وزیراعظم کی تقریر کے آفٹر شاکس

کل اور آج - عمار چوہدری

30 ستمبر 2019

Aftershock of the Prime Minister's Speech

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے آفٹر شاکس بھارت India میں ابھی تک محسوس کئے جا رہے ہیں۔ جس وقت یہ تقریر شروع ہوئی میں گورنر ہائوس لاہور میں داخل ہو رہا تھا۔ گورنر چودھری سرور نے صحافی دوستوں کو ڈنر پر مدعو کر رکھا تھا۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو چند دوست پہلے سے موجود تھے۔ سامنے ٹی وی سکرین پر خان صاحب کا خطاب جاری تھا۔ تمام شرکا تقریر سننے میں محو تھے۔ چند ہی منٹ بعد گورنر سرور بھی تشریف لے آئے۔ تقریر ختم ہوئی تو وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے کزن حفیظ اللہ نیازی نے گورنر صاحب سے سوال کیا: لگتا ہے آپ نے ہمیں خاص طور پر تقریر سنوانے کے لیے بلایا تھا اور ڈنر کی ٹائمنگ بھی اسی انداز میں رکھی تھی۔ گورنر سرور مسکرائے اور بولے: نہیں‘ ایسی بات نہیں‘ میں تو دوستوں کی کمپنی چاہتا تھا‘ میں نے آپ لوگوں کو ڈنر پر ہی مدعو کیا تھا‘ لیکن آپ (حفیظ اللہ نیازی) کو ضرور خان صاحب کی تقریر سنوانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ گورنر صاحب کا یہ جملہ سن کر ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔

اس میںکوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم Prime Minister کا یہ خطاب مدتوں اسی طرح یاد رکھا جائے گا‘ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر جس میں انہوں نے کشمیر پر دلیرانہ مؤقف اپنایا تھا۔ اس بات کا احساس دوران تقریر ہی ہو گیا تھا کیونکہ بعض تقاریر اور خطاب ایسے ہوتے ہیں جن میں مقرر فی البدیہہ اتنی روانی اور تسلسل کے ساتھ بولتا چلا جاتا ہے کہ سننے اور دیکھنے والے مسحور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایسی غیر معمولی تقاریر اور جاندار خطاب روز روز نہیں ہوتے بلکہ یہ خاص مقام‘ خاص وقت اور خاص موضوع کے متقاضی ہوتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue چونکہ اس وقت اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے حساس ترین موضوع ہے‘ کشمیر میں چھپن سے زائد روز سے کرفیو نافذ ہے اور وزیر اعظم Prime Minister خاص طور پر جنرل اسمبلی میں اس خطاب کی تیاری کرکے گئے تھے اس لیے یہ تمام عناصر اس زوردار اور پُراثر خطاب کا باعث بنے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ تقریروں سے کیا ہوتا ہے تو ان سے پوچھا جائے کہ پھر جنرل اسمبلی میں حکمران لینے کیا جاتے ہیں؟ مودی نے بھی تو وہاں خطاب ہی کیا تھا۔ دیگر ممالک بھی اپنا اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ ہاں اگر کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ خان صاحب کو جارحانہ خطاب کی بجائے ٹھنڈی ٹھار روایتی لکھی ہوئی تقریر کرکے دس پندرہ منٹ میں وہاں سے نکل آنا چاہیے تھا تو جناب اس کام کے لیے پھر عمران خان Imran Khan وہاں جانے کو بھی تیار نہ ہوتے۔ وہ اگر وہاں گئے تو صرف اس مقصد کے لیے کہ دنیا کے سامنے کشمیر اور کشمیریوں کا مسئلہ درست اور مدلل انداز میں اجاگر کر سکیں۔ ٹھنڈی ٹھار تقریریں کرنی ہوں تو وہ پچھلے کئی برسوں سے ہو رہی ہیں۔ کچھ لوگ شاید یہ چاہتے تھے کہ عمران خان Imran Khan کو اگر اتنی ہی جارحانہ تقریر کرنا تھی تو وہ جیب میں ایٹم بم ڈال کر ساتھ لے جاتے اور کشمیر آزاد کروا کر ہی واپس آتے۔ کشمیر کا مسئلہ جس قدر سنگین ہو چکا ہے خان صاحب نے تو پھر ہاتھ ہولا رکھا ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ جذباتی تقریر کرتے تو کم تھی۔ انہوں نے ہالی وڈ کی ایک فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک خاندان پر ظلم بے حد بڑھ گیا تو اس کے سربراہ کو مجبوراً بندوق اٹھانا پڑی تھی۔ خود اپنے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ کشمیر کے رہائشی ہوتے اور پچاس روز سے انہیں ان کے گھر میں قید کیا گیا ہوتا‘ ان کے خاندان کے لوگ بیماری‘ بھوک اور فوج کے تشدد سے مر رہے ہوتے تو وہ بھی لامحالہ بندوق اٹھانے پر ہی مجبور ہوتے۔ ایک مجبور انسان کو دیوار سے لگا دیا جائے تو وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان بچانے کے لیے بندوق نہ اٹھائے گا تو کیا مخالفین کو گلدستہ پیش کرے گا؟ کشمیر میں اگر آزادی کی تحاریک جنم لے رہی ہیں تو اس کا ذمہ دار خود بھارت India ہے۔ اگر کشمیری اس کے ساتھ ہوتے تو وہ کبھی بھی 'کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے نعرے نہ لگاتے۔ پاکستان Pakistan اور کشمیر کا رشتہ آج کا نہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ رشتہ آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ بھارت India بزور بندوق کبھی کشمیریوں کو اپنا غلام یا اپنا شہری نہیں بنا سکتا۔ یہ کشمیریوں کا حق ہے وہ جس کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں اس کا اعلان کریں۔

عمران خان Imran Khan کے متاثر کن خطاب کی دوسری وجہ فی البدیہہ تقریر تھی۔ اس سے قبل جتنی بھی تقاریر ہوئیں وہ لکھی ہوئی پڑھی جاتیں۔ لکھی ہوئی تقریر سامع کے دل و دماغ پر اثرات مرتب نہیں کر سکتی۔ زبانی تقریر پہلا اور اہم ترین تاثر یہ دیتی ہے کہ مقرر جو بھی بول رہا ہے وہ اس کے دل اور دماغ کی آواز ہے اور اگر اس کے خطاب میں تسلسل اور روانی ہے اور وہ تقریر کے دوران اٹک بھی نہیں رہا تو اس سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مقرر اس موضوع میں گہری دلچسپی اور عبور رکھتا ہے وگرنہ رسمی اور غیر دلچسپ موضوعات پر بغیر دیکھے اس طرح کی دل موہ لینے والی تقاریر کرنا ممکن نہیں ہوتا‘ اور کوئی بھی ایسے فورم پر اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی ہمت نہیں کرتا‘ جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوں اور جس کا ایک ایک لفظ تاریخ کا حصہ بن جائے۔ کسی بھی کام یا مشن کی تکمیل کے لیے جو عوامل درکار ہوتے ہیں ان میں پہلا اس مسئلے کے بارے میں زبانی یا تحریری اظہار ہے۔ آپ نے دشمن سے جنگ چھیڑنی ہے تب بھی آپ پہلے اسے زبانی وارننگ دیتے ہیں‘ بات چیت کرتے ہیں‘ مذاکرات سے راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سارے راستے مسدود ہو جائیں تو پھر عسکری راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ خان صاحب کو جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کا اس انداز سے ذکر نہیں کرنا چاہیے کہ اس طرح ہم پر پابندیاں لگنے کا اندیشہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہی سوال بھارت India سے کیوں نہیں کیا جاتا جب وہ اس طرح کی دھمکیاں کھلے عام دیتا ہے اور پاکستان Pakistan کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کرتا ہے۔ وزیراعظم نے دراصل تمام ممکنہ صورت حال کھول کر بیان کر دی کیونکہ دونوں ملک بہرحال جوہری طاقت کے حامل ہیں اور بھارت India تو اس وقت آر ایس ایس RSS جیسی انتہا پسند دہشت گردی جماعت کے مستقل ممبر نریندر مودی narendra modi کے ہاتھ میں ہے‘ جس نے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ایٹم بم کے غلط استعمال کا اصل خطرہ تو بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister سے ہے‘ جس کا داغدار اور خون آلود ماضی کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ پابندی لگنی ہے تو پھر بھارت India پر لگنی چاہیے جو آئے روز لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے ہمارے شہریوں اور فوجی جوانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ پابندی لگنی ہے تو اس ملک پر لگنی چاہیے جس نے نو لاکھ فوجی کشمیر میں بھیج رکھے ہیں‘ جو پیلٹ گنوں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کی آنکھیں ضائع کر رہے ہیں اور مسلسل جنگ کا ماحول بنائے ہوئے ہیں۔ خان صاحب تو دنیا کو اس غیر ذمہ دار ملک کے رویے سے آگاہ کر رہے ہیں کیونکہ واقعی اگر جنگ ہو گئی تو پھر اس کا انجام انتہائی بھیانک ہو گا۔ ضروری نہیں کہ پاکستان Pakistan عددی لحاظ سے کم ہونے کے باعث شکست کھا جائے‘ یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح ہمارے دلیر پائلٹ ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں پانچ بھارتی Indian طیارے گرا دیئے تھے ہمارا ہر پائلٹ شروع میں ہی سات سات بھارتی Indian طیاروں کو شکار کرنے لگے تو بھارت India تو یقینا بوکھلا جائے گا اور بوکھلاہٹ اور پسپائی میں بہرحال انسان اپنا سب سے مضبوط اور مہلک ترین ہتھیار استعمال کرنے کی ہی کوشش کرتا ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو سوچیں پھر کیا ہو گا؛ چنانچہ وزیراعظم نے ہر زاویے سے دنیا کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو خطے میں جو تباہی ہو گی اس سے دنیا بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ بھارت India کی جو سوا ارب کی مارکیٹ ہے وہ بھی تباہ ہو کر دنیا کے لیے بے کار ہو جائے گی۔ اس لیے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا حل صرف ان دونوں ممالک کے حق کی بات نہیں بلکہ یہ امریکہ United States ‘ برطانیہ سمیت دنیا بھر کے مفاد کی بات ہے جو انہیں جتنی جلدی سمجھ آ جائے اتنا ہی بہتر ہے۔

 795