کامیابی سے ناکامی تک

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

18 اکتوبر 2019

From Success to Failure

کچھ دن پہلے تک اسلام آباد Islamabad میں حکومتی ترجمان‘ وزرا اور میڈیا مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ پر جگتیں مار رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر بھی تحریک انصاف کے حامی ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی لانگ مارچ کو سنجیدہ نہیں لے رہا تھا ۔

پچھلے ہفتے تک ہمارا خیال تھا کہ مولانا جلدی کررہے ہیں‘ ایک سال میں حکومت کتنی ہی بری پرفارمنس دے‘ وہ اَن پاپولر نہیں ہوتی۔ دو سال لگ ہی جاتے ہیں ۔ نہ عمران خان Imran Khan نے نواز شریف Nawaz Sharif کے دو سال گزرنے کا انتظار کیا تھا اور نہ ہی اب مولانا اور نواز شریف Nawaz Sharif انتظار کے موڈ میں ہیں۔ اگرچہ دھرنے کے بعد عمران خان Imran Khan چار سال کوششوں میں مصروف رہے‘ لیکن حکومت کو نہ ہٹوا سکے‘ تاہم عمران خان Imran Khan یہ کریڈٹ لے سکتے ہیں کہ آخر انہوں نے نواز شریف Nawaz Sharif کو پانامہ پر سزا دلوائی اور وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا جیل بھجوایا ۔ ان پانچ برسوں کی محنت‘ جلسے جلوسوں اور الیکشن کے بعد وزیراعظم بھی بن گئے۔ تو کیا نواز شریف Nawaz Sharif اور مولانا نے بھی وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو عمران خان Imran Khan نے کیا تھا ؟ کیامولانا بھی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ اس راستے پر وہی نتائج حاصل کریں گے جو عمران خان Imran Khan نے حاصل کیے تھے؟

ہوسکتا ہے باقی حالات وہی ہوں جو عمران خان Imran Khan کے لانگ مارچ یا دھرنے کے وقت تھے‘ لیکن اس دفعہ ایک بڑا فرق ہے‘ اُس وقت سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر السلام اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بارے کہا جارہا تھا کہ وہ سول حکومت کے ساتھ ایک پیج پر نہیں تھے‘ لہٰذا دل جلے یہ کہتے تھے سارا کھیل کسی کے اشارے پر کھیلا جارہا ہے اور عمران خان Imran Khan کو انہی قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایک دن وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو انٹرویو میں یہ کہہ ڈالا کہ دھرنے کے پیچھے جنرل تھے اور نواز شریف Nawaz Sharif کے پاس خفیہ ٹیپس بھی موجود تھیں ۔

اگرچہ اس وقت مشاہد اللہ سے استعفیٰ لے لیا گیا ‘لیکن کچھ عرصے بعد جب گرد بیٹھ گئی تو انہیں دوبارہ وزیر بنا دیا گیا ۔ یہ پیغام فوجی قیادت‘ میڈیا اور عوام کو دینا مقصود تھا کہ عمران خان Imran Khan کے دھرنے کے پیچھے عسکری لوگ تھے۔یہ اور بات ہے کہ نواز شریف Nawaz Sharif اقتدار میں آتے ہی یکدم مصلحت پسند کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ایک وقت میں کئی کھیل کھیلتے ہیں‘ ایک طرف وہ ہر جگہ جنرل راحیل شریف کو ساتھ رکھتے‘ لیکن یہ تاثر بھی وزرا اور پسندیدہ صحافیوں کے ذریعے دینانہ بھولتے کہ فوجی قیادت سے اختلافات چل رہے ہیں۔ اسی لیے فوجی قیادت کو خوش کرنے کے لیے ڈان لیکس پر جے آئی ٹی بنا دی اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو افسران شامل کر کے وزراکو حکم دیا کہ وہ ان کے سامنے پیش ہوں۔ اس وقت نواز شریف Nawaz Sharif جرأت نہ کر سکے کہ سٹینڈ لیتے‘ تاہم یہ جرأت اس وقت انہیں یاد آئی جب وہ وزیراعظم کے عہدے سے برطرف ہوئے اور کچھ دن بعد ملتان میں اسی رپورٹر کو بلا کر وہی باتیں کہہ ڈالیں جن سے وہ خود انکاری تھے‘ بلکہ اسی رپورٹر کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا تھا جسے اب انٹرویو دے رہے تھے۔

تاہم اس دفعہ کہا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان Imran Khan اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں۔ یہ بھی بڑی دلچسپ تاریخ ہے کہ ماضی میں جب سول اور فوجی قیادت ایک پیج پر نہیں تھے تو محسوس کیا جاتا تھا کہ میڈیا کو آزادی ہے۔ میڈیا والوں پر دبائو نہیںہوتا تھا کیونکہ دونوں کوشش کرتے تھے میڈیا ان کی طرف رہے‘ تاکہ وہ ان کے نقطۂ نظر اور ترجیحات کو رپورٹ کرے ۔ اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو شاہد خاقان عباسی کے دور میں جب فیض آباد کا دھرنا ہوا تھا ‘تو کہا جاتا تھا کہ اس وقت بھی سول اور فوج ایک پیج پر نہ تھے‘ لہٰذا جب حکومت نے پیمرا کے ذریعے دو تین اینٹی حکومت ٹی وی چینلز بند کیے تو طاقتور حلقوں نے ان چینلز کی حمایت میں وزن ڈال کر انہیں کھلوا دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ تاہم جب سے عمران خان Imran Khan وزیراعظم بنے ہیں‘ بڑے عرصے بعد سول اور فوجی حکام ایک پیج پر ہیں‘ لہٰذا میڈیا کو قدرے دبائو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ میڈیا جو برسوں تک پرچار کرتا رہا کہ پاکستان Pakistan نے اگر ترقی کرنی ہے تو فوجی اور سویلین لیڈرشپ ایک پیج پر ہونی چاہیے۔ شاید اسے پتہ نہ تھا کہ جس دن یہ ایک پیج پر آگئے تو سب سے بڑا نشانہ اور کوئی نہیں‘ میڈیا ہی ہوگا ۔ شاید اسی تناظر میں کچھ بڑے بڑے ٹی وی اینکرز کو بلا کر کہا گیا کہ وہ اپنی صفیں درست کر لیں اور عمران خان Imran Khan حکومت کی اچھی اچھی باتیں رپورٹ کرنا شروع کر دیں ۔ ٹی وی چینلز کو بھی ہدایات آنا شروع ہوگئیں کہ وہ کیا دکھایا کریں اور کیا نہیں۔

دوسری طرف عمران خان Imran Khan ‘جو میڈیا کی طاقت ہی سے اوپر آئے تھے ‘ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ میڈیا ان کا ساتھی رہا ہے‘ دشمن نہیں ۔ لیکن وہ دھیرے دھیرے عوام اور میڈیا سے دور ہوتے چلے گئے۔ جس میڈیا کی وہ دن رات تعریفیں کرتے تھے وہ انہیں برُا لگنے لگا۔ ایک دن انہوں نے کابینہ اجلاس میں میڈیا کے لیے بھی دہشت گرد عدالتوں کی طرز پر علیحدہ عدالتیں بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں فوری سزائیں دی جائیں ۔ وزیرقانون فروغ نسیم کو کہا گیا کہ وہ قانون بنا کر لائیں۔ دوسری طرف میڈیا والوں کو کہا گیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں ورنہ سزائوں کے لیے تیار ہوجائیں ۔

اس وقت عمران خان Imran Khan کے اقتدار کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے‘ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ جب آپ عروج پر پہنچ جاتے ہیں تو وہی مرحلہ آپ کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ عمران خان Imran Khan اس وقت جس عروج پر پہنچ چکے ہیں اس سے زیادہ آگے وہ نہیں جا سکیں گے‘اب ان کے پیچھے آنے کے امکانات زیادہ ہیں‘ آگے جانے کے نہیں ۔ اس ایک سال میں وہ بہت سا وقت ضائع کر بیٹھے ہیں اور ان لڑائیوں اور باتوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں جن سے انہیں بچنا چاہیے تھا ۔ اگر انہوں نے ایک ساتھ اتنے محاذ کھولنے تھے‘ مہنگائی کرنی تھی‘ اپنے ووٹرز کی چیخیں نکلوانی تھیں تو پھر انہیں میڈیا کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے تھے ‘جو انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرح پہلے دن سے ہی شروع کر دی تھی ۔ ہوسکتا ہے عمران خان Imran Khan کو محسوس ہوا ہو کہ اب وہ وزیراعظم بن گئے ہیں‘ سب طاقت ان کے پاس ہے ‘ سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے‘ اب میڈیا ان کا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟

غالباً اب انہیں پتہ چل رہا ہوگا کہ جب مولانا فضل الرحمن کا دھرنا اسلام آباد Islamabad آنے کو تیار ہے تو میڈیا کیا رول ادا کررہا ہے۔ شروع میں میڈیا نے کسی حد تک حکومت کو سپورٹ دینے کی کوشش کی‘ لیکن اب جس دن سے مولانا نے نوجوانوں سے خوفناک انداز میں سلامی لی ہے اور کہا ہے کہ اٹھارہ برس سے اوپر کے لڑکے مارچ میں شریک ہوں گے تو سب کو فکر لاحق ہوگئی ہے۔ اچانک حکومت کے مشیروں‘ وزیروں اور میڈیا نے بھی مولانا اور ان کی دھمکیوں کو سنجیدہ لینا شروع کر دیا ہے۔ مولانا نے اچانک میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی ہے۔ حکومت کی میڈیا کے خلاف سخت کارروائیوں نے مولانا کا کام آسان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی PTI حکومت نے بھی وہی حربے اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں جو کبھی نواز شریف Nawaz Sharif دور میں عمران خان Imran Khan کے خلاف استعمال ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے نواز شریف Nawaz Sharif دور میں ٹی وی چینلز پر دبائو تھا کہ وہ نہ تو عمران خان Imran Khan کے لوگوں کو ٹی وی شوز میں بلائیں اور نہ ہی جلسوں کو کوریج دیں ۔ اب عمران خان Imran Khan کی حکومت وہی سب کچھ مولانا کے ساتھ کررہی ہے۔ اگر نواز شریف Nawaz Sharif عمران خان Imran Khan کو ان طریقوں سے نہیں روک سکے تو کیا وہ مولانا کو روک سکیں گے؟

لوگ ستمبر کو ستم گر کہتے ہیں‘ لیکن مجھے نومبر خطرناک لگ رہا ہے۔

عمران خان Imran Khan حکومت کی پہلے سال میں بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ فوجی قیادت کو ایک پیج پر لے آئے‘ لیکن بڑی ناکامی یہ ہے کہ جن دو طبقات کے کندھوں پر بیٹھ کر وہ اقتدار میں آئے تھے وہ ان سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ ایک عوام جس سے کیے گئے سب وعدے جھوٹے نکلے ہیں اوردوسرا میڈیا جس کو وہ دہشت گردوں کی طرح عدالتیں لگا کو سزائیں دلوانا چاہتے ہیں ۔

 234