راہ پیا جانے، یا واہ پیا جانے

کٹہرا - خالد مسعود خان

09 نومبر 2019

راہ پیا جانے، یا واہ پیا جانے

ہمارے مقدر میں بھی کیا کیا دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔ تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت بھی ہر وہ کام کر رہی ہے جس کا ملبہ وہ گزشتہ حکمرانوں پر ڈال کر اقتدار میں آئی ہے۔ کوئی ایک الزام؟ الزامات کی ایک طویل فہرست ہے۔ بھارت India سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی بات۔ کشمیر پر آنکھیں بند کرنے کا دعویٰ۔ قرضے لینے کا الزام۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن اور معاشی غلامی کی بات۔ کشکول پھیلانے کا الزام۔ پارلیمنٹ سے بالابالا گھر میں بیٹھ کر فیصلے پر تنقید۔ اب سب کچھ وہی ہو رہا ہے‘ جس کا الزام عمران خان Imran Khan ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر اس وقت کے حکمرانوں پر لگایا کرتے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہیں پتا چلا کہ یہ حرکتیں مسلم لیگی حکمران یا پیپلز پارٹی کے حکمران نہیں کرتے تھے بلکہ یہ کام پاکستان Pakistan کے حکمران کیا کرتے ہیں۔ اب عمران خان Imran Khan پاکستان Pakistan کے حکمران ہیں، سو وہ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو اس ملک کے حکمران کرتے رہے ہیں۔ عمران خان Imran Khan کوئی مریخ سے آئے ہیں؟

تیسری دنیا کے تقریباً سبھی حکمرانوں کا عمومی رویہ یہی ہے جو پاکستان Pakistan کے حکمرانوں کا ہے۔ وہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو مملکت خداداد کو اپنی ذاتی جاگیر اور چراگاہ سمجھ کر ایوانِ اقتدار میں براجمان ہوتے ہیں اور سب کچھ عین وہی کرتے ہیں جو گزشتہ حکمران کیا کرتے تھے اور جسے وہ مقدور بھر مطعون کیا کرتے سانس نہیں لیا کرتے تھے۔ حکمرانوں کی تسلی ہی نہیں ہوتی اور وہ اپنے اقتدار کو نا مکمل اور ادھورا سمجھتے ہیں ‘اگر اس میں مطلق العنانی شامل نہ ہو۔ ہماری جمہوریت دراصل بغیر وردی ٹائپ کی جمہوریت ہے۔ ہم وردی والے حکمرانوں کے خلاف بھی ہیں لیکن لا شعوری طور پر اپنے لیے ویسا ہی اقتدار چاہتے ہیں جیسا کہ آمروں کو نصیب ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر اپنے عمران خان Imran Khan صاحب تک‘ کسی بھی جمہوری حکمران کو دیکھ لیں۔ سب کا رویہ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq اور پرویز مشرف جیسا ہی لگتا ہے۔ پرویز مشرف نے جس طرح میر ظفر اللہ جمالی کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر وزارتِ عظمیٰ سے نوازا تھا‘ بالکل اسی طرح عمران خان Imran Khan اپنے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ جیسے پرویز مشرف اپنے چاہنے والوں کو حکومتی ریوڑیاں تقسیم کرتے تھے اور طارق عزیز وغیرہ کو کھل کھیلنے کا موقعہ دیا کرتے تھے‘ عمران خان Imran Khan اسی طرح زلفی بخاری، نوشیرواں برکی اور انیل مسرت وغیرہ کو اپنی مرضی اور صوابدید سے جہاں چاہتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں فٹ کر دیتے ہیں۔ نہ پہلے کوئی پوچھنے والا تھا اور نہ ہی اب کسی کا ڈر خوف ہے۔ سیاں کوتوال ہو تو بھلا کس بات کا ڈر خوف رہ جاتا ہے؟ سو عمران خان Imran Khan کی صوابدیدی تعیناتیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔

ہمارے حکمران اس وقت تک اپنے آپ کو پورے حکمران تسلیم نہیں کرتے جب تک وہ قواعدو ضوابط اور قاعدے قوانین کو اپنے دست و بازو سے توڑ کر نہ رکھ دیں۔ یہی حال اس وقت کرتارپور راہداری والے معاملے میں ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں معاہدے حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں اور اس میں کوئی بھی تبدیلی یا کمی بیشی باہمی رضا مندی سے ہوتی ہے اور کسی باقاعدہ فورم کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ادھر یہ حال ہے کہ نواز شریف Nawaz Sharif اینڈ کمپنی کو من مانی کرنے کے طعنے دینے اور فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے گھر بیٹھ کر یا کچن کیبنٹ میں کرنے کے الزام لگانے والے عمران خان Imran Khan پارلیمنٹ اور کیبنٹ وغیرہ کی منظوری کے خود سرے سے ہی منکر ہیں اور بیٹھے بٹھائے جو دل کرتا ہے اعلان فرما دیتے ہیں۔ اور نواز شریف Nawaz Sharif اور زرداری خاندان کو خاندانی حکومتوں کے طعنے مارنے والے عمران خان Imran Khan تو ماشاء اللہ یک و تنہا ہی وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو پورا نواز شریف Nawaz Sharif خاندان اور زرداری خاندان مل کر کرتا تھا؛ تاہم خاتون اول کی پس پردہ پیشین گوئیوں کے بارے میں یہ عاجز فی الحال خاموش ہے کہ یہ وہ موضوع ہے جس پر الگ سے کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔

کرتارپور راہداری کا معاہدہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان حکومتی سطح کا معاہدہ ہے۔ ویسے تو اس معاہدے میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو ملکی سکیورٹی کے حوالے سے‘ اور خاص طور پر جب فریق ثانی بھارت India ہو‘ قابلِ توجہ ہیں‘ مگر فی الوقت خالصہ کارڈ کے نام پر کئی معاملات پر جو مفاہمت کی گئی ہے اس سے قطع نظر، ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ کرتارپور صاحب‘ بابا گورونانک کے حوالے سے سکھوں کے لیے یقینی طور پر بہت مقدس اور محترم مقام ہے‘ لیکن اس راہداری کے ذریعے کرتارپور آنے کے لیے سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے اجازت کی کیا تُک بنتی ہے؟ کرتارپور صاحب کی زیارت کے لیے سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب (علاوہ مسلمان) کے ماننے والوں کو انہی شرائط پر جو سکھوں کے لیے لاگو کی گئی ہیں کرتارپور راہداری کے ذریعے پاکستان Pakistan آنے کی اجازت دینا بالکل ویسے ہی لگتا ہے، جیسے کسی غیر مسلم کو عمرے کا ویزہ جاری کر دیا جائے۔ مقام سکھوں کے لیے مقدس و متبرک ہے اور آنے کی اجازت سکھوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی۔یہ گھنڈی اس عاجز کی سمجھ سے بالاتر ہے، کسی اور کو سمجھ آ گئی ہو تو الگ بات ہے۔

اس معاہدے کی کل اٹھارہ شقیں ہیں۔ ترجمے میں معمولی اونچ نیچ کی معذرت۔ شق نمبر چار ہے کہ ''زائرین کارآمد پاسپورٹ پر سفر کر سکیں گے۔ ان زائرین میں بھارتی Indian پاسپورٹ رکھنے والے اور وہ لوگ جو بھارتی Indian نژاد ہیں اور ان کے پاس اوور سیز بھارتی Indian کارڈ اور پاسپورٹ ہے‘ شامل ہیں‘‘ ۔اسی طرح اس معاہدے کی شق نمبر سولہ ہے کہ'' اس معاہدے میں کوئی ترمیم، اضافہ یا اصلاح فریقین کی باہمی تحریری رضا مندی سے ہوگی‘‘۔ عمران خان Imran Khan صاحب نے یکطرفہ طور پر دونوں شقوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے فریقین کی تحریری رضامندی کے بغیر طے شدہ معاہدے میں ترمیم کر دی اور شق نمبر چار میں پاسپورٹ پر سفر کرنے کی پابندی کو ختم کرتے ہوئے ایک سال کے لیے بھارت India سے آنے والے سکھوں کو صرف بھارتی Indian شناختی کارڈ پر پاکستان Pakistan داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی Indian شناختی کارڈ اس طرح مشین ریڈ ایبل نہیں ہے جیسا کہ پاکستان Pakistan کا نادرا کارڈ ہے اور نہ ہی اس میں کارڈ ہولڈر کی مکمل تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔

سکھ کارڈ اپنی جگہ لیکن بھارت India سے سکھ مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کے آنے والے زائرین کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کون اصلی زائر ہے اور کون بھارتی Indian ایجنٹ۔ کون کرتارپور صاحب کی زیارت کرنے آیا ہے اور کون حساس معلومات شیئر کرنے کے لیے اس گوردوارے کے احاطے میں داخل ہوا ہے۔ اگر کلبھوشن یادیو kulbhushan yadav کو بھارتی Indian حکومت مبارک پٹیل کا جعلی پاسپورٹ جاری کر سکتی ہے تو زائرین کے روپ میں آنے والے کسی بھارتی Indian ایجنٹ کو بھارتی Indian شناختی کارڈ جاری کرنا مودی سرکار کے لیے کون سا مشکل کام ہے؟

میں ذاتی طور پر سکھوں کو ملنے والی اس سہولت کے ذریعے حاصل ہونے والی کمیونٹی کی حمایت کو ایک سفارتی پوائنٹ سکورنگ سمجھتا ہوں اور موجودہ حالات میں یہ وہ سفارتی، علاقائی اور سیاسی دائو ہے جو مودی سرکار کے لیے ہضم کرنا مشکل تھا، لیکن یاد رہے کہ ہم معاہدے کرنے میں کوئی نہ کوئی ایسی غفلت اور بے وقوفی کر جاتے ہیں جو بعد ازاں ہمارے لیے سراسر نقصان اور گھاٹے کا باعث بنتی ہے۔ سندھ طاس کا معاہدہ اس کی روشن مثال ہے۔

کل رات شاہ جی کہنے لگے کہ سکھوں کو دی جانے والی اس سہولت سے عمران خان Imran Khan کی مقبولیت کا گراف بھارتی Indian پنجاب میں کافی بلند ہوا ہے اور امرتسر میں تو پاکستان Pakistan کے جھنڈے اور عمران خان Imran Khan کی تصاویر لہرائی گئی ہیں اور بینر بھی لگائے گئے ہیں جو بعد ازاں شیوسینا کے غنڈوں نے اتار دیئے۔ ملک صاحب شاہ جی کی بات سن کر مسکرائے اور کہنے لگے: عجیب معاملہ ہے، جہاں سے عمران خان Imran Khan نے الیکشن لڑنا ہے وہاں ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے اور جہاں سے وہ کبھی بھی الیکشن نہیں لڑ سکتے وہاں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قدرت کا نظام بھی عجیب ہے، حالانکہ ایک پنجابی کہاوت ہے کہ ''راہ پیا جانے، یا واہ پیا جانے‘‘۔ (یا ساتھ سفر کرنے والا آپ کو جانتا ہے یا جس کے ساتھ لین دین یا معاملات ہوں وہ آپ کو جانتا ہے)۔

 141