جوگرجتے ہیں وہ برستے نہیں

قلم کمان - حامد میر

23 ستمبر 2019

Jo Garjte hen wo Barasty ni

ناکامی یا غلطی کو تسلیم کرنے والے لوگ بہادر کہلاتے ہیں۔ ناکامی پر بہانے تراشنے اور ناکامی کو چھپانے کیلئے جھوٹ بولنے والے لوگ صرف بزدل نہیں بلکہ ناقابل اعتبار بھی ہوتے ہیں۔

پاکستانی قوم سے بھی ایک بہت بڑی ناکامی کو چھپایا جا رہا ہے۔ جو بھی اس ناکامی کی وجہ جاننے کیلئے سوال اٹھائے گا اسے غدار، کرپٹ اور نجانے کیا کیا کہا جائے گا لیکن سوال تو اٹھے گا اور اس مرتبہ غدار اور کرپٹ اہل صحافت کو میڈیا ٹربیونلز سے ڈرانے والوں کو جواب بھی دینا پڑے گا۔

سوال یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کو پاکستان Pakistan کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں یہ دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان Pakistan نے پچاس سے زیادہ ممالک کی حمایت سے ایک مشترکہ بیان پیش کر دیا ہے جس میں بھارت India سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔

بھارت India نے فوری طور پر شاہ محمود قریشی کے اس بیان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ پچاس سے زائد ممالک کی حمایت کا دعویٰ جھوٹ ہے۔

اگلے دن 12ستمبر کو پاکستان Pakistan کے وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں پاکستان Pakistan کی جانب سے پیش کئے گئے بیان کو 58ممالک کی حمایت حاصل ہے اور عمران خان Imran Khan نے ان تمام ممالک کا شکریہ بھی ادا کر دیا۔

بھارت India نے اس بیان کی بھی تردید کر دی لیکن پاکستانی قوم کو یہی بتایا گیا کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر پاکستان Pakistan کو زبردست سفارتی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور 27ستمبر کو وزیراعظم عمران خان Imran Khan اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نریندر مودی narendra modi کو بے نقاب کر دیں گے۔

پاکستان Pakistan کو اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں 19ستمبر تک بھارت India کے خلاف ایک قرارداد پیش کرنا تھی تاکہ اس قرارداد کی روشنی میں مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کی صورتحال پر کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا جا سکے۔ اس قرارداد کو پیش کرنے کیلئے پاکستان Pakistan کو کونسل کے 47میں سے صرف 16رکن ممالک کی حمایت درکار تھی۔

19ستمبر کو دوپہر ایک بجے کی ڈیڈ لائن تھی۔ میں نے صبح سے اسلام آباد Islamabad کے دفتر خارجہ اور جنیوا میں اہم لوگوں سے رابطے شروع کئے تاکہ پاکستان Pakistan کی قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کے نام پتا چل سکیں۔

پہلے کہا گیا فکر نہ کریں تھوڑی دیر میں قرارداد جمع ہونے والی ہے پھر نام بتائیں گے۔

جب ڈیڈ لائن گزر گئی تو کہا گیا کہ قرارداد تو جمع ہی نہیں ہوئی۔ یہ سُن کر میں نے پوچھا کہ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister نے 58ممالک کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا آپ کو تو صرف 16ووٹ درکار تھے پھر قرارداد جمع کیوں نہ ہوئی؟ کہا گیا شاہ محمود قریشی صاحب سے پوچھئے۔ تو جناب سوال بڑا سادہ ہے۔

اگر آپ کے پاس 16ممالک کی حمایت نہیں تھی تو آپ نے 58ممالک کی حمایت کا دعویٰ کیوں کیا اور اگر آپ کے پاس مطلوبہ حمایت موجود تھی تو آپ نے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں قرارداد کیوں جمع نہ کرائی؟ کیا چکر چل رہے ہیں اور کون کس کو چکر دے رہا ہے؟

میرے سادہ سے سوال کا جواب یہ نہیں ہے کہ تم غدار ہو، تم بلیک میلر ہو، تم کرپٹ ہو۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے 47ارکان میں چین China شامل ہے، سعودی عرب Saudi Arabia ، قطر، بحرین، عراق، نائیجیریا، تیونس اور صومالیہ شامل ہیں۔

ان مسلم ممالک کے علاوہ اس کونسل میں ٹوگو، برکینا فاسو، سینی گال اور کیمرون بھی شامل ہیں جو او آئی سی کے رکن ممالک ہیں۔

پاکستان Pakistan ان مسلم ممالک کی حمایت کیوں حاصل نہیں کر سکا؟ اس کونسل میں افغانستان Afghanistan اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔

ان دونوں مسلم ممالک کے عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں لیکن حکومتیں بھارت India کے ساتھ ہیں لیکن کیا پاکستان Pakistan نے ڈنمارک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا حامی ہے؟

اگر 16ممالک کی حمایت نہیں مل سکی تو یہ اس لئے ایک بڑی ناکامی ہے کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل خود اپنی حالیہ رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے لہٰذا اس معاملے کو خصوصی اجلاس میں زیر بحث لانے کیلئے 47میں سے 16ممالک کی حمایت حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

چلیں اگر 16ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا تو کوئی بات نہیں، لیکن ناکامی کو چھپانے کیلئے 58ممالک کی حمایت کا دعویٰ کیوں کیا گیا؟

کیا پاکستانی قوم کے ساتھ جھوٹ بول کر آپ کشمیر کے مقدمے کو مضبوط کر رہے ہیں یا کمزور ؟

اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا اجلاس 27ستمبر کو ختم ہو جائے گا۔ اس دن نیویارک میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنا ہے۔

ہمیں یہ تو نہیں بتایا جا رہا کہ 19ستمبر کو پاکستان Pakistan نے جنیوا میں قرارداد کیوں پیش نہ کی؟ ہمیں بار بار کہا جا رہا ہے کہ 27ستمبر کو عمران خان Imran Khan جنرل اسمبلی میں مودی کے پرخچے اڑا دیں گے۔ اس جنرل اسمبلی میں پہلی دفعہ کوئی پاکستانی وزیراعظم مسئلہ کشمیر Kashmir Issue نہیں اٹھائے گا۔

میں نے اس جنرل اسمبلی میں 1995ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر سنی تھی جس پر میرے ساتھ بیٹھے ہوئے بھارتی Indian صحافیوں کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔

2016ء میں نواز شریف Nawaz Sharif نے اسی جنرل اسمبلی میں کشمیری مجاہد برہان وانی کو خراجِ تحسین پیش کیا تو پورے بھارت India میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ یقیناً عمران خان Imran Khan بھی جنرل اسمبلی میں ایک دھواں دھار تقریر کریں گے لیکن کشمیریوں کو صرف تقریروں کی نہیں عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔

اگر آپ بھارت India سے جنگ نہیں کر سکتے تو کم از کم جنیوا میں 16ممالک کی حمایت سے ایک قرارداد تو پیش کر سکتے تھے لیکن افسوس کہ قرارداد پیش کرنے کے معاملے میں پاکستانی قوم کیساتھ دھوکہ کیا گیا۔

اگر ہم کشمیر کے معاملے پر اپنوں کیساتھ سچ نہیں بولیں گے تو دنیا کو کیا سچ بتائیں گے؟ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کی لڑائی میڈیا نے لڑنا ہے کیونکہ میڈیا فرنٹ لائن آف ڈیفنس ہے۔

یہ لڑائی ہم نے پہلے بھی لڑی تھی، آئندہ بھی لڑیں گے۔ میڈیا ٹربیونلز کی زنجیریں پہن کر بھی لڑیں گے۔

ان زنجیروں کو بھی توڑیں گے اور کشمیریوں کی زنجیروں کو بھی توڑیں گے لیکن خدارا کشمیر کے نام پر دھوکہ دہی بند کی جائے۔ اپنی سیاسی و معاشی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے کشمیر کے نام پر شور نہ مچایا جائے۔

کشمیر کا مسئلہ صرف گرجنے سے نہیں بلکہ برسنے سے حل ہو گا کیونکہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔

 191