جب دھرنے کا سوچا

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

10 اکتوبر 2019

When planning to stay

دھرنوں کا پاکستان Pakistan کی سیا ست میں وہی عمل دخل ہے ‘جو کسی بھی سڑک‘ موٹر وے‘ ہوائی جہازوں کی خریداری ‘ڈیمز‘ پاور ہائوس‘ نہر‘ پُل‘ بجلی کے ٹرانسفارمروں کی خرید و فروخت اور مرمت یا پھر بجلی‘ گیس اور پانی کے میٹروں کی خریداری‘ انڈر پاسز‘ سیوریج کی سکیموںیا ہسپتالوں کیلئے ادویات‘ مشینوں اور نئی سرکاری عمارتوں کی تعمیر میں کمیشن اورکرپشن کا ہوتا ہے۔

محترمہ بے نظیر کے نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف دھرنے اور لانگ مارچ دیکھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے سولو فلائٹ کے دسمبر کی یخ بستہ راتوں کو بلیو ایریا کے دھرنے اور پھر عمران خان Imran Khan اور قادری صاحب کے مشترکہ ڈی چوک اسلام آباد Islamabad کے مشہو رترین دھرنے دیکھنے کے بعد ایک دن بیٹھے بیٹھے میرا دل بھی دھرنا دینے کو مچلنے لگا ‘تو اپنے ایک حساب کتاب جاننے والے شخص سے پوچھا ؛اگر میں لاہور یا اسلام آباد Islamabad میں دھرنا دوں تو ا س کیلئے میرے پاس کتنا پیسہ ہونا چاہیے؟میرا یہ دوست کہنے لگا؛ سب سے پہلے تو یہ بتائو کہ اس دھرنے میں کتنے افراد شامل ہوں گے اور یہ کہاں کہاں سے لائو گے؟ میں نے بتایا کہ پورے پاکستان Pakistan سے لوگ آئیں گے اور تعداد کم ازکم پانچ لاکھ ہو گی ۔یہ سنتے ہی دوست کہنے لگا؛ ارے! اس میں پریشان ہونے یا کسی سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ظاہر ہے تم نے اپنے بچوں کی شادیاں تو کی ہیں‘ بارات لے کر بھی کہیں گئے ہو گے اور ان بچوں کے ولیمے بھی تم نے کئے ہوں گے؟یہ سن کر غصہ تو بہت آیا کہ میں اس سے دھرنے کے بارے میں بات کر رہا ہوں اور یہ مجھے بارات اورولیمے کی باتیں سنا رہا ہے۔

میرے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھ کر میرے استاد محترم گوگا دانشور صاحب کہنے لگے؛ بات تو اس نے ٹھیک کہی ہے‘ اگرتم اس کی بات پر غور کرو تو بات سمجھ سکتے ہو کہ بارات اور ولیمے میں آنے والے مہمانوں کی تعداد کے حساب سے کھانے کا جس طرح تم نے انتظام کیا تھا‘ اسی طریقے تم حساب لگا سکتے ہوکہ دھرنے پر تمہارا کتنا خرچہ آئے گا؟استادگوگا دانشور صاحب مجھے دھرنے کیلئے سنجیدہ دیکھ کر کہنے لگے؛ فرض کرو کہ اسلام آباد Islamabad دھرنے کیلئے تم پانچ لاکھ افراد لے کر اسلام آباد Islamabad پہنچو گے‘ اب ظاہر ہے کہ اسلام آباد Islamabad میں آپ ایک دن کا جلسہ کرنے کیلئے نہیں ‘بلکہ لا محدودد نوں کیلئے دھرنا دینا چاہتے ہو‘ اگر تم پاکستان Pakistan بھر کے شہروں اور دیہات سے پانچ لاکھ لوگ اسلام آباد Islamabad لے کر آتے ہو‘ تو اتنی تعداد کیلئے سب سے پہلے تمہیں ان کی آمد و رفت کے اخراجات کا بندو بست کرنا ہو گا‘ سندھ سمیت کراچی جیسے شہر ‘ بلوچستان‘ کے پی کے‘ جس میں وزیرستان او ر پھر پورے پنجاب سمیت جنوبی پنجاب سے اسلام آباد Islamabad تک لوگوں کولانے کا اگر تم بندو بست کرتے ہو ‘تو فرض کر لو کہ ان کی تعداد پانچ لاکھ بن جاتی ہے اور ایک آدمی کے اسلام آباد Islamabad پہنچنے پر اگرایک ہزار روپیہ اوسطاً خرچ اٹھتا ہے‘ تو پانچ لاکھ لوگوں کو دھرنے پر لانے کیلئے پچاس کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اتنے ہی اخراجات ان کے دیہات اور شہروں تک واپس لانے کیلئے درکار ہوں گے‘ تواس کا مطلب ہوا کہ دھرنے کیلئے اسلام آباد Islamabad تک پانچ لاکھ لوگوں کو لانے کیلئے کم ا زکم ایک ارب روپے درکار ہوں گے۔

جیسے ہی میں نے اپنے استاد محترم کا یہ حساب کتاب دیکھا ‘تو ایک لمحہ کیلئے میرے تو ہوش ہی اڑ گئے کہ ایک ا رب روپیہ‘ جس کا نصف پچاس کروڑ روپے ہوتا ہے‘ میں کہاں سے لائوں گا؟میںابھی میں ٹرانسپورٹ کی مد میں ایک ارب کے اخراجات کا سن کر دھرنے سے تائب ہونے ہی لگا تھا کہ استاد محترم کہنے لگے کہ شاگردِ رشید ایک لمحے کیلئے فرض کر لو کہ پانچ لاکھ افراد کو اسلام آباد Islamabad لے جانے کیلئے یہ ایک ا رب روپیہ تمہیں کسی جانب سے مل جاتا ہے ؟تو میں نے جھٹ سے کہا کہ پھر میرا دھرنا پکا ہے۔

استاد ِمحترم نے ایک زبردست قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ؛تمہیں یہ رعایت دے دیتا ہوں کہ یہ پانچ لاکھ افراد جو تم ملک کے دور دراز علا قوں‘ سندھ کے دیہاتوں اور کراچی سمیت جنوبی پنجاب اوروزیرستان سمیت کے پی کے سے لارہے ہو اور ان سب کو دو یا تین روز کے سفر کے دوران نہ تو تم انہیں کچھ کھلائو گے اور نہ ہی ان کیلئے چائے یا پانی کا بندوبست کرو گے‘لیکن جب یہ پانچ لاکھ لوگ اسلام آباد Islamabad پہنچ کر دھرنے کیلئے بیٹھ جائیں گے تو پانچ لاکھ افراد کے کھانے پینے کے اخراجات کہاں سے برداشت کرو گے؟استاد محترم گوگا دانشور کے دل توڑنے والی یہ بات سن کر میں نے خاموشی اختیار کر لی‘ جس پر وہ بولے کہ دیکھو‘میں تمہارا دل توڑنا نہیں چاہتا‘ لیکن سچ بتانا میرے لئے واجب ہے(مجھے حکومتی آدمی سمجھتے ہوئے شک بھی مت کرنا) کہ تمہیں خوف زدہ کر رہا ہوں‘ میرا تو صرف تمہیں یہ مشورہ ہے کہ یہ دھرنوں ورنوں وغیرہ کا خیال دل سے بالکل نکال دو !

لیکن میں نے استاد جی سے ویسے ہی پوچھ لیا کہ چلو جناب فرض کر لیتے ہیں کہ پانچ لاکھ لوگ اسلام آباد Islamabad جمع ہو جاتے ہیں تو پھر اور کیا اخراجات آ سکتے ہیں؟ تو انہوں نے میری جانب مسکراہٹ سے دیکھتے ہوئے سگریٹ کا ایک لمبا سا کش لگاتے ہوئے کہا؛ پانچ لاکھ افراد دھرنے میں بیٹھے ہوں اور چالیس افراد کیلئے چاولوں کی اگر ایک دیگ تیار کی جائے‘ تو سب سے پہلے اس کیلئے بارہ ہزار پانچ سو دیگیں دستیاب ہونی چاہئیں اور اگر چاولوں پر مشتمل ایک وقت کے کھانے کیلئے ایک دیگ کی تیاری کیلئے کم ا زکم چار ہزار روپے کا حساب لگایا جائے تو پانچ کروڑ اور دو وقت کے کھانا‘ جس میں ناشتہ شامل نہیں ہو گا‘ روزانہ دس کروڑ روپے درکار ہوں گے اور اگر پانچ لاکھ افراد کیلئے سارے دن کیلئے ہر ایک کو پانی کی صرف ایک چھوٹی بوتل فراہم کی جائے تو فی بوتل اگر دس روپے لاگت آئے تو اس کے حساب سے پچاس لاکھ روپے روزانہ ایک وقت کیلئے ایک چھوٹی بوتل کی لاگت آئے گی‘ یعنی روزانہ کم ازکم دس کروڑ پچاس لاکھ روپے اور اگر یہ دھرنا سات دن جاری رہتا ہے تو73 کروڑ پچاس لاکھ روپے‘ بغیر ناشتہ چائے کے اور ان کے علا وہ ایک ارب روپے ٹرانسپورٹ کے معمولی سے اخراجات کیلئے‘ کیونکہ کراچی‘ سندھ جنوبی پنجاب اور بلوچستان Balochistan سمیت اگر کے پی کے وزیرستان اور فاٹا سے لوگ دھرنے میں شرکت کیلئے لائے جائیں گے‘ تو یہ اخراجات دو ارب روپے سے کسی طور بھی کم نہیں ہوں گے۔

الغرض اسلام آباد Islamabad میں پانچ لاکھ افراد اگردھرنے میں لائے جائیں اور ان کی ٹرانسپورٹ کے اخراجات ہی صرف میرے جیسے شخص کیلئے دو ارب ہوں تو سوچئے کہ میری جگہ کوئی دوسرا شخص اگر پندرہ لاکھ لوگوں کو ملک بھر سے اسلام آباد Islamabad لے کر آئے گا تو ان پندرہ لاکھ افراد کو اسلام آباد Islamabad لانے کیلئے پانچ ارب روپے ٹرا انسپورٹ اور ان پندرہ لاکھ لوگوں کیلئے اسلام آباد Islamabad میں ایک دن کی خوراک اور پانی کے ا خراجات کا حساب کیا جائے تو مکمل کنجوسی اور کفایت شعاری کے ساتھ کم ا زکم35 کروڑ روزانہ خرچ ہوں گے۔ اب ظاہر ہے کہ پندرہ لاکھ افراد کے کھانے کی تیاری کیلئے اگر چالیس افراد کیلئے ایک دیگ درکار ہو تو کل 37 ہزار دیگیں درکار ہوں گی۔ان کیلئے اگر تھر مو پور کی پلیٹیں حاصل کی جائیں تو پندرہ لاکھ پلیٹیں ایک وقت کے کھانے کیلئے اور روزانہ کے حساب سے تیس لاکھ پلیٹیں‘ اگر یہ پلیٹ ایک روپے کی بھی ہو‘ تو لاکھ روپے روزانہ کے بنتے ہیں‘ اتنے بھاری بھر کم اخراجات سن کر میرا جیسا تو کسی طور بھی ایک دھرنا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں نے دھرنے کا خیال دل سے نکالنے کر استاد محترم گوگا دانشور صاحب کو خدا حافظ کہنے کیلئے اٹھنے لگا تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر بولے ؛ تمہارے اندرونی ا ور بیرونی دوست کس وقت کام آئیں گے؟ ان کیلئے تو یہ معمولی سی بات ہے۔

 97