احتساب: اور چین China کا سافٹ امیج

برملا - نصرت جاوید

10 اکتوبر 2019

Accountability: And China's Soft Image

جان کی امان پاتے ہوئے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan صاحب سے دست بستہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ ’’ہمارا یار جس پہ جان بھی نثار‘‘دُنیا کے سامنے خود کو ہرگز ایک سخت گیر ریاست کی صورت پیش کرنا نہیں چاہتا۔ چین China کی خواہش تو بلکہ اپنے ہاں جاری نظام کو ایک ایسا ماڈل بناکر دکھانا ہے جس کی تقلید ہو تو پورا عالم جدید ترین سڑکوں اور ذرائع نقل وحمل کی بدولت ایک دوسرے سے جڑا نظر آئے۔ روزگار کی فراوانی ہو اور خلقِ خدا زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی محسوس ہو۔اپنی ساکھ اور امیج کے بارے میں چینی بہت حساس ہیں۔وہ اس تاثر سے خوشی محسوس نہیں کرتے کہ محض ’’بدعنوان افراد‘‘ کو چوکوں میں لٹکاکر ان کے ہاں خوش حالی کو یقینی بنایا گیا۔ وہ اپنی ترقی کے دیگر اسباب کے ذکرکو ترجیح دیتے ہیں۔

اپنے ’’سافٹ امیج‘‘ کو برقرار رکھنے کی خاطر ہی چینی صدر ہانگ کانگ میں ہوئے ہنگاموں کو بھرپور فوجی مداخلت کے ذریعے روکنے سے گریز کررہے ہیں۔ انہیں خبر ہے کہ ایسی مداخلت چین China میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں بے پناہ رکاوٹیں کھڑی کردے گی۔احتیاطاََ اس امر پر بھی غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ چینی معیشت حالیہ برسوں میں بتدریج سست روی کا شکار ہونا شروع ہوچکی ہے۔امریکہ United States کے ساتھ اسکی تجارتی جنگ شدید تر ہورہی ہے۔چین China کو لٰہذا نئی منڈیوں کی تلاش ہے۔اسی باعث بھارت India سے تمام تر اختلافات کے باوجود یہ کالم چھپنے کے دوسرے دن چینی صدر نریندرمودی سے ’’غیر رسمی سربراہی ملاقات‘‘ کرنے تامل ناڈ پہنچ جائیں گے۔ وہاں کے ایک تاریخی شہر میں چینی صدر اور بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister بے تکلف گفتگو میں مصروف رہیں گے۔

چین China کیساتھ تجارت میں بھارت India کو سالانہ 40ارب ڈالر billion dollor سے زیادہ کاخسارہ برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ٹرمپ تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر اس کا ذکر کرتے ہوئے بھارت India کے ساتھ تجارت میں اپنے ملک کے سالانہ خسارے کے بارے میں ماتم کنائی کرتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ چینی کمپنیاں بھارت India میں خطیر سرمایہ کاری کریں۔اس کے طعنوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مودی مگر چینی صدر کی دلجوئی کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار رہتا ہے۔ایسا کرتے ہوئے وہ یہ حقیقت بھی یاد نہیں رکھتا کہ فقط چین China کے دبائو کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی برسوں کے بعد 5اگست 2019کے روز مقبوضہ کشمیر پر مسلط کئے لاک ڈائون کا ذکر ہوا۔بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے خلاف چین China نے مؤثر انداز میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اسے بھی وقتی طورپر بھلادیا گیا ہے۔

چین China کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہم فقط ’’کرپشن کے خلاف جنگ‘‘ تک محدود کیوں رکھیں؟ دونوں ممالک کے تعاون سے باہمی ترقی اور خوش حالی کے نئے امکانات کی تلاش اور اُن کا مسلسل ذکر ہمارے لئے اہم ترین ہونا چاہیے۔

پاکستان Pakistan کی معاشی ترقی کا خواہش مند ہر شخص جبلی طورپر جانتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر ہمارے ہاں رونق لگانا ممکن ہی نہیں۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کو لٰہذا اس ضمن میں ایک متاثر کن Sales Personکا کردار ادا کرنا چاہیے۔ حالیہ دورئہ نیویارک کے دوران مگر وہ پاکستان Pakistan میں کرپشن کے خلاف دہائی مچاتے رہے۔ یوں کرتے ہوئے وہ یہ اعتراف بھی کرتے محسوس ہوئے کہ ان کے پاس مبینہ کرپشن کو روکنے کے لئے مناسب اختیارات موجود نہیں۔ پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister خود کو بے بس دکھائیں تو کون غیر ملکی سرمایہ کار ان کے ساتھ گفتگو کے بعد ہمارے ہاں سرمایہ کاری کو تیار ہوگا۔

کرپشن اور بے رحمانہ احتساب کا رونا ہمارے ہاں اکتوبر1999میں جنرل مشرف کے ٹیک اوور کے بعد بہت شدت سے شروع ہوا تھا۔کرپشن کا قلع قمع کرنے کے نام پر سخت گیر قوانین متعارف ہوئے۔ دُنیا بھرمیں تسلیم کئے اصولوں کے مطابق کسی ملزم کو ٹھوس ثبوتوں کے ذریعے مجرم ٹھہرانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔احتساب آرڈیننس نے مگر ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا حتمی ذمہ دار ٹھہرادیا۔ اس کے باوجود بالآخر Plea Bargain کی راہ نکالنا پڑی۔ نیب کی جیلوں میں پھینکے سیاست دان اس کی بدولت بالآخر مشرف کا بینہ کا حصہ بن گئے۔

ہماری معیشت میں رونق احتساب کی بدولت ہرگز نہیں لگی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ United States کو ایک بار پھر پاکستان Pakistan کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔نام نہاد ’’وار آن ٹیرر‘‘ نے ہماری معیشت کی لاٹری بھی نکال دی۔ IMFمہربان ہونا شروع ہوگیا۔ورلڈ بینک نے قرض کے ضمن میں دوستانہ رویہ اختیار کیا۔2008میں لیکن امریکہ United States نے ہماری نیت پر شکوک وشہبات کا اظہار شروع کردیا۔ اس کے بعد ہماری معیشت سست روی کا شکار ہونا شروع ہوئی۔نواز حکومت نے CPECکے ذریعے اس کی رونق بحال کرنے کی کوشش کی۔اپریل 2016میں لیکن پانامہ ہوگیا۔ آج ہماری معیشت شدید کسادبازاری کا شکار ہوکر تقریباََ جامد ہوچکی ہے۔اسے رواں کرنے کی ترکیب دریافت نہیں ہورہی۔

آرمی چیف کو صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے وفود سے طویل گفتگو کرنا پڑتی ہے۔اس گفتگو میں احتساب کے عمل کو کسادبازاری کا اصل ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔بالآخر صنعت کار عمران حکومت کو قائل کردیتے ہیں کہ کسی صنعت کار یا سرمایہ کار پر ہاتھ ڈالنے سے قبل اس کی ’’برادری‘‘کی بنائی ایک کمیٹی کے روبرو اس کے خلاف موجود ’’ثبوت‘‘ رکھے جائیں گے۔برادری اگر قائل ہوجائے تو مشتبہ صنعت کار یا سرمایہ کار کو نیب حراست میں لے کر مزید تفتیش کرے گی۔افسر شاہی کو مسلسل احتساب سے خوفزدہ نہ ہونے کی تسلیاں دی جارہی ہیں۔احتساب کے ضمن میں سارا نزلہ لٰہذا اب فقط سیاست دانوں کا مقدر ہوگا۔اسے گرفتاری کے بعد 90روز سے پہلے ضمانت پر رہائی کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔گرفتاری کے کئی مہینے گزرجانے کے باوجود احتساب عدالتوں میں باقاعدہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد تعزیراتی کارروائی کا مگر آغاز نہیں ہوتا۔کسی شخض کو محض شبے کی بنیاد پر کئی مہینوں تک زیرحراست رکھنے کا اختیار رکھتے ہوئے بھی چیئرمین احتساب بیورو اپنے لئے ایسے اختیارات کے خواہش مند ہیں جو سعودی عرب Saudi Arabia کے ولی عہد Crown Prince کو حاصل ہیں۔ ان سے ہم یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں دکھاپاتے کہ مثال کے طورپر ابھی تک آپ نے شاہدخاقان عباسی کے خلاف ٹھوس اعتبار سے کیا نکالا ہے۔میڈیا کی بدولت تو ہمیں ذہنی طورپر تیار کردیا گیا تھا کہ ان کے خلاف ٹھوس بنیادوں پرایک مضبوط کیس موجود ہے۔ اس پر سرعت سے کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟

شاہد خاقان عباسی کاروباری اعتبار سے انتہائی کامیاب گردانے ایک گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1988سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ نواز حکومتوں میں انہیں اہم ترین مناصب اوروزارتیں ملیں۔بالآخر اس ملک کے وزیر اعظم Prime Minister بھی ہوئے۔ یہ سابق وزیر اعظم Prime Minister ان دنوں نیب کی حراست میں کئی روز زیرتفتیش رہنے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی سی کلاس میں تقریباََ قید ِتنہائی کاٹ رہے ہیں۔مجھے خبر نہیں کہ موصوف کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے لئے ذلت واذیت کا اور کونسا ہتھکنڈہ اختیار کیا جائے۔

ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن Yemen نے آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ طورپر ’’فیک اکائونٹس‘‘ کی بنیاد پر ایک بھاری بھر کم کیس بنایا تھا۔ وہ ان دنوں ’’رخصت‘‘ پر چلے گئے ہیں۔ دسمبر میں ریٹائرہوجائیں گے۔مجھ سمیت کسی صحافی کو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ قارئین وناظرین کو ان وجوہات سے آگاہ کرے جو بشیر میمن Yemen کو ’’رخصت‘‘ پر بھیجنے کا باعث ہوئیں۔ اسلام آباد Islamabad کے تقریباََ ہر طاقت ور ڈرائنگ روم میں اس ’’رخصت‘‘ کی وجوہات کا ذکر مگر مسلسل ہورہا ہے۔

وزیر اعظم Prime Minister کے ایک معاون شہزاد اکبر مرزا بھی ہوا کرتے تھے۔’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ بیرون ملک سے بارش کی صورت لانے کے دعوے دار تھے۔ مجھ بدنصیب نے ان کی ’’چورن فروشی‘‘ پر سوالات اٹھانے کی حماقت دکھائی تھی۔گزشتہ کئی ہفتوں سے نہ جانے وہ کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پرنظر نہیں آرہے۔ شہزاد اکبر کی پراسرار خاموشی اور گمشدگی کے اسباب کا مناسب تجزیہ ہوجائے تو شاید وزیراعظم صاحب کو اپنی ’’بے بسی‘‘ کا اعتراف کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ وہ اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے کسی نئے بیانیے کو ہمارے سامنے لانا شروع ہوجائیں۔

 196