تعامل کرنے کی خواہش

ماجرا - بلال الرشید

29 ستمبر 2019

Desire to interact

میں پہلے بھی لکھتا رہا ہوں کہ اس دنیا کی بہت سی چیزیں اپنی اپنی جگہ ایک عجوبہ ہیں۔ دماغ سوچتا ہے ‘ ان کی تہہ میں اترنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن ناکام رہتاہے۔ اگر آپ کبھی اس نظر سے دنیا کو دیکھیں ‘ جس نظر سے کیمیا دان دیکھتے ہیں‘ تو قدم قدم پہ آپ کو حیرت کا سامنا ہوگا۔ ایک کیمیا دان اس نظر سے چیز کو دیکھتا ہے کہ اس کی تشکیل میں ‘ اس کی compositionمیں کون سے عناصر استعمال ہوئے ہیں۔ آپ کے سامنے اگر گاجر کا حلوہ اور گاجر کا جوس پڑا ہوا ہے‘ تو آپ کو معلوم ہے کہ بنیادی جزو گاجر ہے۔ روٹی سے لے کر دلیے تک میں بنیادی جزو گندم یا جو ہے۔ اسی طرح اینٹوں سے لے کر برتنوں اور گھڑے ‘ ہر چیز مٹی کی بنی ہوئی ہے‘تو اس طرح آپ کو معلوم ہو جاتاہے کہ کیا چیز استعمال ہوئی ہے۔

آہستہ آہستہ مختلف چیزوں کی کمپوزیشن کا انسانی علم بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ انسان مختلف عناصر کو ملا کر ان کے نتائج کا لیبارٹری میں جائزہ لینے لگا تھا۔اسی طرح ایک زمانہ تھا‘ جس میں کیمیا دان سر توڑ کوشش کر رہے تھے کہ ادنیٰ دھاتوں کو قیمتی دھات‘ یعنی سونے میں بدل سکیں۔انسان اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ ایک عنصر کو دوسرے میں بدل تو سکتاہے‘ لیکن اس کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ یہ فائدے کی بجائے نقصان کا سودا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ کائنات میں قدرتی طور پر ایک عنصر کو دوسرے میں کیسے تبدیل کیا جاتاہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ایک سورج یا ستارہ ہوتاہے۔ اس کے مرکز میں درجہ ٔ حرارت کئی ملین ڈگری تک بڑھتا ہے۔ دبائو انتہائی حد تک زیادہ ہوتاہے۔ ہر طرف انتہائی خوفناک ریڈی ایشن ہوتی ہے۔ ایٹم بم پھٹ رہے ہوتے ہیں۔ تو اس انتہائی درجہ ٔ حرارت اور دبائو کے ماحول میں وہاں ایک عنصر سے دوسرا عنصر بن رہا ہوتا ہے۔ ہائیڈروجن سے ہیلیم ‘ ہیلیم سے پھر مزید بھاری عناصر۔ اس پروسیجر کو زمین پر دہرایا جا سکتا ہے ‘لیکن اس کی لاگت بہت زیادہ ہے۔دوسری طرف قدرتی طور پر خدا کی طرف سے جس طرح ان گنت ستاروں میں عناصر ایک سے دوسرے میں بدلتے رہتے ہیں ‘ اتنے بڑے اور قیمتی سیٹ اپ کون لگائے؟ حتیٰ کہ لوہے جیسے جو عناصر انتہائی بھاری ہیں اور جو سورج کے اندر نہیں بن سکتے تو وہ اس کے فنا کے عمل میں ہونے والے بڑے دھماکوں میں وجود میں آجاتے ہیں‘ اگر ہم اپنے آپ کو دیکھیں تو کرّہ ٔ ارض پہ موجود وسائل انتہائی محدود ہیں۔ یہاں یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا۔ تجرباتی طور پر ہو سکتا ہے ‘ تجارتی طورپر نہیں۔

اسی طرح سے ہم ہر چیز کی کمپوزیشن جانتے چلے جاتے ہیں کہ اس میں کیا چیز استعمال ہوئی ہے۔ انسان نے مٹی کی کیمیکل کمپوزیشن کا جائزہ لیا تو اس کے اندر جاندار اور بے جان چیزوں کا ایک پورا جہان آباد تھا ‘ ایک مکمل جہانِ حیرت۔

انسان پڑھتا گیا۔ اس نے اپنے جسم کی کیمیکل کمپوزیشن معلوم کی ۔ پتہ چلا کہ جو 92عناصر ستاروں کے مرکز میں بن رہے ہیں ‘ انہی میں سے کچھ عناصر سے ان کا جسم اور دماغ بنا ہے۔ آپ کا جسم 65فیصد آکسیجن ہے ‘ 18.5فیصد کاربن‘ 9.5فیصد ہائیڈروجن ‘ 3.2فیصد نائیٹروجن ‘ 1.5فیصد کیلشیم‘ ایک فیصد فاسفورس ۔ یوںیہ ہو گیا؛ 99فیصد ۔

یہاں سے آگے حیرت کی ایک نئی گزرگاہ ہے ۔ ہر عنصر کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان خصوصیات کے مطابق عمل کرتاہے ۔ جیسے ہائیڈروجن ہے ‘ اس کے قریب کوئی شعلہ جل اُٹھے تو پھر تمام کی تمام ہائیڈروجن بھڑک اٹھتی ہے ۔ اسی طرح کاربن اور آکسیجن سمیت ہر عنصر کی اپنی خصوصیات ہیں ۔ لوہے کو پانی چھوتا رہے گا ‘تو لازمی طور پر وہ زنگ پکڑ لے گا ۔ذہن نشین رہے کہ اس کے پاس زنگ سے بچنے کی کوئی آپشن موجود نہیں ۔

اسی طرح آپ آکسیجن کو دیکھیں تواس کے قریب سے جو بھی عنصر گزرے گا‘ یہ اس کے ساتھ تعامل کی کوشش کرے گی ۔ لوہے سمیت ہر چیز کے آکسائیڈ بناتی رہے گی۔ لوہے کو زنگ لگنے کی وجہ یہی آکسائیڈ ہے ۔جوہری طورپر اس کی ساخت ہی ایسی ہے‘ اس کے مرکز میں موجود پروٹان اور مدار میں موجود الیکٹرانز کی صورتِ حال ایسی ہے کہ یہ فوراً آکسائیڈ بناتے ہوئے دوسرے عناصر کے ساتھ تعلق جوڑ لیتی ہے ۔ اب‘ آکسیجن اور لوہے کو اکھٹا رکھ دیا جائے‘ تو ان سے کہا جائے کہ آپس میں تعلق نہیں بنانا تو ایسا ممکن نہیں ۔ وہ خود کو روک نہیں سکتے ۔ یہ ان کے لیے ناممکن ہے ۔

جتنے بھی عناصر ہیں ‘ ان کے پاس ہر صورتِ حال میں ایک ہی آپشن ہوتی ہے ۔ اسی پر انہوں نے عمل کرنا ہوتا ہے ‘ لیکن پھر ان عناصر کو جوڑ کر انسان بنا دیا گیا۔ عناصر کو جوڑنے میں خدا نے ایسی کاریگری کی ہے کہ جس پر دل اش اش کر اٹھتا ہے ۔ انسان کے پاس مکمل طور پر اختیار موجود ہے ‘ ہر معاملے میں ۔ گو کہ اس کا دل چاہتا ہے گناہ کرنے کو ‘لیکن وہ چاہے تو گناہ کرے اور چاہے تو اپنے قدم روک لے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جب گناہ کی طرف انسان راغب ہو رہا ہوتاہے تو اس کے اندر موجود آکسیجن یا کوئی اور عنصر تعامل کی کوشش سے بے چین China ہو رہا ہو ۔ ایک Tendency تو ہر معاملے میں موجود ہے ‘دوسرے بچے سے کھلونا چھیننے کی خواہش ‘لیکن فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے ۔

کسی طرح بھی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ فیصلہ انسان کے ہاتھ میں کیسے دیا گیا ؟ کس طرح اکثر لوگ ہمیشہ اپنے رجحان (Tendency) پر عمل کرتے ہیں ؟ انسانوں میں سے ہی کچھ اس رجحان کی پیروی نہیں کرتے ۔ وہ جیلوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔ انہیں پتھر مارے جاتے ہیں ۔ ان کے جسم آرے سے کاٹ دئیے جاتے ہیں ‘لیکن وہ اپنی Tendencyپر نہیں چلتے ‘بلکہ الوہی رہنمائی پہ چلتے ہیں ۔ یہ چیز بہت حیرت انگیز ہے اور کسی طرح بھی اس کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی ۔

یہ مد نظر رہے کہ انسان‘ چونکہ مختلف عناصر سے مل کر بنے ہیں ‘ اس لیے اس کے مزاج میں ان عناصر کی خصوصیات جھلکنا فطری بات ہے ۔ جب آپ کسی نشے یا گناہ کے عادی ہو جاتے ہیں تو اس وقت ہوتا کیا ہے ؟ آپ کے دماغ کے خلیات کے درمیان ایسے لاکھوں نئے کنکشنز بن جاتے ہیں ‘ جو کہ بہت لذت انگیز ہوتے ہیں ۔ وہ بار بار آپ کو اکساتے ہیں کہ ایک بار پھر اور اس ایک بار پھر میں سے گزرنے کا تجربہ انتہائی لذت انگیز ہوتاہے ۔ یہ بات انتہائی مشکل ہوتی ہے کہ آپ کا دماغ جس لذت سے گزر چکا ہے ‘ جس کے دوران اس کے دماغ میں لاکھوں نئے کنکشنز بن چکے ہیں ‘ انہیں ختم کیا جا سکے۔ بہت طویل وقت اور جدوجہدکے بعد ہی انسان اس پر قابو پا سکتا ہے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نشے باز کو گندگی کے احساس سے کسی طرح کی کراہت بھی نہیں ہوتی ۔ وہ مکمل طور پر جانور بن جاتا ہے ۔وہ کوڑے سے چیزیں اٹھا کر کھا سکتا ہے ۔

بہر حال انسان کو کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ خدا نے اگر اسے دو میں سے ایک راستہ چننے کا اختیار دیا ہے تو یہ اختیار کیسے دیا گیا ہے ؟ اور اگر ان میں سے ایک پر اس کا دل للچاتا ہے‘ تو کیااس کا سبب جسم میں موجود عناصر کی تعامل کرنے کی خاصیت ہے یا کچھ اور... ؟

 172