...مولانا آرہے ہیں

جر گہ - سلیم صافی

12 اکتوبر 2019

Molana Aa rahy hen

مولانا آرہے ہیں۔ جی ہاں مولانا اسلام آباد Islamabad آرہے ہیں۔ اب کوئی شک نہیں رہنا چاہئے۔ مولانا آنے کے لئے پوری طرح یکسو ہیں۔ ایسا نہیں کہ مولانا کو منانے کی کوششیں نہیں ہوئیں، کوششیں ہوئیں اور بھرپور ہوئیں۔

ان کو اچھے بھلے پیکیجز آفر کئے گئے لیکن وہ نہیں مانے۔ اس سے کام نہ چلا تو انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن پیچھے ہٹنے کے بجائے وہ مزید بپھر گئے۔

وجوہات اس کی یہ ہیں کہ مولانا یہ سمجھ رہے ہیں کہ جو لوگ انہیں منا رہے تھے وہ ان کے ساتھ ماضی قریب میں کئی بار دھوکہ کر چکے ہیں۔

درست یا غلط لیکن مولانا کا خیال ہے کہ 2013میں بھی ان کا حق چھین کر عمران خان Imran Khan کو دیا گیا اور 2018میں بھی۔

یوں مولانا کسی وعدے پر یقین نہیں کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات واضح کردی ہے کہ جو کچھ ان سے کہا جارہا ہے اسے پہلے عمل کے روپ میں لایاجائے تو تب ہی وہ پیچھے ہٹیں گے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان Imran Khan صاحب کے بارے میں مولانا روز اول سے سازشی نظریات کے قائل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 2012میں پی ٹی آئی PTI کے غبارے میں ہوا بھرنے والی ایک شخصیت جب ان کے پاس گئی اور انہیں عمران خان Imran Khan کے ساتھ تعاون کی صورت میں پرکشش سیاسی پیک CPEC یج پیش کیا تو مولانا نے انہیں جواب دیا کہ وہ پاکستان Pakistan کے کسی بھی سیاسی لیڈر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالنے کے لئے تیار ہیں لیکن ان کے ساتھ نہیں جا سکتے۔

عمران خان Imran Khan صاحب کے ساتھ مولانا کی خصوصی رقابت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ مولانا سمجھتے ہیں اور شاید درست سمجھتے ہیں کہ عمران خان Imran Khan صاحب ان کے ساتھ ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ جلسوں میں جس طرح پی ٹی آئی PTI کی طرف سے مسلسل ان کی تضحیک کی جاتی رہی، وہ سب کچھ مولانا نے دل پہ لیا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی PTI کی حکومت کے بعد جس طرح مولانا سے ذاتی سیکورٹی واپس لے لی گئی اور جس طرح ان کے اور ان کے قریبی لوگوں کو انکوائریز کے ذریعے تنگ کیا گیا، اس کے بعد مولانا کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ موجودہ سیٹ اپ سیاسی اخلاقیات سے عاری ہے اور اس کے ساتھ اب دوسری زبان میں ہی بات کی جا سکتی ہے۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ مولانا کو آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کے انجام سے یہ سبق ملا ہے کہ نرمی اور جھکائو کی پالیسی کے نتیجے میں بھی بچائو ممکن نہیں بلکہ اس صورت میں مزید رسوائی ملتی ہے جبکہ اس کے برعکس ڈٹ جانے کی صورت میں عزت اور اہمیت دونوں بڑھ جاتی ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے شرافت اور تابعداری کی حد کردی لیکن صلہ ملنے کے بجائے ان کو مزید دیوار سے لگایا گیا لیکن جب سے وہ کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے منت ترلے ہورہے ہیں۔

پانچویں وجہ یہ ہے کہ مولانا کو ڈٹ جانے کی صورت میں ہر طرف فائدہ ہی فائدہ نظر آگیا ہے۔ ان کی سیاسی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

کل تک ان کے انٹرویوز پر پابندی تھی لیکن آج وہ پورے پاکستانی میڈیا پر چھا گئے ہیں۔

کل تک وہ زرداری اور نواز شریف Nawaz Sharif کے منت ترلے کررہے تھے لیکن آج ان دونوں کی سیاست بھی مولانا کی ذات کے گرد گھومنے لگی ہے۔

مولانا کو محسوس ہورہا ہے کہ پہلی مرتبہ اپنی جماعت کے کارکنوں اور مدارس کے طلبہ کے علاوہ عام پاکستانی اور لبرل عناصر بھی ان کو پسند کرنے لگے ہیں۔ تاجر اور صنعتکار اُنکے ساتھ ہیں۔

گویا اس وقت مولانا کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ بظاہر یہ بڑا ایشو ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ساتھ دیتی ہیں یا نہیں لیکن ان جماعتوں کا رویہ ان دنوں مولانا کو ذرہ بھر پریشان نہیں کررہا بلکہ ان دونوں کو مولانا نے پریشان کردیا ہے۔

مولانا سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz کو تو بہر صورت ان کی حمایت کا اعلان کرنا ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس بھی کوئی اور راستہ نہیں بچے گا لیکن تیاری مولانا نے اپنی جماعت اور کارکنان کے حساب سے کررکھی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں اور شاید درست سمجھتے ہیں کہ ان دونوں جماعتوں نے ساتھ دیا اور وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کریڈٹ ان کو مل جائے گا اور اگر ناکام ہوئے تو اس صورت میں بھی اپوزیشن کی ڈرائیونگ سیٹ ان کو مل جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا کی یکسوئی میں ان کو منانے والوں کے رویے نے بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ جو لوگ انہیں اسلام آباد Islamabad کی طرف مارچ سے روک رہے تھے وہ ان کو دسمبر تک مہلت دینے کا کہتے رہے۔ یوں ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اگر دسمبر تک یوں ہی کچھ ہو جانا ہے تو یہ مارچ اس عمل کو یقینی بنا دے گا۔

اسی طرح مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے جو رہنما ان سے ملتے رہے وہ مولانا کو یہ سمجھاتے رہے کہ دسمبر تک انتظار کرلیں۔ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری اور شہباز شریف Shehbaz Sharif گروپ جس میں اب خواجہ آصف صاحب بھی شامل ہیں، مولانا سے کہتے رہے کہ جب دسمبر تک مقصد حاصل ہوجانا ہے تو پھر ہم کیوں لوگوں کو ناراض کرکے اپنی آزمائش مزید بڑھا دیں۔

یوں مولانا کا یہ یقین مزید پختہ ہوگیا ہے کہ ان کا مارچ بہر صورت دسمبر سے پہلے تبدیلی کا مقصد پورا کرلے گا۔ مولانا کی خود اعتمادی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ وہ دل سے صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کی نااہلی کے قائل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح سے یہ لوگ ان کے مارچ کو ہینڈل کریں گے اس سے ان کا کام مشکل ہونے کی بجائے آسان ہوتا جائے گا۔

اس تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد Islamabad آنے میں اب کوئی شک نہیں۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif تو اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ انتخابات کے بعد اسمبلی میں نہ جانے سے متعلق مولانا کا موقف درست تھا لیکن اب یہ وقت بتائے گا کہ اسلام آباد Islamabad مارچ سے متعلق مولانا کے اندازے درست ہیں یا غلط؟

 220