مولانا اکتوبر ہی میں مارچ پر بضد کیوں؟

برملا - نصرت جاوید

14 اکتوبر 2019

Why did Maulana march in October?

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کے اہداف اور طریقہ کار کے خلاف بے تحاشہ دلائل سوچے جاسکتے ہیں۔ان کی اکثریت بہت معقول بھی سنائی دے گی۔ خدا کا واسط دیتے ہوئے مگر التجا کروں گا کہ یہ دلیل نہ گھڑیں کہ مذکورہ مارچ یا دھرنے کا اصل مقصد مقبوضہ کشمیر پر 5اگست 2019سے نازل ہوئی اذیت سے توجہ ہٹانا ہے۔منافقت کے موسم میں بھی تھوڑے سچ کی گنجائش ہمیشہ موجودرہتی ہے اور تلخ حقیقت ہے تو فقط اتنی کہ بحیثیت قوم ہم 5اگست 2019کے بعد سے اپنی ’’شہ رگ‘‘ کے تحفظ کے لئے مؤثر آواز بلند نہ کر پائے۔

ہماری پارلیمان کا اس ضمن میں فقط دو دن کے لئے ایک مشترکہ اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس کے دوران ہمارے مابین اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم جس انداز میں عیاں ہوئی اسے یاد کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔کشمیریوں سے یک جہتی کے اظہار کے لئے ہر جمعہ کے روز گھروں سے باہر آنے کا اعلان بھی ہوا تھا۔اس اعلان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہوپایا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر ہوئی۔مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوا کمیونی کیشن لاک ڈائون اس تقریر کے چار اہم نکات میںسے ایک تھا۔موسموں کی خوفناک تبدیلی، منی لانڈرنگ Money laundering اور مغرب میں پھیلی اسلام دشمنی کے بعد لاک ڈائون کا تذکرہ ہوا تھا۔

80لاکھ کشمیریوں پر جو قیامت نازل ہوئی ہے اسے نام نہاد ’’عالمی ضمیر‘‘ کے روبرو بنیادی طورپر بھارت India کے وہ صحافی لائے جنہوں نے ’’غداری‘‘ کی تہمت کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے خرچے پر مقبوضہ وادی کے دورے کئے اور وہاں کے حالات کو ا نٹرنیٹ پر چلائے اخبارات اور جرائد کی بدولت دُنیا کے سامنے لائے۔بی بی سی اور الجزیرہ نے بروقت فوٹیج حاصل کیں۔انہیں دُنیا کو دکھایا۔ان سب کے علاوہ اہم ترین کردار کشمیر سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں نے ادا کیا۔’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں کئی ایسے مضامین شائع ہوئے جسے کل کے مورخ حوالوں کے لئے استعمال کریں گے۔کشمیری لکھاریوں کے لکھے ان مضامین نے امریکی پارلیمان کے کئی اہم اراکین کو متحرک کیا۔انہوں نے امریکی صدر کو خط لکھے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک اہم عہدے دار ایلس ویلز شاید ان کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے ذکر کو مجبورہوئی۔

بنیادی طورپر امریکی دبائو کے نتیجے میں پیر کی دوپہر سے مقبوضہ کشمیر میں موبائل فونز جزوی طورپر کھول دئیے جائیں گے۔انٹرنیٹ تک رسائی مگر اب بھی میسر نہیں ہوگی۔ ’’نالے لمبی تے نالے کالی‘‘ سردیوں کی راتیں اب مقبوضہ کشمیر پر اُترنا شروع ہوگئی ہیں۔ امید کی کرن پھوٹنے میں بہت عرصہ لگے گا۔

دریں اثناء ہمارے حکمرانوں کو فکر یہ لاحق ہوچکی ہے کہ ایران Iran اور سعودی عرب Saudi Arabia میں صلح کے راستے ڈھونڈے جائیں۔ شاید اس ’’صلح‘‘ کو ممکن بنانے کے لئے امریکی صدر نے تین ہزار تازہ دم فوجی سعودی عرب Saudi Arabia بھیج دئیے ہیں۔ اگرچہ اس سے قبل مختلف ٹویٹس کے ذریعے اسی نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ United States کو مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری ’’مضحکہ خیز‘‘ مگر مسلسل جاری جنگوں میں حصہ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کی دانست میں یہ جنگیں بنیادی طورپر ’’قبائلی‘‘ نفرتوںکی بنیاد پر جاری ہیں۔امریکہ United States کو کسی ایک فریق کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے وسائل ضائع نہیں کر نا چاہیے۔

یہ اعلان کرنے کے بعد اس نے ترکی کو یہ حق بھی تفویض کردیا کہ وہ اپنی سرحد کو ’’محفوظ‘‘ بنانے کے لئے شام میں جو چاہے کرے۔شمال مشرقی شام کے شہروں میں کردجو گزشتہ 8سالوں سے امریکی امداد ومعاونت کے ساتھ داعش کے خلاف ’’تخت یا تختہ‘‘ والی جنگ لڑرہے تھے اب ترکی کے رحم وکرم پر چھوڑدئیے گئے ہیں۔شاید ہمیں یاد نہ ہو مگر کرد بھی مسلمان ہی ہوتے ہیں۔صلاح الدین ایوبی بھی کردہی تھے۔ ان کے بارے میں ہمیں سوچنے کی فرصت نہیں۔یمن Yemen میں بھوک سے مرتے بچوں کا تذکرہ بھی ہمارے ہاں نہیں ہوتا۔کشمیر بھی بتدریج عالمی میڈیا کی توجہ سے محروم ہورہا ہے۔حتیٰ کہ ہمارا اپنا میڈیا بھی اب پوری توجہ مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ وجوہات اس توجہ کی یکسرمقامی ہیں۔ اس میں چسکہ فروشی کے بے پناہ امکانات ہیں۔ Ratingsکی دوڑ میں نمبرون آنے کی خواہش کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

ایک دھرنا 2014میں بھی ہوا تھا۔مجھ بدنصیب نے اپنے تئیں انتہائی غیر جانب دارانہ دیانت داری کے ساتھ اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔بارہامتنبہ کرتا رہا کہ اگر منتخب حکومتوں کو پارلیمان کو بے وقعت بناتے دھرنوں کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کا چلن متعارف ہوگیا تو پاکستان Pakistan میں کسی حکومت کو بھی استحکام نصیب نہیں ہوپائے گا۔مجھ جیسے افراد کو ایسے دلائل بیان کرنے کی وجہ سے ’’لفافہ‘‘ پکارا گیا۔

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ۔ مارچ یا دھرنے کے خلاف بات کرتے ہوئے لہذا خوف آتا ہے۔اب کی بار دھرنے کے متمنی اس کے خلاف ہوئے میرے دلائل کو بھی ’’لفافہ‘‘ کا شاخسانہ قرار دیں گے۔صحافیوں کی ساکھ کو 2014کے ’’انقلابیوں‘‘ نے تباہ وبرباد کردیا تھا۔ یہ صحافی اگر اپنے کالموں کے ذریے اب مولانا فضل الرحمن کے مارچ یا دھرنے کی مخالفت میں ایمان دارانہ دلائل بھی پیش کریں گے تو قاری اسے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔ ٹی وی سکرینوں کی ’’حق گوئی‘‘ تو عرصہ ہوا اپنی اصل ’’اوقات‘‘ دکھاچکی ہے۔ یوٹیوب کے ذریعے بتائے ’’سچ‘‘ کی محدودات بھی عیاں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

عمر کے آخری حصے میں ’’لفافہ‘‘ کی راحت سے محروم ہوامیں لفظ فروش ان دنوں بہت خواہش مند ہوں کہ دربار بنی گالہ تک کسی صورت رسائی نصیب ہوجائے۔ یہ میسر ہوتی تو بہت مہارت سے میں یہ چورن بیچ سکتا ہوں کہ نواز شریف Nawaz Sharif کو جیل سے باہر نکال کر احتساب عدالت کے روبرو ایک اور کیس کے لئے پیش کرنا حکومت کے خلاف ایک ’’گہری سازش‘‘ تھی۔نواز شریف Nawaz Sharif کی پیشی نے ان کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘ رہ نمائوں کے لئے یہ گنجائش ہی باقی نہ رکھی کہ وہ خود کو مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے سے کسی نہ کسی صورت لاتعلق دکھائیں۔ سابق وزیر اعظم Prime Minister نے واضح الفاظ میں مولانا کی حمایت کردی۔ایک لکیر کھینچ دی۔ بہتر ہوتا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کو عدالت لانے کے بجائے جیل ہی میں مزید تفتیش کی راہ نکالی جاتی۔

وہ عدالت نہ آتے تو ہمارے عوام کی اکثریت اس امر سے بے خبر رہتی کہ جمعرات کے روز ہوئی ملاقاتوں میں نواز شریف Nawaz Sharif اپنے ’خونی رشتوں‘‘ کو مولانا کے اعلان کردہ مارچ یا لانگ مارچ کی بابت کیا بتارہے ہیں۔کیپٹن صفدر سچے ہیں یا شہباز شریف Shehbaz Sharif صاحب کی مدبرانہ سوچ کی تائید ہورہی ہے۔نواز شریف Nawaz Sharif کی پیشی نے کنفیوژن کی جڑ اکھاڑدی ہے۔

اس کنفیوژن کے خاتمے کے بعد اب مسلم لیگ (نون) میں تقسیم کی خبریں ہیں۔اس ’’تقسیم‘‘ کو ’’اندر کی خبروں‘‘ کی بدولت عیاں کرنے والے مگر یہ سمجھانے سے قاصر ہیں کہ جب یہ ’’تقسیم‘‘ نہیں تھی تب بھی خواجہ سعد رفیق،رانا ثناء اللہ اور شاہد خاقان عباسی کو اسکی بدولت کیا فائدہ ہوا؟ حمزہ شہباز شریف Shehbaz Sharif بھی بدستورجیل میں ہیں۔ ’’متحد‘‘ رہتے ہوئے بھی نون کے لاحقے والی مسلم لیگ اپنے ساتھیوں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کرپائی تھی۔ ’’تقسیم‘‘ ہوکر مگر عمران حکومت کے کام بھی نہیں آپائے گی۔

ہماری حکمران اشرافیہ میں اس وقت جو کھینچا تانی جاری ہے اس کی اصل وجوہات اور کرداروں کا تعین کرنے کے لئے بہت مشاہدے اور تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہے۔ٹھوس معلومات تک رسائی بھی درکار ہے۔واٹس ایپ اس ضمن میں کام نہیں آئے گا۔ ہم تو اب تک اس سوال کا جواب ہی حاصل نہیں کرپائے ہیں کہ مولانا بلھے شاہ کے مصرعہ والی ’’بھیناں تے بھرجائیاں‘‘ کے سمجھانے بجھانے کے باوجود اکتوبر2019ہی میں اپنا مارچ یا دھرنا دینے پر بضد کیوں رہے۔’’بھیناں تے بھرجائیاں‘‘ انہیں ’’دسمبر‘‘ تک انتظار کا مشورہ کیوں دے رہی تھیں۔ ’’اکتوبر ہی کیوں؟‘‘ میری دانست میں مولانا کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کا ٹھوس تجزیہ کرنے کے لئے ایک کلیدی سوال ہے۔ اس کا جواب ڈھونڈیں گے تو مستقبل کا زائچہ بنانے میں آسانی ہوگی۔

 313