راشٹریہ سیوک سنگھ کا آتنک وادی …(1)

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

19 ستمبر 2019

Rashtariya Sevik singh ka atanak wadi

سننے میں آیا ہے کہ نریندر مودی narendra modi آج کل عرب دنیا سمیت مختلف ممالک کے سربراہوں سے بھیک مانگتا پھر رہا ہے کہ بھگوان کے لیے عمران خان Imran Khan کو مجبور کریں کہ وہ اسے ''ہٹلر‘‘ کہہ کر نہ پکاریں کیونکہ ہٹلر کے خطاب سے دنیا بھر میں اس کا امیج خراب ہو رہا ہے۔ یہ بات کہاں تک درست ہے‘ اس بارے میں تو وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ نریندر مودی narendra modi کو ہٹلر کا خطاب وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے تو ایک ڈیڑھ ماہ پہلے دیا‘ جبکہ راقم آج سے تین سال قبل دو ستمبر 2016 کو ''آج کا ہٹلر‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے اپنے کالم میں مودی کو یہ خطاب دے چکا ہے۔ 13 ستمبر کو مظفر آباد کے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے نریندر مودی narendra modi پر اپنے بچپن ہی سے بھارت India کی دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کا بنیادی رکن ہونے کا جو الزام لگایا‘ وہ سو فیصد درست اور سچ پر مبنی ہے۔ میری آج کی تحریر کا موضوع بھی یہی ہے۔ یہ نریندر مودی narendra modi کی پیدائش سے لے کر اب تک کی کہانی ہے۔ یہ بیان کہ راشٹریہ سیوک سنگھ میں رہتے ہوئے مودی کیسی دہشت گردی کے مرتکب ہوتا رہا۔ پانچ اگست سے تا حال وادیٔ کشمیر پر سخت ترین کرفیو کا جبر ٹھونسنے والا نریندر مودی narendra modi جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے اگلے ہفتے امریکہ United States پہنچنے والا ہے۔ کیا یورپی یونین، انگریز اشرافیہ‘ امریکی اراکین سینیٹ اور کانگریس سمیت فری میڈیا اور ہیومن رائٹس کی درجنوں تنظیمیں کسی ایسے شخص کی پذیرائی کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں کریں گی‘ جس نے کرکٹ سمیت دنیا کے ہر کھیل کو راشٹریہ سیوک سنگھ کی انتہا پسندی کا شکار بنا رکھا ہے؟ نریندر مودی narendra modi اپنی سکیورٹی فورسز کے آٹھ لاکھ سے زائد جنونیوں کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں جبر اور انسانیت سوزی کی نئی داستان رقم کر رہا ہے۔ ایسے میں جاپان‘ کینیڈا اور ان جیسے دوسرے مہذب اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والے معاشرے مودی جیسے قاتل کو اپنے پہلو میں جگہ دینا کس طرح پسند کریں گے؟ بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کا سربراہ امیت شاہ بھارتی Indian سپریم کورٹ کے ذریعے 69 افراد کے قتل کا ذمہ دار قرار پا چکا ہے۔ ایسے شخص کو بھارت India کا وزیر داخلہ بنانے والے کو ملکہ برطانیہ اور ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی قیامتوں کا سامنا کرنے والی مہذب جاپانی قوم کس طرح قبول کرے گی؟ ایک ایسا شخص جو 1969 تا 1973‘ پانچ سال زیر زمین دہشت گردی میں ملوث رہا ہو‘ اسے اقوام متحدہ کس حوالے سے خوش آمدید کہنے کی ہمت کرے گی؟ ایک ایسا شخص‘ جس کی جماعت آر ایس ایس RSS بھارت India میں بسنے والے مسلمانوں، عیسائیوں‘ دلتوں اور دوسری اقلیتوں کو جانوروں سے بھی بد تر سمجھتی ہو‘ تہذیب یافتہ قوموں کے لیے کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟

17 ستمبر 1950 کو شمالی گجرات (انڈیا) کے گائوں وید نگر کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے نریندر مودی narendra modi کا باپ تیلی تھا۔ وہ دیہات کی گلیوں میں پھیری لگا کر سرسوں کا تیل بیچتا تھا۔ گھر میں مفلسی کا راج تھا؛ چنانچہ اخراجات پورے کرنے کیلئے مودی سکول سے چھٹی ہونے کے بعد اپنے بڑے بھائی کے ساتھ گائوں سے کچھ فاصلے پر واقع بس سٹاپ پر چائے بنا کر بیچا کرتا تھا۔ مودی کے سکول ریکارڈ کے مطابق وہ ایک عام سے ذہن کا طالب علم تھا؛ البتہ ڈراموں اور تقریری مقابلوں میں اس کی کارکردگی بہترین ہوتی تھی اور یہی اداکاری‘ ناٹک بازی اور تقریری تجربہ اسے پہلے وزیر اعلیٰ اور پھر وزیر اعظم Prime Minister کی مسند تک لانے میں معاون بنا۔ 13 سال کی عمر میں ہی نریندر مودی narendra modi کو انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کی ذیلی طلبا تنظیم ''اکھیل بھارتی Indian ہ ودیارتھی پریشد‘‘ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ جیسے ہی وہ مڈل سکول تک پہنچا تو راشٹریہ سیوک سنگھ نے اسے اپنی باقاعدہ رکنیت دیتے ہوئے اپنے پروپیگنڈا سیل میں شامل کر لیا‘ جہاں اسے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کرنے اور ہندو ازم کے پمفلٹ تقسیم کرنے کا فرض سونپ دیا گیا۔ نریندر مودی narendra modi جب 18 سال کا ہوا تو اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کر دی لیکن وہ شادی کے صرف تین ماہ بعد ہی اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ گیا۔ سسرال کی بڑی عورتوں اور گائوں کے لڑکوں اور مردوں کے روز روز کے طعنوں سے بھاگ کر وہ راجکوٹ میں رام کشن مشن میں شامل ہو گیا۔ کچھ عرصہ راجکوٹ میں رہنے کے بعد اس نے 1970 میں Belur Math مغربی بنگال کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور کوئی دو سال یہاں رہنے کے بعد پھر ہمالیہ میں آر ایس ایس RSS کے زیر زمین کیمپوں میں جا بسا‘ جہاں اسے سخت گوریلا ٹریننگ کے مراحل سے گزارا گیا۔ نریندر مودی narendra modi مشرقی پاکستان Pakistan میں مکتی باہنی کی شکل میں پاکستانی فوج کے خلاف گوریلا کارروائیوں میں شامل رہا۔ اپنی چند تقریروں میں وہ اس طرف اشارہ بھی کر چکا ہے کہ بنگلہ دیش کی علیحدگی میں ہم سب (آر ایس ایس RSS والوں) کا کوئی نہ کوئی حصہ ہے۔ نریندر مودی narendra modi نے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے حوالے سے آر ایس ایس RSS کیلئے انتہائی مشکل اور اہم ترین خدمات انجام دیں۔ اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آر ایس ایس RSS نے اسے ہمالیہ سے نئی دہلی بھجوا دیا۔ نریندر مودی narendra modi کی زندگی کے یہ پانچ سال جو اس نے مغربی بنگال اور ہمالیہ میں گزارے انتہائی پراسرار سمجھے جاتے ہیں کیونکہ مشہور ہے کہ ان پانچ سالوں میں اس نے گوریلا جنگ کی مہارت حاصل کرنے کے بعد راشٹریہ سیوک سنگھ کی ہدایات پر کیرالہ، آسام، پنجاب، مہاراشٹر، بہار اور اتر پردیش میں سکھ، عیسائی اور مسلم کمیونٹی کے خلاف دہشت گردی کے بہت سے خطرناک مشن مکمل کئے اور ان خدمات کی وجہ سے اسے آر ایس ایس RSS کی سیکرٹ سنٹرل کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا۔ 1974 میں ایک دن اچانک نریندر مودی narendra modi نئی دہلی جا پہنچا لیکن اندرا گاندھی کی جانب سے ایمرجنسی کا نفاذ ہوتے ہی سب سے پہلے ان کی سرکار نے آر ایس ایس RSS پر پابندیاں عائد کر دیں‘ جس سے اس انتہا پسند ہندو تنظیم کے دوسرے کئی لوگوں کی طرح نریندر مودی narendra modi کو بھی 1975-77 کے عرصے میں انڈر گرائونڈ جانا پڑ گیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب حالات معمول پر آنے لگے تو نریندر مودی narendra modi کو دہلی یونیورسٹی میں داخل کرا دیا گیا‘ جہاں سے اس نے پولیٹیکل سائنس میںگریجوایشن اور پھر 1983 میں گجرات یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔

راشٹریہ سیوک سنگھ کیلئے اس کی انجام دی جانے والی خطرناک مہمات اور سونپے جانے والے انتہائی خفیہ مشنوں میں اس کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے 1987 میں نریندر مودی narendra modi کو آر ایس ایس RSS کا آرگنائزنگ سیکرٹری اور پھر 1995 میں بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کا سیکرٹری نامزد کر دیا گیا۔ 1998 میں نریندر مودی narendra modi کو بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی نے اپنا مرکزی سیکرٹری اور پھر صرف تین سال بعد 2001 میں گجرات اسمبلی کے انتخابات جیتنے کے بعد گجرات کے وزیر اعلیٰ کیلے اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ گجرات کی وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے ایک سال بعد 2002 میں مودی نے اپنی نگرانی میں مسلمانوں کے خلاف گجرات کے بدنام زمانہ فسادات کروا کر تین ہزار سے زائد مسلمان بچوں، عورتوں اور مردوں کا قتل عام کرایا تھا۔ ان فسادات نے اسے ہندو ذہنیت کا بھگوان بنا دیا اور اسی انتہا پسندی کی آگ نے 2014 میں اسے بھارت India کے وزیر اعظم Prime Minister کی مسند پر لا بٹھایا۔ یہ حقیقت ہے کہ گجرات کے فسادات نہ کرائے جاتے تو مودی کبھی بھی بھارت India کی انتہا پسندانہ ہندو سوچ کے بل بوتے پر ایل کے ایڈوانی کی جگہ وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد نہ ہوتا۔

اندرا گاندھی نے جب ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا تو نریندر مودی narendra modi نے آر ایس ایس RSS کے ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین سرگرمیاں شروع کر دیں تھیں۔ ''ایمرجنسی ان گجرات‘‘ کے عنوان سے اس نے کتاب بھی لکھی‘ لیکن ان دنوں کشمیر میں مودی کی بربریت اور نازی ازم جیسی بد ترین ایمرجنسی اور کرفیو پر کل کو لکھی جانے والی کسی کتاب کیلئے تاریخ اپنا ریکارڈ محفوظ کر رہی ہے۔ (جاری)

 165