کشمیر: زمین نہیں نظریے کی جنگ

حرف راز - اوریا مقبول جان

07 اکتوبر 2019

Kashmir: Land not a war of ideology

آج سے بہتر(72) سال پہلے ہندوستان تقسیم ہوا تو دنیا کے نقشے پر دو ملک وجود میں آئے۔ ایک خالصتاً مذہب کی بنیاد پر اور دوسرا خالصتاً سیکولر، لبرل قوم پرست نظریے کی بنیاد پر۔ دونوں کی تقسیم علاقائی بنیادوں پر ہوئی اور اصول یہ رکھا گیا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں رہائش پذیر ہیں انہیں بقیہ ہندوستان سے کاٹ کر ایک نیا ملک پاکستان Pakistan تخلیق کر دیا جائے۔ دوسراملک، بھارت،مسلمہ سکہ رائج الوقت، یعنی جو جس جگہ پیدا ہوتا ہے، اس کا مذہب، رنگ، نسل اور زبان کوئی بھی ہو، وہ اس کا وطن ہے، کی بنیاد پر تخلیق ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی تاریخ نے ایک بہت بڑی ہجرت دیکھی۔ یہ ہجرت دراصل صرف پاکستان Pakistan کی سمت ہوئی تھی۔ اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں، ایک یہ کہ مسلمان ایک ایسے ملک کی جانب ہجرت کرنا چاہتے تھے جہاں ان کی اکثریت ہو اور وہ اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کر سکیں، دوسری وجہ یہ تھی کہ تقسیم کے فلسفے نے ماحول میں اس قدر نفرت بھر دی تھی کہ انہیں زبردستی وہاں سے بے گھر کر دیا گیاتھا۔ یہ ایک انسانی زلزلہ تھا۔ وہاں سے آبادی ادھر پاکستان Pakistan منتقل ہوئی تو اس کے نتیجے میں یہاں کی آبادی جو ہندو اور سکھ تھی مکمل طور پر بھارت India منتقل ہوگئی۔ اس آبادی کا پاکستان Pakistan سے نکلنا اس قدر مکمل تھا کہ پاکستان Pakistan کے کم از کم دو صوبوں یعنی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اسکے بعد کم از کم پچاس سال تک ہندو اور سکھ صرف تصویروں میں نظر آتے تھے، عام زندگی میں ان کا وجود ناپید تھا۔ یہ کیفیت گلی گلی موجود مندروں کی ویرانی سے بھی عیاں تھی۔ کہیں نہ گھنٹیاں بجتی سنائی دیں اور نہ پرشاد بٹتا نظر آیا۔ ایسے منظر اب صرف بھارتی Indian فلموں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ لیکن دوسری جانب یعنی بھارت India کی چونکہ ایسی کوئی مذہبی پہچان نہیں تھی، اس لیے تقریبا تین کروڑ 75 لاکھ کے قریب مسلمان وہیں رہ گئے۔ مگر سیکولر بھارت India سے مسلمانوں کی ہجرت کا تسلسل دیر تک جاری رہا۔ 1947ء کی ہجرت میں مشرقی پنجاب کے مسلمان پاکستانی پنجاب کے علاقے میں آکر آباد ہوگئے، اس لیے کہ اب ان کی زندگیاں خطرے میں تھیں، اور قتل و غارت عام ہو گیا تھا۔ لیکن ایک پرامن ہجرت بھی ہوئی، جو بھارت India کے علاقوں یوپی، بہار، ممبئی، راجستھان وغیرہ سے کراچی، حیدرآباد، اور سکھر میں 1951 ء تک مسلسل ہوتی رہی۔ 1951 ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 57 فیصد، حیدرآباد کی 65فیصد اور سکھر کی 55فیصد آبادی ان مسلمان مہاجرین پر مشتمل ہو چکی تھی جو بھارت India سے آئے تھے۔ مگر پھر بھی ہجرت کا یہ سلسلہ تھما نہیں۔ عالمی ادارہ محنت نے 1959ء میں ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق 1951 ء سے 1956 ء تک ساڑھے چھ لاکھ مزید مسلمان بھارت India سے پاکستان Pakistan آئے، یہ تعداد 1961 ء کی مردم شماری تک آٹھ لاکھ ہوگئی۔ یہ سب کھوکھراپار کے رستے سے پاکستان Pakistan آ رہے تھے۔ بھارت India میں قائم سیکولر ریاست کو اپنی ساکھ کی اس قدر فکر لاحق ہوئی کہ وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے ان ریاستوں کے وزرائے اعلی کو خط لکھے کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستان Pakistan جانے والے مسلمانوں کو روکا جائے۔ لیکن یہ سلسلہ رک نہیں پایا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بھارت India کے وہ علاقے جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ اپنے آپ کو وہاں محفوظ خیال نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1994ء کی پاکستان Pakistan کی محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق 1973 سے 1994 تک آٹھ لاکھ بھارتی Indian مسلمان سیاحتی ویزہ پر پاکستان Pakistan آئے اور ان میں سے چار لاکھ واپس نہیں گئے اور یہیں کہیں ضم ہوگئے۔ ایک سیکولر، لبرل اور قوم پرست ریاست بھارت India میں رہ جانیوالے تین کروڑ مسلمانوں کو یہ عدم اطمینان اس کے قیام سے پہلے دن سے ہی تھا اور آج یہ تین کروڑمسلمان 25 کروڑ ہو چکے ہیں۔ معاملہ اب صرف عدم اطمینان اور مستقبل سے مایوسی، جیسے خطرات سے آگے نکل چکا ہے، بلکہ اب تو زندگی بچانے کی فکرہے۔ لوگوں کے سر پرخوف مسلط ہے۔ آج کا بھارتی Indian مسلمان جسقدر خوفزدہ ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ آج کے خوفزدہ بھارتی Indian مسلمان کو جس طرح کی نفرت، ذلت، تشدد اور اذیت کا سامنا ہے اس کا تصور بھی ان کے ان آباواجداد نے نہیں کیا ہوگا جو 1947 ء میں سیکولر قوم پرست بھارت India کے خوش کن نعرے اور دلاسے کے تحت اسی بھارت India میں مقیم رہے اور انہوں نے اپنے دیگر رشتہ داروں کی طرح پاکستان Pakistan ہجرت نہ کی۔ کیا یہ پچیس کروڑ بھارتی Indian مسلمان اچانک اس بدترین حالت کو پہنچے ہیں۔ کیا یہ خوف کسی جنگ، خونریزی، قتل و غارت یا دہشتگردی کا نتیجہ ہے جو ان بظاہر پرامن بھارتی Indian مسلمانوں نے برپا کررکھی ہے۔ ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ پوری دنیا میں بسنے والے سات ارب انسانوں میں سے محکوم،دبائے گئے، حقوق سے محروم اور کچلی ہوئی اقلیتوں میں سب سے پرامن اقلیتی گروہ بھارتی Indian مسلمانوں کا ہے۔ ورنہ اتنی بڑی اقلیت اگر دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتی تو اب تک بھارت India کا حال ایک جنگ زدہ، شورش و ہنگاموں سے پر اور تشدد سے خوفزدہ ملک جیسا ہوجا تا۔ یہ پچیس کروڑ مسلمان ان کی سیاست میں بھی متحرک ہیں اور معاشرت میں بھی۔ ان کے ہیرو خواہ فلم اور کرکٹ کے ہوں یا سیاست کے سب دیگر بھارتی Indian وں جیسے ہیں۔ دنیا کا واحد ملک بھارت India ہے جہاں اتنی بڑی مسلمان اقلیت محروم اور پسماندہ ہے لیکن وہاں سب سے کم دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن آج بہتر سال بعد جو مایوسی اور خوف ہے،اس کی وجہ اچانک نہیں بلکہ بہتّر سالوں کی محنت سے یہ خوف پیدا کیا گیا ہے۔ بہتر سال پہلے دو ریاستیں وجود میں آئیں، ایک خالصتا مذہب کے نام پر اور دوسری خالصتا سیکولر، لبرل اور قوم پرست نظریے کے نام پر۔ پہلی یعنی پاکستان Pakistan نے اپنی وجہ تخلیق یعنی مذہب کو ترک کرنے کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا۔ آج تک ہمارا سفر ایک سیکولر، لبرل اور قوم پرست ریاست کا سفر ہے جس میں ہم کبھی کبھی اسلام کا تڑکا لگا لیتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت India نے قیام کے فوراً بعد ہی اپنے گلے سے سیکولرزم کا طوق آہستہ آہستہ اتارنا شروع کیا۔ گاندھی کا قتل یوں تو عرف عام میں مسلمانوں کی حمایت کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے جبکہ وہ قتل دراصل تئیس سال قبل بننے والی آر ایس ایس RSS کے فلسفے کا نتیجہ تھا جو ہندوستان کی ریاست کے علاقائی تصور سے انکار کرتی تھی۔ انکے نزدیک بھارت India یا ہندوستان پوتر اور پاک سرزمین ہے جس پر صرف ہندوؤں کو رہنے کا ادھیکار (حق) ہے۔ آج بہتر سال بعد یہ نظریہ بھارت India پر حکمران ہے اور اس نظریے کے ماننے والوں کا ہر قدم اس کے عملی نفاذ کی جانب اٹھتا ہے۔ کشمیر ان کے لیے اس پوتر سرزمین کا حصہ ہے، جو دیوتاؤں نے آباد کی تھی۔ ان کے نزدیک ہر وہ لوکل کشمیری جو مسلمان ہوچکا ہے اسے واپس ہندو ہونا ہوگا اور باہر سے آنے والے لوگوں کو یہاں سے بھاگنا ہوگا۔ اسی لئے کشمیر ان کے لئے ایک علاقائی نہیں نظریاتی جھگڑا ہے۔ کشمیر کی بھارت India سے علیحدگی ایک نظریے کی موت ہے۔ دوسری جانب ہمارے وہ لوگ بھی غلط راستے پر ہیں جو اسے ایک علاقائی جھگڑا Territorial Dispute) ( بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ستر سال سے ہم نے اسے دو ملکوں کا جھگڑا بنا کر ہی پیش کیا، تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا بتایا، اپنی شہ رگ سمجھا، لیکن اب یہ سب نہیں چلے گا۔ اب دونوں جانب نظریاتی ریاستیں وجود میں آ چکی ہیں۔ اب یہ دو نظریوں ہی نہیں بلکہ دو مذاہب کی جنگ ہے۔ ایک نظریے کے مطابق یہ سرزمین ان کی مذہبی جاگیر ہے۔ اس نظریے کا مقابلہ کرنے کیلئے اگر پاکستان Pakistan میںیہ نظریہ نہ پروان چڑھایا گیا کہ ہم زمین کے لئے نہیں زمین پر اللہ کی بادشاہت کے لئے لڑ رہے ہیں تو فتح ناممکن ہے۔ بہتر سال سے کشمیر اور فلسطین عالمی ضمیر کو بنیادی انسانی حقوق کے تحت وطن کے لیے جھنجوڑ رہے ہیں لیکن ناکام ہیں۔ لیکن ستر کی بجائے صرف سترہ سالوں میں افغان اللہ کی بادشاہت کے لئے لڑتے ہیں تو کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ نے کسی پاکستانی، کشمیری، ایرانی یا عراقی سے مدد کا وعدہ نہیں کیا، وعدہ صرف ان مسلمانوں سے کامیابی کا ہے جو زمین پر اس کا دین غالب کرنا چاہتے ہیں۔

 96