اقوام متحدہ میں عمران خان Imran Khan کی تقریر

کٹہرا - خالد مسعود خان

01 اکتوبر 2019

Imran Khan's speech in the UN

اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو عمران خان Imran Khan کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زور دار تقریر نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر سابقہ حکومتی نا اہلی کے سارے ''دھونے دھو دیئے‘‘ ہیں۔ میں کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں اپنے تعلیمی اداروں کا بہترین مقرر تھا اور ایمرسن کالج ملتان سے اسی سلسلے میں دو عدد ''رول آف آنر‘‘ لینے والا تب پہلا طالبعلم تھا۔ بحیثیت ِایک مقرر اور اس سے بڑھ کر ایک پاکستانی سامع کے طور پر میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک بھرپور ‘ مکمل اور انتہائی زور دار تقریر تھی۔ اس موضوع پر اس سے بہتر تقریر کا صرف وہ لوگ تصور کر سکتے ہیں‘ جنہیں اپنے مخالفین کی کوئی بھی بات کبھی بھی پسند نہیں آتی۔ اور وہ بزعم خود اس سے بہتر تقریر کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے کہا کہ عمران خان Imran Khan نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue اقوام متحدہ میں صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا۔

میںنے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کا بیان پڑھنے کے بعد ماضی میں جھانکا اور پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خطاب کا مسودہ تلاش کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں سرکار نے کشمیر کو اتنی اہمیت ہی نہ دی تھی کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنے چار سال سے زائد عرصہ وزارت ِعظمیٰ کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی زحمت فرماتے۔ لے دے کر ایک حنا ربانی کھر تھی‘ جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ میں نے ازراہ تجسس محترمہ کی تقریر کا متن حاصل کیا۔ اس تقریر کو پڑھ کر‘ عمران خان Imran Khan کی تقریر سننے کے بعد بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے بیان پر غور کیا تو بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے بیان پر باقاعدہ شرم سی آئی۔ خدا جانے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے یہ بیان دیتے ہوئے ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس کیا یا نہیں؟ دوسرے میرے محترم جاوید ہاشمی تھے‘ جنہوں نے اس تقریر پر اپنے دل کا پھپھولا جلاتے ہوئے فرمایا کہ عمران خان Imran Khan صرف کمنٹری اچھی کر سکتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے اگر جاوید ہاشمی کے طنز کو تھوڑا سا مثبت انداز میں لیں تو ان کا یہ بیان بھی عمران خان Imran Khan کی مدح سرائی اور ستائش بن جاتا ہے۔ عمران خان Imran Khan نے اقوام متحدہ میں جو تقریر کی‘ وہ کشمیر کی صورتحال پر ایک کمنٹری تھی اور عمران خان Imran Khan نے یہ کمنٹری خوب کی اور اس کا حق ادا کر دیا۔

میرے چاروں بچوں میں سے میری منجھلی بیٹی کو سیاست سے دلچسپی ہے‘ بلکہ دلچسپی بھی کیا؟ وہ پورے خاندان میں اپنی جنریشن کے حوالے سے سب سے زیادہ پرُجوش اور سرگرم سیاسی کارکن ہے۔ جب پاکستان Pakistan میں تھی‘ تب خاندان کے سب بچوں کی سیاسی لیڈر تھی اور اپنی قیادت میں بچوںکو سیاسی جلسوں میں لے کر جایا کرتی تھی۔ جب سے پاکستان Pakistan سے گئی ہے‘ بچوں کی سیاسی جلسوں میں شرکت کا باب ہی بند ہو گیا ہے۔ آج کل وہ کشمیر کے معاملے میں بڑی جذباتی ہے اور اس کی وجہ اس کے بھارتی Indian ہم جماعت لڑکے اور لڑکیاں ہیں‘ جو اسے مسلسل تائو دلائے رکھتے ہیں۔ پاکستان Pakistan کے حوالے سے رتی برابر اونچ نیچ ہو جائے ‘اس کا برا حال ہو جاتا ہے اور غصے سے لال بھبھولا ہو جاتی ہے۔ جب سے کشمیر کی خصوصی اہمیت والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہے‘ وہ روزانہ صرف ایک بات پوچھتی تھی کہ پاکستان Pakistan کیا کر رہا ہے؟ کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان Pakistan بھارت India پر حملہ کیوں نہیں کر دیتا؟ میں نے اسے سمجھایا کہہ معاملات اتنے آسان اور سادہ نہیں‘ جتنے وہ سمجھ رہی ہے۔ جنگ کہنے کو صرف تین حرفی لفظ ہے ‘لیکن اس کی ہولناکی کا اسے اندازہ نہیں۔ پاکستان Pakistan کی معاشی بدحالی اوپر سے سونے پر سہاگہ ہے۔روایتی جنگ میں بہادری‘ بے خوفی اور جذبہ یقینا بہت اہم چیز ہے‘ لیکن طاقت کا توازن اگر بہت خراب ہو تو بہادری‘ بے خوفی اور جذبہ بھی انفرادی کہانیوں سے زیادہ آگے نہیں جاتا اور سب سے بڑھ کر آج کے دور میں عالمی طاقتوں کی منافقت اور عالمی اداروں کی جانبداری نے حالات ہمارے لیے اس سے کہیں زیادہ خراب کر رکھے ہیں‘ جس کا ہم تصور کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں ہمیں ہمارے دوست مسلم ممالک نے ووٹ نہیں دیئے۔ صرف ووٹ! باقی حمایت تو ایک طرف رہی خفیہ رائے شماری میں بھی انہوں نے بھارت India کی مخالف کرنا گوارہ نہیں کیا۔ ان کے دو تیل کے کنوئوں کو آگ لگ جائے تو ہمارا دل جل اٹھتا ہے اور ادھر ہماری شہ رگ ہندو بنئے نے دبوچ رکھی ہو تو وہ دامے‘ درمے‘ سخنے بھارت India کی غیر مشروط حمایت میں لگے ہوتے ہیں۔ میری بیٹی کہنے لگی: تو یہ ایٹم بم ہم نے شادی پر ہونے والی آتش بازی کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: دُور بیٹھ کر ایٹم بم بارے ایسی باتیں کرنا آسان ہے‘ بم کے اثرات آسٹریلیا تک جو نہیں جائیں گے۔ وہ زور سے ہنسی اور کہنے لگی: آپ لوگ تیار ہو جائیں ‘تو میں کل کی فلائٹ پر پاکستان Pakistan واپسی کی ٹکٹ بک کروا لوں گی۔

کل اس کا فون آیا۔ فون کیا آیا؟ ہم سب لوگ یعنی میں‘ امریکہ United States والی بیٹی مع اپنے شوہر کے‘ اسلام آباد Islamabad سے اسد‘ ملتان سے چھوٹی بیٹی اور آسٹریلیا سے سارہ۔ ہم سب ''میسنجر‘‘ میں بنائے گئے گروپ میں ویڈیو کال کر رہے تھے۔ وہ خوشی سے بے حال تھی۔ چھوٹتے ہی مجھ سے پوچھنے لگی: عمران خان Imran Khan کی تقریر کیسی تھی؟ میں نے کہا: میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس سے بہترتو ایک طرف رہی‘ میں اگر خود بھی تقریر کرتا تو ایسی تقریر نہ کر سکتا۔ ہر شخص کو وہ بات اچھی لگتی ہے‘ جو وہ خود کہنا چاہتا ہو اور کوئی وہی بات کہہ دے۔ ایمانداری کی بات ہے‘ عمران خان Imran Khan نے اپنی تقریر میں وہ کچھ بھی کہہ دیا ہے ‘جو میرے خیال سے بھی آگے اور بہتر تھا اور جس زوردار انداز میں اس نے کہا ہے‘ وہ جرأت کا کام ہے۔ ماضی قریب میں ہمارا کون سا حکمران ایسا گزرا ہے‘ جو یہ بات کہہ سکے کہ اسی لاکھ کشمیریوں کو جس طرح محصور کرنے پر عالمی رائے عامہ خاموش ہے ‘اس طرح وہ آٹھ یہودیوں یا امریکیوں کو محصورکرنے پر خاموش رہ سکتی ہے؟ ہمارے کسی لیڈر کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی اہانت کو یہودیوں کی ہولو کاسٹ سے تشبیہ دے کر بات کرتا؟ اس نے میری بات سن کر خوشی بھرے لہجے میں کہا: کل سے میری کلاس کے بھارتی Indian لڑکے اور لڑکیاں رونے والے ہوئے ہوئے ہیں اور ایسی ایسی جاہلانہ اور متعصبانہ گفتگو کر رہے ہیں کہ ان کی فرسٹریشن پر غصہ نہیں ہنسی آ رہی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ عمران خان Imran Khan نے بے ایمانی کی اور Cheatingکرتے ہوئے زیادہ وقت لے لیا۔ مودی نے مدبرانہ گفتگو کی‘ جبکہ عمران خان Imran Khan نے جنگجویانہ لہجہ اختیار کیا۔ ان کی بے چینی اور رونا پیٹنا بتاتا ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی کشمیر پر مدلل تقریر نے ان کے سر میں جو ہتھوڑا مارا ہے‘ اس کی شدت سے وہ تلملا رہے ہیں۔

میری بڑی والی بیٹی کو نہ تو سیاست سے ہی کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اس کے پاس شاید وقت ہوتا ہے کہ وہ ان چیزوں میں سر کھپاتی پھرے‘ لیکن کل وہ بھی بڑی جذباتی ہو رہی تھی ۔ امریکی میڈیا میں اس تقریر کے اثرات کے حوالے سے وہ اور اس سے کہیں بڑھ کر اس کا شوہر عہد آفرین خوش تھے اور اس تقریر کی امریکہ United States میں کوریج کے حوالے سے بڑے پرُ جوش تھے۔ سارہ کہنے لگی: بابا جان! آپ نے پوری تقریر سنی؟ میں نے کہا : بالکل سنی ہے۔ یوٹیوب ہوتا کس لیے ہے؟ وہ کہنے لگی‘ میں نے دوبار سنی ہے۔ یہ پچاس منٹ پر محیط تقریر تھی ‘جس میں آدھے سے زیادہ وقت صرف وہ کشمیر پر بولتے رہے ہیں۔ بقیہ چوبیس پچیس منٹ میں سے آدھے سے زیادہ وقت اس نے اسلامو فوبیا پر بات کی ہے۔ کون سا ایسا پاکستانی حکمران تھا‘ جس نے کشمیر پر کھل کر اس طرح بات کی‘ عالمی ضمیر کو اس طرح اسلامو فوبیا اور انتہا پسندی پر جھنجھوڑا ہو؟

کون ہے جس نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر کہا ہو کہ سرنڈر یا جنگ میں ایک آپشن کے طور پر قبول کرنے کا وقت آیا تو وہ جنگ کرے گا اور یہ جنگ اپنے سے سات گنا بڑے دشمن کے ساتھ آخری فتح تک جاری رہے گی اور بڑے واضح طور پر ایٹم بم کے استعمال کی آپشن استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو پھر دنیا بھگتے گی۔یہ کہنا آسان نہیں کہ جو کچھ کشمیریوں کے ساتھ ہو رہا ہے اگر میرے ساتھ ہوتا تو میں بھی بندوق اٹھا لیتا۔ جس طرح انہوں نے ناموس رسالت ؐ پر بات کی ہے‘ کوئی ڈر کے مارے اتنے بڑے عالمی فورم پر یہ بات اتنے زور و شور اور شد و مد کے ساتھ کرتا؟ اپنے دوست مسلم ممالک کی بزدلی کی کیا بات کروں؟ ان کا تو اس تقریر پر جو حال ہوا ہوگا سو ہوا ہوگا ان کا تو جہاز بھی ڈر کے مارے جواب دے گیا۔ پھر پوچھنے لگی یہ گلالئی اسماعیل کون ہے جو عین اس دن جب ہمیں بطور پاکستانی وحدت کی ضرورت تھی وہ اقوام متحدہ کے باہر پاکستان Pakistan کے خلاف بینر اٹھائے پہنچ گئی۔ اوپر سے اس کو پاکستان Pakistan کی نہیں‘ پاکستان Pakistan میں اپنے کتے کی بڑی فکر تھی۔ میں نے کہا :یہ وہ لوگ ہیں جو الطاف حسین کی طرح بالآخر پوری طرح ذلیل و رسوا ہو کر اس دنیا سے جائیں گے۔ رہ گئی بات پاکستان Pakistan میں رہ گئے اس کے کتے کی۔ وہ بہر حال نمک حلال اور وفادار جانور ہے۔ پاکستان Pakistan میں رہتے ہوئے کبھی بھی پاکستان Pakistan کے خلاف نہیں بھونکے گا اور جب پاکستان Pakistan کے خلاف نہیں بھونکے تو بھلا اسے کسی قسم کا خوف کھانے اور دم دبا کر بھاگنے کی کیا ضرورت پیش آئے گی؟ سارہ کہنے لگی: عمران خان Imran Khan کی تقریر نے مودی کے ہیوسٹن والے جلسے کی ہوا نکال کر دل میں ٹھنڈ ڈال دی ہے۔

 249