اقوام متحدہ میں ایک اور تاریخی خطاب

برملا - نصرت جاوید

30 ستمبر 2019

Another landmark address at the UN

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کا خطاب ہوچکا۔ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں ان کی تقریر کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کرنے کو بہت ہمت درکار ہے۔ میں اس سے قطعاََ محروم ہوں۔یہ بات مگر کھلے دل سے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت نے ان کے خطاب کو جذباتی انداز میں سراہا ہے۔حتیٰ کہ ان کے ناقدین کی مؤثر تعداد بھی اس خطاب کے دوران دادوتحسین بھرے ٹویٹ لکھتی رہی۔ یہ الگ بات ہے کہ داد کا اصل موضوع ان کی جانب سے یورپ اور امریکہ United States میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف موجود اور تیزی سے پھیلتے تعصبات کا ذکر رہا۔ ’’اصل اسلام‘‘ کے ذکر اور حجاب کے دفاع نے پاکستانیوں ہی نہیں دُنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کے حقیقی جذبات کا ایک عالمی فورم میں بھرپور اظہار کردیا۔

عالمی امور کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لئے ان دنوں میں جان اچکزئی صاحب کے لکھے انگریزی مضامین بہت غور سے پڑھتا ہوں۔وہ آسان زبان میں دقیق معاملات سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنائی ریاستی حکمت عملی کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے اور آپ کو ان کی رائے سے اختلاف کا پورا حق ہے۔انہوں نے عمران خان Imran Khan صاحب کے خطاب کو "Speech of the Century"کہا ہے۔گویا اس صدی کی سب سے اہم تقریر۔اس رائے سے اتفاق کرتے ہوے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگرچہ یہ بات ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف Nawaz Sharif کے پرستاروں نے مختلف وڈیوز کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ پاکستان Pakistan اور مسلمانوں کا مؤقف ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ فقط عمران صاحب کی توسط ہی سے دُنیا کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ان دوحضرات نے بھی ’’تاریخ‘‘ بنانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی ’’تاریخی‘‘ تقاریر کا نتیجہ کیا برآمد ہوا؟ اس کے بارے میں سنجیدہ بحث اگرچہ ہو نہیں پائی۔

تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عمران خان Imran Khan صاحب کے تاریخی اور شاندار خطاب کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کمیونی کیشن لاک ڈائون پوری وحشت سے اپنی جگہ برقرار ہے۔ مودی سرکار اس میں نرمی لانے کو آمادہ نظر نہیں آرہی۔نظربظاہر یہ طے کرلیا گیا ہے کہ کرفیو اور موبائل فونز کی بندش کو برف باری کے آغاز تک برقرار کھا جائے گا۔ اگلے برس موسم بہار کی آمد کا انتظار ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عمران خان Imran Khan کے خطاب سے بہت دن قبل اس کالم میں عاجزانہ رائے کا اظہار کیا تھا کہ مذکورہ خطاب کے بجائے دیکھنا یہ ہوگا کہ امریکی صدر سے ملاقات کی بدولت پاکستان Pakistan کشمیریوں کی اذیت کے ازالے کے لئے ٹھوس اعتبار سے کیا حاصل کرے گا۔ اس تناظر میں فی الوقت کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی۔ طویل المدتی تناظر میں اگرچہ یہ حقیقت خوش آئند ہے کہ مودی اور عمران خان Imran Khan صاحب سے اپنی ملاقاتوں کے دوران ڈونلڈٹرمپ کسی نہ کسی صورت ثالثی کا کردار ادا کرتا نظر آیا۔ اسے مگر ڈیموکریٹ پارٹی نے اب یوکرین کے صدر کے ساتھ ہوئی گفتگو کے سکینڈل میں الجھادیا ہے۔وہ اس کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے معاملات پر کماحقہ توجہ نہیں دے پائے گا۔

امریکہ United States کے دائمی اداروں نے جنوبی ایشیاء کے حوالے سے البتہ اپنی ترجیحات بیان کردی ہیں۔ان ترجیحات کو سمجھنا ہوتو امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک اعلیٰ سطحی افسر-ایلس ویلز-کی صحافیوں سے گزشتہ ہفتے ہوئی گفتگو کے ٹرانسکرپٹ کو بغور پڑھاجائے۔ اس کے ذریعے ایلس ویلز نے واضح الفاظ میں بھارت India کو بتادیا ہے کہ امریکہ United States مقبوضہ کشمیر میں کمیونی کیشن لاک ڈائون برقرار رکھنے کا حامی نہیں۔اس کا خیال ہے کہ 5اگست 2019کے بعد امن وامان برقرار رکھنے کے بہانے جو اقدامات لئے گئے وہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ہورہے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ ’’جلد ازجلد‘‘ کمیونی کیشن لاک ڈائون ختم کرنے کے بعد گھروں میں نظر بند کئے اور جیلوں میں بھیجے سیاسی رہ نمائوں اور سول سوسائٹی کے سرکردہ رہ نمائوں کو رہا کرنے کے بعد ان سے مذاکرات کا آغاز ہو۔

ایلس ویلز کی وساطت سے بیان ہوا یہ مطالبہ ہمارے لئے باعثِ اطمینان ہونا چاہیے۔ ساقی مگر شراب میں ہمارے شاعروں کے مطابق ’’کچھ‘‘ ملا بھی دیا کرتا ہے۔ایلس ویلز نے لاک ڈائون کے خاتمے اور سیاسی رہ نمائوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رہائی کا ذکر کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں ’’انتخابات‘‘ کروانے کا بندوبست کیا جائے۔ انتخابات کے مطالبہ پرمیرا ماتھا ٹھنکا۔ یا درہے کہ 5اگست 2019کے روز مودی سرکار نے مقبوضہ جموںوکشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے Union Territoryڈیکلئر کردیا ہے۔جموںوکشمیر کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا وعدہ ہے۔لداخ کو مگر براہِ راست نئی دہلی سے جاری احکامات کے تحت چلایا جائے گا۔ ایلس ویلز مقبوضہ جموںوکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کے بار ے میں قطعاََ خاموش رہی۔ اس کی اس ضمن میں خاموشی عندیہ دے رہی ہے کہ مودی سرکار کے 5اگست والے فیصلے کو قبول کرلیا گیا ہے۔جموںوکشمیر میں اب جو ’’ریاستی اسمبلی ‘‘ انتخابات کی بدولت رونما ہوگی اس کی حیثیت بھارت India کے دیگر صوبوں میں موجود ’’صوبائی‘‘ اسمبلیوںجیسی ہوگی۔مقبوضہ کشمیر بھارت India کا گویا’’اٹوٹ انگ‘‘ ہوجائے گا۔ امریکہ United States اسے تسلیم کرتا نظر آرہا ہے۔اس کی تشویش کا باعث فی الوقت فقط کمیونی کیشن لاک ڈائون ہے،بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہے،سیاسی اور سول سوسائٹی کے رہ نمائوں کی نظر بندی اور گرفتاری ہے۔تمنا یہ بھی ہے کہ جموںوکشمیر کے ’’صوبائی معاملات‘‘ نئی دہلی کے بجاے وہاں کی ’’منتخب صوبائی حکومت‘‘ کے ذریعے چلائے جائیں۔

ایلس ویلز کی گفتگو میں کافی نمایاں ہوئی اس جہت پر پاکستانی میڈیا میں ہرگز توجہ نہیں دی گئی۔ محض اس بات پر اطمینان کا اظہار ہوتا رہا کہ بالآخر امریکی حکومت نے مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوئے کمیونی کیشن لاک ڈائون کے بارے میں اپنی تشویش کا کھل کر ا ظہار شروع کردیا ہے۔

مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے بارے میں پاکستان Pakistan کا ایک تاریخی مؤقف رہا ہے۔ 5اگست 2019کے روز لئے فیصلوں کے تحت قائم ہوئی جموںوکشمیر کی ’’صوبائی اسمبلی‘‘ اس مؤقف کو تقویت دینے میں ہرگز مددگار نہیں ہوسکتی۔فرض کیا اس صوبائی اسمبلی کے قیام کے لئے حلقہ بندیوں کے بعد نئے انتخابات کا اعلان ہو بھی گیا تو یہ سارا عمل ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایلس ویلز جس Processکو شروع کرنے پر اصرار کررہی ہے اس پر عملدرآمد کشمیر پر قائم لائن آف کنٹرول کو بالآخر بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کی طرف لے جائے گا۔

ایلس ویلز کے تجویز کردہ Processمیں چھپے مضمرات کا ہمارے ہاں کماحقہ ادراک نظر نہیں آرہا۔ اسے روکنے کی حکمت عملی تیار کرنا تو دور کی بات ہے۔لداخ کی جموںوکشمیر سے علیحدگی کو واشنگٹن کی جانب سے بغیر کچھ کہے تسلیم کرلینا بھی ہمارے لئے باعث تشویش ہونا چاہیے۔میری تشویش کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس خطے کے نقشے کو غور سے دیکھیں۔لداخ تبت کا ہمسایہ بھی ہے۔وہاں بدھوں کی اکثریت ہے۔لداخ کا ایک ضلع کارگل ہے۔یہ اسے ہمارے گلگت بلتستان سے جوڑتا ہے اور گلگت کو گوادر Gawadar سے ملانے کے لئے چین China نے CPECمتعارف کروارکھا ہے۔امریکہ United States اور چین China کے مابین تجارتی جنگ سنگین ترہوتی جارہی ہے۔لداخ کی جموںوکشمیر سے جدائی کو واشنگٹن کی جانب سے ہضم کرلینا اس جنگ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

اسی حوالے سے یاد یہ بھی رکھیں کہ کشمیری مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ایلس ویلز نے بہت جلے بھنے انداز چین China کے صوبے سنکیانگ کا ذکر بھی کیا ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔اسی صوبے میں کاشغر بھی ہے جسے اقبالؔ نے نیل کے ساحل سے ملانے کا خواب دیکھا تھا۔ عمران خان Imran Khan صاحب کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہوگیا۔اس کی دادوتحسین کے بعد اب کشمیرہی سے جڑے دیگر معاملات پر سنجیدہ غوروفکر کا آغاز ہوجانا چاہیے۔

 154