امریکی فیصلے کے بعد

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

09 اکتوبر 2019

After the US decision

امریکہ United States نے انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا جو فیصلہ کیا ہے‘ اگر اس کے قانونی وآئینی پہلو سامنے رکھیں تو اس فیصلے کے مطابق‘ مودی سرکار غیر قانونی اور دہشت گرد قرار پاچکی ہے اور پاکستان Pakistan کو چاہیے تھا کہ اس نکتے کو عالمی سطح پر اٹھاتا‘ کیونکہ ریکارڈ سے ثابت ہو چکا کہ نریندر مودی narendra modi ‘ امیت شاہ‘ راج ناتھ‘ ادتیا ناتھ جوگی آر ایس ایس RSS کے بنیادی اراکین ہیں۔ ان کے علا وہ بھارت India کی حکمران جماعت کے سبھی لوگ جہاں راشٹریہ سیوک سنگھ پر مشتمل ہیں ‘تو بھارت India کی خفیہ ایجنسی رائ‘ آئی بی پولیس اورسول سروس Russia جیسے اہم عہدوں پر وشوا ہندو پریشد کے بنیادی کارکنوں کی اکثریت کام کر رہی ہے۔

آر ایس ایس‘ جنتا پارٹی سمیت وشوا ہندو پریشد جیسی انتہا پسند جماعتیں دلت‘ مسلم ‘ سکھ‘ عیسائیوں سمیت بھارت India کے شمال مشرقی حصوں کی ریا ستوں کی80 فیصد سے زائد آبادی کو اپنے سے کم تر نچلے درجے کے شہریوں کا درجہ دیتے ہوئے ان پر ظلم ڈھاتی چلی آ رہی ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ان کے مظالم سے تنگ آ کر یہ تمام اقلیتیں ایک ایک کرتے ہوئے بھارت India سے آزادی کا علم بلند کر نا شروع ہو گئی ہیں۔ آر ایس ایس RSS اور وشوا ہندو پریشد کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کے بعد اقوام متحدہ سمیت دنیا کے انسانی حقوق سے متعلق ہر اس ادارے پر فرض ہے کہ وہ بھارت India کے وزیر اعظم Prime Minister اور وزیر داخلہ سمیت تمام وزراء پرغیر قانونی قرار دی گئی‘ ان دہشت گرد تنظیموں کی بنیادی رکنیت ثابت ہونے کے بعد ان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پا بندیاں عائد کر دے ۔ پاسدارانِ انقلاب کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد اگر ایران Iran پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں‘ تو بھارت India سرکار پر کیوں نہیں؟ آئین کے آرٹیکل 370/35A کی حیثیت کو ختم کرنے سے پہلے چالیس ہزار مزید بھارتی Indian فوج کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں آر ایس ایس RSS کے مسلح کارکنوں کو کشمیر بھیجنے کی خبریں‘ کسی ایک میڈیا نے نہیں‘ بلکہ دنیا بھرکے میڈیا نے نشر کی تھیں۔ ایسے میںاس سچائی کو سامنے رکھیں تو گاندھی کو قتل کرنے ‘ گاندھی کے قتل کیلئے پستول جیسے آلہ قتل کی نیلامی پر فخر کرنے والی آر ایس ایس RSS جیسی دہشت گرد جماعت نہ جانے بھارتی Indian فوج کی نگرانی میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہو گی؟تو کیا ایسے میں اقوام متحدہ پر فرض عائد نہیں ہوتا کہ کشمیر میں ان دہشت گردوں سے ایک کروڑ انسانوں کو بچانے کیلئے اپنی امن فوج بھیجے؟

نئی دہلی میں ہر سال بھارت India جب بھی یوم جمہوریہ کے نام سے تقریب کا انعقادکرتے ہوئے دنیا کے کسی سربراہ کو بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دیتا ہے‘ تو سلامی کے چبوترے پر بیٹھے ہوئے امریکہ United States سمیت وہ تمام سربراہان چیونگم کو دانتوں تلے چباتے ہوئے سوچتے تو ہوں گے کہ بھارت India یوم جمہوریہ اس شان و شوکت سے منانے کا اخلاقی حق کیسے رکھ سکتا ہے؟ جبکہ اس میں بسنے والے 70 کروڑ سے زائد انسانوں کو''جمہور‘‘ کا حق ہی نہیں ۔جمہوری لغت میں اپنی مرضی کے نمائندے اپنی مرضی سے منتخب کرنا‘ آزادی سے عبا دت کرنا‘ اپنی مرضی کی بود وباش اور خوراک استعمال کرنا شامل ہے ‘لیکن کشمیر یوںکے علاوہ سکھ‘ عیسائی‘ دلت‘ بھارت India کے اندر بسنے والے پچیس کروڑ سے زائد مسلمان جب اس حق سے محروم کر دیئے جائیں تو یہ جمہوریت کیسے ہو گئی ؟مزید ستم ظریفی دیکھئے کہ اس کے با وجود بھارت India پھر بھی دھوم دھام سے یوم جمہوریہ منا تا چلا آ رہاہے‘ جہاں نہ تو اقلیتوں کو شخصی آزادی ہے اور نہ ہی مذہبی اور شاید یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے آخری دورہ بھارت India کے موقع پر ٹا ئون ہال انڈیا میں سامنے بیٹھے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا '' بھارت India اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی دنیا کی نظروں میں درخشاںنظر آئے گا‘ جب تک وہ اپنے ملک میں ہر ایک قوم کو مذہبی آزادیاں دینے کی مکمل ضمانت نہیں دیتا‘‘ ۔

اوبامہ کے کہے ہوئے مذکورہ بالا الفاظ ساتھ بیٹھے ہوئے نریندر مودی narendra modi کے سر پر اُس وقت بم کی طرح پھٹے‘ کیونکہ امریکی صد اوبامہ کے دورہ بھارت India مکمل ہونے سے چند گھنٹے پہلے کہے جانے والے یہ الفاظ ان کے دورہ بھارت India کا مشترکہ اعلامیہ سمجھا گیا تھا اور دورۂ بھارت India کے بعدبراک اوبامہ کے قدم ابھی اپنے اوول آفس میں پڑے ہی تھے کہ امریکیوں کو جواب دینے کیلئے دہلی کے نواح میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے انتہا پسندوں نے پانچ عیسائی عبادت گاہوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ 2013ء میںبھارت India کی شمالی مشرقی ریاستیں اسی جبر‘ ظلم اور توہین کے خلاف اٹھتے ہوئے آزادی کا مطا لبہ کر رہی تھیں‘ جنہیں بھارتی Indian سکیورٹی فورسز نے وقتی طور پر کمزور کردیاتھا۔ اپنے مضمون کے آغاز میں کشمیر میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈوں کو بھیجنے کا جو ذکر کیا ہے‘ اس میں میرے وہ خدشات شامل ہیں‘جو بھارتی Indian فوج نے آسام میں حریت پسندوں کو کچلنے کیلئے آر ایس ایس RSS کے ذریعے انجام دیئے۔ 23 دسمبر2014ء کو بھارتی Indian فوج نے اس تحریک کو کچلنے کیلئے آسام کے سونت پور اور کوکراجھر اضلاع کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے75 افراد ‘ جن میں 18 بچے اور23 خواتین شامل تھیں‘ راشٹریہ کی طرف سے نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ کے ذریعے بہیمانہ طریقے سے یہ کہہ کرقتل کروا دیا گیا کہ ان باغات میں کچھ دہشت گرد چھپے ہوئے تھے ۔اس قتل عام کی خبریں جب سامنے آئیں تو انٹر نیشنل ہیومن رائٹس(The Rome Statute of the International Criminal Court)کے تحت بھارتی Indian فوج کے خلاف کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کی اپیل کی گئی۔ آسام کے اس و اقعہ کو پانچ برس ہونے کو ہیں‘ لیکن ابھی تک بھارت India کی نہ تو مرکزی اور نہ ہی صوبائی حکومتوں نے کوئی ایف آر درج کی ہے۔ شاید وہ چھپانا چاہتے ہیں‘ کیونکہ اس میں بھی نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ فرنٹ ملوث تھی۔

بھارت India جب آزاد ہوا تو کچھ عرصے بعد ہی آسام میں ارد گرد کی بہت سی قومیتوں اور مذاہب سے متعلق لوگ آ کر بسنا شروع ہو گئے اور یہیں سے مسلح تحریکیں جنم لینا شروع ہو گئیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ اقوام پورے آسام میں پھیل گئیں ۔آسام جو انگریز دور سے ہی اپنی سفید‘ کالی چائے کیلئے مشہور تھا‘ جب تیل کی پیداوار بھی دینا شروع ہو گیا تو یہیں سے سب کی نظریں وہاں کے چائے کے با غات کی طرف للچانا شروع ہو گئیں‘ جو چین China کے بعد دنیا کا سب سے زیا دہ چائے پیدا کرنے والا علاقہ ہے‘ جس سے وہاں کے سیا سی اور معاشرتی حالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور یہیں سے مسلح جتھوں کو پالنے کا رواج بھی شروع ہو گیا ۔ وہ لوگ جو یہاں اپنی من مانیاں کرنی چاہتے تھے‘ انہوں نے آسام کی صوبائی حکومت کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی ہی مرضی کے قوانین بنا نا شروع کر دیئے۔ یہاں کا ہر انتظامی افسر ان کی ہی منظوری سے تعینات ہونے لگا‘ جس سے عوام کے مسائل کی طرف کم اور اپنی من مانیوں کی جانب زیا دہ دھیان ہونا شروع ہو گیا‘ جس سے غریب عوام کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئیں اور پھر جب لوگوں نے اس زیادتی کے خلاف آوا ز اٹھانی شروع کر دی تو غدار دشمن جیسے نام دے کر ان کا خاتمہ شروع کر دیا۔

اب آئے روز مقبوضہ کشمیر کی طرح وہاں بھی کبھی عیسائیوں تو کبھی بنگالی مسلمانوںکو نشانہ ستم بناناشروع کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں تعینات بھارتی Indian فوج نے وہاں کی غیر ہندو آبادیوں کے خلاف وہی سلوک شروع کر دیا ہے‘ جو 70 برسوں سے نہتے کشمیریوں کے ساتھ کر رہی ہے۔

 95