مولانا کی زندگی خطرے میں ہے؟

دیوار پہ دستک - منصور آفاق

08 نومبر 2019

مولانا کی زندگی خطرے میں ہے؟

بارہ سالہ دو کزن موبائل فون پر آپس میں محوِ گفتگو تھے۔ ایک لاہور میں تھا دوسرا اسلام آباد Islamabad میں۔ لاہور والے نے کہا ’’ہماری تو اسموگ نے چھٹی کرا دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہہ دیا ہے اسموگ کی وجہ سے کل اسکول بند ہو نگے‘‘۔ اسلام آباد Islamabad والا کزن بولا ’’یہ دھرنا تو اسموگ سے بھی گیا گزرا ہے، اسلام آباد Islamabad میں چھٹی ہی نہیں کرا سکا۔ بھلا وہ دھرنا کیا دھرنا ہے جس کی وجہ سے اسکول ہی بند ہوں‘‘۔

ویسے اس وقت دھرنے والوں پر لوگوں کو ترس بہت آرہا ہے۔ رات ایک خدا رسیدہ بزرگ سے ہمکلامی کا شرف ملا۔ کہتے تھے ’’بارش میں بھیگتے، ٹھٹھرتے، بیچارے دھرنے والے۔ ان کے، بہن بھائیوں اور خیر خواہوں کو انہیں سمجھانا چاہئے۔ اپنا موقف انہوں نے واضح کر دیا۔ اب گھروں کو لوٹ جائیں۔ اپنے بیوی، بچوں اور عزیز رشتہ داروں کو ذہنی اذیت سے بچائیں، خود بھی بچیں۔ کب تک، جانے کب تک، اسلام آباد Islamabad کی ٹھنڈ میں بیچارے پڑے رہیں گے۔ پچھلےدھرنوں کی طرح۔ شعور و ادراک سے محروم، شخصیت پرست اور جذباتی۔ عہدِ قدیم کے ان مزارعین کی طرح جو اپنے جاگیرداروں کی جنگیں لڑا کرتے‘‘۔ میں نے کہا ’’اُن مزارعین کو تو اُس جنگ کے عوض کچھ نہ کچھ حاصل ہو جاتا تھا- اِن کی تو جو کچھ جیب میں تھا، خرچ کرا دیا گیا ہے- اِن سے کچھ رقم تو پہلے ہی ’’دھرنا فنڈنگ‘‘ کے نام پر لے لی گئی تھی‘‘۔

انہوں نے بڑی افسردگی سے کہا ’’بےرحم ہوا کی زد میں بیچارے اور ان کے رہنما؟۔ یخ بستہ ہوائوں سے بھی زیادہ بےرحم۔ اپنے اقتدار یا جذبۂ انتقام کے لیے، بھیڑ بکریوں سے بدتر سلوک بندگانِ خدا کے ساتھ۔ اپنے بھائیوں اور محبت کرنے والوں کے ساتھ۔ پروردگار انہیں معاف نہ کرے۔‘‘میں نے کہا ’’لوگ کہہ رہے ہیں مولانا نے وہ حاصل کر لیا ہے جو کرنا تھا‘‘۔ فوراً بولے ’’توقف فرمائیے۔ تھوڑا انتظار کیجئے۔ وہ سب کچھ کھو دیں گے۔ تمام تعصبات سے پاک، یہ اقبال اور قائداعظم کا ملک ہے۔ یہاں فرقہ پرست نہیں پنپ سکتے‘‘۔

میں نے کہا ’’جانثاروں کی وردی پہن کر کچھ صحافی باقاعدہ ڈیوٹی دے رہے ہیں دھرنے میں‘‘ بولے ’’دھرنےکی حمایت اور حوصلہ افزائی کرنے والے اخبار نویسوں کو وہی کچھ ملے گا جو دھرنے والوں کو۔ عمران خان Imran Khan اور طاہر القادری کو چکمہ دینے والوں نے اب کی بار انہیں چکمہ دیا۔ فرمایا: لالچی ہمیشہ جھوٹے کے ہاتھوں لٹتا ہے۔ بیچارے مولوی صاحب‘‘۔

میں نے پوچھا ’’یہ وکی لیکس والا الزام عجیب نہیں۔ وکی لیکس تو ایک ویب سائٹ کا نام ہے‘‘۔ پہلے تو ذرا سا ہنسے پھر انتہائی سنجیدگی کے عالم میں بولے ’’مفتی کفایت اللہ صاحب نہ ہوتے تو باطن یوں بےنقاب نہ ہوتا۔ ایک چیز کو تم ناپسند کرتے ہو، حالانکہ اس میں خیر چھپا ہوتا ہے، ایک چیز سے محبت کرتے ہو، حالانکہ اس میں شر پوشیدہ ہوتا ہے‘‘۔ بےشک خالق ہی جانتا ہے، بندہ نہیں۔ عمران کی مخالفت گناہ بھی نہیں۔ دلائل کی بھی کوئی کمی نہیں۔ جھوٹ گھڑنےکی کیا ضرورت۔ یہ ضرورت کیوں پڑی کہ ’’وکی‘‘ نام کا ایک آدمی ہے، جو جمائما کا کزن ہے۔ چند سیکنڈ کی گفتگو سے مفتی کفایت اللہ شاید تاریخ میں ہمیشہ باقی رہنے والا کردار بن گئے۔ کردار کا اتنا تعلق علم سے نہیں، جتنا تربیت سے ہوتا ہے۔ سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھ سے جو محبت کرتا ہے، وہ جھوٹ نہ بولے اور خیانت نہ کرے‘‘ پوچھا کہ ’’یہ وکی لیکس سے انہیں کیا تکلیف ہے‘‘ بولے ’’وکی لیکس نے بتا جو دیا تھا کہ مولوی صاحب امریکی سفیر کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ وزیراعظم بننے میں ان کی سرپرستی کی جائے‘‘۔

میں نے کہا ’’عمران خان Imran Khan کے کہنے پر سی ڈی اے کا عملہ دھرنے میں پہنچا ہوا ہے مدد کے لئے۔ سی ڈی اے کے ڈاکٹرز بھی۔ لوگ بارش، سردی اور طوفانی ہوائوں کی آزمائش میں ہیں‘‘ وہ بولے ’’مشہور اخبار نویس آریانا فلانچی نے ذوالفقار علی بھٹو سے کہا تھا: کردار کا پتا اس سلوک سے چلتا ہے جو دشمن سے روا رکھا جائے‘‘۔

میں نے پوچھا ’’مولانا کہتے ہیں کہ وہ لوگ تین سو سال سے تحریکیں چلاتے آرہے ہیں‘‘ کہنے لگے ’’مولوی صاحب ان تحریکوں کے نغمہ خواں ہیں جو ناکام رہیں۔ سید احمد اور سید اسماعیل کی تحریک، 1857کی بغاوت میں شامل، لکھنو میں قتلِ عام کرنے والے صاحبان، ریشمی رومال تحریک اور تحریکِ طالبان افغانستان۔ کامیاب تو صرف تحریک پاکستان Pakistan رہی۔ ان کے اجداد جس کے مخالف تھے۔ اسفند یار، حاصل بزنجو، محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن کے والد گرامی عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو، عبدالصمد اچکزئی اور مفتی محمود تحریک پاکستان Pakistan کے خلاف تھے۔ یہ چاروں بھائی کیا چاہتے ہیں؟ اس پر مستزاد تحریک طالبان، جس نے مولوی صاحب کو گھیر رکھا ہے۔ مولوی صاحب کے غبارے میں ہوا بھرنے والوں نے غور ہی نہ فرمایا کہ وہ ایک خاص فکر کے نمائندے ہیں۔ پورے اس کے بھی نہیں بلکہ تحریک پاکستان Pakistan کی مخالفت کرنے والے حصے کے۔ غبارے میں اتنی ہی ہوا بھرنی چاہئے، جتنی کہ وہ سہار سکے‘‘۔ میں نے کہا ’’مولانا نے توفوج کے خلاف بھی گفتگو کی ‘‘۔بولے۔’’مولوی صاحب کی مہم اتنی عمران خان Imran Khan کے خلاف نہیں، جتنی افواج پاکستان Pakistan کے خلاف ہے۔ افواج پاکستان Pakistan کا اصل دشمن کون ہے؟ بھارت، اسرائیل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ۔‘‘ پھرپوچھا ۔’’لوگ کہہ رہے ہیں مولانا کی زندگی کو ’’را‘‘سےخطرہ ہے ۔پہلے کہتے تھے بھارت India نے مولانا کو فنڈنگ دی ہے ‘‘کہنے لگے۔’’مولانا کو بتائے بغیر بھارتی Indian خفیہ ایجنسی ان کے مارچ کی مدد بھی کر سکتی ہے اور ان پر حملے کی پلاننگ بھی۔ خفیہ ایجنسیاں اسی طرح کام کرتی ہیں۔ اللہ محفوظ رکھے، پہلے بھی ان پر خود کش حملے ہو چکے۔ جس طرح بھی ممکن ہو، بھارت India کا ہدف پاکستان Pakistan میں انتشار ہے۔‘‘

 138