اداس نسلیں جنگ مانگتی ہیں!

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

29 ستمبر 2019

Gloomy races demand war!

ہمارے اردگرد بہت کچھ ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے۔ چوراسی سالہ اسٹرالوجر پروفیسر غنی جاوید کی پریشانی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارے دوست طارق پیرزادہ کا فون تھا کہ آئیں کسی کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے ہیں اور پروفیسر غنی جاوید کو بھی بلا لیتے ہیں۔ میں نے کہا: کیوں مزید 'تراہ‘ نکلوانا ہے۔ دو سال پہلے انہوں نے مجھے طارق پیرزادہ‘ طارق چوہدری‘ میاں خالد اور مشاق بھائی کی موجودگی میں کہا تھا: تم کالم لکھو کہ اس خطے میں تباہی بربادی آ رہی ہے‘ جنگ آرہی ہے‘ ہمیں اس سے بچنا ہوگا۔ میں نے کہا: پروفیسر صاحب کیوں ہمیں ڈراتے ہیں‘ لوگ میرا مذاق اُڑائیں گے کہ دیکھو اچھا خاصا بندہ کس کام پر لگ گیا ہے۔ وہ بولے: تم لکھو‘ چاہے تمہارا مذاق بھی کیوں نہ اڑایا جائے۔ دو سال پہلے میں نے کالم لکھا‘ پروفیسر صاحب پریشان ہیں کہ اس خطے میں جنگ آئے گی اور اپنے ساتھ بربادی اور تباہی لائے گی۔ کچھ دنوں بعد ملے اور بولے: پھر لکھو‘ کچھ سمجھائو‘ لوگوں کو بتائو کہ ہمیں احتیاط اور سمجھ سے چلنا ہوگا‘حالات ہمارے خلاف جا رہے ہیں۔ مجھے بھی پڑھنے کی حد تک اسٹرالوجی میں دلچسپی ہے‘ پھر ان کی کئی باتیں سچی ثابت ہو چکی ہیں‘ کم از کم میری حد تک‘ لہٰذا فطری طور پر ان کی باتیں توجہ سے سنتا ہوں۔ ان کی پیش گوئیاں اتنی خطرناک ہیں کہ لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ وہ کہنے لگے: اب کی دفعہ وہی صورتحال بن رہی ہے جو تقسیم کے وقت تھی یا پھر انیس سو اکہتر میں ہوا تھا۔ خون خرابہ اور جنگ و جدل نظر آرہی ہے۔ میرے کچھ دوست حج اور عمرے پر جارہے تھے‘ تو ان سب کو کہتا ہوں کہ پاکستان Pakistan کی سلامتی اور امن کیلئے دعا مانگا کریں۔

خیر میں اس وقت حیران ہوتا تھا‘ ایسی کون سی صورتحال بنے گی کہ اچانک ہندوستان اور پاکستان Pakistan کے درمیان جنگ چھڑ جائے گی اور تباہی ہوسکتی ہے؟ پروفیسر غنی کے کہنے پر کالم لکھا‘ اپنا مذاق بنوایا‘ لیکن وہ یہی بات کہتے رہے کہ تم لکھتے رہا کرو۔ میں نے کہا: سر جی کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘ نقارخانے میں اس طوطی کی آواز بھلا کس نے سننی ہے؟ سنجیدہ ہوکر بولے: یاد ہے جب نمرود آگ کا الائو بھڑکا رہا تھا اور ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی بھر کر آگ پر پھینک رہی تھی‘ تو کسی نے مذاق اڑایا تھا؟ اس چڑیا نے کہا تھا: مجھے علم ہے کہ میری چونچ سے یہ آگ نہیں بجھے گی لیکن کم از کم میں مطمئن ہوں گی کہ جو میرے بس میں تھا‘ میں نے کرنے کی پوری کوشش کی۔ وہ بولے: تم بھی یہ سمجھا کرو‘ جو تمہاری اوقات میں ہے وہی کیا کرو اور تم وہی کر سکتے ہو۔ ایک دفعہ عامر متین نے بڑی اچھی بات کی۔ کسی دوست کے مسئلے پر میں پریشان تھا۔ مدد کرکے دیکھ لی‘ اس کا بھلا نہ ہوا۔ مجھے افسردہ دیکھ کر بولے: اپنی طرف سے پوری کوشش کر لیا کریں لیکن کہیں محسوس کرو کہ اس کے باوجود کچھ نہیں بن پڑا تو پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا کرو۔

پھر جب امسال اچانک پلوامہ Pulwama میں حملہ ہوا اور پاک بھارت India جنگی طیاروں نے ایک دوسرے پر حملے کیے تو مجھے اچانک یاد آیا کہ پروفیسر غنی جاوید نے کیا کہا تھا۔ اللہ کا شکر کہ بات جہازوں تک محدود رہی اور جنگ ٹل گئی۔ میرا خیال ہے‘ شاید یہی وہ پیشگوئی تھی جو بغیر بڑا نقصان کیے ٹل گئی‘ لیکن پروفیسر غنی مطمئن نہ تھے‘ کہنے لگے: نہیں‘ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات بگڑتے جائیں گے اور خوفناک کشیدگی کی شکل میں اچانک کوئی ایسی چیز ہو سکتی ہے کہ معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ اور پھر وہی ہوا جب مودی نے اچانک مقبوضہ کشمیر میں ستر‘ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں گن پوائنٹ پر قید کر دیا اور کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کر دیا۔ اس پر جو ردعمل سامنے آیا اس نے پھر غنی جاوید کی یاد دلا دی۔ میرا خیال تھا کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے اس دفعہ بڑے خلوص کے ساتھ بھارت India کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ اس دفعہ فوجی قیادت بھی عمران خان Imran Khan کے ساتھ کھڑی تھی کہ بھارت India کے ساتھ تعلقات درست کیے جائیں‘ بلکہ مجھے یاد ہے جب عمران خان Imran Khan وزیر اعظم Prime Minister بننے کے بعد ٹی وی اینکرز سے ملے تھے تو میں نے ان سے یہ سوال کیا تھا کہ پاکستان Pakistan میں ہر سیاسی وزیراعظم کو اقتدار ملتے ہی چند ماہ بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ جب تک بھارت India کے ساتھ معاملات نارمل نہیں ہوں گے سیاسی اور ترقیاتی ایجنڈے پر عمل کرنا مشکل ہوگا؛ چنانچہ وہ بھارت India سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کیے ہوتے ہیں وہ اسی وقت پورے ہوں گے جب ملک میں امن ہوگا اور سرحدوں پر بندوقیں خاموش ہوں گی۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف Nawaz Sharif نے بھی دل سے یہ کوششیں کیں‘ لیکن انہیں سکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا۔ تو کیا جب وہ بھی بھارت India کے ساتھ تعلقات درست کرنے کی بات کرتے ہیں تو فوجی قیادت ان کے ساتھ ایک پیج پر ہے یا وہ بھی بینظیر بھٹو اور نواز شریف Nawaz Sharif کی طرح ایک دن سکیورٹی رسک قرار دیے جائیں گے؟ وزیراعظم نے تحمل سے میرا سوال سنا اور جواب دیا کہ کچھ دن پہلے ہی جی ایچ کیو میں مجھے اہم معاملات پر بریفنگ دی گئی‘ بھارت India پر بھی بات ہوئی۔ عمران خان Imran Khan کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور دیگر فوجی قیادت نے اپنے پورے تعاون کا یقین دلایا کہ وہ بھارت India کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے جو بھی کوششیں کریں گے فوج پورا ساتھ دے گی۔ عمران خان Imran Khan نے کہا کہ وہ بھارت India کے ساتھ بہت اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ وہ معاملات کو سیٹل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان Pakistan اس وقت جس صورتحال میں ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم خود کو ایک نارمل اور جدید ریاست کے طور پر سامنے لائیں‘ جہاں سرمایہ کاری ہو اور خطے میں امن ہو‘ ہمیں ماضی کے بوجھ سے نکلنا ہو گا۔

میں نے اپنے ٹی وی پروگرامز میں بھی یہی بات بار بار دُہرائی کہ اس وقت پاکستان Pakistan میں پہلی دفعہ سیاسی اور فوجی قیادت بھارت India کے ساتھ دل سے بہتر تعلقات چاہتی ہے۔ میں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس دفعہ بھارت India نے پاکستانی سیاسی قیادت کی پیشکش کا جواب نہ دیا تو وہی غلطی کرے گا جو پاکستان Pakistan نے 1999 میں کی تھی جب واجپائی لاہور آئے تھے اور ہم نے کارگل کر دیا تھا یا پھر جب جنرل مشرف آگرہ گئے اور مذاکرات کا فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔ وہ ہماری غلطیاں تھیں‘ لیکن اس دفعہ بھارت India غلطی کرے گا‘ کیونکہ پہلی دفعہ پاکستانی فوج اور سیاستدان دل سے چاہتے ہیں کہ ماضی کے بوجھ گرا کر آگے بڑھیں اور خود کو معاشی طور پر مضبوط کریں۔ ایسا بھارت India کے ساتھ معاملات درست ہونے تک نہیں ہو سکے گا۔

لیکن کیا کریں‘ ہندوستان اور پاکستان Pakistan کے درمیان کئی چیزیں مشترک ہیں۔ جیسے ہم نے دو اہم مواقع پر غلطیاں کیں اور نقصان اٹھایا‘ اب وہی غلطیاں بھارت India کررہا ہے۔ بھارت India ہماری غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے انہیں دہرانے پر تل گیا ہے۔ بہت سے بھارتی Indian بھی مانتے ہیں کہ مودی نے بیٹھے بٹھائے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اگر ستر سالوں سے کشمیر پر 'سٹیٹس کو‘ چل رہا تھا تو چلنے دیتے اور کبھی کوئی موقع ملتا تو دنوں مل بیٹھتے اور حل نکال لیتے۔ اچانک ایک ایسا قدم اٹھایا گیا جس کی ہرگز ضرورت نہ تھی‘ جس نے کشمیریوں کو بھی شدید تکلیف سے دوچار کیا ہے اور خطے میں جنگ کے بادل بھی منڈلانے لگے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے بہت اعلیٰ تقریر کی اور کشمیر کا مسئلہ پہلی دفعہ دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا ہے کہ مخالفین بھی داد دینے پر مجبور ہوگئے ہیں‘ لیکن لگتا ہے معاملات سدھرنے کی بجائے بگڑ سکتے ہیں۔ وزیراعظم مودی میں وہ صلاحیت اور وہ وژن نہیں ہے جو وزیراعظم واجپائی میں تھا۔

عمران خان Imran Khan درست کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی پاکستان Pakistan اور ہندوستان کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے کیونکہ ایک ایسا ہی واقعہ جنگ عظیم اوّل کی بنیاد بنا تھا‘ جب ویانا کے ایک ڈیوک کو اس کی بیگم کے ساتھ سربیا میں کسی نے گولی ماردی تھی۔ ایک سیاسی قتل کی وجہ سے جنگ عظیم اول شروع ہوئی جس میں لاکھوں مارے گئے‘ لاکھوں دربدر ہوئے اور اسی قتل پر بس نہ ہوئی بلکہ جنگ عظیم دوم ہوئی‘ جس میں پھر تباہی ہوئی اور اب یورپ میں ستر سال سے آرام ہے۔ تو کیا ہندوستان پاکستان Pakistan کی آج کی اداس نسلوں‘ جو ایک دوسرے کو معاف کرنے پر تیار نہیں‘ کو اس خطے میں مستقل امن کے لیے ایک بڑی جنگ چاہیے تاکہ ہم رہیں نہ رہیں لیکن شاید ہماری آنے والی نسلیں یورپی قوموں کی طرح سکون سے رہ سکیں۔

 304