سردار جسبیر سنگھ سوڈھی سے آئی جی کے حکمنامے تک

کٹہرا - خالد مسعود خان

18 ستمبر 2019

IG kay Order tak

سردار جسبیر سنگھ سوڈھی کو تھوڑا بہت شک تھا لیکن کنفرم بہرحال نہیں تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں بلوندر سنگھ کاہلوں اس کے گھر آتا ہے۔ ایک دو بار اس نے اپنی بیوی پرکاش کور سے اس بارے میں پوچھا مگر پرکاش کور نے ہر بار یہی کہا کہ بلوندر سنگھ اس سے اپنی بیوی کے لیے شادی میں شرکت کی غرض سے جھمکے مانگنے آیا تھا۔ کبھی کہا کہ وہ اس سے لہنگا لے کر گیا تھا کہ اس کی بہن نے اپنی شادی کے لیے ویسا لہنگا بنوانا تھا۔ غرض ہر بار اس نے کوئی نہ کوئی ایسا بہانہ بنا دیا کہ جس کو بلوندر سنگھ کے گھر آنے کا جواز بنا سکے۔ اس کی بیوی نے کبھی بھی بلوندر سنگھ کے گھر آنے سے یکسر انکار نہیںکیا‘ اور تیسری بار پوچھنے پر تو پرکاش کور نے جسبیر سنگھ کے وہ لتے لئے کہ اس کی طبیعت ہی صاف ہو گئی۔ جسبیر نے پہلے بھی بات اپنی زنانی سے ڈرتے ڈرتے ہی پوچھی تھی لیکن اس کے بعد تو اس نے اس موضوع پر اپنی بیوی سے بات کرنا ہی چھوڑ دی۔ اسے اپنی بیوی کے ہاتھوں ہونے والی بے عزتی سے بڑی نصیحت ہو گئی تھی۔ اب بھلا وہ یہی حرکت دوبارہ کیسے کرتا؟

دو چار بار اسے دوستوں نے بھی بتایا کہ بلوندر سنگھ اس کے پیچھے اس کے گھر آتا ہے لیکن اب جسبیر سنگھ کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ وہ اپنی زنانی سے یہی قصہ دوبارہ چھیڑتا اور رج کے بے عزتی کرواتا۔ بالآخر تنگ آ کر اس نے اپنا مسئلہ سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو کے سامنے پیش کیا۔ سردار بلدیو سنگھ نے کافی دیر غور و خوض کے بعد جسبیر سنگھ کو مشورہ دیا کہ وہ گھر میں بلوندر سنگھ کے آنے پر اچانک چھاپہ مارے اور پھر دیکھے کہ وہ اس بار کیا چیز مانگنے آیا ہے۔ اس نے گلی کی نکڑ پر بیٹھے مان سنگھ دودھ فروش کی ڈیوٹی لگائی کہ جب بلوندر سنگھ اس کے گھر آئے تو وہ اسے موبائل فون پر اطلاع کر دے۔ تیسرے ہی دن مان سنگھ کا فون آیا کہ بلوندر سنگھ اس کے گھر آیا ہے۔ جسبیر سنگھ بھاگم بھاگ گھر پہنچا اور سیدھا لاؤنج کی طرف گیا جہاں سے اس کی بیوی اور بلوندر سنگھ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی اور سردار بلوندر سنگھ ایک ہی صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کی بیوی نے اس کے پوچھنے سے پہلے ہی جھٹ سے کہا کہ بلوندر اپنی بیوی کے لیے چوڑیاں بنوانا چاہتا ہے‘ وہ میری چوڑی اتار رہا ہے‘ لیکن یہ اتر ہی نہیں رہی۔ پھر کہنے لگی: بلوندر توں چھڈ! میں جسبیر سے اتروا لیتی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے جسبیر کو کہا کہ وہ اس کی ایک چوڑی اتار کر بلوندر سنگھ کو دے دے۔ جسبیر نے پرکاش کور کی ایک چوڑی اتاری اور بلوندر سنگھ کو پکڑا دی۔ بلوندر نے چوڑی جیب میں ڈالی اور اٹھ کر چلا گیا۔ جسبیر کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہے اور کیا کرے؟

دس بارہ دن بعد پھر مان سنگھ کا فون آیا اور وہ پھر بھاگم بھاگ گھر پہنچا۔ آگے وہی حسب سابق والا سین تھا۔ لاؤنج کے صوفے پر اس کی بیوی اور بلوندر سنگھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ جونہی جسبیر سنگھ اندر داخل ہوا اس کی بیوی کہنے لگی: بلوندر کی بیوی کا تو آپ کو پتا ہے کہ میری گوڑھی سہیلی ہے۔ اس نے پانچ ہزار روپے ادھار مانگے ہیں۔ بلوندر وہی لینے آیا ہے۔ میرے پاس تو بس دو ہزار روپے ہیں باقی کے تین ہزار آپ دے دیں‘ وہ اگلے مہینے واپس کر دے گی۔ یہ کہہ کر پرکاش کور نے حیران کھڑے جسبیر کی جیب سے بٹوا نکالا‘ اس میں سے تین ہزار نکال کر بلوندر کو پکڑائے اور کمرے سے دو ہزار لا کر اسے دیئے اور کہنے لگی:دیکھ بلوندر! میرے دو ہزار کی خیر ہے‘ لیکن پریت کور کو کہنا کہ جسبیر والے تین ہزار یکم تاریخ کو واپس کر دے۔ جسبیر کا دل دھاڑیں مار کر رونے کو کر رہا تھا۔ بلوندر کو پکڑنا تو کجا الٹا وہ اس سے تین ہزارر وپے لے کر چمپت ہو گیا تھا۔

سردار جسبیر سنگھ پھر ایک بار مشورے کے لیے سردار بلدیو سنگھ کے پاس گیا۔ سردار بلدیو سنگھ نے جسبیر کو بڑی لعنت ملامت کی اور کہا: تیری زنانی بڑی تیز اور بڑی ''ودھ‘‘ شے ہے۔ یہ گلیں باتیں نہ تو تیرے قابو آئے گی اور نہ ہی تجھے پکڑائی دے گی۔ اب تو اس سے کہانیاں سننے کے بجائے کوئی ایکشن لے اور یہ قصہ ہی جڑ سے مکا دے ۔ مرد بن! اور مردوں والا کام کر۔ اس ٹنٹے کو جڑ سے مکائے گا تو ہی بات بنے گی۔ سردار بلدیو سنگھ آف تلونڈی سابو نے اپنی کرپان کا دستہ پکڑ کر اسے معنی خیز انداز میں ہلایا اور کہنے لگا: سمجھ آ گئی ناں کہ تو نے کیا کرنا ہے؟ اب اس مسئلے کو جڑ ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ بس قصہ تمام کر دے۔

جسبیر گھر آیا اور اپنی بیوی کو کہنے لگا کہ اس نے فیصلہ کر لیا ہے‘ اگر آئندہ اس نے اپنے گھر میں بلوندر سنگھ کو اس کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو وہ سارا قصہ ہی مکا دے گا۔ تیز طرار پرکاش کور کا تو یہ سن کر رنگ ہی اڑ گیا۔ شام کواس نے جسپال سنگھ کی بیٹھک میں سارے دوستوںکو بتایا کہ آج تو اس نے اپنی بیوی کا تراہ نکال دیا ہے۔ پھر اس نے ساری بات دہرائی کہ کیسے اس کی بات سن کر اس کی بیوی تو بالکل ڈر ہی گئی تھی۔ سب دوستوں نے اس کی پیٹھ ٹھونکی اور بڑی ہلا شیری کی۔ اس دھمکی کے بعد مہینہ‘ ڈیڑھ مہینہ بڑے آرام سے گزر گیا۔ پھر ایک روز اسے ایک بار پھر مان سنگھ دودھ والے نے فون کر کے بتایا کہ بلوندر سنگھ اس کے گھر کے اندر گیا ہے۔ غصے میں بھرا جسبیر سنگھ گھر پہنچا آگے وہی منظر تھا۔ جسبیر اپنی بیوی سے کڑک کر کہنے لگا: تجھے میری بات سمجھ نہیں آئی تھی؟ میں نے تجھے کیا کہا تھا؟ تو باز نہیں آ سکتی اور اب دیکھ میں کیا کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے بلوندر سنگھ کو گلے سے پکڑا اور گھسیٹ کر صوفے سے نیچے گرا دیا۔ پھر اس نے دروازے سے باہر نکل کر زور سے آواز لگائی: اوئے پرتاپ سنگھ‘ اندر آ اور سارا ٹنٹا ختم کر دے۔

وہاں سے فارغ ہو کر وہ جسپال کی بیٹھک میں گیا اور دوستوں کو کہنے لگا کہ اس نے آج پھر دونوں کو صوفے پر بیٹھے پکڑ لیا تھا اور پرتاپ سنگھ کے ساتھ مل کر ساری بھسوڑی ہی ختم کر دی ہے۔ سب دوستوں نے زور کا نعرہ لگایا اور اسے شاباش دی۔ جسپال کہنے لگا: یار دو بندوں کا معاملہ ہو تو پرچہ ذرا سخت ہوتا ہے۔ اس لئے ہم سب کا نام لے دینا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ تھے۔ میرا، دلاور سنگھ کا، ہرچرن سنگھ کا، گوپال سنگھ کا، درشن سنگھ کا، کرنیل سنگھ کا۔ ہم سب کا۔ یہ سب مل کر آٹھ بندے بنتے ہیں۔ تو ہم ساروں کا نام لکھوا دینا۔ حیران و پریشان جسبیر کہنے لگا: اوئے جسپال سنگھا! تمہارا نام کس واسطے لکھانا ہے میں نے؟ وہ پرتاپ سنگھ اپنے ساتھ دو مزدور بھی لایا تھا۔ جسپال سنگھ کہنے لگا: اوئے بے وقوفا! ایسے معاملوں میں کرائے کے مزدوروں کو شامل نہیں کرتے۔ یہ دو چھتر لگنے پر سب کچھ طوطے کی طرح فرفر بک دیتے ہیں۔ تو ہمیں بتاتا۔ لاش ہم غائب کر دیتے۔ جسبیر کہنے لگا: اوئے کس کی لاش؟ جسپال سنگھ کہنے لگا: بلوندر کی لاش اور پرکاش کور کی لاش۔ جسبیر نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگا: اوئے بد بختو! میں نے اس سارے فساد کی جڑ وہ صوفہ پرتاپ سنگھ فرنیچر والے کو بیچ دیا ہے۔

قارئین! مجھے یہ سارا قصہ آئی جی پنجاب کے اس آرڈر سے یاد آیا ہے جو انہوں نے تھانوں میں شہریوں پر ہونے والے تشدد اور ہلاکتوں کی وڈیوز وائرل ہونے اور اس کے نتیجے میں پولیس اور حکومت کی بدنامی کے بعد جاری کیا ہے کہ اب ایس ایچ او سے نیچے کا کوئی اہلکار اور عام شہری تھانے کی حدود میں کیمرے والا موبائل فون نہیں لا سکتا۔ آپ دیکھیں اب پولیس تشدد کس کامیابی سے کنٹرول ہوتا ہے۔

اپنے آئی جی صاحب نے بھی سردار جسبیر سنگھ سوڈھی کی طرح مسئلے کی جڑ ہی مکا دی ہے۔

 133