اور مذاکرات ناکام ہوگئے

قلم کمان - حامد میر

17 اکتوبر 2019

And the negotiations failed

اسلام آباد Islamabad کے زیرو پوائنٹ کے قریب ایک بڑی خوبصورت جگہ ہے جو شکر پڑیاں کہلاتی ہے۔ شکر پڑیاں پر بنائے گئے پاکستان Pakistan مونومنٹ کو دیکھ کر بڑے سے بڑا زیرو پاکستانی اپنے آپ کو ہیرو سمجھنے لگتا ہے۔

15؍اکتوبر کی شام برطانوی ہائی کمیشن نے اسی پاکستان Pakistan مونومنٹ کے سائے میں برطانیہ کے شہزادہ ولیم اور اُن کی اہلیہ کیٹ کے اعزاز میں ایک یادگار استقبالئے کا اہتمام کیا تھا جس کا مقصد پاکستان Pakistan کی اہم شخصیات کو شاہی جوڑے سے ملوانا تھا۔

پاکستان Pakistan میں برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو کی دعوت پر ہم شاہی جوڑے کے اعزاز میں استقبالیے کے لئے شکر پڑیاں پہنچے تو یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ ہمیں کار پارکنگ سے پاکستان Pakistan مونومنٹ تک خوبصورت رکشے میں بیٹھ کر جانا تھا۔

جب ہم رکشے سے اُترے تو برطانوی ہائی کمیشن کا عملہ اپنی مسکراہٹوں کے ساتھ استقبال کے لئے موجود تھا۔ شاہی جوڑے کی سیکورٹی کے لئے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے تھے لیکن کسی کو تنگ کیا جا رہا تھا نہ مشکوک نظروں سے دیکھا جا رہا تھا۔

ایک اور خوشگوار حیرت یہ تھی کہ شاہی جوڑا بھی رکشے میں بیٹھ کر آیا۔ دونوں میاں بیوی نے پاکستانی پرچم کے رنگ والا سبز لباس پہن رکھا تھا۔ اس سبز لباس اور رکشے کی سواری نے عام پاکستانیوں کے دلوں میں اس جوڑے کے لئے محبت اور احترام پیدا کر دیا لیکن کچھ بہت خاص پاکستانی ایسے بھی تھے جو پاکستان Pakistan مونومنٹ تک رکشے میں بیٹھ کر آنے کے لئے تیار نہ تھے بلکہ وہ اپنے سبز جھنڈے اور سبز نمبر پلیٹ والی گاڑیوں سے وہاں اُترے۔

استقبالیے میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی بھرمار تھی۔ بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری کو مسلم لیگ(ن) کی خواتین اراکین پارلیمنٹ نے گھیر رکھا تھا اور مریم اورنگ زیب اپنی ساتھیوں کا تعارف کروا رہی تھیں۔

حکومت کے وزراء مختلف ٹولیوں میں کھڑے مسلسل مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے اور مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ مولانا آئیں گے یا نہیں آئیں گے؟

میں بار بار یہ سوال سُن کر بار بار ہنس رہا تھا اور بار بار پوچھ رہا تھا کہ میرے عزیز وزیر صاحبان حکومت میں آپ ہیں یا میں؟ وہ جواب میں صرف مسکرا دیتے اور اس مسکراہٹ میں موجود اُن کی بےبسی اور بےخبری نے مجھے بار بار اندر سے ہلا دیا۔

ایک وزیر نے مجھے پاکستان Pakistan مونومنٹ کے ہلال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی جگہ ہے نا جہاں آپ نے کچھ سال قبل عمران خان Imran Khan کے ساتھ کیپٹل ٹاک کیا تھا؟

میں نے کہا جی ہاں یہ وہی جگہ ہے جہاں عمران خان Imran Khan کے ساتھ کیپٹل ٹاک میں خورشید شاہ Khursheed Shah شریک تھے۔

اس وقت دونوں اپوزیشن میں تھے اور ایک دوسرے کی تائید کر رہے تھے آج خان صاحب وزیراعظم ہیں اور خورشید شاہ Khursheed Shah نیب کے قیدی بن چکے ہیں۔ وزیر نے موضوع بدلتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان Pakistan مونومنٹ کو اُردو میں کیا کہتے ہیں؟

میں نے بتایا اسے اردو میں ’’یاد بودِ پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یادگار پاکستان Pakistan تو لاہورمیں ہے۔ ’’یاد بودِ پاکستان‘‘ وزیر صاحب کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔

انہوں نے کچھ سوچا اور پھر پوچھا یار یہ لانگ مارچ کو اُردو میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی کہا کہ لانگ مارچ کو اُردو میں ڈانگ مارچ کہتے ہیں؟

وزیر صاحب نے حیرت سے پوچھا کیا مطلب؟ میں نے بتایا کہ ہر لانگ مارچ میں ڈانگیں ضرور چلتی ہیں اس لئے اردو میں لانگ مارچ کو ڈانگ مارچ کہنا غلط نہیں۔

نجانے وہ خود پریشان تھے یا مجھے پریشان کر رہے تھے۔ پوچھنے لگے کہ یہ بتایئے لاک ڈائون کو اُردو میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ابھی لاک ڈائون کا باقاعدہ اعلان تو نہیں ہوا لیکن جس لاک ڈائون کا اعلان 2016میں عمران خان Imran Khan نے کیا تھا اُس کا مطلب تھا ’چاروں شانے چت‘۔

یہ سُن کر وزیر صاحب نے نفی میں سر ہلانا شروع کر دیا اور زخمی زخمی سے اعتماد کے ساتھ کہا ’’نہیں نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا‘‘۔

اب میں نے بھی اُن کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا اور پوچھا کہ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ یوٹرن کو اُردو میں کیا کہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دینے کے بجائے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا۔

دائیں طرف کچھ فاصلے پر وزیر داخلہ اعجاز شاہ کھڑے تھے اور بائیں طرف گورنر پنجاب چوہدری سرور بڑی گرمجوشی کے ساتھ جہانگیر ترین کو گلے لگا رہے تھے۔

میں نے پھر پوچھا کہ یوٹرن کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ وزیر صاحب تھوڑا تلخ ہو کر کہنے لگے کہ اگر آپ سڑک پر جا رہے ہوں اور آگے دیوار آ جائے تو آپ دیوار میں ٹکر نہیں ماریں گے بلکہ یوٹرن لیں گے تاکہ حادثہ نہ ہو جائے۔

میں نے مسکرا کر اُن کو داد دی اور کہا کہ آپ نے یوٹرن کا وہی مطلب بیان کیا جو عمران خان Imran Khan بھی بیان کر چکے ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ آپ یہی والا یوٹرن لے لیں اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ حکومت براہ راست مذاکرات کرے ورنہ کوئی نہ کوئی حادثہ ہو جائے گا۔

وزیر صاحب نے بتایا کہ مذاکرات تو ہو رہے ہیں اور شیخ رشید احمد نے ان مذاکرات کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ جن مذاکرات کی طرف شیخ صاحب نے اشارہ کیا وہ ناکام ہو چکے ہیں۔

وزیر صاحب نے کہا تو پھر کوئی بات نہیں ہم مولانا کو گرفتار کر لیں گے، جو غلطی نواز شریف Nawaz Sharif نے کی تھی وہ ہم نہیں کریں گے۔ میں نے پوچھا نواز شریف Nawaz Sharif نے کیا غلطی کی تھی؟

وزیر صاحب نے شان بے نیازی سے کہا کہ نواز شریف Nawaz Sharif نے ہمیں ڈی چوک تک آنے کی اجازت دے دی تھی اور عمران خان Imran Khan کو گرفتار نہیں کیا تھا لیکن ہم مولانا کو گرفتار کر لیں گے۔

میں نے کہا آپ جو مرضی کریں مولانا کی گرفتاری اُن کی کامیابی بن جائے گی۔

گفتگو کے دوران یوسف رضا گیلانی صاحب آ گئے جنہوں نے کچھ دن پہلے پیپلز پارٹی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی بھرپور حمایت کی تھی۔ اُنہوں نے مجھے اپنا موقف تفصیل سے بتایا۔

قریب کھڑی مریم اورنگزیب نے کہا ہمارے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif کا حکم آ چکا، اب آپ مولانا کے جلسے میں خواتین کو بھی دیکھیں گے۔

میں نے پوچھا کہ اگر پھر سے مذاکرات شروع ہو گئے؟ انہوں نے جھٹ کہا مولانا ہمیں سب بتا چکے ہیں اُن کے مذاکرات ناکام ہو چکے، اب آزادی مارچ ہو کر رہے گا۔ شکر ہے کہ شاہی جوڑا آزادی مارچ سے پہلے آیا اور پہلے ہی واپس چلا جائے گا۔

 244