امریکہ United States افغانستان Afghanistan میں سرنڈر کر چکا !

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

09 اکتوبر 2019

America has surrendered to Afghanistan!

افغان طالبان نے دو اکتوبر 2019 کو 19 سال بعد پاکستان Pakistan کا پہلا آفیشل دورہ کیا۔ اسلام آباد میں طالبان کا‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور دیگر اعلیٰ حکام نے حکومتی پروٹوکول کے تحت شاندار استقبال کیا۔ دو گھنٹے تک طالبان اور پاکستانی حکام کی کئی امور پر بات چیت ہوئی۔ بارہ رکنی وفد کی قیادت طالبان کے سیاسی لیڈر ملا عبدالغنی برادر نے کی۔ افغان طالبان کی وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan سے بھی طویل ملاقات ہوئی۔ امریکہ United States نے پاکستان Pakistan سے درخواست کی تھی کہ طالبان کو مذاکرات کی بحالی پر راضی کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے افغان امور پر صدر ٹرمپ کے مشیر زلمے خلیل زاد اور افغانستان Afghanistan میں نیٹو کے سربراہ بھی پاکستان Pakistan آئے تھے۔ افغان طالبان نے امریکہ United States سے مذاکرات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ United States نے اس بار طالبان کو دھوکا دیا تو نتائج واشنگٹن تک جائیں گے اور حملوں میں امریکہ United States کا کوئی فوجی بھی افغانستان Afghanistan سے زندہ بچ کر نہیں جائے گا۔

افغان طالبان سے امریکہ United States نے پُر امن انخلا کی درخواست کی ہے۔ نومبر 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ افغان جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر سکتے ہیں؛ تاہم عین ممکن ہے کہ امریکہ United States الیکشن کے بعد افغانستان Afghanistan سے مکمل طور پر نکلے، اس وقت 14 ہزار امریکی فوجی اور تقریباً 10 ہزار کے لگ بھگ نیٹو فوجی افغانستان Afghanistan میں موجود ہیں۔ اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ امریکی الیکشن تک تو رک سکتے ہیں‘ لیکن شاید صدر ٹرمپ افغانستان Afghanistan سے فوج نکالیں اور نہ ہی جنگ ختم کریں‘ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ United States کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے‘ پینٹاگون‘ کانگریس اور دیگر ادارے نہیں چاہتے کہ امریکہ United States افغانستان Afghanistan سے شکست کا داغ لے کر نکلے اور بعد میں ذلت کے طعنے برداشت کرتا رہے؛ تاہم صدر ٹرمپ کی مجبوری یہ ہے کہ 2020 کے الیکشن میں افغان جنگ کے خاتمے اور فوجی انخلا کا انتخابی نعرہ دے کر وہ اپنی کامیابی کے امکانات بڑھانا چاہتے ہیں۔

افغان طالبان بھی صدر ٹرمپ اور امریکہ United States کی سیاسی انتخابی مکاری سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں پر فیصلہ کن حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے؛ تاہم مختلف ملکوں کے دورے کر کے طالبان دنیا بھر میں اپنی سیاسی اور سفارتی مہم بھی جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے حق میں استوار کر سکیں۔ اس سرگرمی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مستقبل کی ممکنہ طالبان حکومت کے لیے سیاسی‘ معاشی‘ دفاعی اور اخلاقی مدد حاصل کی جا سکے۔ روس‘ چین‘ ایران‘ انڈونیشیا Indonesia اور پاکستان Pakistan کے بعد طالبان اگلے مرحلے میں سعودی عرب Saudi Arabia ‘ متحدہ عرب امارات united arab emirates ‘ ملائیشیا‘ ترکی اور یورپ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ افغانستان Afghanistan کے 80 فیصد علاقوں پر اس وقت طالبان کا کنٹرول ہے؛ تاہم افغانستان Afghanistan پر طالبان کی حکومت کے مکمل کنٹرول کے لئے دو تا پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کی ملک کے ممتاز تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقات کو حکومت کے خلاف چارج شیٹ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کے وفد نے حکومت کے بجائے چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کی تاویل یہ پیش کی کہ چند ماہ قبل آرمی چیف نے کراچی میں تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقات کی تھی اور اس وقت ان سے کہا تھا کہ اگر آپ کے مسائل حل نہ ہوں تو آپ براہ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ کاروباری افراد نے آرمی چیف کو بتایا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد سے کرپشن کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ آرمی چیف سے ملاقات کے بعد تاجر و صنعت کار وزیر اعظم Prime Minister سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور وزیر اعظم Prime Minister نے ان کو گائیڈ لائن دی ہے اور ایک با اختیار کمیٹی بنانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو معاشی طور پر مکمل آگاہی ہو چکی ہے کہ ان کے بعض وزرا کے خلاف کرپشن کے سنگین سکینڈل پر بعض میڈیا پرسنز کام کر رہے ہیں۔ ایسے ہی میڈیا پرسنز کی تحقیقی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف Nawaz Sharif کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا اور ان کے صاحبزادوں کو ملک چھوڑنا پڑا تھا۔ اب اسی طرز پر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے بعض دست راست وزرا پر باریک بینی سے کام ہو رہا ہے۔ سب سے اہم بات تو یہی ہے کہ سب کچھ اچھا نہیں ہے اور اب پانی سر سے اوپر ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر حزب اختلاف کی مہم جوئی کو عوامی توجہ ملتی ہے تو اس کی وجہ حزب اختلاف کی مقبولیت یا ماضی کے کارنامے نہیں ہیں بلکہ موجودہ حکومت کی اپنی نا کامیاں ہوں گی۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو ادراک ہونا چاہئے عوام کو حکومت کی ٹیم سے کوئی امید نہیں رہی ہے۔ ملک معاشی جمود کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے دیگر قوتوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے لیے بہتر ہو گا کہ اپنی معاشی ٹیم میں درست تبدیلیاں کریں اور غیر حلف یافتہ مشیران کی جگہ پارلیمنٹ میں سے تحریک انصاف کے منتخب ارکان کو کابینہ میں شامل کریں‘ جو ملک کے مفاد میں بہتر ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دلانے والے فیصلے کریں اور پھر ان کے نفاذ کو ممکن بنائیں۔ موجودہ حالات میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی تازہ رپورٹ نے قوم کو خطرے کی گھنٹی سے آگاہ کر دیا ہے کہ 2020 میں پاکستان Pakistan کا گروتھ ریٹ تاریخ کی پست ترین سطح پر ہو گا‘ جبکہ افراط زر کی شرح 12 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ اور پورے ایشیا میں اس حوالے سے صرف ترکمانستان اور ازبکستان ہم سے آگے ہوں گے۔ قومی احتساب بیورو اور ایف بی آر کی شبانہ روز کاوشوں اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی سعی کے باوجود اب تک مہنگائی کا کوئی توڑ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آئے دن بجلی سمیت تمام وہی اشیاء مہنگی ہوتی جا رہی ہیں جو عوام کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔ مہنگائی انسان سے اس کی اقدار و نظریات تو کیا‘ انسانیت تک چھین لیتی ہے۔

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو اقوام متحدہ کی تقریر کا جشن منانے کے لئے خوشامد کی چادریں وصول کرنے سے احتراز کرنا چاہیے تھا۔ کشمیر جیسے اہم بین الاقوامی مسئلے اور انسانی حقوق کی پامالی کے بین الاقوامی ایشو پر 193 ممالک میں سے صرف تین ممالک نے پاکستان Pakistan کے موقف کی حمایت کی لیکن حکومت کے ترجمان حسن ظن اور مبالغے کا شکار ہیں جبکہ ہماری اصل حیثیت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر جیسے انسانی مسئلے پر بھی حمایت حاصل نہیں ہوتی اور مسلم ممالک‘ جن پر ہمیں ناز ہے‘ نے بھی خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ United States کی منشا کے بغیر اقوام متحدہ کا ادارہ پاکستان Pakistan کے لیے عراق Iraq یا افغانستان Afghanistan جیسی قرارداد بھی نہیں لائے گا اور کشمیر میں حقائق جاننے کے لئے کمیشن نہیں بھیجے گا‘ کیونکہ اقوام متحدہ اور امریکہ United States میں جو سفارت کار ہیں ان کا مطمح نظر ذاتی مفادات کا حصول ہے اور یہ سلسلہ 1988 سے جاری ہے۔ اس لئے فقط یہی کہا جا سکتا ہے کہ کم سے کم وزیر اعظم Prime Minister صاحب کی تقریر نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو اجاگر کیا‘ عالمی سطح پر ہمدردی اور مسئلے کی گہرائی کے حوالے سے شعور پیدا کیا اور بین الاقوامی میڈیا نے اپنا کردار سرانجام دیا‘ جس کے ذریعے پاکستان Pakistan اور کشمیر کا مقدمہ دنیا کے کونے کونے تک پھیلا۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے مطابق ناموس رسالتؐ اور اسلامو فوبیا دو ایسے موضوعات ہیں جنہوں نے مسلمان کے قلب کو متاثر کیا اور ان کی آنکھوں سے آنسو گرے ہیں۔ اس کا کریڈٹ ڈاکٹر بابر اعوان کو جاتا ہے جنہوں نے روحانی حوالوں سے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو ایک گھنٹے تک بریف کیا۔ ڈاکٹر بابر اعوان کا روحانی تاریخ اور صوفیہ کرام کے کلام سے گہرا شغف ہے۔ انہوں نے پس پردہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو روحانیات‘ اسلام اور ریاست مدینہ اور خلفائے راشدینؓ کے دور کے حوالوں سے مکمل طور پر بریف کیا‘ جس کے نتائج و اثرات سب کے سامنے ہیں۔

 79