ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔۔۔

زیر بحث - عارف نظامی

18 ستمبر 2019

Hain Kawakib kuch nazar aty hen

بھا رت کے کشمیر کو بزعم خو د آئینی حیثیت دینے کو 44دن گزر چکے ہیں لیکن مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن جاری ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں بھارتی Indian آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے ما بعد اسلام آبا د کی سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اس کا ایک محور وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا دورہ سعودی عرب Saudi Arabia ہے جہاں وہ ولی عہد Crown Prince اور عملی طور پر حکمران محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حوالے سے بات کریں گے اور بعدازاں اس مہینے کے اواخر میں27 ستمبر کو وہ اقوام متحد ہ کی جنر ل اسمبلی سے بھی خطاب کریں گے، اس کے علاوہ سائیڈ لائن پر ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ لنچ بھی پروگرام میں شامل ہے۔ بظا ہر تو ایسا لگتا ہے کہ مغرب اور چند ملکوں کے سوا ہمارے اسلامی دوست کشمیر کے بحران کے حوالے سے ہما را ساتھ دے رہے ہیں لیکن جب باریکیوں میں جائیں تو معاملات قدرے مختلف نظر آتے ہیں۔ اس بات کا بہت شہرہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ دونوں فریق راضی ہوں، مزید برآں سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates کے وزرائے خارجہ کا حالیہ دورہ اسلام آباد Islamabad بھی بقول ہمارے دفتر خارجہ اسی ضمن میں تھا لیکن ’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘۔ امسال ماہ جولائی میں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اتنے شادمان تھے کہ انہوں نے چہچہاتے ہوئے کہا میں ایسے محسوس کر رہا ہوں جیسا کہ میں نے ورلڈ کپ جیت لیا ہے لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔وزیر اعظم Prime Minister کی ولو لہ انگیز تقریروں اور وزیر خا رجہ شا ہ محمو د قر یشی کی بڑھکوں کے باوجود اس کلید ی مسئلے پر عملی طور پرپاکستان Pakistan کو زیادہ عالمی حمایت حا صل نہیں ہے۔ اس تلخ حقیقت کی ایک تازہ مثال فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی یہ خبر کہ 22ستمبر کو امریکی ریا ست ٹیکسا س کے شہرہوسٹن میں بھارتی Indian نژاد امریکیوں نے ایک بہت بڑی ریلی کا اہتما م کیا ہے جس میں بھارتی Indian وزیراعظم نریندرمودی کے سا تھ امریکی صدر ٹرمپ بھی شرکت کر یں گے۔یہ مودی اور ٹرمپ کی ایک سال کے دوران تیسری میٹنگ ہو گی۔ ہوسٹن کے بڑے فٹ بال سٹیڈیم میں پچاس ہزار حاضرین کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ریلی پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اجتماع امریکہ United States اور بھارت India کے درمیان مضبوط تعلقات کا مظہر ہو گا اور اس کے ذریعے دنیا کی دوقدیم جمہوریتوں کے درمیان سٹرٹیجک پارٹنر شپ کا اظہار ہو گا۔ مزید برآں وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس سے بھارت India اور امریکہ United States کے درمیان انرجی اور تجارتی تعلقا ت کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔اے ایف پی کے مطابق اس ریلی کے ذریعے صدر ٹرمپ کے ان ’’غیرمحتاط ‘‘ریما رکس کہ مودی نے مجھے کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا ہے کا ازالہ ہو جائے گا۔ امریکہ United States میں بھا رتی سفیر ہرش وردھان شرنگلہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ اجتماع ٹرمپ اور مودی کے درمیان بڑھتی ہو ئی ذاتی کیمسٹر ی اور دوستی کا بین ثبوت ہے۔ادھر بھارتی Indian سپریم کورٹ نے دلی سرکار کو حکم دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی جلد سے جلد بحال کرنے کے لیے ہر اقدامات کئے جائیں۔اس حکم کے بعد مودی ہوسٹن میں ہونیوالی ریلی میں کس منہ سے اپنے سفاک اقدامات کا دفاع کریں گے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی بھارتی Indian نژاد امریکیوں کو جپھی ڈالنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اگلے بر س ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووٹ حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں 84فیصد بھارتی Indian امریکیوں نے ٹرمپ کی مخالف ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا۔واضح رہے یہ وہی صدر ٹرمپ ہیں جنہوں نے 2016کی انتخا بی مہم کے دوران نیو جرسی میں ایک تقریر میں کہا تھا I love Hindu۔ ایسے لگتاہے کہ مغرب ،سعودی عر ب اور متحدہ عرب امارات united arab emirates کا مطمع نظر محض یہ ہے کہ برصغیر کی ان دو متحا رب ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ نہ ہو۔ پاکستان Pakistan بھی جنگ نہیں چاہتا اورنہ ہی اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔ دنیا کی خواہش یہی لگتی ہے کہ کشمیر پر ایک بار پھر مک مکا ہو جا ئے۔بھا رت کی اقتصا دی اور سٹر ٹیجک طاقت، وسیع رقبہ اور کثیر آبادی مغرب اور اس کے طفیلی ممالک کے لیے بہت کشش رکھتی ہے۔ پاکستان Pakistan کو توانھوں نے ایف اے ٹی ایف کے تحت گرے لسٹ میں ڈالا ہوا ہے۔ اگلے ماہ یہ فیصلہ ہونا ہے کہ پاکستان Pakistan کو بلیک لسٹ میں ڈالا جائے،گرے لسٹ میں رہنے دیا جائے یا گرے لسٹ سے بھی رہا کر دیا جائے۔ لیکن عملی طور پر لگتا ہے کہ یہ تلوار پاکستان Pakistan کے سرپر لٹکتی رہے گی اور اکتوبر میں اسے پھر گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔بعض باخبر اعلیٰ سفا رتی ذرا ئع کے مطابق پاکستان Pakistan کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے 26شرائط تھیں جن میں سے ان ذرا ئع کے مطابق صر ف دو پر مکمل عمل درآمد ہوا ہے۔ 12پرجز وی طور پر اور 10پرقطعا ً نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف کی ایک ٹیم پاکستان Pakistan پرمزید دباؤ ڈالنے کے لیے اسلام آباد Islamabad میں بیٹھی ہے۔ا س صورتحال میں پاکستان Pakistan اس وقت مغرب اور مربی عرب ممالک کے دباؤ میں بری طرح جکڑا ہو ا ہے۔ جبکہ ہم کشکول لیے دنیا بھر میں پھر رہے ہیں، اس کے باوجود کہ بھارت India کی اکانومی بھی جمود کا شکارہے اس کے زرمبا دلہ کے ذخائر پاکستان Pakistan کے 15.75ارب ڈالر billion dollor کے مقابلے میں تقریباً 429 ارب ڈالر billion dollor ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان Pakistan کی بڑ ی بہادری اور جرأت ہے کہ وہ آزادی کشمیر کا علم بلند کئے ہوئے ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق بعض اسلامی ممالک کے اصرار کے باوجود پاکستان Pakistan بھارت India سے بیک چینل مذاکرات شروع کرنے سے انکاری ہے لیکن جو ممالک اس پر اصرار کر رہے ہیں ان کا ایجنڈاواضح ہے کہ معاملات کو ٹھنڈا کریں، وہ پلیٹ میں کشمیر رکھ کرہمیں دلوانے سے تو رہے۔ عرب ممالک سمیت دنیا مظلوم فلسطینیوںپر مظالم اور اسرائیل کے غا صبانہ قبضے کے حوالے سے کچھ نہیں کر پائی اور نہ ہی کرنے کوتیار ہے۔ بد قسمتی سے فی الحال تو عالمی را ئے عامہ کے حوالے سے کشمیریوں کایہی مقدر نظر آ تا ہے۔کچھ اخباری خبروں کے مطابق مودی نے عمران خان Imran Khan کی طرف سے ہٹلر قرار دینے پر احتجاج کیا ہے، اگر چہ ہندوتوا کے فا شسٹ ہتھکنڈے ہٹلر سے کم نہیں ہیںتاہم مغرب میں کسی کو ہٹلر کہنا بہت بڑ ی گالی سمجھی جاتی ہے اور اس کا مغرب میں بھی نوٹس لیا گیا ہے۔

 138