ٹرمپ کا ’’پکڑائی نہ دو‘‘ والا لاہوری انداز

برملا - نصرت جاوید

25 ستمبر 2019

Trump ka Pakrai na do wala Lahori Style

بدترین حالات میں بھی اُمید کی لوجگائے رکھنے کی عادت لاحق رہی ہے۔ پیر کے روز امریکی صدر نے پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister کو دائیں ہاتھ بٹھاکر میڈیا کے سامنے جو رویہ اختیار کیا اسے بغور دیکھنے کے بعد 80لاکھ کشمیریوں کو مگر یہ پیغام دینے کو مجبور ہوگیا ہوں کہ ’’اپنے بے خواب کو اڑوں کومقفل کرلو…‘‘پاکستانی صحافیوں نے اس سے اُمید افزا کلمات کہلوانے کی بہت کوشش کی۔اسے ’’ایمان دار‘‘ کہا۔ نوبل پرائز کی جھلک دکھلائی۔ وہ مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ لاہوری روزمرہّ کے مطابق ’’پکڑائی نہ دیا‘‘۔

ہمارے وزیر اعظم Prime Minister صاحب کو اس نے ’’عظیم‘‘ کہا۔یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ ان کی بات پر اعتبار کرتاہے۔ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کے ساتھ بھی لیکن اس کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔پاک-بھارت India معاملات میں بہتری لانے کے لئے ثالثی کا کردار وہ اسی صورت ادا کرسکتا ہے اگر نریندرمودی بھی اس کے بارے میں رضامند ہوجائے۔ مجھ جیسا عام رپورٹربھی بخوبی جانتا ہے کہ مودی اس ضمن میں ہرگز رضامند نہیں ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019سے مسلط ہوئی اذیت کے ازالے کی لہذا پیر کے روز ہوئی ملاقات کے بعد اُمیدباندھ لینا خام خیالی ہی نہیں سفاکانہ خوش فہمی ہوگی۔ کبوتر کا وہ رویہ جہاں آنکھ بند کرتے ہوئے وہ خود کو اپنے اِردگرد اچھلتی بلی سے محفوظ تصور کرتا ہے۔اپنی زندگی میں کئی بار میں نے نیویارک کی گلیوں میں گھنٹوں پیدل چلتے ہوئے گزارے ہیں۔اس علاقے کی ’’انگریزی‘‘ نہیں بلکہ Americanمیں چھپائے پیغامات کو بآسانی پڑھ لیتا ہوں۔ ڈونلڈٹرمپ اس علاقے کے منافع خور طبقات کا حتمی نمائندہ ہے۔اپنی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔لچھے دار گفتگو کے ذریعے اسے اپنی ترجیح کے معاملات کی طرف لاناناممکنات میں سے ہے۔کشمیر کے تازہ ترین حالات کو نظرانداز کرنا فقط اس کی ذاتی ترجیح نہیں ہے۔امریکہ United States میں بھی ایک Deep Stateہوتی ہے۔ اس کی سوچ کو ٹرمپ نے کئی بار ٹی وی کیمروں کے سامنے حقارت سے احمقانہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔خود کو اس سے بالاتر ثابت کرنا چاہا۔ زلمے خلیل زاد گزشتہ ایک برس سے امریکی صدر کی بھرپور سرپرستی میں طالبان کے ساتھ دوحہ میں مذاکرات میں مصروف رہا۔ٹرمپ کو ان مذاکرات کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ طالبان اور افغان صدر کو متوقع معاہدے پر دستخط کے لئے کیمپ ڈیوڈ مدعو کرلیا۔ نظربظاہر طالبان نے یہ دعوت قبول نہیں کی۔ٹرمپ نے ایک ٹویٹ لکھ کر ان کے ساتھ کئی مہینوں سے جاری مذاکرات کی ’’موت‘‘ کا اعلان کردیا۔ اس کی ٹویٹ کے بعد سے افغانستان Afghanistan میں امریکی فوج جارحانہ انداز میں متحرک ہوچکی ہے۔بے گناہ شہری Collateral Damageکی نذر ہورہے ہیں۔طالبان دائمی امن کے قیام کے لئے اب روس Russia اور چین China سے رجوع کررہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ سینہ پھیلاتے ہوئے ’’دہشت گردوں‘‘ کی پسپائی کی کہانیاں سنارہا ہے۔قابض افواج کے خلاف حملوںکے علاوہ طالبان افغانستان Afghanistan کے کئی علاقوں کو داعش سے آزاد کروانے کی جنگ میں بھی مبتلا ہوچکے ہیں۔امن کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آرہے۔ ’’دریں دولت‘‘ جیت گئی۔ٹرمپ کی بات نہیں بنی۔اس کالم میں تواتر سے یہ دہراتے ہوئے ہلکان ہورہا ہوں کہ سوشل میڈیا ہمیں ٹھوس مگر گہرے پیغامات کو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم کررہا ہے۔مثال کے طورپر عمران خان Imran Khan صاحب نیویارک پہنچے تو ان سے ملاقات کے لئے امریکہ United States کی جانب سے زلمے خلیل زاد آیا۔ زلمے خلیل زاد کا دائرہ کار افغانستان Afghanistan تک محدود ہے۔مقبوضہ کشمیر اس کی Turfنہیں۔پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister سے ملاقات کے لئے اسے بھیج کر درحقیقت واشنگٹن نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ عمران خان Imran Khan صاحب کی امریکہ United States میں موجودگی کے دوران ڈونلڈٹرمپ ان سے مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بجائے افغانستان Afghanistan کے معاملات زیر بحث لانے کو ترجیح دے گا۔سینیٹر گراہم نے یقینا امریکی صدر کو لکھے اس خط پر بھی دستخط کئے ہیں جو مقبوضہ کشمیر پر امریکی حکومت کی توجہ کا طلب گار ہے۔یہ سینیٹر بھی لیکن افغانستان Afghanistan کے بارے میں زیادہ متفکر ہے۔ عمران خان Imran Khan صاحب کی ٹرمپ سے ملاقات کروانے میں اس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔اس ملاقات کا اوّل وآخر مقصد امریکہ United States کی نظر میں مسئلہ افغانستان Afghanistan کو ٹرمپ کی ترجیحات کے مطابق حل کروانے کے لئے پاکستان Pakistan کا بھرپور تعاون حاصل کرنا تھا۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔پاکستان Pakistan کو اس ضمن میں رضا مند کرنے کے لئے ٹرمپ نے ازخود انتہائی ہوشیاری سے 22جولائی کے روز کشمیر پر ’’ثالثی‘‘ کی پیش کش کی۔ہمیں جھانسا دیا کہ مودی بھی اس سے ثالثی کا طلب گار ہے۔5اگست 2019کو مگر آرٹیکل 370کے خاتمے کا اعلان ہوگیا۔وادیٔ کشمیر اس دن کے بعد سے ایک وسیع وعریض جیل میں تبدیل ہوچکی ہے۔کمیونی کیشن لاک ڈائون وحشیانہ انداز میں برقرار رکھا جارہا ہے۔سوپور اور شوپیاں کے درختوں سے سیب اُتار کر منڈی میں نہیں بھیجے جارہے۔ گل سڑکر زمین پر گررہے ہیں۔سیب کی پیداوارسے لاکھوں غریب کشمیری سردیوں کا راشن خرید کر جمع کرتے تھے۔اب کے برس برفباری ان کے لئے فاقہ کشی لائے گی۔ اس کاروبار سے جڑے سینکڑوں گھرانے اپنی خوش حالی برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ انسانی المیوں کی کئی داستانیں ہیں۔ان کا ذکر اب نام نہاد عالمی میڈیا میں شدت سے نہیں ہورہا۔ توجہ ایران Iran کی جانب مائل ہوچکی ہے۔چسکہ فروشی کے لئے تذکرہ اس فون کا بھی ہورہا ہے جس کے ذریعے امریکی صدر نے یوکرین کے صدر سے اس خواہش کا اظہارکیا کہ جو بائیڈن کے بیٹے کو جو اس کے ملک میں کاروبار کرتا ہے کسی صورت مالیاتی بدعنوانی میں ملوث کیا جائے۔سوشل میڈیا کی پھیلائی واہی تباہی سے حظ اٹھانے سے کبھی فرصت ملے تو خدارا ٹرمپ نے پیر کے روز عمران خان Imran Khan صاحب کو دائیں ہاتھ بٹھاکر جو گفتگو کی ہے اس کی ریکارڈنگ بارہادیکھیں۔ اپنی گفتگو کے ذریعے ٹرمپ نے ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسے ہرگز خبر نہیں تھی کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister اس کی موجودگی میں ہوسٹن میں ہوئی تقریب سے خطاب میں پاکستان Pakistan کے خلاف ’’جارحانہ‘‘ زبان استعمال کرے گا۔جارحانہ انداز کو خود کے لئے ’’حیران کن‘‘ بتانے کے بعد مگر وہ غالبؔ کے محبوب والی ’’سادگی‘‘ سے یہ بھی کہتا ہے کہ مودی کے جارحانہ انداز کو ہوسٹن کی تقریب میں موجود بقول اس کے 59ہزار(پچاس ہزارنہیں)بھارتی Indian نژاد امریکیوں نے والہانہ انداز میں سراہا۔مودی کے ’’جارحانہ‘‘ انداز کی بہت سادگی سے ’’بھرپور پذیرائی‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے درحقیقت ہمیں یہ پیغام دیا گیا کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کو ایسے ماحول میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کو مجبور کرنا ٹرمپ کے لئے بہت مشکل ہے اس سے جب یہ سوال ہوتا ہے کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے اپنی تقریر میں پاکستان Pakistan پردہشت گردی کی سرپرستی کا الزام بھی لگایا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اسے امریکی حکومت کے کارندوں نے اس کے برعکس بتایا ہے۔ واضح جواب نہیں آیا اور سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی کے فروغ کا ذمہ دار ایران Iran کو ٹھہرادیاگیا۔ سوال گندم جواب چنا‘‘ کا یہ انداز’’پکڑائی نہ دو‘‘ کی عملی مثال تھی۔اپنے گھر تک محدود محض ریگولر اور سوشل میڈیا کی بدولت مودی اور عمران خان Imran Khan صاحب کی امریکہ United States میں موجودگی پر نگاہ رکھتے ہوئے میں بدنصیب یہ سوچنے کو مجبور ہورہا ہوں کہ ’’اندرخانے‘‘ امریکی صدر اوراس کے معاونین پاکستان Pakistan کو کشمیر بھلاکر افغانستان Afghanistan پر توجہ دینے کو مجبور کررہے ہیں۔ افغانستان Afghanistan کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا مگر ’’فرمائش‘‘ یہ بھی آئی ہے کہ پاکستان Pakistan ایران Iran کے حوالے سے بھی ’’کچھ کرے‘‘۔

ہمارے وزیر خارجہ نے بہت اتراتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے انہیں نیویارک میں موجود ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سے خطے کی صورت حال کو پرامن بنانے کے لئے مذاکرات کا ’’مینڈیٹ‘‘ بھی دیا ہے۔مسرت نذیر کے گائے گیت والا ’’نواں پواڑا‘‘۔ طالبان ہماری بات پوری طرح سن نہیں رہے۔ ایرانی حکومت کیوں تو جہ دے گی؟ ایران Iran سے معاملات بہتر بنانے کے لئے ٹرمپ کی مدد کے لئے فرانس کا صدر موجو د ہے۔گزشتہ اگست میں جب ٹرمپ فرانس میں موجود تھا تو ایرانی وزیر خارجہ بھی وہاں ’’اچانک‘‘ آگئے تھے۔بات مگر بنی نہیں۔ فرانس سے مطلوبہ مدد اگر میسر نہیں ہوئی تو ٹرمپ مودی سے ایران Iran کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے لئے رجوع کیوں نہیں کرتا۔ چاہ بہار chabahar کی بندرگاہ پر بھارتی Indian سرمایہ کاری کو نگاہ میں رکھتے ہوئے۔

حکومت پاکستان Pakistan کا فی الوقت فقط یک نکاتی ایجنڈا ہونا چاہیے۔یہ ایجنڈا ہے کشمیر -کشمیر اور فقط کشمیر۔5اگست 2019کے بعد سے ہم کسی اور معاملہ پر توجہ دے ہی نہیں سکتے۔

 606