جو اماں ملی تو کہاں ملی

حرف راز - اوریا مقبول جان

14 اکتوبر 2019

Where did I get it?

تمغہ امتیاز ہے اس مغرب کے لئے جس نے بالآخر جاوید احمد غامدی کو پناہ دے دی اور ڈوب مرنے کا مقام ہے اس پاکستان Pakistan کیلئے جہاں انسان اپنی مرضی سے بول بھی نہیں سکتا۔میرے ملک کو جس نے گالی دینا ہو، برا بھلا کہنا ہو، دنیا کے سامنے یہ بتانا ہو کہ یہ جائے امن نہیں ہے، اسے گلا پھاڑ کر یہ سب کچھ کہنے، لکھنے اور چھاپنے کی آزادی امریکہ United States پر یورپ میں فورا میسر آجاتی ہے۔ آپ دہائیوں وہاں بیٹھ کر نفرت کا پرچار کریں،آپ کے اشارے پر لوگ بندوق لے کر سڑکوں پر نکل آئیں، خوانچے فروش، چائے والے، رکشہ چلانے والے بے گناہ قتل کر دیں۔ آپ کے پروردہ بھتہ خوروں کو کسی فیکٹری سے بھتہ نہ ملے تو آپ کے اشاروں پر ناچنے والے فیکٹری کے دروازے بند کر دیں اور وہاں پر کام کرنے والے تین سو انسانوں کو زندہ جلا دیں۔ ان بیچاروں کی چیخیں آسمانوں کو چھوتے ہوئے شعلوں سے بلند ہوتی رہیں اور ان چیخوں، آہوں، سسکیوں اور پسماندگان کے آنسوؤں کے سامنے آپ اس ''عظیم'' ملک میں بیٹھ کر گھنٹوں اپنے دست بستہ کارکنان سے خطاب کریں اور آزادی اظہار کے نام پر آپ کا خطاب پوری دنیا میں جائز قرار دیا جائے۔ کیسی حیرت کی بات ہے کہ جیسے ہی آپکو مغرب میں ملی ہوئی اس آزادی اظہار کا گلا گھونٹ دیا جائے اور آپکی نفرت کو پاکستان Pakistan میں سنانے سے منع کردیا جائے تو فورا قتل و غارت رک جائے، بھتہ خوری کم ہوجائے، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ختم ہو جائیں۔ اور نہ کوئی کسی کے سائز کی بوری بنانے کا اعلان کرے اور نہ ہی بوری بند لاشیں سڑکوں اور ویرانوں میں پڑی ہوئی ملیں۔ کمال کی بات ہے جسے پاکستان Pakistan کی گرمی راس نہ آئے، لوڈشیڈنگ تنگ کرے یا پھر یہاں اسے کھل کر کھیلنے کا موقع نہ ملے تو اس بہانے ملک چھوڑ دیتا ہے کہ یورپ اور امریکہ United States میں ایسا ماحول میسر ہے کہ وہ اپنے ''علمی'' کام کو جاری رکھ سکے گا۔ مغرب کے اس خود ساختہ علمی، تحریکی، اور تنظیمی تصور کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس علمی کام میں آپ کو نفرت پھیلانے، لوگوں کو گالی دینے، انکی دل آزاری کرنے، ان کے مذہب کو برا بھلا کہنے، یہاں تک کہ ان کی محبوب شخصیات کی تضحیک کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ آپ وہاں سلمان رشدی کی طرح شیطانی آیات (Satanic verses) لکھ سکتے ہیں اور رسول رحمت ﷺ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں بکوا س کرسکتے ہیں۔ آپ اسی کتاب میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو براہ راست گالی دے سکتے ہیں اور وہ معاشرہ، حکومت اور ریاست آپ کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ آپ ممبئی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن ایسی گالیاں دینے کے لیے آپ کو جائے ''امن'' لندن میں ملتی ہے۔ آپ تسلیمہ نسرین کی طرح بنگلہ دیش میں پیدا ہوتی ہیں، قرآن Quran ، اسلام اور مسلمانوں کی محبوب شخصیات کی تضحیک پر مبنی ناول ''لجا''لکھتی ہیں۔ آپ کو جائے پناہ سویڈن، فرانس، جرمنی اور امریکہ United States میں ملتی ہے، نیویارک یونیورسٹی میں آپکوریسرچ سکالر مقرر کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان Pakistan کے سیکولر، لبرل اور آزادی اظہار کے دیوانے جسے واحد عظیم جمہوری لیڈر پکارتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو،جس کے پاس ملک کے عوام کی دی ہوئی دوتہائی اکثریت تھی۔ اسکا بنایا ہوا آئین قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتا ہے۔ اس مرزا غلام احمد کے افکار پر پابندی لگاتا ہے جو اپنے نہ ماننے والوں کوکہتا ہے ''دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور انکی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں (روحانی خزائن جلد 14)۔ لیکن اسکے ماننے والوں کو پاکستان Pakistan کے آئین کی کھل کر خلاف ورزی کرنے اور اس ملک کو گالی دینے کی مغرب، کھلی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ پوری امت مسلمہ کے خلاف ایک محاذ بنا کر گفتگو کرنے کے لئے بھی آزادی دیتا ہے۔ یہ سب اس بات کا انعام ہے کہ انکے ذریعے میرے ملک کو گالی دی جاتی ہے، اسے غیر محفوظ ثابت کیا جاتا ہے۔ اسے خطرناک شدت پسند اور دہشت گرد ملک بتایا جاتا ہے۔ آزادی تحریر و تقریر کے نام پر جو خود مغرب کا مفکر کرتا ہے میں یہاں اس کا ذکر نہیں کروں گا۔ لیکن یہ مغرب، دنیا کے تقریبا ہر ملک سے آنے والے ایسے مسلمانوں کیلئے پناہ گاہ ضرور ہے،جو اپنے ملکوں میں مذہب، دین اور لوگوں کی محبوب شخصیات پر گندگی اچھالتے رہے، انکے خلاف زہر اگلتے رہے اور ایک دن انہوں نے مغرب میں جا کر پناہ لے لی۔ غامدی صاحب کا میزبان امریکہ United States ، صرف لکھنے والے نہیں بلکہ ہر چور، ڈاکو، لٹیرے، سمگلر اور قاتل کے لیے بھی پناہ گاہ ہے،جنت ہے۔ شاہ ایران Iran کا ساتھی جنرل منصور مہرا وی جو اس کے دور میں جیل خانہ جات کا انچارج تھا جس نے ہزاروں ایرانیوں کو جیل میں اذیت دے کر اور تشدد کے ذریعے قتل کیا، آج کل امریکہ United States کی ریاست کیلیفورنیا میں مزے سے زندگی گزار رہا ہے۔انڈونیشیا Indonesia کا جنرل سنتانک پنجین جس نے 1991ء میں امریکہ United States کے ایما پر مشرقی تیمور کے علاقے میں معرکہ سانتا کروز کا قتل عام کیا جس میں ہزاروں لوگوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کیا گیا آجکل امریکہ United States کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ہنڈراس آرمی کی پوری بٹالین نمبر 316 جس نے 1980ء میں ہزاروں شہریوں کو بجلی کے جھٹکے دے کر، چھوٹے کمروں میں ٹھونس کر دم گھونٹ کر اور تشدد کے نئے طریقے ایجاد کرکے ہلاک کردیا آج یہ پوری بٹالین امریکہ United States میں مزے اڑا رہی ہے۔ ارجنٹائن کا ایڈمرل جورگے ایز کو ''نایاک'' کی جنگ میں سات سال ایک بد نام ترین تشدد کا مرکز السیکیو لامنیکا چلاتا رہا جہاں کتنے لوگوں کو قتل کیا گیا، معذور کیا گیا، اس وقت امریکہ United States کی ریاست ہوائی میں مقیم ہے۔چلی کے ملٹری سکوارڈ کا رکن ارمنیڈو فرنینڈز لیرلوس جس نے سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو تشدد سے ہلاک کیا اور 72 قیدیوں کی موت کا اعتراف بھی کیا اسے امریکہ United States کی ایف آئی بی نے ایک اہم حیثیت سے رہائش عطا کی ہوئی ہے۔ایل سلواڈور کا جنرل کارلوس جس کی ظلم کی داستانیں کبھی دل ہلا دیتی تھیں۔ اپنے ہزاروں ہم وطن لوگوں کے قتل کے علاوہ اس نے تین امریکی عورتوں کو 1980ء میں خود بے حرمتی کرنے کے بعد ہلاک کیا، آج کل سن شاٹن اسٹیٹ میں رہائش پذیر ہے۔جوزگلیر مورگا رشیا جسکا ڈیتھ سکواڈ افسانوی حیثیت رکھتا ہے جس کے سامنے لاکھوں بے گناہ افراد کو صرف شبہ کے طور پر ہلاک کردیا گیا آج کل فلوریڈا میں مقیم ہے۔گوئٹے مالا کا وزیر دفاع ہیکٹر کرامیجور موریلز جس نے ہزاروں انڈین افراد کو قتل کیا اور امریکہ United States کے بھی آٹھ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا اس کا کہنا تھا کہ میں نے 70 فیصد آبادی کی ترقی کیلئے 30 فیصد آبادی کو قتل کر دیا تھا۔ اسے امریکی عدالت نے قید اور جرمانے کی سزا سنائی مگر امریکی حکومت اسے صاف بچا کر اپنے جلو میں لے گئی۔کیوبا سے طیارے اغواء کرنیوالا کوئی ایسا دہشتگرد نہیں جس نے امریکی شہریت نہ حاصل کر لی ہو اور آج باعزت امریکی شہری کی حیثیت سے زندگی نہ گزار رہا ہو۔ ہیٹی کے جزائر میں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے ہزاروں افراد ایسے ہیں جو امریکہ United States کی ریاستوں کے معزز شہری کی حیثیت رکھتے ہیں۔جنوبی ویتنام کے وہ 20 افراد جنہوں نے انسانی حقوق کی عدالتوں میں اپنے جرم قبول کیے، بچوں کے قتل، عورتوں کی آبروریزی اور زندہ جلانے کے مرتکب ہوئے یہ 20 افراد آج کیلیفورنیا میں قانونی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ سلمان رشدی سے لیکر تسلیمہ نسرین تک، الطاف حسین سے لے کر براہمداخ بگٹی تک، طاہرالقادری، فرحت ہاشمی یا اب جاوید احمد غامدی تک کوئی بھی ہو،ہماری اولادیں،دوست،رشتے دار کیوں نہ ہوں،میرے رسول اکرم ﷺ کا فرمان سب پر لاگو آتا ہے ’’انا بری’‘ من کل مسلم یقیم بین اظہرالمشرکین‘‘۔ ’’میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان سکونت اختیار کرتا ہے‘‘ (مسلم)۔آج کسی بھی بہانے مغرب میں پناہ لینے والے روز محشر اس فرمان کی موجودگی میں کس منہ سے شفاعت کے طلب گار ہوں گے۔

 188