہمارے حکمران طبقات میں یہ سوچ بہت گہری ہو چکی ہے کہ ہندوستان سے دائمی دشمنی رہنی چاہیے۔ اِس سوچ پہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔ لیکن جرات اور سوچ رکھنے والا لیڈر ہی ایسا کر سکتا ہے۔ ہمارے جو حکمران آتے ہیں وہ تو اُن گرامو فون ریکارڈز کی مانند ہوتے ہیں جن پہ لکھا ہوتا تھا His Master's Voice۔ اگر اِن کی اپنی سوچ مختلف بھی رہی تو اُنہیں اِس کے اظہار کی ہمت نہ ہوئی۔

اِسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی اہمیت ہے۔ وہ کیا کہہ رہے ہیں، اُن کا بنیادی نکتہ کیا ہے؟ کہ حکمرانی کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہونا چاہیے۔ اور اِس حق پہ کوئی شب خون نہیں مارا جانا چاہیے۔ دیکھیے تو سہی‘ مولانا جن سے مخاطب ہیں اُن کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کہیں۔ بات کرتے بھی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ دفاعی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ دھرنے سے کیا نکلتا ہے ہم نہیں کہہ سکتے‘ لیکن مولانا نے قومی گفتگو کو ایک نئی جہت دیدی ہے۔ یہ اُن کی بڑی کامیابی ہے۔

 133