ثالثی کا بخار

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

15 اکتوبر 2019

Mediation fever

میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے بھی 2016ءمیں سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran کے درمیان ثالثی کا فیصلہ کیا‘ یہ 18 جنوری کو ریاض اور 19 جنوری کو تہران Tehran گئے‘ میں بھی وزیراعظم کے وفد میں شامل تھا‘ میں کیوں شامل تھا یہ مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا‘ جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے اور طارق فاطمی خارجہ امور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی‘ یہ دونوں دورے کے مرکزی ستون تھے‘ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد بھی ساتھ تھے۔

ہم لوگ ٹیک آف سے پہلے پی اے ایف بیس پر بیٹھے تھے‘ میں نے طارق فاطمی صاحب سے پوچھا ”سر کیا ثالثی کایہ دورہ کام یاب ہو جائے گا“ طارق فاطمی ہنس کر بولے ”مجھ سے وزیراعظم نے بھی پوچھا تھا‘ میں نے ان کو جواب

دیا تھا سر یہ مسئلہ 632ءسے حل نہیں ہو سکا‘ ہم بھی نہیں کر سکیں گے“ وہ رکے اور مسکراتی آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے عرض کیا ”وزیراعظم نے کیا جواب دیا تھا “وہ ہنسے اور بولے ”وزیراعظم نے کہا‘ فاطمی صاحب ہم پھر بھی ٹرائی کرتے ہیں“ میں نے ان سے پوچھا ” تنازع کا بڑا ذمہ دار کون ہے“ وہ ہنس کر بولے ”ایران Iran اور سعودی عرب Saudi Arabia دونوں ذمہ دار ہیں“۔ہماری گفتگو ابھی جاری تھی وزیراعظم آ گئے اور فلائیٹ کا وقت ہو گیا‘ ہم بہرحال پہلے سعودی عرب Saudi Arabia پہنچ گئے‘ سعودی کنگ شاہ سلمان نے وزیراعظم کو انتہائی پرتکلف لنچ دیا اور پھر پاکستانی وفد کی سعودی وفد کے ساتھ ملاقات شروع ہوگئی اور آخر میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور شاہ سلمان دونوں تنہائی میں ملے‘ وزیراعظم باہر نکلے تو بہت خوش اور متحرک تھے‘ ہمیں محسوس ہوا شاید شاہ سلمان مان گئے ہیں مگر رات کے وقت پتا چلا سعودی عرب Saudi Arabia نے ثالثی کے لیے زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی‘ شاہ سلمان اور ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman نے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا شکریہ ادا کیا‘ پاکستان Pakistan کے ثالثی کے کردار کو سراہا اور فرمایا‘ آپ جلدی نہ کریں‘ ہم آپ کو چند ماہ میں بتائیں گے۔

ہم اگلے دن ریاض سے تہران Tehran آ گئے‘ ایرانی حکومت کا رویہ بہت سرد اور غیر سفارتی تھا‘ ہوٹل بھی اچھا نہیں تھا‘ وفد کو سڑک پر اتار کر پیدل ہوٹل لے جایا گیا تھا‘ صدر حسن روحانی سے ملاقات کی اجازت بھی صرف 6 لوگوں کو دی گئی مگر اس سرد مہری کے باوجود ایرانی حکومت نے پاکستان Pakistan کی ثالثی کو بھی تسلیم کر لیا اور ”گوہیڈ“ بھی دے دیا‘ ہم لوگ رویوں کے اس تضاد پر حیرت کے ساتھ واپس آ گئے‘ سعودی عرب Saudi Arabia نے استقبال والہانہ کیا مگریہ ثالثی کے لیے تیار نہ ہوا۔

ایران Iran کا استقبال اور رویہ سرد تھا مگر یہ ثالثی کے لیے تیار تھا‘ ہم بہرحال ادھورے مشن کے ساتھ پاکستان Pakistan واپس آگئے‘ اپریل 2016ءمیں پانامہ سکینڈل آ گیا اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif ثالثی کو بھول کر اس میں دھنس گئے اور اب عمران خان Imran Khan ایران Iran اور سعودی عرب Saudi Arabia کے پھیرے لگا رہے ہیں‘ کیا یہ کام یاب ہو جائیں گے ہمیں یہ جاننے کے لیے تاریخ میں جانا ہوگا۔سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran کا تنازع آج تک محدود نہیں‘ اس کی تین جڑیںہیں‘ پہلی جڑ ہزاروں سال کی نفرت اور دوری میں پیوست ہے۔

عرب خود کو عرب اور باقی دنیا کو عجم کہتے تھے‘ ایرانی اس عجم میں آتے تھے‘ 53قبل مسیح میں ایران Iran اور روم کے درمیان اختلافات شروع ہوئے اور خوف ناک جنگوں کا سلسلہ چل نکلا‘یہ سلسلہ نبی اکرمؐ کے زمانے تک چلتا رہا‘یہ جنگ 680سال جاری رہی اور یہ اس زمانے کی جنگ عظیم تھی‘نبی اکرمؐ کے مکی دور میں ایرانی آتش پرست تھے اور رومی عیسائی‘ نبی اکرمؐ کا ووٹ عیسائی رومیوں کے حق میں تھا اور یوں بالآخر627ءمیں رومن جیت گئے اور ایرانی ہار گئے۔

اہل فارس عربوں کو رومیوں کا اتحادی سمجھتے تھے‘ یہ سوچ آج تک قائم ہے‘ دوسری جڑ نبی اکرمؐ کے وصال کے بعدپھوٹ پڑی‘ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں 636ءمیں قادسیہ کی جنگ ہوئی‘ قادسیہ عراق Iraq میں کوفہ سے 52 کلومیٹر اور کربلا سے 122کلو میٹر دور چھوٹا سا قصبہ ہے‘ عراق Iraq اس زمانے میں ایرانی سلطنت کا حصہ ہوتا تھا‘ حضرت سعدبن ابی وقاصؓاور ایرانی جرنیل رستم کے درمیان جنگ ہوئی‘ ایرانی جنگ قادسیہ ہار گئے اوریوں پورا فارس اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔

ایرانی بادشاہ یزدگردکی دو شہزادیاں شہربانواورگیہان بانو جنگی قیدی بن کر آئیں‘ حضرت عمر فاروقؓ نے شہزادیوں کو دیکھ کر فرمایا‘ یہ شہزادیاں ہیں‘ یہ شہزادوں کے عقد میں جائیں گی یوں شہربانوحضرت امام حسینؓ کے عقد میں آگئیں اورگیہان بانو حضرت محمد بن ابو بکرؓ کی زوجیت میں دے دی گئیں‘ حضرت محمد بن ابو بکرؓ کی والدہ حضرت اسمائؓ ابتدا میں حضرت علیؓ کے بڑے بھائی حضرت جعفر طیارؓ کی اہلیہ تھیں‘ حضرت جعفرؓ اردن میں جنگ موتہ کے دوران شہید ہو گئے تو یہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نکاح میں آگئیں۔

حضرت محمد بن ابو بکرؓ پیدا ہوئے‘ یہ تین سال کے تھے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ رحلت فرما گئے‘ حضرت اسمائؓ دوسری بار بیوہ ہو گئیں‘ حضرت علیؓ نے ان کے ساتھ نکاح کر لیا یوں حضرت محمد بن ابو بکرؓ کی پرورش حضرت علیؓ کے گھرمیں ہوئی اور یہ اہل بیعت کے رنگ میں رنگ گئے ‘ ایرانی شہزادیاں حضرت امام حسینؓ اور حضرت محمد بن ابو بکرؓ کے نکاح میں آئیں تو اہل فارس حضرت علیؓ کے خانوادے سے جڑ گئے‘ عرب میں شیعان علی کی تحریک چلی اور ایران Iran حضرت علیؓ کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔

واقعہ کربلا کے بعد یہ تقسیم اختلاف اور پھر فرقہ بن گئی‘ حضرت امام حسینؓ کی اہلیہ شہربانو ؒ کا انتقال بھی ایران Iran میں ہوا ‘ حضرت امام علی رضاؒ حضرت امام حسینؓؓ کی نسل کی پانچویںسیڑھی ہیں‘ یہ عباسی خلیفہ مامون الرشید کی سازش کا شکار ہوئے‘ مدینہ منورہ سے مشہد آئے اور ان کا انتقال ہو گیا‘ یہ مشہد میں مدفون ہوئے اور مشہد ان کی مناسبت سے مشہد یعنی شہید کا مقام کہلانے لگا چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں عرب اور ایران Iran اختلافات خلفاءراشدین کے دور میں شروع ہو گئے تھے اور یہ آج تک جاری ہیں۔

یہ ایران Iran سعودی عرب Saudi Arabia تنازع کی دوسری جڑ تھی‘ تیسری جڑ 2015ءمیں پروان چڑھنا شروع ہوئی‘ سعودی عرب Saudi Arabia نے مارچ 2015ءمیں یمن Yemen کے حوثی قبائل پر حملے شروع کر دیے‘ حوثی شیعہ ہیں‘ یہ حضرت علیؓ کے زمانے میں شیعہ ہوئے اور یہ آج تک اپنے عقائد پر کاربند ہیں‘ سعودی عرب Saudi Arabia کے حملے کے بعد ایران Iran نے حوثیوں کی سپورٹ کرنا شروع کر دی‘ یہ انہیں اسلحہ بھی دینے لگے‘ ٹریننگ بھی اور فضائی معاونت بھی چناں چہ یمن Yemen میں افغانستان Afghanistan جیسی صورت حال پیدا ہو گئی۔

یمن Yemen کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب Saudi Arabia اور اومان کے ساتھ جڑا ہوا ہے‘ یہ حصہ اس وقت القاعدہ کے کنٹرول میں ہے اوریہاں القاعدہ کو باقاعدہ سعودی سپورٹ حاصل ہے‘ ایران Iran نے اس قبضے کا بدلہ سعودی عرب Saudi Arabia کے تیل کے ذخائر والے علاقوں میں لینا شروع کر دیا‘ سعودی عرب Saudi Arabia کے تیل کے ذخائر کے اردگردشیعہ آبادیاں ہیں اور ایران Iran نے انہیں سپورٹ کرنا شروع کر دیا‘دوسرا واقعہ 2011ءمیں شام میں پیش آیا‘ سعودی عرب Saudi Arabia نے بشار الاسد کی حکومت گرانے کی کوشش کی‘ یہ بھی اہل تشیع ہیں۔

ایران Iran نے ان کی مدد شروع کر دی یوں شام میں بھی خانہ جنگی شروع ہو گئی چناں چہ ہم اگر دیکھیں تو ایران Iran اور سعودی عرب Saudi Arabia میں براہ راست کوئی جھگڑا نہیں مگریہ دونوں شام اور یمن Yemen میں پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں‘ ایران Iran عراق Iraq میں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے‘ سعودی عرب Saudi Arabia کو یہ بھی پسند نہیں آ رہا‘ اب سوال یہ ہے پاکستان Pakistan اس تنازع میں کہاں آ تا ہے‘ پاکستان Pakistan دراصل سعودی کیمپ میں ہے‘ ہم 50 سال سے سعودی عرب Saudi Arabia سے امداد لے رہے ہیں‘ شاہی خاندان ہم سے اس کے بدلے فوجی امداد کا خواہاں رہتا ہے۔

ایران Iran ہمارا ہمسایہ ہے اور ہماری 20فیصدآبادی بھی شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے‘ ہم ایران Iran کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہتے چناں چہ سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran جب بھی جنگ کے دہانے پر پہنچتے ہیں ہم ثالثی کے لیے درمیان میں کود پڑتے ہیں اور ہر بار بری طرح ناکام ہوتے ہیں‘ عمران خان Imran Khan بھی چپ چاپ واپس آ جائیں گے اورجلد مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے شور میں ثالثی بھول جائیں گے‘عمران خان Imran Khan کا دورہ ایران Iran کیسا تھا اس کے بارے میں امیر طاہری نے بہت اچھا تبصرہ کیا۔

امیر طاہری ایران Iran کے پرانے صحافی ہیں‘ یہ شاہ ایران Iran کے دور میں ایران Iran کے سب سے بڑے اخبار کیہان کے ایڈیٹر تھے‘ یہ 1979ءکے انقلاب کے بعد لندن اور پھر پیرس شفٹ ہو گئے مگر ان کی جڑیں آج بھی ایران Iran کی سیاست میں گڑی ہوئی ہیں‘ امیر طاہری نے اتوار کی شام ٹویٹ کی ”آیت اللہ خامنائی نے عمران خان Imran Khan سے صرف دو معاملات ڈسکس کیے‘ ایران Iran پاکستان Pakistan بارڈر پر سیکورٹی کی صورت حال اور گیس پائپ لائین اور بس“ امیر طاہری کی یہ ٹویٹ اپنے منہ سے ثالثی کا مستقبل بیان کر رہی ہے‘ وزیراعظم اب سعودی عرب Saudi Arabia جائیں گے‘ یہ شاہ کے سامنے کیا رکھیں گے اور شاہ ان سے کیا کہیں گے؟ ہم اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔

پاکستان Pakistan کی تاریخ میں ایک عجیب حسن اتفاق ہے‘ ہمارا جو بھی حکمران اپنا سفارتی قد بڑھانے کے لیے ایران Iran اور سعودی عرب Saudi Arabia کے درمیان ثالثی شروع کرتا ہے وہ چند ماہ بعد اقتدار سے فارغ ہو جاتا ہے‘ آپ ایوب خان سے لے کر میاں نواز شریف Nawaz Sharif تک پوری تاریخ دیکھ لیں‘ آپ یہ حسن اتفاق دیکھ کر حیران رہ جائیں گے‘ آپ اگراسلامی تاریخ کو بھی اس حسن اتفاق میں شامل کر لیں تو آپ یہ دیکھ کر مزید حیران رہ جائیں گے‘ 632ءمیں نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد سے آج تک مسلم دنیا کے جس بھی حکمران نے ایران Iran عرب تنازع میں قدم رکھا وہ مارا گیا یا پھر وہ بغاوت کا شکار ہو گیا‘ یہ تنازع ہر دور میں مسلمان بادشاہوں کے لیے منحوس ثابت ہوا تاہم مجھے یقین ہے عمران خان Imran Khan 1400 سال پرانا یہ ایشو ضرور حل کر لیں گے‘ یہ ان شاءاللہ یہ ورلڈ کپ بھی ضرور جیت کر آئیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ایک غیر معمولی لیڈر ہیں‘ یہ ثالثی کے بخار سے صاف بچ نکلیں گے‘ ان شاءاللہ۔

 443