جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی

طلوع - ارشاد احمد عارف

24 اکتوبر 2019

Ghazi, the type of person I meet

31اکتوبر دور نہیں‘ اکرم درانی‘ مولانا مفتی کفائت اللہ اور دیگر رہنما اب تک دھرنے اور لاک ڈائون کو حتمی قرار دے رہے ہیں مگر مولانا فضل الرحمن قومی و بین الاقوامی میڈیا اور مغربی سفارت کاروں کے روبرو صرف لانگ مارچ کی بات کر رہے ہیں ۔دھرنے اور لاک ڈائون کو وہ میڈیا کی اختراع قرار دیتے ہیں‘ مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومتی ترجمان کی طرف سے لانگ مارچ کی مشروط اجازت دینے کے بیان پر محتاط ردعمل دیا‘ کہا کہ ہم قانون کے دائرے میں رہ کر لانگ مارچ کریں گے‘ دھرنا اور لاک ڈائون کے ذکر سے گریز کیا۔ حکومتی ترجمان اور مولانا عبدالغفور کے بیان کو ملا کر پڑھا جائے تو سیدھا سادہ مطلب یہی نکلتا ہے کہ دونوں فریق ایک ایسے پرامن لانگ مارچ پر متفق ہیں جو اسلام آباد Islamabad میں بے ضرر جلسے پر ختم ہو ‘ چند تقریریں‘ استعفیٰ کا مطالبہ اور پھر گھروں کو روانگی۔رہا دھرنا تو دونوں کی لغت اور ایجنڈے میں تھا‘ ہے ‘ نہ ہو گا۔ افغانی قالین فروش جب دس ہزار روپے نرخ بتا کر اپنا قالین دو سوروپے میں فروخت کرتا ہے تو بیو پاری اور خریدار دونوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے‘ ایک اپنی چیز بیچنے پر خوش اور دوسرا دس ہزار کی چیز دو سو روپے میں خریدنے پر خورسند ۔ کوئی قالین فروش کو ملامت نہیں کرتا کہ وہ اپنے نرخ پر قائم نہیں رہا اور خریدارکو بھی نہیں کہتا کہ وہ لٹ گیا۔ یہی ون‘ون(Win Win)پوزیشن ہوتی ہے ۔مولانا کے بعض عقیدت مندوں کا خیال ہے کہ مولانا کی تیاریاں اور عزم دیکھ کر حکومت گھبرا گئی ‘چاروں صوبوں سے لاکھوں افراد کو روکنا اس کے بس میں نہ تھا۔ لانگ مارچ کی اجازت دینے پر مجبور ہوئی۔ ایک بار مولانا کولشکر لے کر اسلام آباد Islamabad کے ڈی چوک تک پہنچنے دیں‘ پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ وہ عمران خان Imran Khan کا استعفیٰ لے کر ہی ٹلیں گے‘ صرف عمران خان Imran Khan ہی نہیں‘ بہت کچھ اور بھی الٹ پلٹ دیں گے۔ اگر اس تھیوری کو درست مان لیا جائے تو پھر اُمید رکھنی چاہیے کہ جس اجلاس میں وزیر اعظم Prime Minister نے مذاکراتی کمیٹی سے طویل مشاورت کے بعد پرامن لانگ مارچ کی اجازت دی اس میں لامحالہ اپنا استعفیٰ بھی مذاکراتی کمیٹی کے حوالے کیا ہو گا تاکہ مولانا جلسے کے اختتام پر اپنے سامعین کو دکھا کر انہیں خوشی خوشی گھر جانے کی تلقین کر سکیں۔ اسلام آباد Islamabad میں کسی ہنگامہ آرائی کا خدشہ باقی نہ رہے‘ کہنے کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جن قوتوں کے اشارے پر مولانا نے لانگ مارچ کا پروگرام ترتیب دیا انہی کے دبائو پر وزیر اعظم Prime Minister نے لانگ مارچ کی اجازت دی لیکن ان سازشی کہانیوں میں جھول یہ نظر آتا ہے کہ اگر آصف علی زرداری میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کو لانگ مارچ کی کامیابی اور دھرنے کے وقوع پذیر ہونے کا ایک فیصد چانس بھی نظر آتا تو وہ یوں لاتعلق نہ ہوتے‘ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے تو نواز شریف Nawaz Sharif کی ناراضگی مول لے لی‘ دھرنا درکنار‘ لانگ مارچ میں شرکت پر آمادہ ہوئے نہ لاہور میں مولانا فضل الرحمن کی پذیرائی اور استقبال پر تیار۔ تقاضائے ادب ہے کہ برادر بزرگ اور حضرت مولانا سے کہہ نہیں پائے ؎ میں جانتا ہوں انجام اس کا جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی حکومت اور جمعیت علماء اسلام کے مابین انڈر سٹینڈنگ یہ نظر آتی ہے کہ مولانا بھر پور جلسے میں ملکی اور بین الاقوامی معاملات ‘مشرقی ‘ مغربی سرحدی صورتحال اور عوام کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کر کے سامعین کے سامنے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ رکھیں گے ‘جس میں وزیر اعظم Prime Minister کا استعفیٰ سرفہرست ہو گا‘ حکمرانوں کو وارننگ دیں گے کہ اگلے سال کی فلاں تاریخ تک یہ فہرست من و عن نہ مانی گئی تو اس سے دوگنے بلکہ چوگنے لوگ لے کر وہ پھر اسلام آباد Islamabad پہنچیں گے اور اس وقت تک بیٹھ رہیں گے جب تک مطالبات مان نہیں لئے جاتے۔ ظاہر ہے اس پر حکومت کو اعتراض نہ اسٹیبلشمنٹ کو انکار‘ اس کے برعکس اگر لانگ مارچ کے نام پر قانون شکنی ہوئی‘ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو پائوں تلے روندا گیا‘ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے بہانے سازو سامان سے لیس کارکنوں کو اسلام آباد Islamabad پہنچانے کی سعی ہوئی اور علماء کرام کی جماعت وعدہ خلافی کی مرتکب پائی گئی تو پھر ریاست ایکشن میں آزاد ہو گی‘ تحریک لبیک سے پہلے بھی کچھ مذہبی و سیاسی عناصر وعدہ خلافی اور اپنی طے شدہ حدود سے تجاوز کی سزا بھگت چکے اور اب تک اپنے زخم سہلا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمائے‘ ان کی بیماری کے سبب مسلم لیگی کارکن اور لیڈر تو ویسے بھی مولانا کے شریک سفر ہونے سے رہے‘ یہی حال پیپلز پارٹی کاہے‘ اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی کی شرکت عدم شرکت برابر ہے۔ تین میں نہ تیرہ میں۔ اکیلے مولانا کے مذہبی کارکنوں کا اسلام آباد Islamabad میں اجتماع اگر غیر ملکی سفارتی نمائندوں اور میڈیا کو کرائی گئی یقین دہانیوں کے برعکس ہوا اور سعودی عرب Saudi Arabia کا دوستانہ مشورہ نہ مانا گیا تو ریاست بھر پور قانونی ایکشن میں حق بجانب ہو گی۔ جس کا احساس و ادراک مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ہے‘ اکرم درانی مفتی کفائت اللہ ‘ اسماعیل بلیدی اور دیگر رہنمائوں کوشائد نہیں۔ ریاست کے اہم ادارے لانگ مارچ اور دھرنے کے مقاصد سے پوری طرح آگاہ ہیں‘ ٹائمنگ کے حوالے سے فکر مند اور سپانسر شپ پر حیران۔ فاٹا کے انضمام پر ایک سیاسی رہنما نے کس ملک سے کتنی رقم وصول کی‘ انہیں معلوم ہے اور لانگ مارچ و دھرنے کی کامیابی سے کہاں کہاں جشن کا سماں ہو گا وہ جانتے ہیں‘ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ حتیٰ کہ ان سینیٹر صاحب کی سرگرمیاں بھی الم شرح ہیں‘ جن کے اسلام آباد Islamabad میں ’’ گہرے رابطوں‘‘ نے مولانا کو ڈی چوک کی راہ دکھائی اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif و آصف علی زرداری کے تعاون سے ان ہائوس تبدیلی اور من پسند قومی حکومت کے قیام کا خواب دکھایا۔ حکومت کے ترجمان اور مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کو ملا کر پڑھا جائے تو پرامن لانگ مارچ یقینی اور دھرنا ناممکن نظر آتا ہے مگر پاکستان Pakistan میں سب کچھ ممکن ہے‘ مولانا فضل الرحمن پوری ریاستی مشینری کو چکمہ دے کر ڈی چوک پہنچتے اور دھرنا دیتے ہیں ؟یا جلسہ کے بعد پُرامن منتشر ہو جاتے ہیں؟ 31اکتوبر دور نہیں۔

 232