’طیارہ خراب نہیں تھا، وزیراعظم کو واپس نیویارک کیوں اور کس نے بلوایا تھا؟

14 اکتوبر 2019

'The plane wasn't bad, why and who had called the Prime Minister back to New York?

گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے درمیان ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کی اس پیشکش کو کھلے دل سے قبول کیا کہ وہ امریکہ United States اور ایران Iran کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کرسکتے ہیں اور میٹنگ کے دوران ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو کردار ادا کرنے کی اجازت دے دی۔

ذرائع کے مطابق اسی دوران امریکی صدر کے قریبی مشیروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ پہلے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran کے درمیان مفاہمت میں اپنا کردار ادا کریں اس سے ایران Iran کی نیت کا بھی پتہ چل جائے گا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کتنا سنجیدہ ہے جس دوران وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے مشیر یہ مشورہ دے رہے تھے۔

وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan عمران خان Imran Khan کا خصوصی طیارہ انہیں اور اُن کے ساتھیوں کو لیکر پاکستان Pakistan کی طرف پرواز کرچکا تھا تاہم طیارے میں وزیر اعظم Prime Minister کو واپس نیویارک آنے کی درخواست کی جس کے متعلق بعد میں اس طرح کی بھی خبریں آئیں کہ سعودی ولی عہد Crown Prince جن کے ذاتی طیارے میں وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan سفر کررہے تھے انہوں نے وزیر اعظم Prime Minister سے ناراضی کی بنا پر انہیں فوری طور پر طیارہ چھوڑنے کا کہا یہ بات اس لیے مضحکہ خیز لگتی ہے کہ اگر سعودی ولی عہد Crown Prince ناراض ہوگئے تھے تو پھر وزیر اعظم Prime Minister نے سعودی ائیر لائن کا ہی کیوں انتخاب کیا واپسی کے سفر کے لیے۔

مستند ذرائع کے مطابق وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کو واپس امریکہ United States بلاکر انہیں پہلے سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran کے مابین بہتر تعلق کی راہ ہموار کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو کہا گیا اور اُس کے بعد اگر ایران Iran کی نیت پر امریکہ United States کو شک نہیں ہوتا اور سعودی عرب Saudi Arabia ایران Iran کے تعلقات حقیقی بہتری کی طرف چلتے ہیں تو وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan ایران Iran اور امریکہ United States کے درمیان بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم سے امریکی اعلیٰ حکام کی نیویارک میں ملاقات ہوئی اور اُس کے فوری بعد وہ سعودی ائیرلائن کی کمرشل پرواز سے جدہ پہنچے جہاں اُن کی شاہی لاؤنج میں انتہائی اہم سعودی شخصیت سے ملاقات ہوئی جس میں سعودی عرب Saudi Arabia کی حکومت کی طرف سے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو باضابطہ درخواست کی گئی کہ وہ فوری طور پر ایران Iran کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں سعودی عرب Saudi Arabia کی مدد کریں۔

وزیر اعظم Prime Minister نے پاکستان Pakistan واپس پہنچتے ہی چین China کے اچانک دورے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس معاملے میں چینی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے۔

پاکستان Pakistan مسلم اُمہ میں ایک مرکزی حیثیت حاصل کرتا جارہا ہے اسی لیے وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کو اہمیت دی جارہی ہے ۔

امریکہ United States مشرق وسطیٰ سے کم از کم اگلے صدارتی انتخابات تک اپنا ناطہ اس طرح توڑنا چاہتا ہے جس سے امریکی عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے متعلق امریکی پالیسیوں کو بدلنا چاہتے ہیں اور امریکی افواج کو مشرق وسطیٰ کے جنگی میدانوں سے نکال کر امن کے میدان میں لانا چاہتے ہیں ۔

امریکی قوم مشرق وسطیٰ کے مسلسل جنگی ماحول اور اس میں پھنسی امریکی افواج کی پریشانیوں سے اب جان چھڑانا چاہتی ہے اسی لیے دو دن قبل صدر ٹرمپ نے واضح لفظوں میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگوں کا حصہ بننا امریکہ United States کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔

دوسرے امریکہ United States چین China اور ایران Iran کے درمیان ہونے والے تیل کی فروخت اور تنصیبات کی دیکھ بھال کے لیے ہونے والے 280 بلین ڈالر billion dollor کے معاہدے سے بھی پریشان ہے کیونکہ اس ڈیل کے بعد امریکی ڈالر کی حیثیت میں بہت فرق آئے گا کیونکہ خریدوفروخت چینی کرنسی میں ہوگی اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک بھی چین China کے ساتھ اس طرح کی فروخت کے معاہدے کرسکتے ہیں گو کہ ابھی پانچ دن قبل ایک چینی کمپنی نے ایران Iran کے ساتھ پانچ ارب ڈالر billion dollor کا ایک سودا منسوخ کیا ہے ۔

لہذا امریکہ United States اب خطے کے متعلق اپنی پالیسی بدل رہا ہے اور وہ افغانستان Afghanistan عراق Iraq شام اور یمن Yemen کی جنگوں کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتا ہے یا کچھ عرصے کے لیے ایسا چاہتا ہے اور اسرائیل پر بھی زور ڈالے گا کہ وہ دیگر مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لائے۔

اگر اس امریکی پالیسی کا مکمل طور پر اطلاق ہوجاتا ہے تو بھارت India خطے میں تنہا رہ جائے گا کیونکہ امریکہ United States کو سعودی عرب Saudi Arabia اور اپنے لیے ایران Iran کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے پاکستان Pakistan کی ضرورت ہے اور امریکہ United States نے اس سلسلے میں پاکستان Pakistan کی یہ درخواست بھی مانی کہ وہ طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرے کیونکہ اس سے پاکستان Pakistan کو اپنے ملک میں امن قائم کرنے میں بڑی مدد ملے گی ۔

دوسری بڑی طاقت چین China پہلے ہی پاکستان Pakistan کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔

بھارت India اب پوری دنیا کو کاروباری لالچ دے رہا ہے کیونکہ ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی مارکیٹ ہے مگر روس Russia چین China اور پاکستان Pakistan جیسی بڑی مارکیٹ اگر ایک ساتھ ہوجاتی ہیں تو یہ بھارت India کے ساتھ امریکہ United States کی بھی شکست ہے جس کو بچانے کے لیے امریکہ United States ہر حد تک جاسکتا ہے چاہے اُس کی قیمت بھارت India کے ساتھ تعلقات خراب کرنے ہی کی صورت میں دینا پڑے۔

 237