اسحاق خاکوانی کا نیا جرم

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

27 ستمبر 2019

Ishaq Khakwani ka naya Juram

سابق وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی کا فون تھا۔

وہاڑی کے خاکوانی صاحب مزیدار انسان ہیں۔ کھلے ڈلے، زندگی سے بھرپور قہقہے لیکن سنجیدہ بات کرتے ہیں۔ ایماندار ہیں لہٰذا ڈرتے نہیں۔ کبھی کبھار میری بھی ان سے ان بن اور کھٹ پٹ ہو جاتی ہے لیکن کچھ وجوہ کی بنا پر میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ ایک دفعہ انہوں نے بڑا کردار دکھایا تھا۔ میں نے شوکت عزیز دور میں چولستان کی خشک سالی اور قحط کے بعد ملنے والے سرکاری فنڈز میں سے اسلام آباد Islamabad کے پلاننگ ڈویژن کے بابوئوں کے لیے خریدی گئی مہنگی گاڑیاں، کرائے کے مہنگے دفاتر، پٹرول، موبائل فونز، پٹرول کارڈز، موبائل فون بلز، ایئرکنڈیشنرز، کمپیوٹرز، لیب ٹاپس، ٹی اے ڈی اے وغیرہ پر سٹوری شائع کی تھی کہ جو فنڈز غریب چولستانیوں پر خرچ ہونے تھے‘ وہ اسلام آباد Islamabad کے سرکاری بابوز پلاننگ ڈویژن میں کھا گئے ہیں۔ چولستان کی اس قحط سالی میں چوبیس مردوں، عورتوں اور بچوں کی اموات ہوئی تھیں۔

اسحاق خاکوانی اس وقت وزیر تھے۔ انہوں نے وہ سٹوری پڑھ کر مطالبہ کیا تھا کہ پلاننگ ڈویژن کے افسران کے خلاف غریب چولستانیوں کے قتل کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ پلاننگ ڈویژن کے ڈپٹی چیئرمین نے وزیر اعظم Prime Minister شوکت عزیز کو شکایت کی تو وزیر اعظم Prime Minister نے خاکوانی کو کہلوا بھیجا: آپ اس کی تردید کر دیں۔ خاکوانی نے کہا: کیوں تردید کروں؟ شوکت عزیز نے خاکوانی کے منع کرنے کے باوجود اگلے دن میری خبر کی تردید بھیج دی۔ میں نے خاکوانی صاحب کو فون کیا تو بولے: مطلب ہے وزیر اعظم Prime Minister باز نہیں آئے‘ تم دوبارہ میری طرف سے یہ بیان چھاپ دو کہ خاکوانی کہتا ہے‘ ان کے خلاف ایک نہیں‘ چوبیس ایف آئی آرز ہونی چاہئیں۔ اگلے دن اخبار میں ایک طرف وزیر اعظم Prime Minister کے دفتر سے بھیجی گئی پریس ریلیز چھپی کہ وزیر اسحاق خاکوانی کا کہنا ہے‘ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا‘ جبکہ ساتھ ہی یہ بیان چھپا کہ خاکوانی نے دوبارہ کہا ہے‘ اب کی دفعہ چوبیس چولستانیوں کے قتل کی ایف آئی آرز ان افسران کے خلاف درج ہونی چاہئیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ایک وزیر اپنے وزیر اعظم Prime Minister کے اصرار پر بھی بیان سے انکاری نہ ہوا۔ اس کے لیے بڑے کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک اسحاق خاکوانی شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر رہے ان کا ناک میں دم کیے رکھا۔ ہر کابینہ اجلاس میں کچھ ایسا ضرور کہتے جس سے شوکت عزیز چڑ جاتے۔ ایک دفعہ شوکت عزیز کابینہ کے اجلاس میں دس صحافیوں کے ناموں کی فہرست لائے‘ جنہیں وہ سبق سکھانا چاہتے تھے۔ ان میں میرا نام بھی تھا۔ خاکوانی صاحب بولے: یہ کام مت کریں‘ صحافیوں کو اپنا کام کرنے دیں‘ ہمیں اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے‘ اگر ہم اچھا کام کر رہے ہوں گے تو صحافی لاکھ برا کہتے رہیں فرق نہیں پڑے گا۔ شوکت عزیز نہ مانے تو اسحاق خاکوانی نے لیبیا کے مشہور باغی گوریلے عمر مختار کا پھانسی لگتے وقت کا ایک جملہ وزیر اعظم Prime Minister کو سنایا: Omar wil live longer than his hangman اسحاق خاکوانی نے کہا: جس جلاد نے پھانسی دی تھی اسے آج کوئی نہیں جانتا جبکہ میں اس اجلاس میں بیٹھا عمر مختار کا نام لے رہا ہوں‘ آپ بھی آج ان صحافیوں کے لیے جلاد کا کام کر رہے ہیں‘ ہم سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں‘ ان صحافیوں کی پروفیشنل زندگی ہم سے زیادہ ہوتی ہے‘ انہیں آج ٹارگٹ کرکے جائیں گے تو کل کو آپ ہی تنگ ہوں گے۔ خیر وزیر اعظم Prime Minister شوکت عزیز نہ مانے اور حکم صادر ہوا کہ گستاخوں کو سزا دی جائے۔ وہ اور کہانی ہے کہ پھر ہمارا کیا بنا۔

کابینہ کے اس اجلاس کے ٹھیک دو سال بعد ایک دوست کا فون آیا کہ یار شوکت عزیز لندن سے بار بار ایک درخواست کررہے ہیں کہ کچھ رعایت ہوسکتی ہے؟ میں نے کہا: قومی اسمبلی میں ان کے کرتوتوں کی طویل داستان تحریری طور پر دستاویزات کی شکل میں پیش کی گئی ہے‘ میں تو وہی رپورٹ کررہا ہوں۔ اس رپورٹ میں لکھا گیا تھا: شوکت عزیز پچیس کروڑ روپے مالیت کے تحائف اپنے ساتھ لندن لے گئے تھے اور باقی چھوڑیں تحفے میں ملنے والی بنیان، مفلر، سکارف‘ انڈرویئر تک نہیں چھوڑے تھے۔ وہ تمام مہنگے تحائف کی کم قیمتیں لگوا کر سب کچھ لندن لے گئے تھے۔

خیر آج خاکوانی صاحب کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ میں نے پوچھا؛ خیریت ہے‘ کیا ہوا؟ بولے: ایک بڑی گپ سناتا ہوں کیا یاد کرو گے۔ بتانے لگے: کچھ دن پہلے میرے جاننے والے ایک سرکاری افسر کا فون آیا۔ اس کی آواز میں پُراسراریت تھی۔ بولے: آپ سے ملنا بہت ضروری ہے‘ کسی کو پتا بھی نہ چلے۔ میں نے کہا: جناب تشریف لے آئیں۔ ملاقات ہوئی۔ چائے وغیرہ پیش کی تو ادھر ادھر دیکھنے اور پورا یقین کرنے بعد کہ کوئی دیکھ سن تو نہیں رہا، سرگوشی میں بولے: آپ کو بتانا تھا کہ آپ کے خلاف ایک سیکرٹ انٹیلی جنس رپورٹ اسلام آباد Islamabad بھیجی گئی ہے۔ اسحاق خاکوانی حیران ہوئے کہ وہ ایسا کیا کام کر بیٹھے تھے کہ سیکرٹ رپورٹ بھیجنے کی ضرورت پیش آ گئی۔

وہ بندہ پھر پراسرار انداز میں بولا: آپ کے بارے میں خفیہ طور پر پتا چلا ہے آپ دبئی جنرل پرویز مشرف سے ملنے گئے تھے اور اس بات کو اب اوپر تک رپورٹ کر دیا گیا ہے۔ اسحاق خاکوانی اسے کچھ دیر دیکھتے رہے اور پھر ایک قہقہہ بلند ہوا اور پوچھا: تو یہ راز تھا جو آپ مجھے بتانے آئے تھے؟ پھر بولے: میں خود کب کا ٹویٹ کر چکا ہوں کہ میری جنرل مشرف سے دبئی ملاقات ہوئی ہے۔ میں اپنے بیٹے کے پاس دبئی گیا ہوا تھا۔ سوچا ان کا پتا کرتا جائوں کیونکہ خبریں آرہی تھیں کہ ان کی طبیعت درست نہیں۔ فون کیا تھا تو جنرل مشرف نے کہا: آجائو۔ واپسی پر میں نے ٹویٹ کر دیا۔ اس میں کون سا قومی راز چھپا تھا؟

جب اس دور میں لوگ جنرل مشرف کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اس کے قریب تک نہیں پھٹکتے اس وقت اسحاق خاکوانی کا دبئی میں ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے جانا بھی بڑی بات تھی‘ خصوصاً جب جنرل مشرف کے تعلقات اپنے اس وزیر سے کبھی اچھے نہیں رہے تھے۔ جنرل مشرف اور خاکوانی کے تعلقات خراب کرنے میں شیخ رشید صاحب کا بڑا ہاتھ تھا۔ شیخ رشید نے جنرل مشرف کو شکایت کی تھی کہ لوگ آپ کی وردی بارے باتیں کررہے ہیں‘ اپوزیشن آپ پر حملے کررہی ہے کہ آپ وردی کے ساتھ الیکشن نہ لڑیں۔ حتیٰ کہ آپ کے وزیر بھی اپوزیشن کی زبان بول رہے ہیں۔ جنرل مشرف نے پوچھا: کون سا وزیر؟ شیخ رشید نے اسحاق خاکوانی کا نام لیا کہ وہ کہہ رہا ہے جنرل مشرف کو وردی ساتھ الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ جنرل مشرف نے شیخ رشید کی شکایت سن کر وزیر اعظم Prime Minister شوکت عزیز کو کہا تھا: ذرا دیکھیں لینا خاکوانی کو۔ مطلب تھا‘ خاکوانی کو ذرا ٹائٹ کریں۔ شوکت عزیز کے سٹاف نے رات گیارہ بجے اسحاق خاکوانی کو فون کیا: وزیراعظم آپ سے کل ملنا چاہ رہے ہیں۔ خاکوانی سمجھ گئے۔ وہ اپنے دفتر گئے‘ صدر مشرف کے نام خط ٹائپ کیا اور جیب میں ڈال لیا۔ شوکت عزیز نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ خاکوانی نے جیب سے کاغذ نکال کر وزیراعظم کو پیش کر دیا۔ شوکت عزیز نے پوچھا: یہ کیا ہے۔ خاکوانی بولے: میرا وزارت سے استعفیٰ ہے‘ میں مزید آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا۔ شام کو خاکوانی نے میڈیا کو پریس کانفرنس میں بتایا: میرے خیال میں وردی کے ساتھ الیکشن لڑنا مناسب نہیں ہوگا‘ کل کو ڈپٹی کمشنر بھی الیکشن لڑے گا۔ یہ اور بات کہ وہی شیخ رشید دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں انہی خاکوانی کی منتیں کر رہے تھے کہ عمران خان Imran Khan کو راضی کریں کہ وہ انہیں ملتان اور لاہور کی ریلوے کالونی سے الیکشن لڑنے کے لیے دو ٹکٹیں دے دیں۔ وقت کیسے بدل جاتا ہے کہ آج جنرل مشرف سے بھی کوئی مل لے تو اسے ملک اور قوم کی سلامتی کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔ وہی مشرف جو کبھی اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ بارہ سال قبل جنرل مشرف کو شکایت لگائی گئی تھی جناب آپ کا وزیر اسحاق خاکوانی آپ کے وردی میں الیکشن لڑنے کے خلاف ہے اور خاکوانی کو استعفیٰ دینا پڑ گیا تھا۔ آج بارہ برس بعد بھی انہی خاکوانی صاحب کی شکایت لگائی جا رہی ہے کہ آپ کا بندہ جنرل مشرف سے مل آیا ہے!

کیسا دلچسپ ملک ہے ہمارا، ہمارے بدلتے موسم، ہمارے سیاسی لوگ، شکایتی وزیر اور سب سے بڑھ کر خفیہ اداروں کی جنرل مشرف سے خفیہ ملاقات کی خفیہ رپورٹ جو خاکوانی خود ہی کب کا خود ہی ٹویٹ کر چکے ہیں۔

 334