نبض شناس !

ماجرا - بلال الرشید

01 اکتوبر 2019

Pulse Analysis!

فرض کریں کہ آپ کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے ۔آپ کو سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے ۔ اب‘ آپ کے سامنے دو راستے ہیں ؛ پہلا راستہ یہ ہے کہ آپ ہسپتال جائیں۔ وہاںآپ فزیشن کے سوالات کا جواب دیں گے۔ وہ آپ کو ناک ‘کان‘ گلے کے ماہر (ENT Specialist)کے پاس بھیج دے گا۔یہ ماہر آپ کے ناک ‘ کان اور گلے کا جائزہ لے گا۔ اگر تو اس معائنے میں مسئلہ واضح ہو گیا تو ٹھیک‘ ورنہ آپ کو کچھ ٹیسٹ کرانا ہوں گے۔ اس کے لیے آپ لیبارٹری جائیں گے ۔ بیماری کی نوعیت کے مطابق یا تو خون کا نمونہ دیں گے یا پھر ایکسرے‘ الٹرا سائونڈ اور ایم آرآئی کی مشینوں سے آپ کے سکین لیے جائیں گے ‘پھر یہ سکین اور ان کی رپورٹس آپ کے حوالے کر دی جائیں گی۔ اب آپ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس جائیں گے ۔ وہ آپ کی رپورٹس اور سکینز کا جائزہ لے گااور ان کی روشنی میں آپ کو دوا لکھ دے گا۔ یہ ٹیسٹ اور سکینز کافی مہنگے بھی ہو سکتے ہیں ‘ مثلاً :اگر تو آپ کو ایم آر آئی مشین سے گزارا جاتاہے تو اس میں دس سے پندرہ ہزار روپے بھی خرچ ہو سکتے ہیں ۔ اس ٹیسٹ میں آپ کے چہرے کی ہڈیوں کا ایک ایک زاویے سے ویو لیا جائے گا ۔

اگر آپ کو نظامِ انہضام میں کسی تکلیف کا سامنا ہے اور دوا سے آرام نہیں آرہا‘ تو ہو سکتاہے کہ کیمرہ آپ کے معدے تک لے جا کر معائنہ کرنا پڑے ۔ ہو سکتاہے کہ آپ کی آنتوں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا (Biopsy)لے کر لیبارٹری میں اس کا معائنہ کروانا پڑے ۔ یہ ٹیسٹ بھی مہنگے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح سے خون کے مختلف ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں ۔ جن میںایکو سمیت دل کے مختلف ٹیسٹ شامل ہیں ۔

فرض کریں کہ آپ اپنی ٹانگ کو ٹھیک طرح سے حرکت نہیں دے پا رہے ۔اس ضمن میں ہو سکتاہے کہ آپ کے جسم کی مختلف nervesمیں سے کرنٹ گزار کر دیکھا جائے کہ کوئی نرو Damageتو نہیں ہو چکی ہے؟

یہ ٹیسٹ مہنگے تو ہیں ‘لیکن ان کی روشنی میں معالج کے سامنے بیماری کی ایک مکمل تصویر بن جاتی ہے ۔ اگر آپ کو کمر میں تکلیف رہتی ہے تو ریڑھ کی ہڈی کا ایم آر آئی مکمل صحت کے ساتھ بتا دے گا کہ کوئی مہرہ اپنی جگہ سے ہل تو نہیں گیاہے ؟ اگر سب مہرے ٹھیک ہیں تو پھر درد muscleمیں ہے اور پریشانی کی کوئی خاص بات نہیں ۔ فزیو تھراپی اور ادویات سے آپ ٹھیک ہو جائیں گے ۔

ایک دوسرا راستہ بھی ہے ‘ جو پاکستان Pakistan میں عام استعمال ہوتا ہے ۔ آپ ایک نبض شناس حکیم کے پاس جائیں گے ۔ وہ اپنے ہاتھ سے آپ کی کلائی پکڑے گا‘ نبض محسوس کرے گا اور پھر وہ بتا دے گا کہ آپ کو کیا بیماری لاحق ہے ۔ آ پ کو کسی پیچیدہ ٹیسٹ سے نہیں گزرنا پڑے گا ۔اس کی مہنگی فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی ۔ ماہر نباض آپ کی نبض سے آپ کو بتا دے گا کہ آپ کو شوگر یا کینسر سمیت کون سا مرض لاحق ہے ۔

اب ‘آپ خود سوچیں کہ ایک طرف تو آپ فیس ادا کر رہے ہیں ۔ مشینوں میں سے گزر رہے ہیں ‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد جنہیں آپریٹ کر رہے ہیں ۔ خون اور پیشاب کے نمونے دے رہے ہیں ‘ ٹشوز میں سے biopsyدے رہے ہیں ۔ دوسری طرف ایک شخص ‘اکثر کیسز میں جس کی تعلیم میٹرک بھی نہیں ہے ‘جو کینسر کے ہجے نہیں بتا سکتا‘ لیکن آپ کو آپ کی نبض پکڑ کے بیماری کی تشخیص کر رہا ہے ۔ کیسے ؟ میں نے اس سلسلے میں بہت ریسرچ کی‘ جو بڑے ماہرین تھے‘ ان کے پاس گیا۔ نبض دل کے دھڑکنے سے پیدا ہوتی ہے ۔ میں نے دبئی میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر ذوالفقار علی سے رابطہ کیا۔ ماہرین سے رجوع کرنے کے بعد جو انکشاف ہوا ‘ وہ بہت چونکا دینے والا تھا۔

وہ انکشاف یہ تھا کہ کم پڑھے لکھے یا نا خواندہ لوگ پڑھے لکھوں کو بے وقوف بنا رہے تھے اور کچھ نہیں ۔ بے وقوف بننے کی وجہ تھی؛ ضعیف الاعتقادی ۔ نبض سوائے دل کی دھڑکن کے کم یا زیادہ ہونے کے اور کچھ بھی نہیں بتا سکتی ۔ فرض کریں‘ایک شخص پٹڑی پر ہاتھ لگا کر یہ بتا نا شروع کر دے کہ اس وقت لاہور سے راولپنڈی کے درمیان کتنے سٹیشنوں پر کتنی ریل گاڑیاں کھڑی ہیں ‘ مسافروں کی تعداد کیا ہے تو آپ کیا کہیں گے ؟ صاف ظاہر ہے کہ پٹڑی پر ہاتھ لگانے سے اسے یہ معلومات حاصل ہو ہی نہیں سکتیں ۔ کوئی اور طریقہ ہے ‘ جس سے اسے یہ ساری معلومات حاصل ہو رہی ہیں ۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ اس کے بندے مختلف سٹیشنوں پر کھڑے ہیں اور وہ موبائل فون پر اسے معلومات فراہم کر رہے ہیں ۔ اسی طرح نبض شناس حکیم کی معلومات کا ذریعہ کچھ اور تھا۔

یہ ذریعہ کیا تھا؟ سب سے پہلے تو یہ کہ جب آپ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے تو ایک اور مریض آپ کو اپنی بیماری بتا رہا تھا اور آپ سے آپ کی بیماری پوچھ رہا تھا۔ وہ مریض نہیں تھا‘ جاسوس تھا۔ آپ کی باتیں اندر سنی جا رہی تھیں ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ اندازہ لگانے کے بہت ماہر ہیں ۔ ایک موٹا شخص ‘جو مشکل سے چل رہا ہے ‘ اس کے بلڈ پریشر‘ شوگراور جوڑوں کے امراض میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہے ‘پھر یہ کہ انسانی ذہن کی ساخت میں توہم پرستی‘ ضعیف الاعتقادی بہت غالب ہے ۔ اس کی وجہ ہے شدید خوف۔ اس شدید خوف کی وجہ یہ ہے کہ کروڑوں سال انتہائی خطرناک حالات میں انسان نے اس زمین پر surviveکیا ہے اور وہ ہر نامعلوم چیز سے خوفزدہ رہتا ہے ۔ اس ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے نبض شناس‘ اگر تین میں سے ایک بیماری بھی درست بتا دے تو اس کی دھاک مریض کے دل پہ بیٹھ جاتی ہے ۔ وہ سوچتا ہے کہ بلڈ پریشر تو مجھے ہے ‘ ہو سکتاہے ‘ شوگر بھی ہونے والی ہو ۔ جس لڑکے کی قد بڑھنے کی عمر ہے ‘ جو سوکھا سڑا ہے ‘ اسے آپ آرام سے جنسی کمزور ی وغیرہ کے مرض میں مبتلا ہونے کا یقین دلا سکتے ہیں ؛ حالانکہ بیماری اسے کوئی بھی نہیں ہوتی ہے ۔ صرف بڑھنے کی عمر کی وجہ سے وہ دبلا پتلا ہے ۔

نبض شناس ‘اس لیے بھی کامیاب رہتے ہیں کہ بہت سی صورتوں میں مریض کے پاس اس کے دعووں کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتاہے۔ وہ خود ہی ایک غریب کوکینسر تشخیص کر دیتاہے ۔ خود ہی اپنے معجون سے اسے ٹھیک کر دیتا ہے ۔ جب کہ سچ یہ ہوتاہے کہ نہ تو اسے کینسر تھا اور نہ ہی معجون نے اس کینسر کو ٹھیک کیا؛ البتہ وہ اسے سٹیرائیڈز وغیرہ کھلاتا ہے ۔ ان سٹیرائیڈز کے لینے سے آدمی اپنے جسم میں ایک نئی طاقت محسوس کرتاہے ۔ اسے یقین ہو جاتاہے کہ پہلے اسے کینسر تھا اور اب ٹھیک ہو چکا ہے ۔ اب باقی زندگی وہ اس نباض کا ایک چلتا پھرتا اشتہار ہے اور وہ بھی بالکل مفت ۔

میں سوفیصد دعوے سے کہتا ہوں کہ نبض پکڑ کے اگر کوئی بیماریاں تشخیص کرر ہا ہے تو وہ جعلساز ہے ۔ میں نے اپنی زندگی میں ناخواندہ لوگوں کی طرف سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کا نبض شناسی سے بڑا مظہر اور کوئی نہیں دیکھا ۔ نبض شناسی‘ مریض پہ اپنی قابلیت کی دھاک بٹھادینے کیلئے کسی چالاک شخص نے ایجاد کی ‘ پھر یہ عام ہوتی چلی گئی اور آج ہر گلی کوچے میں نباض دندناتے پھر رہے ہیں ۔

 435