کتابوں کی صحبت میں

زنگار - عامر خاکوانی

13 اکتوبر 2019

In the company of books

میرے نزدیک دنیا کے تین بہترین کاموں میں سے ایک کتاب پڑھنا ہے۔کتابوں کی دنیا ایسی سحرانگیز، دلکش اور رنگارنگ ہے کہ اس میں اترنے کے بعد آپ کی کیفیات، حسیات اورچیزوں کو جانچنے کے پیمانے ہی بدل جاتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں جو موجود نہیں ، فضا میں موجود آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں جو ہماری قوت سماعت سے ماورا ہیں۔ چکھے بغیر ہی اشیاء کی لذت جان جاتے اور بہت بار تو وہ خوشبوئیں بھی سونگھ لیتے ہیں جو ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئیں۔ کتاب سے رابطہ (Connectivity)نئے جہان میں لے جاتا ہے۔ وہاں کیا ملتا ہے، یہ آپ کا نصیب ہے۔کہتے ہیںانسان کو ملتا وہی ہے جس کے لئے کوشش کی جائے، مگر کبھی بن مانگے بھی برسات ہو جاتی ہے۔ علم کی دنیا میں کچھ محض عطا ہے۔ دینے والے کی مرضی ، جسے چاہے نواز دے ۔ ان بدنصیبوں پرشدید حیرت ہوتی ہے جو کتاب سے بے گانہ ہیں۔مطالعہ سے دلچسپی نہیں، کتاب خریدتے نہیں اور پھر اپنی اس محرومی پر نازاں بھی ہیں۔پھر یہ فقرہ،ہمارے پاس پڑھنے کا وقت نہیں۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے ، پھر کس چیز کے لئے وقت ہے؟سوشل میڈیا نے ایک بڑا ظلم یہ کیا کہ لوگوں کو سطحی، ہلکے، اوسط درجے کا مواد پڑھنے کی عادت ڈال دی۔ایک اچھی کتاب لکھنے پر کئی برس لگ جاتے ہیں۔ بہت سے ناول ایسے جو چار پانچ یا زیادہ برسوں میں لکھے گئے ۔ مصنف نے لکھنے کے بعد کئی بار نظرثانی کی، قریبی حلقے میں اسے دکھایا، ترامیم ہوئیں۔تحریر کو چمکانے کے لئے سعی کی گئی، جملوں پر محنت ہوئی، الفاظ کو تراشا گیا۔پھر کہیں جا کر اچھی کتاب شائع ہوئی۔ اس کا مقابلہ کسی فیس بک پوسٹ سے کیسے ہوسکتا ہے، جو چند منٹوں یا نصف گھنٹے میں لکھی اور پھر نظر ثانی کے بغیر ہی لگا دی گئی ہو۔عجلت میں لکھی ایسی تحریریں پڑھنے کی ہمیں عادت ہوتی جارہی ہے۔ ایک اور نقصا ن کہ فوکس کادورانیہ بہت کم ہوگیا۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پڑھنے میں چند منٹ صرف ہوئے، اس کے بعد دوسری، پھر تیسری، یوں سلسلہ چلتا رہتا ہے۔بیشتر موضوعات ایک دوسرے سے مختلف ۔ یوں دماغ بھی تیزی سے ایک کے بعد دوسری طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ کتاب پڑھنے کے دوران ہمارا ذہن اس کے مرکزی خیال پرفو کس رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے کتاب پڑھنے کے بعد اس کا تاثر خاصی دیر اور کبھی تو برسوں رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاصا ایکٹو ہوں، خاص کر فیس بک روزانہ کے کئی گھنٹے چاٹ جاتی ہے۔ اکثر سوچا کہ دور رہا جائے ، مگر پھر کسی نہ کسی وجہ سے ادھر لوٹ آنا پڑتا ہے۔ اب یہ سمجھ آ گئی کہ فیس بک کا بائیکاٹ نہیں ہوسکتا ، ضرورت بھی نہیں۔ پیشہ ور اخبارنویسوں کے لئے اس کی افادیت ہے ۔کرنا یہ چاہیے کہ فیس بک کے ساتھ ساتھ کتب بینی نہ چھوڑی جائے۔ کتابوں کو مقابلے میں شامل رکھیں، انہیں فیئر چانس دیا جائے تو وہ یوں آسانی سے سوشل میڈیا کو جیتنے نہیں دیں گی۔کچھ وقت کتاب پڑھنے کے لئے نکالا جائے، الگ سے کچھ سوشل میڈیا کے لئے مختص ہو۔یوں دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ جب کسی میں زیادہ فرحت، انبساط محسوس ہو تواس کا دورانیہ بڑھا دیا جائے۔ چند برسوں سے یہ عادت بنتی جا رہی ہے کہ ایک ساتھ دوتین کتابیں پڑھنا شروع کر دیں۔ بسا اوقات ان کے موضوعات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ مختلف اوقات اور نشستوں میں انہیں پڑھتا رہتا ہوں۔ زندگی کا بڑا حصہ ڈائجسٹوں کی سلسلہ وار کہانیاں پڑھنے میں گزرا۔ہر مہینے اپنی پسندیدہ کہانی کے تیس چالیس صفحات پڑھنے کو مل پاتے، اس کے بعد اگلے ماہ تک صبر کرنا پڑتا۔ مجھے یاد ہے کہ سب رنگ کے آخری دور میں جناب شکیل عادل زادہ کی شاہکار سلسلہ وار کہانی بازی گر کو کسی نہایت لذیذمشروب کی طرح گھونٹ گھونٹ پڑھتے۔ یہ خوف ہوتا کہ اگر تواتر سے پڑھا تو قسط ختم ہوجائے گی۔چند صفحات پڑھے ، پھر دانستہ اسے چھوڑ کر کسی اور چھوٹی بڑی کہانی کو شروع کر دیا۔یوں ایک نشست کے بجائے دو تین دنوں میں جا کر وہ قسط ختم ہوتی۔دوسرے ڈائجسٹوں کی مقبول سلسلہ وار کہانیوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ چلتا رہا۔ ان میں ممتاز فکشن نگار طاہر جاوید مغل کی سرگزشت میں چھپنے والی سلسلہ وار کہانی’’ تاوان‘‘ سرفہرست ہے۔ طاہر جاوید مغل بہت سی مقبول کہانیوں کے مصنف ہیں جیسے دیوی، تاوان، للکار، پرواز،انگارے وغیرہ۔ تاوان نے طویل عرصہ ہمیں اس رسالے کا خریدار بنائے رکھا۔ ابھی حال ہی مغل صاحب کی ایک اور کہانی جاسوسی ڈائجسٹ میں ختم ہوئی ہے، اس کانام شائد انگارے تھا، اس نے برسوں بعد یہ ڈائجسٹ ہر مہینے خریدنے پر مجبور کیا۔ خدا خدا کر کے کہانی ختم ہوئی اور ہم نے بھی ترنت رسالے کو خیرباد کہہ دیا۔ خیر بات اور طرف نکل گئی، کتابوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ میرے پاس کئی ای بکس اکٹھی ہوگئی ہیں۔بیرون ملک مقیم بعض دوست وہاں چھپنے والی کسی اچھی کتاب کی ای بک بھیج دیتے ہیں۔ عسکریت پسندی کے موضوع پر خاصا مواد جمع ہوگیا، اسے پڑھنا ہے۔ بھارتی Indian صحافی، ادیب خوشونت سنگھ کا انداز تحریر مجھے پسند ہے۔ خوشونت سنگھ دلیر آدمی تھے، ہمارے ایک کلاسیکل محاورے کے مطابق ان کی زبان کے آگے خندق نہیں تھی۔ جو سوچتے، کھل کر لکھ ڈالتے۔ ان کے کالم ،آپ بیتی، ناول سب مختلف اور دلچسپ ہیں۔ ناول’’ دلی‘‘ پر اعتراض ہوسکتے ہیں،یہ ادبی شاہکار نہیں، مگر دلچسپ ضرور ہے۔ خوشونت سنگھ کی آخری کتاب میری زندگی کے سبق(The Lessons of my life)ان کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب پڑھنا چاہ رہا تھا ، نہیں ملی۔ اب کہیں سے اس کی ای بک ہاتھ آ گئی۔ آج کل اسے پڑھنا شروع کر رکھا ہے،نصف سے زیادہ ہوگئی، ان شااللہ جلد اس پر لکھوں گا۔ قبلہ سرفراز شا ہ صاحب کو میں مرشد کہنے کی جسارت تو نہیں کر سکتا کہ ہمارے جیسے نالائق روحانیت کا ذکر توکر دیتے ہیں، مگر اس شاہراہ کے مسافر بننے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ شاہ صاحب البتہ میرے لئے فادر فگر کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں، استاد، کرم فرما، راہ نما، سب کچھ۔میرے جیسے بہت سوں کے لئے ان کی شخصیت گھنے سایہ دار درخت جیسی ہے،کڑی دھوپ کے سفر میں سکون کا سانس لینے کا ذریعہ۔ شاہ صاحب کی توجہ، شفقت اور دعائیں نہ ہوتیں تومیری زندگی یقینا نامکمل، تشنہ اور تکلیف دہ ہوتی۔شاہ صاحب صاحب عرفان روحانی شخصیت ہیں۔ انہوں نے تصوف پر غیر معمولی کام کیا ہے۔ تصوف اور روحانیت پر رائے دینے کی استعداد نہیں ،مگر ایک طالب علم کے طور پراتنا کہہ سکتا ہے کہ تصوف کی جدید تاریخ میں اس سے اچھا، عمدہ ، آسان فہم اور جامع علمی کام نہیں ہوا۔ سرفراز شاہ صاحب کی اب تک سات کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔’’کہے فقیر، فقیر نگری،لوح فقیر، ارژنگ فقیر، نوائے فقیر ، فقیر رنگ‘‘ اور چند دن پہلے شائع ہونے والی کتاب عرض فقیر۔ کہے فقیر کو حیران کن قبولیت ملی ہے، اس کے اب تک چالیس سے زیادہ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یہ اردو کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل ہے۔ باقی پانچ کتابوں کے بھی درجنوں ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں۔ نئی کتاب عرض فقیر کو پڑھنا شروع کر رکھا ہے۔ ابتدائی صفحات ہی نے مسحور کر کے رکھ دیا۔ اس پر ان شااللہ تفصیلی کالم لکھوں گا۔ اس کا مواد ایسا شاندار ہے کہ اس پر گفتگوہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کتابیں اِن فیشن نہیں۔ معروف اینکرز، کالم نگار نئی کتابوں پر بات نہیں کرتے۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوپاتا کہ کیسی اچھی نئی کتاب مارکیٹ میں آ گئی ہے، اسے پڑھا جائے۔ ویسے ہمارے کئی نامی گرامی لکھنے والے جدید فکشن اور نئی کتابوں سے بے بہرہ ہیں۔ ان کا عالمی ادب کا مطالعہ بھی ساٹھ ، ستر کے عشرے کے ادیبوں تک محدود ہے۔ فاکنر، جوائس ، رسل وغیرہ۔ یہ اندازہ ہی نہیں کہ پچھلے دوعشروں میں لاطینی امریکی مصنفین نے کیا تہلکہ مچایا،جاپان، الجزائر ، مراکش وغیرہ کے لکھنے والوں نے کمال کر دکھایا، خودیشار کمال، اورحان پاموک جیسے ترک فکشن نگاروں نے کیا قاتل قسم کا فکشن تخلیق کیا۔ ایک اوربہت دلچسپ کتاب دو تین سال پہلے سنگ میل نے شائع کی، مگر مجھے حال ہی میں اس کا پتہ چلا۔ محترمہ منیزہ ہاشمی پی ٹی وی کے ممتاز پروڈیوسراور سینئر عہدوں پر فائر رہی ہیں۔ فیض احمد فیض کی صاحبزادی ہونا ان کا ایک حوالہ ہے، مگر منیزہ ہاشمی کی اپنی شخصیت اور اپنا کام بھی کم نہیں۔ میں انہیں ان کے صاحبزادوں ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی اور ورسٹائل اداکارعدیل ہاشمی کے حوالے سے جانتا تھا۔ ڈاکٹر علی ہاشمی بڑے قابل سائیکاٹرسٹ ہیں ، مگر انہوں نے اقبالیات اور دیگر علمی موضوعات پر بھی قابل قدر کام کیا ہے۔ منیزہ ہاشمی نے ایک زمانے میں پی ٹی وی کے لئے مختلف شخصیات کے انٹرویوز کئے۔ اب وہ کتابی شکل میں ’’کون ہوں میں‘‘کے نام سے شائع ہوگئے ہیں۔ میرا اپنا تعلق میگزین جرنلزم سے ہے، انٹرویوز کرنے کاموقعہ بھی ملتا رہا اور انٹرویوز پڑھے بھی بہت ہیں۔محترمہ منیزہ ہاشمی کے انٹرویوز کی یہ کتاب اپنے انداز میں مختلف، منفرد اور قابل مطالعہ ہے۔انہوں نے ہر شخصیت پر ایک نوٹ بھی لکھا ، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو مکمل کئے بغیر رکھ نہیں پایا۔ اس میں آپا بانو قدسیہ، بیپسی سدھوا، طاہرہ مظہر علی خان ، وقارالنسا نون کے انٹرویوز پر نشان لگائے ہیں، اگلی کسی نشست میں اقتباسات شیئر کروں گا۔ بانو آپا کی باتیں تو پڑھے اور آگے سنائے جانے کے قابل ہیں۔ یہ سب کچھ مگر کسی اگلی نشست میں، ان شااللہ۔ عامر خاکوانی

 146