یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہو کر

طلوع - ارشاد احمد عارف

18 اکتوبر 2019

Even when they reached here, they were compelled

مولانا فضل الرحمن کو ناراض نہیں خوش ہونا چاہیے‘ حکمران بالآخر اُن سے رابطے اور بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہیں‘ مذاکراتی کمیٹی کے ذریعے صرف بات چیت نہیں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اور مولانا فضل الرحمن کے مابین ٹیلی فونک گفتگو ہو گی‘ حزب اختلاف کی ایک جماعت کو جس کے پارلیمنٹ میں درجن بھر ارکان ہیں اور کیا چاہیے؟ مولانا کی سیاسی اہمیت حکومت نے تسلیم کر لی۔ عمران خان Imran Khan مولانا کا نام سننے کے روادار نہ تھے‘ اب بات کرنے پر آمادہ ہیں‘ خدا نے چاہا تو معقول مطالبات بھی مانے جائیں گے اور سودے بازی کے حق میں طاق مولانا نے اپنے پتے عقلمندی سے کھیلے تو میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری کے انجام سے بھی بچ رہیں گے‘ پرویز مشرف کے دور میں مولانا جماعت اسلامی‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو غُچہ دے کر خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب لے اڑے تھے۔ کل تک دھرنے کو اہمیت اور مولانا کو عزت نہ دینے والی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہے ؎ تجاہل‘ تغافل‘ تبسم‘ تکلّم یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہو کر مذاکرات کو نتیجہ خیز اور سود مند بنانا مولانا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے‘1973ء کے آئین کے تناظر میں مذاکرات ہی سیاسی تنازعات حل کرنے کا بہترین اور آزمودہ نسخہ ہے اور موجودہ بُری بھلی جمہوریت برقرار رکھنے کا وسیلہ ع ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے مولانا کے مداح اور موجودہ عوام دشمن سیاسی و معاشی ڈھانچے کو جمہوریت قرار دینے پر مُصر دانشور اسلام آباد Islamabad پر مولانا کی یلغار سے پریشانی کا سبب دریافت کرتے ہیں تو یہ ہرگز نہیں سوچتے کہ بدلتے علاقائی اور بین الاقوامی رجحانات‘ معاشی بحران اور لمحہ بہ لمحہ کمزور پڑتی رٹ کی بنا پر ریاست اس وقت کسی انتشار و افتراق کی متحمل ہے نہ وردی پوش‘ ڈنڈا بردار جتھوں کے ذریعے آمدورفت کے ذرائع میں تعطل کی روادار‘ ہجوم کی طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جب یہ کام آصف علی زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif کے دور میں غلط تھا تو آج کیسے درست ہو سکتا ہے اور اگر ایک بار کسی جتھے کو یہ اجازت دیدی گئی، یہ روایت قائم ہو گئی تو بار بار دھرائی کیوں نہیں جائے گی! کسی کو بُرا لگے یا اچھا لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان Pakistan میں معاشی ترقی کے اہداف صرف فیلڈ مارشل ایوب خان‘ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں حاصل ہوئے اور امن و استحکام کی کیفیت بھی نسبتاً انہی فوجی حکمرانوں کے عہد میں نظر آئی۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعظم Prime Minister ہائوس‘ ایوان صدر اور جی ایچ کیو کے مابین جب تک تعلقات کار بہتر رہے، معاشی ترقی اور استحکام کا تاثر پختہ ہوا مگر جونہی میاں صاحب کو سول بالادستی کا نشہ چڑھا اور انہوں نے پہلے دو فوجی سربراہوں اسلم بیگ و آصف نواز اور پھر غلام اسحق خان سے پنجہ آزمائی شروع کی‘ سیاسی و معاشی بحران ملک کا مقدر ہو گیا باقی تاریخ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ‘ بے نظیر بھٹو ‘ آصف علی زرداری کے دور میں جمہوریت‘ سیاست اور معیشت پر جو گزری وہ پاکستانی تاریخ کا المناک بلکہ شرم ناک باب ہے۔ کسی بتکدے میں بیاں کروں تو صنم پکارے ہری ہری آج ایوب خان اور ضیاء الحق Zia ul Haq کو گالی دینا آسان ہے کہ اولاد نالائق نکلی اور دونوں فوجی آمروں کا کندھا استعمال کر کے قومی سیاست میں کوس لمن الملک بجانے والے سیاسی جانشیں طوطا چشم‘ بے وفا‘ مگر ترقی اور استحکام کے جزیرے انہی ادوار میں آباد ہوئے‘ صنعتی و زرعی ترقی اور پیسے کی ریل پیل کو عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مزہ چکھا۔ دس اور گیارہ سال کی حکمرانی اگر فوجی قوت و طاقت کی مرہون منت ہوتی تو جنرل پرویز مشرف اور یحییٰ خان بھی یہ مدت پوری کرتے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایوب خان اور ضیاء الحق Zia ul Haq دونوں بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئے۔ کہانیاں مگر ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف کے حوالے سے گھڑی گئیں‘ سبب پاکستان Pakistan کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بتایا گیا جو بھٹو اور نواز شریف Nawaz Sharif کے بعد تیز رفتاری سے جاری رہا۔ البتہ ایوب خان اور ضیاء الحق Zia ul Haq کے بعد ہماری صنعتی، خارجی، سیاسی اور سفارتی پالیسیاں تبدیل ہوئیں کامیابیاں گنہا گئیں اور کوڑی کوڑی کو محتاج ہوتے چلے گئے۔ کرپشن ‘ اقربا پروری‘ دوست نوازی اور خوشامدی ٹولے پر بے جا نوازشات کا کلچر بھٹو،نواز شریف Nawaz Sharif اور بے نظیر، عوامی مقبول رہنمائوں کے دور میں پروان چڑھا‘ قومی صنعتیں اورسرکاری ملازمتیں ریوڑیوں کی طرح بانٹنے کا مکروہ دھندا شروع ہوا۔ جمہوریت نے خاندانی و موروثی حکمرانی کا مزہ چکھا اور پاکستان Pakistan کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ پاکستان Pakistan میں ناقص طرز حکمرانی کے باوجود ایک بار پھر اداروں کی تشکیل و استحکام اور شخصی حکمرانی کی بیخ کنی کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے اور خاندانی سیاست کا جو بیج بھٹو نے سینئر پارٹی رہنمائوں کو نظرانداز کر کے بیگم نصرت بھٹو کی جانشینی کی صورت میں بویا تھا، میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی وغیرہ کی موجودگی میں مریم نواز Maryam Nawaz کو آگے بڑھا کر مزید پروان چڑھایا اور غلاموں کی ایک نسل بلاول بھٹو Bilawal Bhutto و مریم نواز Maryam Nawaz کی حکمرانی کا راستہ صاف کرنے کے لیے شبانہ روز ریاضت میں مشغول ہے، مولانا کی جدوجہد کو کامیاب دیکھنے کی خواہش مند یہ نسل سوچنے پر ہی آمادہ نہیں کہ گڑبڑ اور محاذ آرائی کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟ مولانا اور ان کے ہمنواء عمران خان Imran Khan کے استعفے اور نئے انتخابات کا راگ الاپ رہے ہیں مگر اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ یہ انتخابات کس آئینی شق اور قانون کے تحت، کرائے گا کون؟ اگر انتخابات کے نتیجے میں عمران خان Imran Khan دو تہائی اکثریت لے کر منتخب ہو گیا اور مولانا کی جماعت کا خیبرپختونخوا، بلوچستان، مسلم لیگ ن کا وسطی پنجاب سے صفایا ہو گیا تو اپوزیشن کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ خدانخواستہ شدید ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ریاستی مشینری بے بس ہو گئی اور سول حکومت حالات پر قابو نہ پا سکی تو مداخلت کے مضمرات کیا ہوں گے؟ وہی جس کی طرف فیصل واڈوا نے اشارہ کیا تو میڈیا پر ہلچل مچ گئی، یعنی کالے کرتوتوں والے چار پانچ ہزار بکروں کی قربانی اور ایوب خان و ضیاء الحق Zia ul Haq کی طرح امن و استحکام یا کچھ اور؟ بھارت India نے کشمیر میں فوجی راج سے دنیا میں بدنامی کمائی اور پاکستان Pakistan کو سفارتی جارحیت کا موقع فراہم کیا، ایسے حالات پیدا کر کے پوزیشن عمران خان Imran Khan سے حساب چکائے گی یا ملک کو بھارت India کی سطح پر لا کھڑا کرے گی۔ اس سوال کا جواب مذاکرات سے انکاری اور استعفے پر مُصر مولانا کے ذمہ ہے، ریاست کو چیلنج کرنے والوں کا حشر چند سال سے پوری قوم دیکھ رہی ہے۔ مولانا حکومتی پیشکش کو غنیمت سمجھیں اور عزت ’’سادات‘‘ بچائیں۔ شیخ رشید کے بقول فیس سیونگ پر اکتفا کریں کہ رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔حکومت نے لچک دکھائی، اچھا کیا، اب مولانا کی باری ہے۔

 267