عالمی بساط پر ہلچل مچاتی ٹرمپ کی ٹویٹس

برملا - نصرت جاوید

09 اکتوبر 2019

Trump's tweets stirring the world

امریکی صدر نے ایک بار پھر خود کو ’’ڈونلڈٹرمپ‘‘ ہی ثابت کرتے ہوئے پیر کی رات چند ٹویٹس لکھ دئیے ہیں۔ان کے ذریعے خبر یہ ملی ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں تعینات امریکی افواج کوواپس بلالیا گیا ہے۔ان علاقوں میں کرد اکثریت میں ہیں۔داعش نے یہاں محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے تھے۔ان سے نبردآزما ہونے کے لئے کردوں نے ہمت پکڑی۔ امریکہ United States نے ان کی فوجی اور سیاسی معاونت کا فیصلہ کیا۔داعش والے وہاں سے فرار ہوگئے۔ داعش کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے کردوں نے اپنی اہمیت کو اجاگر کیا۔اس اہمیت نے ترکی کے صدر اردوان کو ناراض کردیا۔وہ ترکی میں صدیوں سے مقیم کردوں کی مخصوص ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔اسے خطرہ لاحق ہوا کہ شام میں ترکوں کو میسر ہوئی اہمیت ترکی میں کرد ’’علیحدگی پسندوں‘‘ کو توانا تر بنائے گی۔نیٹو کا ایک اہم رکن ہوتے ہوئے بھی ترکی نے لہذا روس Russia کے پیوٹن سے تعلقا ت کو دوستانہ بنانا شروع کردیا۔وہاں سے جدید ترین میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا۔ٹرمپ تلملاتا رہا۔ پیر کی رات اس نے مگر جو اعلان کیا ہے اس کی وجہ سے ترکی کو اب یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کی خاطر شام کی سرحد میں کئی میل گھس کر جو چاہے قدم اٹھائے۔ خود کو امریکہ United States کا ’’حلیف‘‘ تصور کرتے کرد اب ہکا بکا ہوئے ترکی کی جارحانہ پیش قدمی کو پریشانی سے بھگتنے کو تیار ہورہے ہیں۔ٹرمپ نے محض کردوں اور ترکی کے مابین معاملات تک ہی اپنے ٹویٹس کو محدود نہیں رکھا۔ امریکی عوام کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ بش اور اوبامہ حکومتوں نے امریکی افواج کو ’’خواہ مخواہ‘‘ کی جنگوں میں ملوث کردیا تھا۔وہ ان لوگوں کے ’’تحفظ‘‘ کو مامور کردی گئیں جو دل سے امریکہ United States سے نفرت کرتے ہیں۔ روس،چین China اور ایران Iran کو اپناحقیقی دوست شمار کرتے ہیں۔ شام کا مسئلہ اب امریکہ United States کا دردِسر نہیں ہے۔ترکی جانے اور اس کے روس،چین China اور ایران Iran جیسے ’’دوست‘ اور ’’حلیف‘‘۔ٹرمپ کے شام کے بارے میں ٹویٹس نے حتیٰ کہ اس کی جماعت کے سرکردہ رہ نمائوں کو بھی حیران کردیا۔سینیٹر لنڈسی گراہم اس کے قریب ترین ’’پرستاروں‘‘ میں شمار ہوتا ہے۔ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کی امریکی صدر سے جولائی کے مہینے میں ملاقات کروانے میں اس نے بھی اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔سینیٹر گراہم نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ٹرمپ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔شام کے حوالے سے اپنے فیصلے پر ہوئی تنقید سے ٹرمپ مشتعل ہوگیا۔گدھے سے گرنے کے بعد غصہ کمہار پر نکالنے کی کوشش کی۔ایک اور ٹویٹ کے ذریعے اعلان کردیا کہ ترکی خوب جانتا ہے کہ اگر اس نے ٹرمپ کو ناراض کیا تو وہ اس ملک کی معیشت کو مکمل طورپر تباہ کرسکتا ہے۔مجھے ہرگز خبر نہیں کہ ’’سلطان اردوان‘‘اس کی لگائی اس تڑی کو کیسے ہضم کرے گا۔پیر کی رات آئے ٹویٹس کو پڑھ کر بطور پاکستانی مگر فوری تشویش مجھے افغانستان Afghanistan کے بارے میں لاحق ہوگئی۔ اس سال کے آغاز سے ٹرمپ زلمے خلیل زاد کے ذریعے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف رہا ہے۔پاکستان Pakistan نے ان مذاکرات کو بامقصد بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اُمید تھی کہ گزرے مہینے میں طالبان اور امریکہ United States کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔ طالبان نے مگر طے شدہ معاہدہ پر امریکہ United States جاکر کیمپ ڈیوڈ میں بیٹھ کر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ٹرمپ نے ناراض ہوکر طالبان سے جاری مذاکرات کی ’’موت‘‘ کا اعلان کردیا۔اس کی جانب سے ہوئے موت کے اعلان کے باوجود زلمے خلیل زاد وہ پہلا امریکی افسر تھا جس کے ساتھ پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister سے ان کے نیویارک پہنچتے ہی طویل ملاقات ہوئی۔اس ملاقات نے پیغام یہ دیا کہ عمران خان Imran Khan صاحب کی امریکہ United States موجودگی کے دوران امریکی حکومت کشمیر کے بجائے افغانستان Afghanistan پر توجہ دینا چاہے گی۔ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister وطن لوٹے تو زلمے خلیل زاد بھی اسلام آباد Islamabad پہنچ گیا۔ ملاغنی برادر کی قیادت میں طالبان کا ایک وفد بھی اس شہر میں نمودار ہوگیا۔ ہم ’’کمی کمینوں‘‘ کو امریکہ United States یا پاکستان Pakistan کی حکومت نے ایسی ’’آنیوں جانیوں‘‘ کی بابت سرکاری طورپر کچھ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ہے۔خبراب یہ بھی گردش میں ہے کہ شاید زلمے خلیل زاد اور طالبان کے مابین گفتگو کے نتیجے میں افغانستان Afghanistan کی جیل میں بند چند طالبان کو رہا کردیا گیا ہے۔ان کے بدلے میں طالبان نے مغوی بنائے چند بھارتی Indian انجینئر رہا کردئیے جو افغانستان Afghanistan میں ’’ترقیاتی کاموں‘‘ کے نگران تھے۔ اسلام آباد Islamabad میں ہوئی گفتگو کی بدولت کابل میں طالبان اورمغوی بھارتی Indian وں کی رہائی میرے لئے حیران کن ہے۔بتایا مگر یہ جارہا ہے کہ زلمے خلیل زاد نے بھارت India کے انجینئروں کی رہائی کا بندوبست کرتے ہوئے نئی دہلی کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ طالبان ’’بدل‘‘ چکے ہیں۔ مودی سرکار کو ان کے وفد سے ملاقاتیں شروع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ روس،چین China اور ایران Iran کی حکومتیں اگر طالبان سے مذاکرات کررہی ہیں تو بھارت India اس ضمن میں تذبذب کیوں دکھارہا ہے۔اسے بھی افغانستان Afghanistan میں ’’امن‘‘ کے قیام کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔مقبوضہ کشمیر پر 5اگست سے مسلط ہوئے کمیونی کیشن لاک ڈائون کا اس پورے قصے میں کہیں ذکر ہی نہیں ہورہا۔ہمارے میڈیا میں ان دنوں چرچے بلکہ مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے ہورہے ہیں۔سوشل میڈیا میں اس حوالے سے رونق مبینہ طورپر JUI(F)کی جانب سے ’’جاری‘‘ ہوئے اس ’’ہدایت نامہ‘‘ کے تناظر میں لگی ہوئی ہے جو سرسری نظر ڈالتے ہی قطعاََ Fakeدکھائی دیتا ہے۔عمران حکومت کے ذہین ترین وزیر فواد چودھری نے مگر اس مبینہ ہدایت نامے کی’’شق نمبر6‘‘پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ آرائی کی۔ میڈیا میں ریٹنگ کے ریکارڈ بنانے والے ’’عالم آن لائن‘‘ ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اسی ’’شق‘‘ سے اپنی لسانی مہارتوں سے کھیلتے ہوئے ہمارا جی بہلارہے ہیں۔غربت وافلاس سے بے بس ہوئے لوگوں کے لئے عمران خان Imran Khan صاحب نے ایک لنگر خانے کا افتتاح کردیا ہے۔بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے بعد پریشان ہوئے اچھے بھلے سفید پوشوں کی خوراک کا بھی ایسے لنگرخانوں کی بدولت بندوبست ہوجائے گا۔ٹرمپ کے لکھے ٹویٹس پر توجہ دینے کی فرصت ہمیں میسر نہیں۔میں خواہ مخواہ یہ سوچتے ہوئے ہلکان ہورہا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امریکی صدر چند روز بعد ایک اور ٹویٹ لکھ کر افغانستان Afghanistan میں 18برسوں سے جاری جنگ کو بھی "Use less"قرار دیتے ہوئے وہاں سے اپنی افواج نکالنے کا اعلان نہ کردے۔یوں کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ افغانستان Afghanistan اور پاکستان Pakistan کے لوگ بھی امریکہ United States سے ’’نفرت‘‘ کرتے ہیں۔اب افغانستان Afghanistan جانے اور پاکستان۔ اس کے علاوہ افغانستان Afghanistan کے دیگر ہمسائے یعنی روس، چین China اور ایران Iran وغیرہ۔ امریکی افواج ’’ہم تو چلے سسرال‘‘ کہتی ہوئی اپنے وطن لوٹ رہی ہیں۔ٹرمپ کی ٹویٹس عالمی بساط پر جو ہل چل مچاتی ہیں ان سے بے اعتنائی میری دانست میں ناقابل معافی سفاکیت ہے۔چسکہ فروشی کی علت میں مبتلا ہوئے ہم صحافی مگراپنی لاعلمی اور گہرے معاملات تک نارسائی کو اس کے ذریعے چھپالیتے ہیں۔شام کو ذہن میں لاتے ہوئے یاد نہیں رکھتے کہ وہاں پانچ لاکھ بے گناہ شہری خانہ جنگی کا شکار ہوئے۔ حلب کا ہزاروں برس سے ہنستا بستا شہر اُجڑگیا۔ ہمارے ہاں بھی ستر ہزار بے گناہ شہری افغانستان Afghanistan سے جڑی دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔زلمے خلیل زاد نے قیام اسلام آباد Islamabad کے دوران جو ہانڈی چڑھائی اس کی بابت’’خبر‘‘ رکھنا ہمارا حق اور ذمہ داری تھی۔ مجھ جیسے خود کو مہا دانشور ثابت کرتے صحافی یہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے۔ فیس بک پراپنی تحریروں کے لئے Likeاور Shareکے محتاج ہوئے ’’لکھاری‘‘ ’’ری ٹویٹس‘‘ کے حسد میں فواد چودھری صاحب کی دریافت کردہ ’’شق نمبر6‘‘ سے اپنا رزق کمانے کی لگن میں مبتلا ہیں۔ پتھروں سے رزق چاٹنے والے کیڑوں کی طرح۔

 272