عمران خان۔ ایک سال میں کیا کھویا؟

زنگار - عامر خاکوانی

18 ستمبر 2019

Imran Khan ak Sal main kiya khoya kiya paya

سوال سادہ مگر بنیادی ہے کہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے اپنے ایک سالہ دور حکومت میں کیا کھویا ، کیا پایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ عمران خان Imran Khan نے اپنے اموشنل بینک اکائونٹ میں کتنا کچھ ضائع کیا ہے۔ کیونکہ اگر اس نکتہ پر بات کی جائے کہ انہوں نے ایک سال میں کیا حاصل کیا توتین چار سطروں میں بات ختم ہوجائے گی۔ اپنا اثاثہ لٹانے کی داستان البتہ طویل بھی ہے اور بہت سوں کے لئے دل دکھانے والی بھی۔ عمران خان Imran Khan کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ سے حسن ظن رکھنے والوں کوقلیل مدت میں شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ اتنے کم عرصے میں کسی بڑے، مقبول سیاستدان سے وابستہ امیدیں یوں تحلیل ہوتے کم ہی دیکھی گئیں۔ نوبت یہ آ گئی کہ عمران خان Imran Khan کے زبردست حامی جنہیں ڈائی ہارڈ فین کہاجاتا ہے، وہ بھی سکتے کے عالم میں ہیں۔ ان کا ذہن لیڈر کی ناکامی کو تسلیم نہیں کر پا رہا ، دل کپتان سے امیدیں وابستہ رکھے ہے ، مگر آنکھوں میں ٹوٹے سپنوں کی کرچیاں پیوست ہیں۔خان کے غلط فیصلوں کا وہ دفاع نہیں کر پا رہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے حلقہ احباب میں انہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑرہا۔ عمران خان Imran Khan نے جو چیزیں لوز(Lose) کی ہیں، ان میں اپنی صلاحیتوں کا اعتبار اور وہ چند نظریات یا مِتھ(Myths)سرفہرست ہیں جو کئی برسوں سے اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعے انہوں نے اپنے حامیوں کے ذہنوں میں راسخ کرائے تھے۔ مثال کے طور پر عمران خان Imran Khan کے حوالے سے یہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال جیسا شاندار انتظامی پراجیکٹ کھڑا کیا، جس کا فول پروف سسٹم ہے، جسے کوئی بھی نہیں توڑ سکتا۔ اسی طرح نمل یونیورسٹی کی مثال بھی دی جاتی ہے۔یوں لگتا ہے کہ خوش قسمتی سے عمران خان Imran Khan کو ان پراجیکٹس کے لئے اچھے منتظم مل گئے، جنہوں نے ڈیلیور کر دیا۔ البتہ فنڈز وغیرہ حاصل کرنے میں عمران خان Imran Khan کی مہارت یقینا کام آئی۔وہ ذاتی طور پر کرپٹ نہیں اور چیریٹی کی رقم درست جگہ پر خرچ ہو رہی ہے، یہ اعتبار ان کا اثاثہ ہے، اسی وجہ سے انہیں فنڈز ملنے میں کبھی دقت پیش نہیں آئی۔( خوش قسمتی سے ان کی شخصی دیانت واحد چیز ہے جو اس ایک سالہ دور حکومت میں مجروح یا مسخ نہیں ہوئی۔ اس پر مگر بعد میں بات ہوگی۔سردست ان کی خامیاں اور غلطیاں موضوع ہیں۔ ) عمران خان Imran Khan کا فہم سیاست چند موٹی موٹی باتوں پر مبنی ہے، وہ ان کی زیادہ تفصیل میں جائے بغیر بنیادی نکات کو بار بار دہراتے رہے ، اس تاثر کے ساتھ کہ ان کے پاس تفصیلی پلان موجود ہے اور وقت آنے پر وہ اس کی مدد سے اپنے فارمولے یا تھیوری کو درست ثابت کر دیں گے۔ اس ایک سال کے اندر یہ سب تصورات بری طرح پاش پاش ہوگئے۔ یہ واضح ہوگیا کہ خان صاحب کا فہم سیاست ناقص، ادھورا، تشنہ معلومات پر مبنی تھا۔ دراصل ان کے خوش فہم نظریات کی عمارت کسی سخت جان ، مستقل مزاج کچھوے کی پشت کے بجائے کسی بے فکرے ، مست ،چِبّلے بیل کے سینگوں پر استوار تھی۔ ادھر بیل نے سرہلایا اور گردن جھٹکی ، ساتھ ہی پوری عمارت دھڑدھڑ کر کے نیچے آن پڑی۔ عمران خان Imran Khan کے کئی مِتھ یا اقوال زریں غلط ثابت ہوئے۔وہ کہتے تھے ، اگر لیڈر دیانت دار تو کرپٹ ٹیم بھی پرفارم کرتی ہے۔ عمران خان Imran Khan کے پرجوش حامی اسے یوں بیان کرتے کہ گیدڑوں کی فوج کاقائد اگر شیر ہو تو وہ فاتح ہوتا ہے جبکہ شیروں کی فوج کا قائد اگر گیدڑ کو بنا دیا جائے تو شکست مقدر بنتی ہے۔ یہ بات منطقی طور پر غلط تھی ،پچھلے ایک سال نے تو خیر اس نظریے کو دفن کر کے اس کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ۔ یہ ثابت ہوا کہ اچھی ٹیم ہی پرفارم کرتی ہے، صرف لیڈر کچھ نہیں کر سکتا۔ ون مین شو نام کی کسی چیز کا سیاست میں کوئی گزر نہیں۔ اچھی ٹیم، جامع پلان اور عمدگی سے اس پر عملدرآمد سے ہی کامیابی ملتی ہے۔ اس کے بغیر وہی ہوتا ہے جو آج کل ہور ہا۔ خان صاحب کا خیال تھا کہ کسی دیانت دار ، شخصی کرشمہ رکھنے والے شخص کے ایوان اقتدار پہنچنے کی دیر ہے، اوورسیز پاکستانی اس پر ڈالروں کی بارش کر دیں گے۔ وہ شائد سوچتے تھے کہ ایک اپیل کرنے سے کروڑوں ، اربوں ڈالر جمع ہوجائیں گے ۔ ڈیم فنڈ کے لئے کی گئی وزیراعظم کی اپیل کے جواب میں چند لاکھ ڈالر بھی موصول نہیں ہوئے اور یوں یہ خوش فہمیاں بھی ہوا ہوئیں۔وزیراعظم عمران خان Imran Khan اس پربھی سنجیدگی سے یقین رکھتے تھے کہ لوگ صر ف اس لئے ٹیکس نہیں دیتے کہ انہیں حکومت پر بھروسہ نہیں ، عوام شاکی ہیں کہ حکومتیں ان کے پیسے درست جگہ پر خرچ نہیں کرتے۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے اپنی ہر تقریر میں عمران خان Imran Khan یقین دلاتے ہیں کہ پیسہ سو فی صد درست جگہ پر خرچ ہوگا ۔ یہ جملہ بھی لازمی دہراتے ہیں کہ میں خود اس کی نگرانی کروں گا۔یہ سب تقریریں، اقوال زریں، دل خوش کن وعدے ٹیکس دینے والوں کے پتھر دلوں کو نرم نہیں کر پائے۔ ممکن ہے یہ بات اب خان صاحب کو سمجھ آ گئی ہو کہ ٹیکس کلچر یوں باتوں سے پیدا نہیں ہوتا اور اپنی آمدنی سے ٹیکس دینے کا کسی کا جی نہیں چاہتا۔ عمران خان Imran Khan کا خیال تھا کہ جارحانہ انداز سیاست اپنا کر ، اپوزیشن پر تند وتیز حملے کر تے ہوئے وہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر لیں گے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ پرسکون سیاسی ماحول کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ان کے ہمہ وقت پرجوش نعروں کی وجہ سے اپوزیشن معمولی سا تعاون کرنے کو بھی تیار نہیں۔ پارلیمنٹ عملاً مفلوج ہے، قانون سازی ممکن نہیں اور جنگ وجدل کی اس فضا میں سٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی نہ ہی سرمایہ کار انویسٹمنٹ کے لئے آمادہ ہورہے۔ عمران خان Imran Khan کے بیشتر بیانات اور دعوے غیر ضروری طور پر سیاسی ٹمپریچر بڑھانے والے رہے۔وہ کہتے ہیں کہ جیلوں سے اے سی اتروا دیں گے،اے کلاس نہیں ملے گی وغیرہ وغیرہ۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جیلیں صوبائی حکومت کے ماتحت آتی ہیں، وفاق کے زیرانتظام تو ایک جیل بھی نہیں۔پھر آپ کیسے یہ کریں گے ؟عمران خان Imran Khan بار بار کہتے ہیں کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا۔چلیں مان لیا ، مگر کیسے ؟ کیا نیب وزیراعظم کے ماتحت ہے؟ کیا نیب خان صاحب کی مرضی سے کیس بناتی اور انہیں تکمیل تک پہنچاتی ہے؟ ظاہر ہے ایسا نہیں۔قانونی طور پر نیب ایک خودمختار ادارہ ہے،اس کے چیئرمین کو اسی لئے آئینی تحفظ حاصل ہے تاکہ حکومتیں اس پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔ وزیراعظم اب تک سینکڑوں بار اعلان کر چکے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا۔میرے جیسے ان کے مداح مان لیتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔سوال یہ ہے کہ کیسز تو عدالتوں میں ہیں، اپیلیں ہائی کورٹس، سپریم کورٹس نے طے کرنی ہیں۔ وزیراعظم اس میں کیا کر سکتا ہے ؟مثال کے طور پر اگر عدالتیں میاں نواز شریف Nawaz Sharif یا آصف زرداری کو ضمانت پر رہا کردیں، انہیں علاج کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی دے دیں تو وزیراعظم اپنے تمام تر جاہ وجلال کے باوجود کیا کر سکتے ہیں؟ عمران خان Imran Khan کے بعض دیرینہ رفیق یہ کہتے تھے کہ خان صاحب مردم شناس نہیں ۔ایک سالہ دور حکومت میں سب سے زیادہ یہ بات سچی ثابت ہوئی۔ عمران خان Imran Khan بدترین مردم شناس ہیں۔ ان کے بارے میں یہی حسن ظن تھا کہ وہ خود ناتجربہ کار سہی ، مگر اہم عہدوں کے لئے بہترین لوگ منتخب کریں گے یوںان کی اصلاحات اور وعدے پورے ہونے ممکن ہوجائیں گے۔ انہوں نے اب تک بدترین پولیٹیکل سلیکشن دکھائی ہے۔ پنجاب اور کے پی کے لئے نہایت کمزور، نااہل اور سیاسی تدبر سے عاری وزراعلیٰ منتخب کئے۔ پنجاب کے لئے ہونے والی سلیکشن کی ابھی تک کوئی ایک قابل فہم دلیل سامنے نہیں آئی۔اوسط سے کم تر اہلیت والے شخص کو، جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، پہلی بار جو ایم پی اے بنا، جسے تقریر کرنے، پبلک ڈیلنگ سے بھی آشنائی نہیں،…اسے آخر اتنی بڑی ذمہ داری کیوں دی جائے؟ کیا صرف اس لئے کہ نام ع سے شروع ہوتا ہے اور کسی خواب وغیرہ میں کوئی اشارہ ملا ؟ یہ بات ظاہر ہے بچکانہ ضعیف العتقادی لگتی ہے ، لیکن اگر یہ نہیں تو پھر ایک بھی توجیہہ موجود نہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ غلط فیصلے پر ایک سال بعد بھی ندامت نہیں۔ بدلنے کی کوئی نیت نہیں۔خان صاحب کے علاوہ پنجاب کے گیارہ کروڑ لوگوں میں شائد ایک بھی ایسا نہیں جو اس سلیکشن کی تائید یا دفاع کرے۔کے پی والوں کا رونا پنجاب سے کم نہیں۔ کم وبیش یہی فیصلے وفاق میں اپنی پوری ٹیم کے لئے کئے گئے ۔ میڈیا ترجمانی کے لئے انتخاب مزید مایوس کن رہا۔ حیرت ہے کہ ایسی پارٹی جو تبدیلی کی ترجمان ہے، جس کے حامیوں، کارکنوں ، ووٹروں میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے ، پروفیشل لوگ شامل ہیں، اسے ترجمانی کے لئے ایک بھی شائستہ ، سافٹ شخص نہیں مل سکا؟ یہ داستان طولانی ہے ، تفصیلی بھی، اس کے کئی پہلوئوں پر ابھی بات نہیں ہوسکی۔ نشستوں کا سلسلہ ان شااللہ جاری رہے گا۔

 245