سوچنے کا وقت گزر چکا!

کل اور آج - عمار چوہدری

19 ستمبر 2019

Sochne ka waqt Guzar chuka

دنیا میں اس وقت چار بڑی عالمی آئی ٹی کمپنیاں ہیں۔ گوگل‘ ایپل‘ فیس بک اور ایمیزون۔ یہ چاروں کمپنیاں دنیا بھر میں چھائی ہوئی ہیں۔ یہ بگ فور کے نام سے جانی جاتی ہیں اور ان کمپنیوں کا کل معاشی حجم دنیا کے ایک سو بائیس ممالک کے سالانہ جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ ہم میں سے اکثر گوگل‘ ایپل اور فیس بک سے واقف ہیں۔ ہم روزانہ گوگل کی ویب سائٹس‘ اس کی ای میل اور مختلف ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہیں‘ کچھ لوگوں کے پاس ایپل کا موبائل فون بھی ہے اور ہم روزانہ کئی گھنٹے فیس بک پر بھی گزارتے ہیں‘ لیکن ہم میں سے اکثر لوگ ایمیزون سے واقف نہیں‘ اور جو واقف ہیں وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ایمیزون پاکستان Pakistan میں آپریٹ ہی نہیں کرتا۔ ایمیزون پاکستان Pakistan میں کیوں نہیں آ سکا‘ یہ ہے کیا اور اس کے پاکستان Pakistan آنے کے کیا فائدے ہو سکتے ہیں؟ یہ بتانے سے قبل میں آپ کو بھارتی Indian شہر حیدر آباد لئے چلتا ہوں جہاں تین ہفتے قبل ایمیزون کی امریکہ United States سے باہر سب سے بڑی عمارت کا افتتاح ہوا جو ساڑھے نو ایکڑ یا اٹھارہ لاکھ مربع فٹ پر کھڑی ہے۔ تین سو فٹ بلند یہ عمارت پندرہ ہزار ملازمین کی گنجائش رکھتی ہے۔ اس میں کل انچاس لفٹس ہیں جو ایک سیکنڈ فی منزل کی رفتار سے بیک وقت 972 لوگوں کو لے جانے کی گنجائش رکھتی ہیں۔ 39 ماہ میں تعمیر ہونے والی اس عمارت میں روزانہ دو ہزار سے زائد مزدوروں نے حصہ لیا۔ ایمیزون کے علاوہ گوگل‘ ایپل‘ فیس بک اور دنیا کی دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاقائی مرکزی دفاتر بھی حیدر آبا د میں ہی قائم ہیں۔ اس عمارت کے بعد گوگل بھی حیدر آباد میں امریکہ United States سے باہر اپنا سب سے بڑا دفتر بنانے والا ہے‘ جس سے بھارت India کے آئی ٹی کے شعبے میں زبردست ہلچل مچ جائے گی‘ ہزاروں بلکہ لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی اور بھارت India کا زر مبادلہ اربوں ڈالر بڑھ جائے گا۔ ہم اب ایمیزون کی جانب آتے ہیں۔ ایمیزون ایک امریکی شہری جیف بیزوس نے 1996ء میں آن لائن بک سٹور کے طور پر لانچ کیا۔ ایمیزون جنوبی امریکہ United States میں بہت بڑا دریا بھی ہے۔ جیف بیزوس نے اپنے آن لائن بک سٹور کو ایمیزون دریا سے کہیں بڑا کتابوں اور بعد ازاں الیکٹرانکس اور دیگر اشیا کا سمندر بنا دیا۔ جیف نے ایمیزون کی شروعات اپنے گھر کے گیراج میں رکھے تین کمپیوٹرز سے کی۔ جیف کے والد نے جیف کو ابتدائی سرمایہ کاری کے لئے تین لاکھ ڈالر دیتے ہوئے اس کی ماں سے پوچھا تھا کہ انٹرنیٹ کیا ہوتا ہے۔ جیف کی والدہ بولی‘ ہم یہ پیسہ انٹرنیٹ نہیں بلکہ اپنے بیٹے کے اعتماد پر لگا رہے ہیں۔ جیف کے والدین کمپنی کے چھ فیصد کے مالک تھے اور 2000ء میں کمپنی کے عروج کے باعث ارب پتی بن گئے۔ ابتدا میں جیف گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کتابوں کے پیکٹ بناتا اور خود کوریئر کمپنی کے دفاتر تک پہنچاتا۔ ایمیزون کے لئے ٹرننگ پوائنٹ 2007ء میں اس وقت آیا جب ایمیزون نے کِنڈل سافٹ ویئر لانچ کیا۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے کتابیں ڈائون لوڈ کرکے موبائل‘ کمپیوٹر اور ٹیب میں بھی پڑھی جا سکتی تھیں۔ کِنڈل کے مارکیٹ میں لانچ ہوتے ہی چھ گھنٹے میں اس کا سارا ریکارڈ فروخت ہو گیا۔ یہ اتنی بڑی کامیابی تھی جس کا خود جیف بیزوس کو اندازہ نہ تھا۔ کِنڈل ریڈر کے ذریعے ایمیزون نے امریکہ United States کے پچانوے فیصد ای ریڈرز شیئر پر قبضہ کر لیا۔ یہ کمپنی اتنی تیزی سے اُٹھی کہ آج 1996ء میں تین لوگوں سے شروع ہونے والی کمپنی میں پانچ لاکھ چھیاسٹھ ہزار ملازمین ہیں اور جیف بیزوس 112 بلین ڈالر billion dollor کے ساتھ دنیا کے سب سے امیر آدمی بن چکے ہیں۔ ایمیزون کے اس وقت پوری دنیا میں سولہ کروڑ کسٹمر ہیں۔ ایمیزون واحد کمپنی ہے جو زیرو مارکیٹنگ بجٹ کے ساتھ اس مقام تک پہنچی۔ جیف نے خریداری کو اتنا آسان بنا دیا کہ لوگ دیگر آن لائن سٹورز چھوڑ کر ایمیزون پر آ گئے۔ یہاں انہیں آرڈر کرنے میں کم وقت لگتا‘ ان کا آرڈر انہیں بروقت ملتا اور وہی چیز ملتی جو نیٹ پر دکھائی جاتی۔ ان خصوصیات کی بنا پر صارفین اپنے دوستوں اور رشتے داروں میں ایمیزون کا چرچا کرنے لگے۔ گزشتہ دنوں جیف بیزوس کی آمدنی کی تفصیل شائع ہوئی۔ آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہ جیف بیزوس کی آمدن میں 70 کروڑ روپے فی گھنٹہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ یومیہ 16ارب اور ماہانہ پانچ کھرب بنتے ہیں۔ اس حساب سے جیف بیزوس سالانہ ساٹھ کھرب روپے کما رہا ہے۔ یہ گزشتہ برس آمدن میں دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ یہ سب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باعث ممکن ہوا۔ جیف بیزوس اگر کتابوں کو آن لائن فروخت نہ کرتا تو وہ چاہے پورے امریکہ United States میں ایک ہزار کتابوں کی دکانیں بنا دیتا تب اس آمدن کا سواں حصہ بھی حاصل نہ کر پاتا؛ چنانچہ آج اگر بھارت India میں ایمیزون اتنی بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے‘ وہ بھارتی Indian نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دے رہا ہے تو اس سے بھارت India کی معیشت میں بھی زبردست تبدیلی آئے گی۔

اب ہم پاکستان Pakistan کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان Pakistan میں ایمیزون نہ آنے کی ایک بڑی وجہ پے پال کا نہ ہونا ہے۔ پے پال آن لائن پے منٹ کا مقبول ترین عالمی ذریعہ ہے جسے کروڑوں صارفین بغیر کسی جھجک کے آن لائن خریداری کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ پے پال کے پاکستان Pakistan نہ آنے کی وجہ سے صرف ایمیزون ہی پاکستان Pakistan نہیں آ سکا بلکہ اس سے فری لانسنگ کرنے والے دو سے تین لاکھ پاکستانیوں کو بھی بڑی مشکلات درپیش ہیں۔ وہ بیرون ملک کمپنیوں کیلئے کام کرتے ہیں لیکن اپنے کام کی رقم وصول کرنے کیلئے انہیں ایک لمبا چکر کاٹنا پڑتا ہے۔ بہت کم عالمی کمپنیاں پاکستان Pakistan کے ساتھ آن لائن ادائیگی کیلئے منسلک ہیں اور جو ہیں وہ بہت زیادہ کٹوتی کرتی ہیں۔ اگر پے پال جیسے مسائل دور کر لئے جاتے ہیں تو ایمیزون اور دیگر عالمی کمپنیاں بھارت India کی طرح پاکستان Pakistan کو بھی اپنے لئے سازگار سمجھ سکتی ہیں اور اس سے پاکستان Pakistan کی اس نوجوان نسل کو بہت فائدہ ہو گا جو بیروزگاری کی وجہ سے دربدر بھٹک رہی ہے۔ ان مسائل کے ہوتے ہوئے بھی پی آئی ٹی بی کے پلان نائن جیسے پلیٹ فارمز سے ایک سو ساٹھ سٹارٹ اپس اربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کر چکے ہیں اور ذرا سوچیں کہ اگر یہ مسائل حل ہو گئے تو یہ ریونیو کہاں جائے گا۔ حکومت کو بھی یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس وقت آئی ٹی کے علاوہ کوئی بھی سیکٹر ایسا نہیں جہاں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں نوکریاں دی جا سکیں۔ پاکستان Pakistan میں ٹیکنالوجی کے بغیر نہ تو معیشت بہتر ہو گی اور نہ روزگار مل سکے گا۔ یہاں گزشتہ دو تین برسوں سے دہشتگردی بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے دنیا یہاں کا رخ نہیں کرتی تھی۔ لوڈشیڈنگ کی صورتحال بھی خاصی بہتر ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ بگ فور میں شامل کوئی بھی کمپنی پاکستان Pakistan میں کام کرنے اور یہاں بڑی سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں۔ اس کیلئے حکومت کوئی ٹاسک فورس بنائے یا پھر کمیٹی بنا کر کوئی فوکل پرسن مقرر کرے اور اس ٹاسک فورس میں ملک کے نامی گرامی آئی ٹی کے ماہرین کو شامل کیا جائے۔ بیرون ملک گوگل جیسے اداروں یا عالمی یونیورسٹیوں سے جو پاکستانی منسلک ہیں انہیں بلایا جائے اور ان کی مشاورت سے اس مسئلے پر غور کیا جائے کہ اکیسیوں صدی کے بیس سال گزر جانے کے بعد بھی دنیا کی کوئی آئی ٹی کمپنی آخر پاکستان Pakistan آنے کو کیوں تیار نہیں؟ وہ کون سی وجوہ اور مسائل ہیں جنہیں دور کیا جائے تو پاکستان Pakistan بھی بھارت India کی طرح خطے میں آئی ٹی اور دنیا کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ جب ہمارے پاس ٹیلنٹ بھی ہے‘ انٹرنیٹ بھی عام ہو چکا ہے‘ قدم قدم پر یونیورسٹیاں‘ کالج اور اکیڈمیاں ہیں‘ ارفع کریم رندھاوا جیسی سینکڑوں مثالیں بھی ہیں اور ہماری باسٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو آئی ٹی کا بہترین استعمال جانتے ہیں اور دنیا بھر میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم ان انفرادی کامیابیوں کو قومی اور اجتماعی کامیابی میں نہیں بدل سکے؟ کیوں ہم آج تک قومی آئی ٹی پالیسی نہیں بنا سکے جس میں آئی ٹی کے اہداف مقرر ہوں‘ جس کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ ڈیٹا سائنس‘ انٹرنیٹ آف تھنگز‘ فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ جیسے شعبوں میں پاکستان Pakistan کو بھی نامور کیا جا سکے۔ ویسے سچ پوچھیں تو اب سوچنے کا وقت گزر چکا ہے‘ یہ عمل کرنے کا وقت ہے اور جو ملک اب بھی ان امور سے لاتعلق رہے گا اس کی معیشت میں کبھی اٹھان نہیں آسکے گی۔

 193