وزیراعظم اپنے ’’ترجمانوں‘‘ کی مجبوریوں کا ادراک کریں

برملا - نصرت جاوید

19 ستمبر 2019

Prime Minister apne Wazeron ki majbori samjhen

بدھ کے روز جو کالم چھپااسے پڑھ کر نواز شریف Nawaz Sharif صاحب کے کئی چاہنے والے ناراض ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ آرائی کے علاوہ کچھ لوگوں نے براہِ راست فون پر رابطہ بھی کیا۔ مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر سابق وزیر اعظم Prime Minister کو ڈیل یا ڈھیل مل گئی تو سیاسی کشیدگی میں نمایاں کمی ہوجائے گی۔’’استحکام‘‘ کا ماحول بن جائے گا۔استحکام بازار میں پھیلی کسادبازاری کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

وہ خفا تھے کہ ان کی دانست میں اپنے کالم کے ذریعے میں نے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی ہے کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ ڈیل یا ڈھیل سے خلقِ خدا کی بے پناہ اکثریت کو جو تنخواہ داروں اور کم آمدنی والوں پر مشتمل ہے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اس سے ’’گریز‘‘ کامشورہ دیتا محسوس ہوا۔ میں نہایت احترام سے ان کا شکوہ سنتا رہا۔ اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہ کہا۔

اس کالم کے ذریعے مگر انتہائی دیانت داری سے یہ بیان کرنے کو مجبور ہوں کہ ہمارے مقدر کے مالک اگر سابق وزیر اعظم Prime Minister کو ڈیل یا ڈھیل دینا چاہیں گے تو میرے ’’مشوروں‘‘ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ شریف خاندان اس وقت اپنی زندگی کے انتہائی کڑے ایام سے گزررہا ہے اور میں نے اپنے بدترین دشمنوں کے لئے بھی ہمیشہ خیر کی دُعا مانگی ہے۔

چند دنوں سے اس کالم کے ذریعے فقط یہ بیان کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ پاکستان Pakistan میں پھیلے عدم اطمینان کا واحد سبب سیاسی کشیدگی ہی نہیں ہے۔ معاملات کو سنگین تر بنانے میں اس نے یقینا اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کا خاتمہ معاملات کو بہتری کی جانب موڑنے میں مدد گارہوگا۔ہمارے اقتصادی حالات کی ’’گوٹ‘‘ مگر IMFکے ساتھ ہوئے معاہدے میں پھنس چکی ہے۔اس معاہدے پر کامل عمل درآمد کے لئے 39مہینوں کا وقت طے ہوا ہے۔تین برس سے زائد عرصہ کی اذیت ومشقت ہے۔ان برسوں کے دوران ساری توجہ اس ہدف پر مرکوز رہے گی کہ ریاستِ پاکستان Pakistan اپنے اخراجات کو میرے اور آپ سے لئے ٹیکسوں کے ذریعے چلائے۔ ہمارے گھروں میں جو بجلی فراہم ہورہی ہے کہ حکومت ان کے نرخوں کو قابل برداشت سطح پر قائم رکھنے کے لئے قومی خزانے سے رقوم Subsidyکی صورت خرچ نہ کرے۔ ہمارے چولہوں کو مہیا ہوئی گیس کے ضمن میں بھی یہی رویہ اختیار کیا جائے۔

IMFسے جو معاہدہ ہوا ہے اس کی شرائط بہت کڑی ہیں۔ان پر عملدرآمد کسی بہتری کی امید دلاتا نظر نہیں آرہا۔سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ہمارے سیاست دان اور میڈیا کے بااثر لوگ ان شرائط کو عام فہم زبان میں خلقِ خدا کو بر وقت سمجھا نہیں پائے۔ ساری توجہ کرپشن اور منشیات کے الزامات کے تحت پکڑ دھکڑ پر مرکوز رہی۔اس کے بعد گرما گرم مباحثے اس موضوع پر جاری رہے کہ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو قومی اسمبلی آنے کی اجازت کیوں دی جائے۔ جیل میں رکھے حضرات کو ’’وی آئی پی‘‘ سہولتیں نہ ملیں۔ قانون ’’سب کے لئے مساوی‘‘نظر آئے۔

کرپشن کے خلاف برپا سیاپا فروشی کی وجہ سے ہمیں احساس تک نہ ہوا کہ ایک عالمی ادارے یعنی IMFکے ساتھ عمران حکومت نے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان Pakistan نے ایک معاہدہ پر دستخط کرلئے ہیں۔اس معاہدے سے روگردانی اسی صورت ممکن ہے اگر عالمی مالیاتی نظام پرحتمی کنٹرول کے حامل امریکہ United States جیسے ممالک کو اس کے عوض ریاستِ پاکستان Pakistan سے ’’کچھ ملتا‘‘ نظر آئے۔ ٹھنڈے دل سے ہمیں یہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے کہ ہماری معیشت میں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے ہم سے ’’کیا‘‘ طلب کیا جاسکتا ہے یا کیاجارہا ہے۔ٹی وی سکرینوں پر لگے تماشے ہمیں اس جانب توجہ دینے کی مہلت ہی نہیں دے رہے۔

پنجابی کا ایک محاورہ اکثر یاددلاتا رہتا ہوں جو اصرار کرتا ہے کہ ہاتھوں سے لگائی گرہیں بسااوقات دانتوں کے استعمال سے کھولنا پڑتی ہیں۔سوال اٹھتا ہے کہ ہماری معیشت میں جمود پیدا کرنے کے لئے گرہیں لگانے کا آغاز کب، کیسے اور کہاں سے ہوا۔ ان گرہوں کی دریافت کے بعد ہی انہیں کھلونے کی راہ ڈھونڈی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ ’’گرہیں‘‘ فقط پاکستان Pakistan ہی میں لگی نظر نہیں آرہیں۔ مثال کے طورپر برطانیہ دنیا کا قدیم ترین جمہوری ملک ہے۔وہاں کی اشرافیہ بہت کائیاں شمار ہوتی ہے۔اس کے ٹھنڈے مزاج کی وجہ سے برطانیہ کی تاریخ میں ’’انقلاب‘‘ اور ’’خانہ جنگی‘‘ کی وہ صورتیں نظر نہیں آئیں جو فرانس اور سپین جیسے ممالک پر اکثر نازل ہوتی رہیں۔ ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہوا یہ نظام بھی لیکن Brexitکی وجہ سے انتشار کا نشانہ بن چکا ہے۔

عوامی جذبات کو بے بنیاد ’’حقائق‘‘ کو منظر عام پر لاتے ہوئے بھڑکایا گیا۔اکثریت کو قائل کردیا گیا کہ یورپی یونین کا رکن ہونے کی وجہ سے برطانیہ اپنی ثقافت سے محروم ہورہا ہے۔اس کی ’’خودمختاری‘‘ خطرے میں ہے۔زراعت تباہ ہوگئی۔ فیکٹریاں بند ہوگئیں۔ بے روزگاری پھیلی۔برطانیہ میں رونق لگانے کے لئے یورپی یونین سے جدائی لازمی دکھائی گئی۔

بے بنیاد ’’حقائق‘‘ کے فروغ نے برطانوی عوام کی اکثریت کو یورپی یونین سے علیحدگی کے سوال پر ہوئے ریفرنڈم میں Exitکی حمایت میں ووٹ ڈالنے کو مجبور کردیا۔ریفرنڈم میں یورپی یونین سے جدائی کی حمایت حاصل کرنے کے باوجود حکومت کو یورپی یونین سے الگ ہوجانے کا حوصلہ نصیب نہ ہوا۔تھریسامے نے استعفیٰ دیا۔ اس کی جگہ بورس جانسن وزیر اعظم Prime Minister بنا ہے اور اب دنیا میں قائم تمام پارلیمانوں کی ’’ماں‘‘ کہلاتی برطانوی پارلیمنٹ کو معطل کرتے ہوئے 31اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدگی کو تلابیٹھا ہے۔برطانوی اشرافیہ کو ہرگز سمجھ نہیں آرہی کہ وہ Brexitکی وجہ سے لگائی گرہیں کیسے کھولے۔

IMFکے ساتھ ہوا معاہدہ میری عاجزانہ رائے میں پاکستان Pakistan کا Brexitہے۔ اس کی وجہ سے جو کسادبازاری مسلط ہوئی ہے،تنخواہ دار اور کم آمدنی والے طبقات کی زندگی مسلسل اجیرن ہورہی ہے۔اس سب کا سیاسی خمیازہ عمران خان Imran Khan اور ان کی جماعت کو بھگتنا ہوگا۔

IMFکے ساتھ ہوئے معاہدے پر کامل عمل درآمد کے لئے ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب کو وزارتِ خزانہ کے منصب پر بٹھایا گیا ہے۔انہوں نے وزارت کا عہدہ حاصل کرتے ہوئے اپنے گلے میں وہ ’’پٹہ‘‘ بھی نہیں پہنا جو تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت کے لئے عمران خان Imran Khan کے ہاتھوں پہنایا جاتا ہے۔حفیظ شیخ صاحب کی چلائی پالیسیوں کے دفاع کے لئے مگر 35سے زیادہ ’’ترجمان‘‘ تعینات ہیں۔وزیر اعظم Prime Minister صاحب ان ’’ترجمانوں‘‘ سے خفا رہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ترجمان حکومت کی اچھی اور مثبت باتیں لوگوں کے سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں۔’’ترجمانوں‘‘ کو مگر یہ باتیں دریافت کرنے میں بہت دِقت محسوس ہورہی ہے۔

’’ترجمانوں‘‘ سے مجھے واقعتا دلی ہمدردی ہے۔وہ کسی صورت اس حقیقت کا دفاع نہیں کرسکتے کہ میرے اور آپ کے گھروں میں آئے بجلی کے بل ناقابلِ برداشت ہوتے رہیں اور حکومت چند سیٹھوں کے مخصوص گروہ کو ’’کاروبار میں آسانی‘‘ کے نام پر رعایتیں دیتی چلی جائے۔ ماضی کی حکومت کی مبینہ ’’لوٹ مار‘‘ کی داستانیں سناتے ہوئے کب تک کام چلائیں۔ تنخواہ دار یا کم آمدنی والے طبقات کو محض یہ بتاتے ہوئے مطمئن نہیں رکھا جاسکتا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ عام قیدیوں والا برتائو ہورہا ہے۔

ایک ’’عام قیدی‘‘ ہوتے ہوئے نواز شریف Nawaz Sharif سے جیل میں فقط ان کے ’’خونی رشتے دار‘‘ ہفتے میں ایک دن یعنی جمعرات کے روز چند گھنٹے کے لئے مل سکتے ہیں۔ قانون ’’سب کے لئے برابر ہوگیا‘‘- تالیاں۔ ’’برابری‘‘ کے اطلاق کے بعد مگر شہباز شریف Shehbaz Sharif صاحب کو خواجہ آصف اور احسن اقبال کے ہمراہ پیر کے روز نواز شریف Nawaz Sharif سے ملاقات کی ’’خصوصی اجازت‘‘کیوں دی گئی۔ اس سوال کا جواب وہ ’’ترجمان‘‘ ہرگز فراہم نہیں کرسکتے جو گزشتہ کئی دنوں سے ٹی وی سکرینوں پر سینہ پھیلاتے ہوئے حقارت سے ہمیں یاد دلاتے رہے کہ نواز شریف Nawaz Sharif ایک ’’سزا یافتہ مجرم‘‘ ہیں۔ ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو عام مجرموں کا مقدر ہوتا ہے۔وزیر اعظم Prime Minister صاحب کو اپنے ’’ترجمانوں‘‘ کی مجبوریوں کا ادراک ہونا چاہیے۔ ان ’’ترجمانوں‘‘ کے ذریعے اصل مسائل اور سوالات کو زیر بحث لانے کی راہ نکالیں۔

 173