عدالت میں مریم نواز Maryam Nawaz کی سیلفیوں پر جج برہم

09 اکتوبر 2019

Judge Berham on the selfies of Maryam Nawaz in court

لاہور: احتساب عدالت میں کیس کی سماعت کے موقع پر لوگوں کی مریم نواز Maryam Nawaz کے ساتھ سیلفیوں پر جج برہم ہوگئے۔

لاہور کی احتساب عدالت میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز Maryam Nawaz اور یوسف عباس کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں نیب حکام نے دونوں کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔

عدالت کا موبائل فون بند کرنے کا حکم

پیشی کے موقع پر عدالت میں موجود لوگوں نے مریم نواز Maryam Nawaz کے ساتھ سیلفیاں لینا شروع کردیں جس پر عدالت کے جج جواد الحسن نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور تمام لوگوں کو موبائل فون بند کرنے کا حکم دیا۔

جج احتساب عدالت نے مریم اور یوسف عباس کو روسٹرم پر طلب کیا تاہم مریم نواز Maryam Nawaz کے ساتھ روسٹرم پر رش ہونے پر انہیں بیٹھنے کی ہدایت کردی، عدالت کے بار بار منع کرنے پر لیگی کارکنان نے عدالت میں شروع شرابا بھی کیا۔

مریم نواز Maryam Nawaz کے وکلاء نے سائیڈ روم میں ان کے ساتھ ملاقات کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کرلیں مگراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی دوسرا نہ ہو، غیرمتعلقہ افراد ملاقات میں گئے تو ذمہ دار وکلا ہوں گے۔

جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

بعد ازاں عدالت نے مریم نواز Maryam Nawaz اور یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روزکی توسیع کردی اور انہیں 23 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز Maryam Nawaz کو نیب حکام نے چوہدری شوگر ملز کیس کے سلسلے میں 8 اگست کو کوٹ لکھپت جیل سے میاں نوازشریف سے ملاقات کے موقع پر گرفتار کیا تھا۔

 30