پاکستان Pakistan کو اقوام متحدہ والا عمران خان Imran Khan چاہئے!!!

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

30 ستمبر 2019

Pakistan needs Imran Khan from UN !!!

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو خطاب کیا اُسے سننے کے لیے کان ترس گئے تھے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں جو کہا وہ ہر مسلمان کے دل کی آواز اور اسلام کی بہترین نمائندگی تھی، جس پر عمران خان Imran Khan تحسین کے حقدار ہیں۔

خان صاحب کے بڑے بڑے مخالفوں تک نے اُن کی تقریر کی تعریف کی لیکن کچھ نے اس تعریف کے ساتھ اپنے سابقے لاحقے لگا کر یہ سوال اٹھا دیا کہ تقریر تو اچھی تھی، دیکھتے ہیں عمل کیا کرتے ہیں۔ ایک مذاق سوشل میڈیا پر یہ بھی چلا کہ دو وزیراعظم رکھ لیتے ہیں، ایک (یعنی خان صاحب) کو تقریروں کے لیے، دوسرے کو حکومت چلانے کے لیے۔

خان صاحب کے اندازِ حکومت اور معیشت پر اعتراضات اپنی جگہ لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو اُنہوں نے کہا اُسے محض ایک تقریر کے طور پر دیکھنا جائز نہ ہو گا۔

نائن الیون کے بعد میں نے بڑے بڑے اسلامی سوچ رکھنے والے سیاسی اور سماجی رہنمائوں کو دیکھا کہ وہ پبلک میں اسلام کا نام لینے سے ہچکچانے لگے تھے۔ اسلام کے حوالے سے زیادہ تر وہی زبان بولی جاتی جو امریکہ United States بولتا یا سننا پسند کرتا۔

اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جانے لگا، داڑھی اور حجاب کو شک کی نظر سے دیکھنا رواج بن گیا، اپنے آپ کو روشن خیال اور Moderate مسلمان کہلوانا فیشن بن گیا اور آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر اسلام اور انتہائی برگزیدہ مذہبی ہستیوں کی گستاخی کا دفاع کیا جانے لگا۔

اسلامی ممالک کے حکمران اور سیاستدان جب امریکی یا یورپی رہنمائوں سے ملتے تو اپنے مذہب اور دہشت گردی سے متعلق اُسی انداز میں بات کرتے جو امریکی یا یورپی سننا چاہتے، لیکن عمران خان Imran Khan نے جو کہا وہ اس لیے باکمال تھا کہ انہوں نے امریکہ United States میں دنیا بھر کے رہنمائوں کی موجودگی میں ڈنکے کی چوٹ پر بڑے فخر کے ساتھ کہا کہ کوئی موڈریٹ اسلام اور ریڈیکل اسلام نہیں ہوتا بلکہ اسلام صرف ایک ہے اور وہ اسلام حضرت محمدﷺ کا اسلام ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ United States میں مودی کے ساتھ اپنے مشترکہ جلسہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتہ ہی ریڈیکل اسلام اور Islamic Terrorismکی بات کی تھی۔ عمران خان Imran Khan نے اپنی تقریر میں ایک اسلام کی بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ریڈیکل اسلام اور دہشت گردی کو اسلام سےجوڑنے والے دراصل مغرب میں اسلامو فوبیا کے ذمہ دار ہیں جس سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوئے اور اُن سے بدسلوکی کے واقعات بڑھنے لگے۔

عمران خان Imran Khan کی تقریر اس لیے اچھی تھی کہ انہوں نے گوروں کے سامنے اُن کی زبان بولنے کے بجائے مغرب میں مسلم خواتین کے پردے کے خلاف بڑھتے ہوئے ریاستی اقدامات کو آڑے ہاتھوں لیا اور سوال اُٹھایا کہ ایسا کیوں ہے کہ عورت اگر کپڑے اتارے تو اُس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن اگر وہ پردہ کرے اور اپنے جسم کو ڈھانپے تو اُس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔

عمران خان Imran Khan نے نائن الیون کے بعد Islamic Terrorismکے نام پر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارنے کے رواج کا بھی حوالہ دیا اور پوچھا ’’کیا سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کو کسی نے ہندو دہشت گرد کہا‘‘ اور سوال اُٹھایا کہ مسلمانوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ عمران خان Imran Khan نے میانمار، کشمیر کا بالخصوص ذکر کیا اور دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اقوام متحدہ اور مغرب کیوں نہیں بولتے؟؟

اُنہوں نے کہا کہ جو کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اگر وہ مغرب میں جانوروں کے ساتھ بھی ہوتا تو مغرب والے اُٹھ کھڑے ہوتے!! عمران خان Imran Khan نے یہ بھی کہا کہ میں دیکھتا اگر صرف آٹھ ہزار یہودیوں کو کشمیریوں کی طرح گھروں میں قید کر دیا جاتا تو دنیا کس طرح اپنا ردعمل دیتی!!

عمران خان Imran Khan کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ اُنہوں نے ناموسِ رسالتﷺ کا بڑے بہترین انداز میں دفاع کیا اور دنیا کو باور کروایا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر جو کیا جاتا ہے، اُس سے مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں جس کو اُسی طرح قانوناً روکا جانا چاہئے جس طرح مغرب یہودیوں کی خاطر ہالو کاسٹ پر بات کرنے کو جرم قرار دیتا ہے۔

عمران خان Imran Khan نے ریاستِ مدینہ کا حوالہ دے کر اُس کو ایک بہترین مثال کے طور پر بھی اُس مغرب کے سامنے پیش کیا جو اسلام کے بارے میں صرف منفی انداز میں بولنا اور سننا پسند کرتا ہے۔

کشمیریوں کی بھی عمران خان Imran Khan نے بہترین نمائندگی کی۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ خان صاحب کشمیریوں کے سفیر کی حیثیت سے اقوم متحدہ گئے لیکن کشمیریوں کے ساتھ ساتھ پوری مسلم امہ کی بہترین نمائندگی کر کے واپس لوٹے۔ بھارتی Indian وزیراعظم اور مسلمانوں کے قاتل مودی کی تو خان صاحب نے مٹی پلید کر دی اور اُس کی دو ٹکے کی عزت نہیں چھوڑی۔

خان صاحب کی یہ بھی کامیابی ہے کہ نہ صرف اُنہوں نے بڑے شاندار انداز میں کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ میں اٹھایا بلکہ پاکستان Pakistan کے علاوہ ترکی، ملائیشیا Malaysia اور چین China نے بھی اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کروائے اور مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر جاری ظلم روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

خان صاحب نے یقیناً مسلمانوں کے دل جیت لیے ۔ ویسے اسلام کا اس انداز میں دفاع کرنے والا ’یہودی ایجنٹ‘ کیسے ہو سکتا ہے؟ الزام لگانے والوں کو ضرور سوچنا چاہئے۔

بحیثیت مسلمان اور پاکستانی میں خان صاحب سے توقع رکھتا ہوں کہ اقوام متحدہ میں جو اُن کی پرفامنس تھی، اُس کے تناظر میں پاکستان Pakistan میں اُنہیں وہ اقدامات کرنا چاہئیں جو اس ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں۔ جس اسلام کی اُنہوں نے اقوم متحدہ میں بات کی اس میں سود کی کوئی گنجائش نہیں، وہاں شراب، فحاشی و عریانیت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، وہاں پردہ اور اسلامی ماحول کی فراہمی کے لیے کیے گئے اقدامات کا دفاع کیا جاتا ہے نہ کہ اُنہیں لبرلز اور ’روشن خیالوں‘ کے دبائو میں واپس لے لیا جاتا ہے۔

امید ہے عمران خان Imran Khan اُس اسلام، جس کا اُنہوں نے اقوام متحدہ میں بہترین دفاع کیا، کی تعلیمات کے مطابق پاکستان Pakistan میں رہنے والے شہریوں کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کا اہتمام کریں گے تاکہ جس معاشرتی اور اخلاقی گراوٹ کا ہم شکار ہیں اُسے روکا جا سکے اور ہم باکردار مسلمان کی صورت میں اسلام کی دنیا بھر میں نمائندگی کر سکیں اور عورتوں، بچوں، اقلیتوں، غربا و مساکین اور مسافروں کا اسلامی تعلیمات کے مطابق خیال رکھ سکیں۔

ویسے جو عمران خان Imran Khan ہمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نظر آیا وہ اس خان سے مختلف ہے جو پاکستان Pakistan میں گزشتہ 14ماہ سے حکمرانی کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے والا عمران خان Imran Khan پنجاب میں عثمان بزدار کو ہی رکھنے پر ضد کیسے کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں اسلام کی بہترین انداز میں نمائندگی کرنے والا عمران خان Imran Khan پاکستان Pakistan میں اپنے سیاسی مخالفین سے متعلق اتنا غصہ دل میں کیسے رکھ سکتا ہے کہ انصاف کے بجائے کئی کیسوں میں ناانصافی ہوتی ہوئی صاف نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان Imran Khan سمجھ لیں کہ اقوام متحدہ والا عمران خان Imran Khan ہی تبدیلی لا سکتا ہے۔

 255