عمران اور مولانا کے دھرنے۔ ایک موازنہ

جر گہ - سلیم صافی

09 نومبر 2019

عمران اور مولانا کے دھرنے۔ ایک موازنہ

2014میں عمران خان Imran Khan اسلام آباد Islamabad فتح کرنے کے لئے آرہے تھے تو دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور آج مولانا صاحب بھی مبینہ انتخابی دھاندلی ہی کو بنیاد بنا کر دھرنا دے رہے ہیں۔ عمران بھی وقت کے وزیراعظم کا استعفیٰ مانگ رہے تھے اور مولانا بھی وقت کے وزیراعظم کا استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔ عمران بھی کنٹینر پر چڑھ گئے تھے اور مولانا بھی کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں۔ عمران خان Imran Khan حملہ آور ہوئے تھے تو پاکستان Pakistan میں دہشت گردی عروج پر تھی، خودکش دھماکے روز کا معمول تھے، شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز ہوا تھا، لاکھوں پختون بےگھر ہوئے تھے، انڈیا اور امریکہ United States کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے اور چینی صدر سی پیک CPEC کی بنیاد رکھنے کے لئے پاکستان Pakistan آرہے تھے۔ آج مولانا حملہ آور ہیں تو کشمیر کا مسئلہ، المیہ بن گیا ہے اور افغانستان Afghanistan کا قضیہ فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان Imran Khan اور مولانا ایک جیسا کام کررہے ہیں لیکن کچھ حوالوں سے عمران خان Imran Khan کے دھرنے اور مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مثلاً عمران خان Imran Khan کا دھرنا آبپارہ چوک تک قانونی تھا لیکن وہاں سے آگے بڑھنے کے بعد غیرقانونی ہو گیا تھا لیکن مولانا کا دھرنا جب تک پشاور موڑ پر ہے اور وعدے کے مطابق شرکا آگے نہیں بڑھتے تب تک جمہوری اور قانونی ہے۔ عمران کے دھرنے میں پولیس افسران کو مارا پیٹا گیا اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دی جاتی رہیں لیکن مولانا کے دھرنے میں ابھی تک کسی سپاہی کے ساتھ بھی بدتمیزی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ عمران کے دھرنے میں سپریم کورٹ کی عمارت پر گندے کپڑے لٹکائے اور پارلیمنٹ پر حملے کئے گئے لیکن مولانا کے دھرنے میں ابھی تک ان اداروں کے احترام اور وقار پر زور دیا جارہا ہے۔ عمران کے دھرنوں میں جیو کے دفاتر پر روز پتھرائو ہوتا رہا اور پی ٹی وی تک پر حملہ کیا گیا لیکن مولانا کے دھرنے میں ابھی تک ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ عمران کے دھرنے میں ثناء مرزا اور فرحت جاوید جیسی خواتین صحافیوں کے ساتھ بدتمیزیوں کے فوٹیج سامنے آرہے تھے لیکن مولانا کے دھرنے میں ایسے مناظر سامنے آرہے ہیں کہ خاتون رپورٹر بارش میں رپورٹنگ کررہی ہیں تو مولانا کے ایک رضا کار ان کے سر پر چادر ڈالتے جبکہ دوسرے خود بارش میں بھیگتے ہوئے ان کو بارش سے بچانے کے لئے چھتری تھامے نظر آرہے ہیں۔

عمران کے دھرنے کے نتیجے میں میڈیا تقسیم اور بےوقعت ہوا جبکہ مولانا کے دھرنے کے نتیجے میں کچھ وقت کے لئے سہی لیکن بہر حال میڈیا پر عائد سنسرشپ میں تھوڑی سی کمی آئی۔ پہلے الزام لگتا تھا کہ عمران کا دھرنا اسکرپٹ کا نتیجہ ہے لیکن مولانا کے دھرنے پر ایسا کوئی الزام نہیں۔ اسی طرح عمران کے دھرنے میں امپائر کی طرف اشارے کا تاثر دیا جاتا تھا لیکن مولانا کے دھرنے میں صورتحال اس کے بر عکس ہے۔

عمران کے دھرنے میں مڈل کلاس لوگ نظر آتے تھے لیکن مولانا کے دھرنے میں لوئر اور انتہائی غریب کلاس کے لوگوں کا غلبہ ہے۔ عمران کے دھرنے میں زیادہ شرکاء وسطی پنجاب اور پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ہوتے تھے لیکن مولانا کے دھرنے میں پختونخوا، بلوچستان، سرائیکی بیلٹ اور اندرون سندھ کے شرکاء کی اکثریت ہے جبکہ وسطی پنجاب کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ عمران خان Imran Khan کے دھرنے کے کنٹینر پر کینیڈا، امریکہ United States اور برطانیہ کے شہری بھی نظر آتے تھے لیکن مولانا کے کنٹینر پر ابھی تک کوئی دہری شہریت والا نظرنہیں آیا۔ عمران کے کنٹینر پر نغمے سنانا روز کا معمول تھا اور شرکا کی تفریح کے لئے سنگرز بھی وقتاً فوقتاً بلائے جاتے تھے لیکن مولانا کے کنٹینر پر ایسا کچھ نہیں ہورہا بلکہ نعتیں یا پھر نظمیں سنانا معمول ہے۔ عمران کے دھرنے میں عید کے سوا کوئی نماز باجماعت نہیں پڑھی گئی لیکن مولانا کے دھرنے میں ہر نماز باجماعت پڑھی جارہی ہے۔

عمران کے دھرنے کے اسٹیج پر اُن کی جماعت کے سوا کسی اور جماعت کا رہنما نظر نہیں آیا۔ چوہدری صاحبان بھی اُن کے کنٹینر پر جانے کے بجائے طاہر القادری کے کنٹینر پر جاتے تھے۔ تب پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم جیسی اپوزیشن جماعتوں میں سے کسی نے بھی اُن کے دھرنے کی حمایت نہیں کی لیکن مولانا کے دھرنے کے اسٹیج پر تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنما نظر آتے ہیں۔ عمران خان Imran Khan کے دھرنے نے اِس وقت کی اپوزیشن جماعتوں مثلاً پی پی اور اے این پی کو بھی حکومت کے پیچھے لاکھڑا کیا لیکن مولانا کے دھرنے میں ساری اپوزیشن حکومت کے خاتمے اور نئے الیکشن کے لئے یک زبان ہو گئی۔ عمران کے دھرنے کے نتیجے میں اصل فائدہ جنرل پرویز مشرف کو ہوا تھا لیکن مولانا کے دھرنے نے سب سے زیادہ پرویز مشرف کے جانشینوں کو آزمائش سے دوچار کردیا ہے۔

عمران خان Imran Khan کے دھرنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان جمہوری قوتوں کو ہوا تھا لیکن مولانا کے دھرنے کے نتیجے میں جمہوری قوتوں میں تھوڑی سی جان آگئی ہے۔ عمران خان Imran Khan کے دھرنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ(ن) کو ہوا تھا اور اس کی حکومت پرویز مشرف کے جانشینوں کے مقابلے میں کمزور ہو گئی تھی لیکن مولانا کے دھرنے کے نتیجے میں سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ(ن) کو پہنچا ہے۔

یہ فرق ہے عمران اور مولانا کے دھرنے میں۔ فرق نہیں آیا تو ہم طالب علموں کے موقف میں نہیں آیا۔ تب بھی عمران خان Imran Khan کے احتجاج کے حق کو تسلیم کر رہے تھے لیکن دھونس کے ذریعے حکومت کے خاتمے کے حق میں نہیں تھے اور آج بھی مولانا کے حقِ احتجاج کو تسلیم کررہے ہیں لیکن دھمکی اور دھونس کے ذریعے حکومت کو ختم کرانے کے حق میں نہیں۔ تب عمران خان Imran Khan سے التجا کررہے تھے کہ وہ احتجاج کریں لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں تاہم عمران خان Imran Khan نے کب ہماری سننا تھی اور آج بھی مولانا سے یہ گزارش کررہے ہیں کہ وہ احتجاج کا اپنا حق استعمال کریں لیکن قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ مولانا ابھی تک تو ان التجائوں کو سن رہے ہیں، دیکھتے ہیں وہ آگے کیا کرتےہیں۔

 146