میاں کا یوٹرن...خان کو مکافاتِ عمل کا سامنا

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

14 اکتوبر 2019

Mian's Utron ... Khan faces a deal

میاں نواز شریف Nawaz Sharif اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جب برطانیہ میں ہارٹ سرجری کے لیے گئے ہوئے تھے تو ایک موقع پر شہباز شریف Shehbaz Sharif اور چوہدری نثار علی خان اُن سے ایمرجنسی ملاقات کے لیے پہنچے۔ ذرائع کے مطابق موضوعِ بحث اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔

شہباز شریف Shehbaz Sharif اور چوہدری نثار علی خان وزیراعظم سے درخواست کر رہے تھے کہ جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دیں ورنہ مارشل لا کا خطرہ ہے۔ شہباز اور نثار واقعی پریشان تھے لیکن نواز شریف Nawaz Sharif جو اپنی ہارٹ سرجری کے بعد آرام کر رہے تھے، نے اُنہیں صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کسی صورت ایکسٹینشن نہیں دیں گے۔ ذرائع کے مطابق جب نواز شریف Nawaz Sharif سے اس خوف کا اظہار کیا گیا کہ پھر مارشل لا بھی لگ سکتا ہے تو اُنہوں نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی ہو، میں ایکسٹینشن نہیں دوں گا۔

جب دوسری طرف سے دوبارہ اصرار ہوا تو میاں صاحب نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ دونوں میں سے کوئی وزیراعظم بن جائے، میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔

عموماً کہا جاتا ہے کہ شریف برادارن ’گڈ بوائے اور بیڈ بوائے‘ کا کھیل کھیلتے ہیں لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں، دونوں کا اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ڈیل کرنے کا طریقہ کار ہمیشہ سے مختلف رہا ہے۔ شریف فیملی کے ایک اہم فرد کا کہنا ہے کہ دونوں میں اس معاملہ میں اختلافِ رائے کے باوجود شہباز شریف Shehbaz Sharif اپنے بڑے بھائی کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ سکتے۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف Shehbaz Sharif کو نواز شریف Nawaz Sharif سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تین اہم افراد سے ایک ملاقات کے دوران شہباز شریف Shehbaz Sharif نے بتایا کہ وہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے حق میں نہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے چلانے کے قائل ہیں لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپیں گے تو یہ توقع اُن سے نہ رکھی جائے، وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد شہباز شریف Shehbaz Sharif کے لیے مشکلات پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔

اختلافِ رائے کے باوجود شریف فیملی میں نواز شریف Nawaz Sharif اور شہباز شریف Shehbaz Sharif کی حد تک تو ایک مضبوط رشتہ قائم ہے لیکن جب بچوں کی بات آتی ہے تو پھر معاملات میں گڑبڑ ہے۔

موجودہ صورتحال میں نواز شریف Nawaz Sharif نے اپنی اور اپنی فیملی کی تمام تر مشکلات، جیل اور مقدمات کے باوجود ڈٹ جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں مکمل شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif کی رائے مختلف تھی اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس مارچ کے دوران Low Profileمیں رہیں لیکن نواز شریف Nawaz Sharif سے راہیں جدا کرنے یعنی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کوئی امکان نہیں۔

نواز شریف Nawaz Sharif کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں اور وہ بھی اب مولانا فضل الرحمٰن کے طرح ہر حالت میں عمران خان Imran Khan حکومت کو چلتا کرنے کے لیے بے چین China ہیں۔

پاکستان Pakistan کی سیاست کا یہ المیہ ہے کہ 2014ء میں جو دھرنا نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری، اسفندیار وغیرہ کے لیے حرام تھا وہ آج اُن کے لیے حلال ہو چکا ہے۔ اسی طرح جس 126روزہ دھرنے اور لاک ڈائون کو عمران خان Imran Khan جمہوریت، عوام اور پاکستان Pakistan کے لیے فخر کا باعث اور ہر پاکستانی کا سیاسی حق سمجھتے تھے، آج وہ سب پاکستان Pakistan کے مفاد کے برخلاف اس لیے ہو گیا ہے کیونکہ حکومت عمران خان Imran Khan کی اور دھرنا مولانا کا ہے۔

خان صاحب اور طاہر القادری کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ، پی ٹی وی پر حملے، کرینوں، کلہاڑیوں کا استعمال، وفاقی حکومت کے دفاتر پر قبضہ سمیت سب کچھ جمہوریت اور عوام کے حقوق کے حصول کے لیے جائز تھا۔ جس انداز میں خان صاحب نواز شریف Nawaz Sharif سے استعفیٰ لینا چاہتے تھے، مولانا بھی اُسی رواج کو زندہ کرتے ہوئے عمران خان Imran Khan سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو جب وزارتِ عظمیٰ سے نکالا گیا تو اُس کے بعد اُنہوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بلند کیا اور بار بار سوال اٹھایا کہ ہر وزیراعظم کو اپنی مدت پورا کرنے سے پہلے کیوں نکال دیا جاتا ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب خود اُس اندازِ احتجاج کا حصہ کیوں بن گئے جس کا مقصد ایک اور وزیراعظم (اس بار عمران خان) کو اُن کے عہدے سے زبردستی نکال باہر کرنا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے، اُن کی بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہے کہ زیادتی کے جواب میں اپنے اصول چھوڑ دیے جائیں؟ کیا میاں صاحب نے بھی یوٹرن تو نہیں لے لیا؟ جہاں تک عمران خان Imran Khan صاحب کا معاملہ ہے تو گزشتہ چودہ مہینوں کے دوران وہ مکافاتِ عمل کا کچھ ایسا شکار ہیں کہ جس کی شاید کوئی نظیر نہیں ملتی۔

 170