وزیراعظم نیویارک میں : امیدیں اور امکانات

برملا - نصرت جاوید

23 ستمبر 2019

Prime Minister in New York

پیر23ستمبر2019سے جو ہفتہ شروع ہورہا ہے میری عاجزانہ رائے میں پاکستان Pakistan ہی نہیں پورے جنوبی ایشیاء میں حیران کن تبدیلیوں کے سفر کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ربّ کریم سے ستے خیراں کی امید رکھتے ہوئے ہمیںناقابل برداشت زلزلوں کے لئے بھی لیکن ذہنی طورپر تیار رہنا ہوگا۔ ذہن میں یہ بات بھی رکھیں کہ میرے اور آپ کے مقدر کے لئے ممکنہ طورپر خوش گوار یا ناخوش گوار فیصلہ سازی کا مرکز اس ہفتے کے دوران امریکہ United States کا شہر نیویارک ہوگا۔وہاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہورہا ہے۔یہ اجلاس مگر ایک بہانہ ہے۔سربراہانِ مملکت وحکومت کو ایک دوسرے سے ملاقاتوں کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ان ملاقاتوں کے نتائج اگرچہ دوررس اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

انٹرنیٹ نے لیکن ہمیں گہری باتوں پر غور کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیا ہے۔فیس بک اور ٹویٹر نے انسانی جبلتوں میں موجود غصے، نفرت اور تعصبات کے فوری اظہار کے ذرائع فراہم کردئیے ہیں۔ جبلی ترجیحات کا پُرجوش اظہار انسانوں کو ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوئے قبائلی غولوں میں تقسیم کررہا ہے۔

پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister سعودی عرب Saudi Arabia سے نیویارک پہنچے۔ سوشل میڈیا پر قابلِ توجہ بات مگر یہ رہی کہ انہیں سعودی شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman نے سفر کے لئے اپنا ذاتی طیارہ دیا۔عمران خان Imran Khan سے نفرت کرنے والوں نے ساری توجہ اس امر کو اُجاگر کرنے میں خرچ کردی کہ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کے استقبال کے لئے امریکی حکومت کا کوئی ایک نمائندہ بھی ایئرپورٹ پر موجود نہیں تھا۔اس پہلو پر اصرار کرتے ہوئے عمران خان Imran Khan صاحب کی ’’اوقات‘‘ یاد دلانے کی کوشش ہوئی۔یہ حقیقت اندھی نفرت میں فراموش کردی گئی کہ وزیر اعظم Prime Minister ’’دورئہ امریکہ United States ‘‘ کے لئے نہیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک پہنچے ہیں۔

تحریک انصاف کے متوالے ان کے مقابلے میں وزیر اعظم Prime Minister کی سادگی اور حکومتی خرچہ ہر صورت بچانے والے رویے کی ستائش میں مصروف رہے۔ ہمیں یاد دلایا گیا کہ ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ پاکستان Pakistan کا کوئی وزیر اعظم Prime Minister نیویارک کے ’’روز ویلٹ‘‘ ہوٹل میں ٹھہرے گا۔ یہ "Five Star"نہیں ایک ’’عام‘‘ سا ہوٹل ہے۔

’’روز ویلٹ‘‘ ہرگز عام سا ہوٹل نہیں ہے۔ نیویارک کے عین مرکز میں واقع ہے۔اقوام متحدہ کی عمارت اس سے محض دس منٹ کی دوری پر ہے اور وہاں تک پیدل پہنچنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بطور رپورٹر دیکھنے کے لئے پہلی بار 1987میں گیا تھا۔ محمد خان جونیجو ان دنوں ہمارے وزیر اعظم Prime Minister تھے۔اسی ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ بعدازاں 1994میں نواز شریف Nawaz Sharif بھی وہیں قیام پذیر ہوئے۔نائن الیون کے بعد آئے نومبر میں جنرل مشرف جب جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک پہنچے تو اسی ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔

یہ ہوٹل پی آئی اے کی ملکیت ہے۔سعودی اور دیگر عرب سرمایہ کاروں نے اس کے حصص خرید رکھے ہیں۔پی آئی اے اور حکومت پاکستان Pakistan کو وہاں رعایتی نرخ مل جاتے ہیں۔اس ہوٹل کی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ نیویارک کے یہودی ڈالتے ہیں۔ان کے پرانے خاندان اپنے بچوں کی شادیاں یہاں منعقد کرنے کو روایتی اعتبار سے ترجیح دیتے ہیں۔ان کی روایت سے کاروباری فائدہ اٹھانا ’’روز ویلٹ‘‘ ہوٹل کے لئے ضروری ہے۔

مزید فروعات میں الجھنے سے گریز کے لئے مجھے اہم باتوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ دیانت داری سے مجھے بہت دُکھ ہورہا ہے کہ حکومتِ پاکستان Pakistan نے انتہائی بے وقوفی سے یہ تاثر پھیلایا ہے کہ جیسے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی جنرل اسمبلی میں ہوئی تقریر کے بعد مقبوضہ کشمیر کی وسیع وعریض جیل میں 5اگست 2019سے محصور ہوئے 80لاکھ کشمیریوں کی اذیت کے ازالے کی صورتیں سرعت سے نمایاں ہونا شروع ہوجائیں گی۔

جنرل اسمبلی میں کئی دہائیوں سے دھواں دھار تقاریر ہوتی رہی ہیں۔سردجنگ کے عروج کے دنوں میں سوویت یونین کے خروشچیف نے وہاں کے بینچ پراپنا جوتارکھ کرتقریر کی تھی۔ یاسر عرفات نے بھی یہاں ایک ’’تاریخی‘‘ تقریر کی تھی۔ فلسطین مگر آج بھی آزاد نہیں ہوا ہے۔مقبوضہ غزہ کی پٹی انسانی المیوں کا تکلیف دہ مگر زندہ منظر ہے۔جنوبی افریقہ Africa کے نسل پرستوں نے جنرل اسمبلی میں ہوئی دھواں دھار تقاریر کے باوجود وہاں کے حقیقی باسیوں کو کئی دہائیوں تک اپنا غلام بنائے رکھا۔ یہاں ہوئی تقاریر شام میں پانچ لاکھ انسانوں کی خانہ جنگی کی بدولت ہوئی ہلاکتوں کو روک نہیں پائیں۔ یمن Yemen میں ہر چوتھا بچہ ایک اور خانہ جنگی کی وجہ سے بھوک کے ہاتھوں ہر روز لقمہ اجل بن رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نریندرمودی اور عمران خان Imran Khan کے درمیان کوئی ’’تقریری مقابلہ‘‘ نہیں ہونا ہے جس کے اختتام پر کشمیر کے موضوع پر پیش ہوئی کسی قرارداد پر رائے شماری ہوگی۔ کشمیر فی الوقت اس فورم میں زیر بحث ہی نہیں ہے۔نریندرمودی نے بلکہ یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ وہ اس موضوع پر اپنی تقریر میں ایک لفظ بھی نہیں کہے گا۔عمران صاحب کے لئے اپنی تقریر میں کشمیر کے تازہ ترین حقائق کا بھرپور ذکر مگر ضروری ہے۔ایک مؤثر اور شان دار تقریر کے باوجود مگر وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے مظلوم کشمیریوں کیلئے ٹھوس اعتبار سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ہمیں ذہنی طورپر اس حقیقت کو کشادہ دل کے ساتھ ہضم کرنے کو تیار رہنا چاہیے۔

80لاکھ کشمیریوں کی اذیت کے ازالے کے لئے اہم ترین کردار فی الوقت امریکی صدر ہی ادا کرسکتا ہے۔پیر کے روز اس کی پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister سے طے ہوئی ملاقات لہذا جنرل اسمبلی میں عمران خان Imran Khan صاحب کی چند دن بعد ہونے والی تقریر کے مقابلے میں بے پناہ اہمیت کی حامل ہوگی۔

اس ملاقات کی اہمیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ اس ملاقات سے عین ایک روز قبل ٹرمپ نریندرمودی کے لئے ہوسٹن میں رچائی "Howdy Modi"تقریب سے خطاب کرچکا ہوگا۔ اس تقریب میں پچاس ہزار بھارتی Indian نژاد امریکی موجود ہوں گے۔ٹیکساس میں ٹرمپ کی مقبولیت گزشتہ چند مہینوں سے بہت کم ہورہی ہے۔ انتخابی عمل پر نگاہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کو یہاں سے شاید اکثریت نہیں مل پائے گی۔غیر ملکی تارکینِ وطن نے ٹیکساس کا ’’نسلی توازن‘‘ بدل دیا ہے۔یہ تارکینِ وطن کسی ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار کو یکجاہوکر ووٹ ڈالیں گے۔ "Howdy Modi"والی تقریب میں ٹرمپ آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے بھی شریک ہورہا ہے۔

بھارتی Indian نژاد امریکی ووٹروں کے دل جیتنے کے ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ کو اپنے America Firstوالے نعرے پر بھی توجہ دینی ہے۔ چین China کے ساتھ اس کی تجارتی جنگ جاری ہے۔وہ اس ضمن میں ابھی تک کچھ حاصل کرتا دِکھ نہیں رہا۔ بھارت India سے بھی وہ اس ضمن میں ناراض رہا کیونکہ اس کی دانست میں امریکہ United States کو اس وقت باہمی تجارت میں سالانہ اربوں ڈالر کا خسارہ ہورہا ہے۔مودی سرکار نے "Howdy Modi"سے قبل لیکن ایک معاہدہ تیار کرلیا ہے جو ٹرمپ کو یہ بڑھک لگانے کے لئے ’’حقائق‘‘ فراہم کرے گا کہ بھارت India کے بازار امریکی مصنوعات کے لئے ’’کھول‘‘ دئیے گئے ہیں۔امریکی مصنوعات کے علاوہ مودی ٹیکساس میں بنائی کمپنیوں سے اپنے ملک کے لئے تیل اور گیس خریدنے کے معاہدوں پر بھی دستخط کرے گا۔

بھارت India سے اپنی ترجیح کے ’’اہداف حاصل کرلینے‘‘ کی خوشی میں مبتلا ٹرمپ عمران خان Imran Khan صاحب سے ملاقات کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کو زیر بحث لانے میں شاید کماحقہ دلچسپی نہ لے۔عمران خان Imran Khan صاحب کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اسے ان حالات پر توجہ دینے کو قائل کریں اور اپنی ملاقات کے اختتام پر اس کے منہ سے چند ایسے کلمات ادا کروائیں جو ٹھوس اعتبار سے یہ عندیہ دیں کہ امریکی حکومت مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنے کو تیار ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کے قیامِ امریکہ United States کے دوران ہوئی ملاقاتوں کی بدولت مقبوضہ وادی کی وسیع وعریض جیل میں محصور ہوئے 80لاکھ کشمیریوں میں امید کی گنجائش پیدا نہ ہوئی تو وہاں پھیلی مایوسی سنگین تر ہوجائے گی۔اس مایوسی کا شکوہ پاکستان Pakistan سے شروع ہوجائے گا۔ہمیں امید کی لو کو ہر صورت جلائے رکھنا ہوگا۔یہ بھی ممکن ہے کہ کسی خوشگوار خبر کی توقع سے قطعاََ محروم ہوئے کشمیری نوجوان پاکستانی اور بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کی امریکہ United States میں موجودگی کے دوران اپنی اذیتوں کو یاد دلانے کے لئے کوئی جذباتی قدم اٹھالیں۔ ایسا ہوا تو بھارت India کو ’’دہشت گردی‘‘ کا بیانیہ بدقسمتی سے فروغ دینے میں آسانی ہوگی۔ اس کا الزام یقینا پاکستان Pakistan پر لگاتے ہوئے ’’سبق‘‘ سکھانے کی دھمکیاں دی جائیں گی۔ معاملہ بہت ہی گھمبیر اور پیچیدہ ہے۔خدارا اسے سوشل میڈیا پر چسکہ فروشی اور اپنے تعصبات کے دفاع اور فروغ کی نذر نہ کریں۔انگریزی محاورے والی انگلیاں Crossرکھیں اور ربّ کریم سے خیر کی دُعا مانگتے رہیں۔

 287