میڈیا پر کاٹھی؟

زیر بحث - عارف نظامی

23 ستمبر 2019

Media par Kathi

چیف جسٹس آ ف پاکستان Pakistan آصف سعید کھوسہ نے11ستمبر کو پاکستان Pakistan کے نئے عدالتی سال کے موقع پر اپنے خطاب میںمتنبہ کیا تھا کہ ملک میں اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے آ وازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے ۔ بد اعتمادی سے پید اہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے ۔ ابھی اس خطاب کی بازگشت جاری تھی کہ وفاقی کابینہ نے حالیہ اجلاس میں میڈیا کے لیے خصوصی عدالتیں بنانے کا اعلان کر کے ایٹم بم گرا دیا ۔ معاون خصوصی اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان حکومتی ترجمان کے طور پر جب کابینہ کے فیصلوں کا اعلان کر رہی تھیں تو ان کا دعویٰ تھا کہ یہ سب کچھ پابندیاں لگانے کی خاطر نہیں بلکہ میڈیا کی بہتری کے لیے کیا جا رہا ہے، اس معاملے میں محترمہ محض حکومتی ترجمان نہیں بلکہ وزارت اطلاعات کا قلمدان ہونے کی وجہ سے سٹیک ہولڈر بھی ہیں ۔ اگر یہ سب ان کی آشیرباد اور ملی بھگت سے ہوا ہے تو انتہائی افسوسناک ہے ۔ویسے وزیر اطلاعا ت کو ہی اس مجوزہ کالے قانون کے حوالے سے ذمہ دار ٹھہرانا زیادتی ہو گی اور یہ توقع کرنا کہ کوئی وزیر اپنے باس وزیراعظم کے فیصلے سے اختلاف کر کے ازخود مستعفی ہو جائے گا ایںخیال است محال است وجنوں۔محترمہ جو پیپلزپارٹی چھوڑ کر اسمبلی میں نہ ہونے کے باوجود بڑے پاپڑ بیل کر وزیر بنی ہیں وہ کیونکر مستعفی ہونگی ۔فواد چودھری جب وزیر اطلاعا ت تھے توانھوں نے پی اے آر ایم کا شوشہ چھوڑا تھا جس کا مقصد الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا تھا ۔ ان کے جانے کے بعد یہ معاملہ کچھ دب سا گیا لیکن لگتا ہے کہ میڈیا سے عمران خان Imran Khan صاحب کی خفگی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ میڈیا سے اگر حکمران خوش ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت کو انڈر چیک رکھنے کا منصبی فریضہ بخوبی ادا نہیں کر رہا ۔ جب ایک اینکر نے ان کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے غلط خبر دی تو وہ کچھ زیادہ ہی برہم ہو گئے ۔خان صاحب کا غصہ جائز تھا لیکن اس حوالے سے سزا کچھ زیادہ ہی تھی، متذکرہ چینل کو 3روز کے لیے بند کرا دیا گیا اور بالآخر متنازعہ پروگرام کرنے والے اینکر کی ہی چھٹی ہو گئی اور وہ عارضی جلاوطنی میں چلا گیا حالانکہ حکمرانوں کی عظمت بھی یہی ہوتی ہے کہ ذاتی حملوں پر ناراضگی کا اظہار تو کیا جائے لیکن عفوودرگزر سے بھی کام لیا جائے اور وارننگ کی حد تک معاملہ ٹھیک ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کابینہ کے جس اجلاس میں میڈیا کے خلاف خصوصی قانون بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا اس میں مبینہ طور پر خان صاحب نے بھی میڈیا کو بے نقط سنائیں، اس پر کابینہ کے ارکان کورنش بجا لائے ۔نہ جانے حکومت میں آتے ہی سیاستدانوں کی نظروں سے یہ بات کیوں اوجھل ہو جاتی ہے کہ وہ تواس میڈیا کو منفی اور لفافہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں جو اپوزیشن کے دور میںان کی پذیرائی کرتا رہا ۔ بالخصوص خان صاحب کے معاملے میں تو میڈیا نے حد ہی کر دی ۔ان کا 126روز کا دھرنا ہر روز شام کو بلا ناغہ براہ راست دکھایا جاتا تھا، بالکل ویسے ہی ایک دور میں بانی ایم کیو ایم کی مغلظات الیکٹرانک میڈیا پر تمام پروگرام موخر کر کے لائیو دکھائی جاتی تھیں لیکن ایک بنیادی فرق یہ تھا کہ خان صاحب کے معاملے میں میڈیا رضا کارانہ طور پر اسے خبر سمجھ کر چلا رہا تھا جبکہ ایم کیو ایم کے بانی کی کوریج دھونس کی بنا پر دکھائی جاتی تھی لیکن اس وقت کی حکومت نے تواس پر کوئی پابند نہیں لگائی حالانکہ نوازشریف بھی چاہتے تو کوئی کالا قانون لا کر یا جس انداز میںمریم نواز Maryam Nawaz کو چینلز پر بین کیا گیا ہے خان صاحب کا بھی بلیک آؤٹ کر دیا جاتا لیکن میاں صاحب کو خوب معلوم تھا کہ وہ ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہونگے اور وہ اپوزیشن کے ایک حصے کی بالخصوص پیپلزپارٹی کی ہمدردیاں بھی کھو بیٹھیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت کے اتنے اچھے اور پیارے میڈیا کو اب اقتدار کے ایوانوں سے مطعون کیوں کیا جا رہا ہے ۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ گزشتہ ایک برس سے زائد کے اپنے دور اقتدار میں تحریک انصاف کی حکومت ڈیلیور کرنے سے یکسر قاصر رہی ہے۔اس کا یہ بیانیہ کہ سابق حکومتیں بیڑہ غرق کر گئی ہیں ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر مشتمل اپوزیشن میںسب چور ہیں لہٰذا انھیں نیب کے تحت اندرکیا جا رہا ہے اورہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، کچھ پٹ سا گیا ہے ۔ اس کا ایک بین ثبوت یہ ہے کہ میڈیا پر ہر روز شام کو فروکش ہونے والے خا ن صاحب کے حواری تجزیہ کاروں نے جو پہلے عمران خان Imran Khan کی مالا جپتے اور اپوزیشن کو سخت ترین زبان میں مطعون کرتے رہتے تھے اب اچانک پینترا بدل لیاہے۔ یہ خواتین وحضرات اب اتنی ہی سخت زبان میں خان صاحب کو ان کی مبینہ ناکامیاں اور تضادات تواتر سے گنوا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پرفیک نیوز وبا کی طرح پھیل گئی ہے لیکن اس ناپسندیدہ روایت کا آغاز تو ’خود کھلاڑیوں ‘نے کیا تھا ۔ یقینا میڈیا کو نہ تو مادر پدر آزاد ہونا چاہیے اور نہ ہی شتر بے مہارکی طرح ہر شخص کی پگڑی اچھالنی چاہیے ۔اس کا مداوا کرنے کے لیے ملک میںقانون اور عدالتیں پہلے سے موجودہیں ۔ ایک آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بننے والا بدنام زمانہ پر یس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس سی پی این ای اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی کاوشوں سے 1988ء میں ختم ہوا تھا، اس وقت بھی میںسی پی این ای کا صدر تھا ۔آ ج جو آزادی نظر آ رہی ہے اس آرڈیننس کی تنسیخ کا ہی نتیجہ ہے ۔ اس کالے قانون کے تحت تو کوئی نیا اخبار بھی نہیںنکالا جا سکتا تھا ۔ افسوسناک بات ہے کہ ایک منتخب سیاسی حکومت جو جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہے میڈیا پر کاٹھی ڈالنے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر پیمرا اور سیلف ریگولیٹری پریس کونسل غیرموثرہے تو انھیں موثر بنانے کے لیے میڈیا تنظیموں سے بات چیت ہو سکتی ہے لیکن یہ دعویٰ کر کے کہ پاکستان Pakistan میں میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد ہے ،کو دباؤ میںلانے کی کوشش بدنیتی پر مبنی لگتی ہے۔محترمہ فردوس عاشق اعوان نے پہلے تو یہ کہا کہ اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ کیا گیا ہے لیکن اس کی دوٹوک تردید کی گئی تو کہا کہ مشاورت کی جائے گی اور یہ بھی کہا کہ ابھی قانون کا ڈرافٹ بھی نہیں بنا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈرافٹ بھی تیار نہیں ہوا تو کابینہ نے کس کی منظور ی دی ہے ۔ معاون خصوصی اطلاعات نے میڈیا میں تقسیم کے لیے یہ شوشہ بھی چھوڑا کہ مجوزہ ٹریبونلز تو ورکروں کو 90روز میں ان کے حقوق دلانے کے لیے بنائے جا رہے ہیں لیکن صحافیوں کی تنظیمیں بھی ان کے ٹریپ میں نہیں آئیں اور انھوں نے مجوزہ کالے قانون کو مستردکر دیا ہے، انھیں معلوم ہے کہ ویج بورڈ اور واجبات کے حوالے سے آ ئی ٹی این ای کا ادارہ موجود ہے جو فعال بھی ہے ۔امید ہے کہ حکومت اس قانون کے خلاف اندرونی اور بین الاقوامی طور پر شدید ردعمل کے بعد اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan نے اپنے کلیدی خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ سوموٹو نوٹس ازخود لیاجاتا ہے ۔ میڈیا کی جو درگت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے سوموٹو نوٹس لینے کا اس سے بہتر اورکون سا کیس ہے ۔ سی پی این ای بھی عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے ۔

 105