دوست ملک‘ زلزلہ اور موت کا خوف

کل اور آج - عمار چوہدری

26 ستمبر 2019

Friends Country 'Fear of earthquake and death

گزشتہ روز سعودی عرب Saudi Arabia کے قومی دن کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے اسلام آباد Islamabad جا رہا تھا کہ موٹروے پر دوران سفر کراچی سے ایک دوست نے کال کرکے پوچھا: ملک میں جو زلزلہ آیا ہے تو کیا آپ خیریت سے ہیں۔ مجھے اس بارے میں کچھ خبر نہ تھی۔ شام کے سوا پانچ بج رہے تھے۔ میں نے انہیں بتایا: میں تو گاڑی چلا رہا ہوں‘ نہ تو مجھے زلزلہ محسوس ہوا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کچھ علم ہے۔ جب انہوں نے بتایا کہ زلزلہ انتہائی شدید تھا۔ کئی سڑکیں دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں اور گاڑیاں تک دھنس گئیں‘ اس کے علاوہ بھی بہت نقصان ہوا ہے تومیں نے گھر اور دوست احباب کو خیریت کے فون کرنے شروع کر دئیے۔ ذہن میں ایک خدشہ یہ بھی تھا کہ جس طرح چودہ برس قبل کے زلزلے میں شروع میں کئی گھنٹے صرف اسلام آباد Islamabad کے ایک دو پلازے گرنے کی ہی خبریں آئیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا‘ گائوں کے گائوں صفحہ ہستی سے مٹنے کی خبریں بھی سامنے آ گئیں۔ ہزاروں لوگ جاں بحق‘ لاکھوں زخمی ہو گئے تھے اور ان میں سے کئی ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے تھے۔ بچے والدین اور والدین بچوں سے محروم ہو گئے تھے۔ آٹھ اکتوبر کا زلزلہ رمضان کے پہلے عشرے میں آیا تھا۔ پورے ملک سے لوگوں نے امداد کے ڈھیر لگا دئیے تھے۔ زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی کے لیے ایرا اور سیرا کے نام سے دو ادارے بھی قائم ہوئے تھے۔ دیگر ممالک نے بھی پاکستان Pakistan کی مدد کی۔ ان میں سعودی عرب Saudi Arabia پیش پیش تھا۔ سعودی عرب Saudi Arabia نے پاکستان Pakistan میں زلزلے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت 1900 مکانات، 33 سکول اور صحت کے 23 مراکز تعمیر کیے۔ یہ مکانات صوبہ بلوچستان Balochistan اور گلگت بلتستان، سکول اور مراکز صحت سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں تعمیر کیے گئے تھے۔ زلزلے سے متاثرہ بیسیوں مساجد کی تعمیرنو کی گئی۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے بھی مختلف منصوبوں پر کام کیا گیا۔ آج ایک مرتبہ پھر ملک بڑی مشکل میں ہے۔ اگر ملکی وسائل کم پڑ گئے تو یقینا سعودی عرب Saudi Arabia اور دیگر ممالک اس انسانی المیے میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

سعودی نیشنل ڈے کی تقریب میں پاکستان Pakistan سمیت دیگر ممالک کی اہم شخصیت ذوق و شوق سے شریک ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سعودی حکومت کی مہمان نوازی اور انسان دوستی ہے۔ تقریب میں سعودی سفیر نواف سعیدالمالکی نے تمام مہمانوں کا خود استقبال کیا۔ ہر ایک سے مصافحہ کیا اور خوش آمدید کہا۔ تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور‘ چیئرمین سینیٹ‘ وزرا‘ مسلح افواج کے آفیسرز‘ مختلف ممالک کے سفرا‘ بیوروکریٹس‘ مذہبی قائدین‘ صحافی اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ دو گھنٹے کی اس تقریب میں سعودی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ تقریب میں چند سعودی نوجوانوں نے تلواریں تھام کر روایتی سعودی رقص پیش کیا۔ اسلام آباد Islamabad میں سعودی سفارتخانے کے میڈیا چیف علی خالد ایک متحرک نوجوان ہیں‘ عربی کے ساتھ دیگر زبانیں بھی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ مہمانوں سے اہم سعودی شخصیات کا تعارف کرواتے رہے۔ تقریب میں پروجیکٹر کی مدد سے پاکستان Pakistan اور سعودیہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ پر ایک مختصر نظر ڈالی گئی اور وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے دورہ سعودیہ کی کچھ ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ مسلمانوں کے لیے سعودی عرب Saudi Arabia مقدس ترین مقام کی اہمیت کا حامل ہے۔ ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگ حج کی ادائیگی کے لیے سعودیہ جاتے ہیں۔ پاکستان Pakistan سے بھی بڑی تعداد حج اور عمرے کی ادائیگی کرتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی حجاج اور زائرین کو کچھ مشکلات درپیش تھیں۔ تقریب میں دکھایا گیا کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے کچھ عرصے قبل سعودی عرب Saudi Arabia کے ولی عہد Crown Prince شہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے سامنے سعودی عرب Saudi Arabia میں کام کرنے والے محنت کشوں اور پاکستانی حجاج کے لیے روڈ ٹو مکہ اور پاکستان Pakistan میں سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے جن خواہشات کا اظہار کیا اس پر سعودی ولی عہد Crown Prince نے مثبت ردعمل دیا‘ حتیٰ کہ عمرہ پر ایک سال میں دو مرتبہ پر دو ہزار ریال فیس جو عائد تھی اس کو بھی ختم کیا گیا۔ روڈ ٹو مکہ انتہائی اہم اور دلچسپ منصوبہ ہے جس کے تحت حاجیوں کو زبردست ریلیف ملا ہے۔ عام طور پر حاجیوں کی امیگریشن سعودیہ اترنے کے بعد ہوتی ہے جس میں طویل انتظار کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ روڈ ٹو مکہ کے تحت یہ مشکل بھی حل ہو گئی ہے۔ اب یہ امیگریشن پاکستان Pakistan میں ہی مکمل ہو جایا کرے گی۔ حج پر جانے والوں کو سعودیہ جا کر امیگریشن کے طویل عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔ وہ اپنے ایئرپورٹ سے ہی امیگریشن کا تمام عمل مکمل کروا لیں گے۔ اس سے حاجیوں کو ریلیف ملے گا اور وہ فرض کی ادائیگی پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں گے۔ غالباً اس سلسلے کا آغاز اسلام آباد Islamabad ایئرپورٹ سے ہو چکا ہے جسے دیگر شہروں تک پھیلایا جا رہا ہے۔

پاکستان Pakistan ایک عرصے سے معاشی بھنور میں گھرا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی وبال جان بنی ہوئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کم ہی سرمایہ کار ملک میں آنے کو تیار تھے‘ سعودی ولی عہد Crown Prince کے دورہ کے موقع پر پاکستان Pakistan اور سعودی عرب Saudi Arabia کے درمیان 20 ارب ڈالر billion dollor سے زائد سرمایہ کاری کے 7 معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے جن سے معیشت کو قدرے سہارا ملا۔ سعودی عرب Saudi Arabia سے نے کبھی کسی حکمران یا خاص سیاسی جماعت کی طرفداری نہیں کی بلکہ پاکستان Pakistan کو مقدم رکھا اور ہر حکومت اور حکمران کے ساتھ بہترین تعلقات نبھائے۔ امریکہ United States جانے سے قبل وزیراعظم عمران خان Imran Khan دو روزہ دورے پر سعودی عرب Saudi Arabia گئے۔ وہاں سے انہوں نے کمرشل فلائٹ سے آگے امریکہ United States روانہ ہونا تھا لیکن مہمان نوازی کوئی سعودی عرب Saudi Arabia سے سیکھے کہ سعودی ولی عہد Crown Prince نے انہیں اپنا ذاتی طیارہ سفر کے لیے فراہم کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں‘ ہم آپ کو کسی اور فلائٹ پر کیسے جانے دے سکتے ہیں۔ ہم اس طرح کا رویہ اپنے بعض ایسے رشتہ داروں اور دوستوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ آپ ٹیکسی پر کسی کے گھر جاتے ہیں تو اگر وہ آپ سے بہت محبت کرنے والا رشتہ دار‘ دوست یا عزیز ہے تو آپ کو ٹیکسی پر نہیں جانے دے گا بلکہ اپنی گاڑی پر چھوڑ کر آئے گا اور جو زیادہ لگائو نہیں رکھتا ہو گا وہ آپ کو خداحافظ کہہ کر دروازہ بند کر لے گا۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ کسی بھی انسان یا ملک کے آپ سے اُنس اور قربت کی علامت ہیں۔ پاکستان Pakistan بھی سعودی عرب Saudi Arabia کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑا رہا ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia پر حملے کی کوششیں جہاں سے بھی کی جاتی رہیں پاکستان Pakistan نے ان کی نہ صرف زبانی مذمت کی بلکہ عملی طور پر بھی سرزمین حجاز کا دفاع کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ رشتہ آگے چل کر مزید مضبوط ہو گاکیونکہ سعودی عرب Saudi Arabia پاکستان Pakistan کے ساتھ سرمایہ کاری کے کئی معاہدے کر چکا ہے اور ان پر کام شروع ہو چکا ہے۔

موت کا ایک دن تو مقرر ہے اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن زلزلے‘ آگ اور دیگر آفات سے ہونے والی اموات سے ہمارے دین میں بھی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ یہ بہرحال بہت زیادہ دردناک ثابت ہوتی ہیں۔ ویسے تو ہر قسم کی اچانک موت سے پناہ مانگنی چاہیے لیکن اصل میں مرنے سے ڈرنے کی بجائے تیاری کے بغیر مرنے سے ڈرنا چاہیے۔ آج نہیں تو کل سبھی نے مرنا ہے۔ ستر‘ اسی‘ نوے برس جی لیں گے لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ کیا ہم نے اگلے جہاں جانے کی تیاری کر لی ہے۔ موت سے تو سبھی کو ڈر لگتا ہے یہ فطری بات ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جنہیں اس بات کا ڈر ہے کہ وہ بغیر آخرت کی تیاری کے ہی نہ مر جائیں۔ اس تیاری میں حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی۔ زلزلے‘ طوفان تو ایک وارننگ ہوتے ہیں یہ بتانے کے لیے کہ موت بھی کوئی چیز ہے وگرنہ خدا کی قسم ‘ہم تو زندگی کی گہماگہمی میں موت کو بھی بھول جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی زلزلہ وغیرہ آ جائے تو وہ بھی چند دن بعد کسی کو یاد نہیں رہتا سوائے ان کے جنہیں اللہ کا ڈر اور آخرت میں جواب دہی کا خوف ہو؛ چنانچہ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو زیادہ فکر زلزلے یا عام موت سے ڈرنے کی نہیں بلکہ بغیر تیاری کے مرنے سے ڈرنے کی ہونی چاہیے۔

 100