دانائی یاحب الوطنی کا امتحان

طلوع - ارشاد احمد عارف

08 نومبر 2019

دانائی یاحب الوطنی کا امتحان

بدھ کی شام دھرنا کے شرکاء سے مولانا فضل الرحمن کا خطاب اندرونی ہیجان‘ اضطراب اور مایوسی کا شاہکار تھا‘ تقریر میں ربط مفقود تھا اور مزاج پر برہمی کا غلبہ۔ سبب وہ خود جانتے ہیں یا ان کے قریبی ساتھی‘ اتحادیوں نے انہیں مایوس کیا اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ مولانا کی شہرت ایک زیرک‘ عملیت پسند اور موقع شناس مذہبی سیاستدان کی ہے۔ وہ اپنے قریبی مسلکی حلقے کے علاوہ کہیں مذہبی معاملات کو سیاسی گفتگو کا موضوع بناتے ہیں نہ مذہبی کارڈ کو استعمال کرنے کاتاثر دیتے ہیں‘ بدھ کی شام مگر وہ کرتار پور کاریڈور‘ قادیان اور دیگر معاملات کو زیر بحث لائے‘ وہ بھی اس بھونڈے طریقے سے کہ ان کے مداح دانشوروں کو حیرت ہوئی۔کرتار پور کاریڈور کھولنے کا فیصلہ پاکستان Pakistan کی وہ سفارتی جارحیت ہے جس نے بھارت India کی فاشسٹ مودی حکومت کو پریشان کر رکھا ہے پاکستانی پیشکش کو مسترد کرنا تازہ ثبوت ہے کئی ماہ تک وہ اس کی مخالفت کرتی رہی مگر سکھ برادری کے دبائو پر مان گئی‘ بھارت India میں مودی کے حامی صحافتی حلقے اس پیش رفت کو خالصتان تحریک کے تناظر میں دیکھتے اور اسے پاکستان Pakistan کی سٹرٹیجک کامیابی سے تعبیر کرتے ہیں‘ ویسے بھی سکھوں کی آمدو رفت گوردوارہ نانک صاحب تک محدود ہو گی صبح آئے شام کو چلے گئے۔ پاکستان Pakistan کے کسی دوسرے علاقے تک رسائی نہ کسی شرارت کا اندیشہ۔

مولانا نے عمران خان Imran Khan کو 1977ء یاد دلایا جب ذوالفقار علی بھٹو بالآخر انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف کر کے استعفیٰ پر راضی ہوئے‘ مولانا عالم دین ہیں اور عام طور پر لوگ کسی عالم دین سے غلط بیانی کی توقع کرتے ہیں نہ حقائق کو مسخ کرنے کی اُمید۔اسرائیل اور قادیان کے حوالے سے اپنے خطاب میں مولانا نے سراسر غلط بیانی کی اور الیکشن کمشن کی رپورٹ پر ان کے ریمارکس کو کمشن نے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دے کر مسترد کیا۔ یہی معاملہ 1977ء کے انتخابات اور بھٹو کے استعفیٰ کا ہے۔1977ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو پاکستان Pakistan قومی اتحاد نے جس کے سربراہ مولانا کے والد گرامی مفتی محمود مرحوم تھے اتفاق رائے سے بدترین دھاندلی کا الزام لگایا‘ اس وقت کے وزیر اعظم Prime Minister ذوالفقار علی بھٹو اپنی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا آغاز بہت پہلے کر چکے تھے انہوں نے شکست کے خوف سے اپنے آپ کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کے لئے مدمقابل امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کرایا اور اس وقت تک محبوس رکھا جب تک کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت گزر نہ گیا‘قومی اتحاد نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے باعث تین چار روز بعد ہونے والے صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ بائیکاٹ اتنا موثر تھا کہ بڑے شہروں کے علاوہ قصبات میں بھی پولنگ سٹیشن ویران نظر آئے مگر جب رات کو نتائج کا اعلان ہوا تو پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے بیلٹ بکسوں سے ہزاروں ووٹ برآمد ہوئے۔ عوام اور عالمی مبصرین حیرت زدہ رہ گئے کہ یہ ووٹ کب‘ کس نے ‘کس طرح ڈال دیے؟۔بھٹو حکومت اور الیکشن کے عمل کو اس طرح ننگا کرنے کے بعد قومی اتحاد نے اگلا فیصلہ یہ کیا کہ ان کے منتخب ارکان قومی اسمبلی حلف نہیں اٹھائیں گے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان نے تاریخی دھاندلی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ’’ہم نے تو دکان سجا دی تھی مگر اس پر ڈاکہ پڑ گیا‘ ہم کیا کرتے‘‘

جب قومی اتحاد نے انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تو خیبر سے کراچی تک ہر شہر اور قصبے میں مظاہرے شروع ہو گئے‘ یہ اس قدر موثر ‘کامیاب اور حکومت کے لئے اعصاب و حوصلہ شکن احتجاج تھا کہ قائد عوام نے ملک کے چار شہروں کراچی‘ حیدر آباد‘ ملتان اور لاہور میں مارشل لاء لگا دیا ‘کرفیو کئی دوسرے شہروں میںپہلے سے نافذ تھا مظاہروں کی شدت میں کمی آئی نہ مظاہرین کے حوصلے پست ہوئے‘ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تین سو کے قریب شہری اس تحریک میں پولیس کے ہاتھوں شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی۔ حوالات اور جیلیں سیاسی اور مذہبی کارکنوں سے بھر گئیں کاروبار ریاست ٹھپ ہو گیا تو بھٹو نے ہار مان لی اور مذاکرات کے دوران مستعفی ہو کر نئے انتخابات پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ بیل منڈھے اس لئے نہ چڑھ سکی کہ بھٹو مذاکرات کو ادھورا چھوڑ کر ایک ہفتہ کے لئے بیرونی دورے پر روانہ ہو گیا اور واپسی پر نئے سرے سے مذاکرات کی بات کر دی بھٹو صاحب کے ’’سوہنے منڈے‘‘ حفیظ پیرزادہ کے بقول یہ وزیر اعظم Prime Minister کی ایسی غلطی تھی جس نے فوج کو بطور ادارہ مداخلت پر مجبور کیا ورنہ خانہ جنگی پاکستان Pakistan کا مقدر تھی۔

اپوزیشن نے 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام ضرور لگایا مگر انتخابی نتائج تسلیم کر کے اسمبلیوں کا حلف اٹھا لیا‘ ڈیڑھ سال تک تنخواہوں اور مراعات کے مزے لوٹے مولانا نے احتجاجی تحریک کا فیصلہ عین اس وقت کیا جب بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi نے جموں و کشمیر Kashmir کا سٹیٹس تبدیل کر کے اسے بھارت India میں مدغم کیا اور اسی لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں بند کر کے کرفیو لگا دیا‘ موجودہ حکومت نے مودی کے اس

اقدام کے خلاف پوری قوم اور کشمیری عوام کو متحد کر کے واویلا کیا‘ عالمی رائے عامہ ہموار کی اور عمران خان Imran Khan نے جنرل اسمبلی میں ایک تاریخی تقریر کے ذریعے عالمی ضمیرجھنجھوڑا ‘ بھارتی Indian فوج کنٹرول لائن پر شرارت کر رہی ہے اور پاکستانی فوج اس کے خلاف سینہ سپر‘ پاک فوج Pakistan Army منتخب حکومت کے ساتھ بھی کندھے سے کندھا ملا کرکھڑی ہے۔ آزادی مارچ سے اب تک حکومت کو کوئی نقصان ہوانہ اپوزیشن کے ہاتھ کچھ آیا البتہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے مولانا کے مطالبات میں سے ایک آئندہ عام انتخابات میںفوجی افسروں اورجوانوں کی خدمات سے فائدہ نہ اٹھانے کی یقین دہانی ہے 1977ء کے بعد سے ہر سیاسی اور مذہبی جماعت دھاندلی روکنے اور امن قائم رکھنے کے لئے فوج کی موجودگی ضروری سمجھتی ہے ورنہ طاقتور امیدوار اور ان کے غنڈے کسی مخالف کو پولنگ سٹیشن میں گھسنے نہ دیں۔اگر مذاکراتی کمیٹی نے اس بے ہودہ مطالبے کوایجنڈے پر رکھا اور مان لیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ انتخابی دھاندلی میں ان فوجی افسروں اور جوانوں کاواقعی کوئی کردار تھا‘ یہ حکومت اور فوج کے مابین بہترین تعلقات میں رخنہ اندازی ‘ عالمی برادری کے سامنے فوج کو متنازعہ بنانے اور حکومت‘ ریاست اور فوج کی ساکھ کو تباہ کرنے کی بیرونی سازش ہے مولانا فقط مہرہ‘مجھے تو حیرت ہے کہ اب تک حکومت کی مذاکراتی کمیٹی قومی مفاد کے خلاف اور بھارت India کے لئے مفید مطالبے میں چھپی شرارت یا سازش کا ادراک کیوں نہیں کر سکی ؟ حکومت نے مولانا کے علاوہ محمود اچکزئی کی ایسی تقریروں کا سنجیدگی سے نوٹس کیوں نہیں لیا جو بھارتی Indian بیانئے کو تقویت اور پاکستان Pakistan کے قومی موقف کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

آخر مولانا ہر وہ موضوع زیر بحث کیوں لا رہے ہیں جس کا فائدہ نریندر مودی narendra modi کی حکومت اور نقصان پاکستان Pakistan کی ریاست کو ہے۔ کرتار پور کا کشمیر سے کیا موازنہ ؟ فوج پر اس وقت سنگ زنی کا کیا جواز؟ جب وہ کنٹرول لائن اور مغربی سرحدپر مصروف جنگ ہے اور قومی بقا و سلامتی کی جدوجہد میں پیش پیش‘ مولانا نے اپنے آپ کو بند گلی میں خود دھکیلا‘ ڈیڈ لائن دے کر پیچھے ہٹے اور اب فیس سیونگ چاہتے ہیں مگر اضطراب ‘ ہیجان اور مایوسی میں نشانہ اپنے بے وفا ساتھیوں کے بجائے ریاست اور اس کے اداروں کو بنا رہے ہیں جو ان کی دانائی‘ دور اندیشی اور سب سے بڑھ کر حب الوطنی پر سوالیہ نشان ہے‘ بارش اور اسلام آباد Islamabad کی زمستانی ہوا میں شمشیر کی تیزی محفوظ واپسی کا راستہ دکھا رہی ہے مگر وہ ڈٹے ہیں چودھری برادران بھی اگر انہیں عقل مت دینے میں کامیاب نہیں ہوتے تو پھر وہ جانیں اور ان کے مشیر و حلیف ‘جو انہیں چڑھ جا سولی پر بیٹا رام بھلی کریگا کی پٹی پڑھا رہے ہیں‘ ریاست کب تک ان کے بچگانہ نخرے اٹھائے گی۔ آخر کب تک۔؟

 113