مودی ٹرمپ ، بھائی بھائی

برملا - نصرت جاوید

16 ستمبر 2019

Modi Trump Bhai Bhai

اعتبار کرنے کو ابھی تک میرے دل ودماغ تیار نہیں ہورہے۔ ڈونلڈٹرمپ کو مگر تماشے لگانے کا شوق ہے۔خود کو دورِ حاضر کا حتمی Show Manسمجھتا ہے۔اسے یقین ہے کہ ٹی وی سکرینوں پر آتا ہے تو پنجابی والا ’’چھا-چھو‘‘ جاتا ہے۔صبح اُٹھتے ہی مخالفین کی بھداُڑانے والے ٹویٹ لکھ کر وہ وائٹ ہائوس پہنچ گیا۔ امریکی صدر کے دفتر میں بیٹھے ہوئے بھی ٹی وی پروگراموں اور ان کے اینکر خواتین وحضرات کی Ratingsطے کرتا رہتا ہے۔Fox TVکے جن پروگراموں کو بہت پذیرائی ملے ان کے اینکرز کے ساتھ بیٹھ کر ریاستی اداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے خارجہ امور کے حوالے سے اہم ترین فیصلوں کا اعلان کردیتا ہے۔

سب سے پہلے ذکر مگر اس ’’خبر‘‘ کا جس پر مجھے ابھی تک اعتبار نہیں آیا۔بھارت India کی ایک صحافی ہے سیماسروہی۔ کئی برسوں سے واشنگٹن میں مقیم ہے۔بھارت، امریکہ United States تعلقات کے بارے میں اس نے بے تحاشہ ’’اندر کی باتیں‘‘ بریکنگ نیوز بناکر پیش کی ہیں۔ہفتے کے روز اس نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے نریندرمودی امریکہ United States پہنچنے کے بعد امریکی ریاست کے شہر ہوسٹن جائے گا تو وہاں کے ایک بہت بڑے اسٹیڈیم میں بھارتی Indian نژاد لوگوں سے 22ستمبر کے روز خطاب بھی کرے گا۔ خطاب والی خبرپرانی ہے۔نیا انکشاف یہ ہوا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی اس اجتماع میں شرکت کو ’’تیار ہوچکا ہے‘‘۔ یہ اگرچہ بتایا نہیں جارہا کہ وہ اور مودی ایک ساتھ اس اجتماع میں شرکت کو پہنچیں گے یا سکیورٹی کے تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے الگ الگ آئیں گے۔ اس کا مذکورہ اجتماع سے خطاب بھی یقینی نہیں ہے۔یہ ا جتماع مگر سارا دن جاری رہے گا۔اس کے دو حصے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ایک نمائش کا اہتمام ہے جو بھارت،امریکہ United States تعلقات کی تاریخی حوالوں سے گہرائی اور گیرائی کو دستاویزی فلموں اور تصاویر وغیرہ کے ذریعے بیان کرے گی۔دوپہر کے بعد ایک جلسہ ہوگا جس سے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے خطاب کرنا ہے۔امید باندھی جارہی ہے کہ مودی کی تقریر سے تھوڑی دیر قبل امریکی صدر اس جلسے میں نمودار ہوگا۔شاید ڈائس پر آکر چند ’’خیرمقدمی کلمات‘‘ کہے اور بھارت،امریکہ United States دوستی کو توانا تربنانے کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے ’’یار‘‘ مودی سے رخصت طلب کرلے۔مذکورہ اجتماع میں 50ہزار بھارتی Indian وں کی شرکت یقینی بتائی جارہی ہے۔دعویٰ یہ بھی ہے کہ شاید بالآخر یہ اتنا بڑا اجتماع بن جائے کہ امریکہ United States کی تاریخ میں کسی بھی غیر ملکی شخصیت کے استقبال کے لئے آئی تعداد کا ریکارڈ ٹوٹ جائے۔اس سے قبل سب سے بڑا اجتماع پاپائے روم کی امریکہ United States آمد کے دوران دیکھنے کو ملا تھا۔ اس کی وجہ مگر امریکہ United States میں مقیم ہسپانوی زبان بولنے والوں کی اپنے روحانی رہنما سے عقیدت تھی۔ مودی کی پذیرائی کے لئے جمع ہوا ہجوم قطعاََ ایک ’’سیاسی‘‘ پیغام دے گا۔سیما سروہی کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر کو مذکورہ اجتماع میں شرکت کی دعوت ’’غیر رسمی‘‘ انداز میں اس وقت دی گئی جب وہ 26اگست کے روز بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister سے فرانس کے ایک شہر میں ملا۔ ٹرمپ نے آمادگی کے بجائے دلچسپی کا اظہار کیا۔اس کے بعد سے مگر وائٹ ہائوس کے اہم افراد مستقل ان لوگوں سے رابطے میں ہیں جو ہوسٹن میں ہونے والے اجتماع کے انتظامات میںمصروف ہیں۔امریکی صدر کی سکیورٹی پر مامور افراد بھی 22ستمبر والے اجتماع کی تفصیلات کو ڈونلڈٹرمپ کی اس میں شرکت کے امکان کو ذہن میں رکھتے ہوئے معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ نے اگر اس اجتماع میں شرکت کی تو یقینا ’’تاریخ‘‘ بن جائے گی۔ امریکی صدر پہلی بار کسی دوسرے ملک کے حکومتی سربراہ کی ’’اپنے لوگوں‘‘ سے ملنے کی خاطر ہوئی کسی تقریب میں شریک ہوگا۔ دُنیا کو اس کے ذریعے یقینا یہ پیغام مل جائے گا کہ امریکہ United States اور بھارت India واقعتا ایک دوسرے کے آنے والے کئی برسوں کے لئے Strategic Partnersبن گئے ہیں۔

’’مودی -ٹرمپ -بھائی بھائی‘‘ کا پیغام دیتا سیما سروہی کا بیان کردہ منصوبہ میرے لئے بخدا فقط ایک پاکستانی ہونے کی وجہ ہی سے پریشانی کا باعث نہیں۔ٹرمپ اگر مودی کی سواگت کے لئے ہوسٹن میں لگائے شو میں گج وج کے شرکت کرے گا تو یہ واقعہ 80لاکھ کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔یہ کالم لکھتے وقت مقبوضہ کشمیر پر 5اگست سے مسلط شدہ کمیونی کیشن بلیک آئوٹ کا 42واں دن شروع ہوچکا ہے۔بھارتی Indian حکومت اس کو ختم کرنے کو فی الوقت تیار نظر نہیں آرہی۔ محسوس ہورہا ہے کہ نریندرمودی کے امریکہ United States میں قیام کے دوران بھی وادیٔ کشمیر میں محبوس ہوئے بدنصیبوں کے موبائل فونز بند رہیں گے۔سڑکوں اور بازاروںمیں مستقل کرفیو کی فضاء برقرار رہے گی۔مودی کی خاطر رچائے اجتماع میں شرکت کے ذریعے ڈونلڈٹرمپ 80لاکھ کشمیریوں پر نازل ہوئی نئی قیامت سے سفاکانہ حد تک بے اعتنا نظر آئے گا۔اس بے اعتنائی کے اظہار کے بعد وہ ایک حوالے سے یہ پیغام دے گا کہ پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister سے 22جولائی کے روز ہوئی ملاقات کے دوران اس نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لئے ’’ثالثی‘‘ کی جو پیش کش کی تھی محض ہمیں خوش کرنے کو گھڑی ایک کہانی تھی۔ مقصد اس پیش کش کا فقط اتنا تھا کہ پاکستان Pakistan مقبوضہ کشمیر کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ افغانستان Afghanistan سے امریکی افواج کو ٹرمپ کی ترجیحات اور طے شدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ’’باعزت‘‘ نکلوانے کے راستے بنانے پرمرکوز رکھے۔طالبان سے امریکہ United States کا زلمے خلیل زاد کے ذریعے ایک سال سے زیر بحث رہا معاہدہ اس ماہ کے آغاز میں باقاعدہ اعلامیہ کی صورت پیش ہونے ہی والا تھا۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر لیکن ٹرمپ نے خود ہی ٹویٹ لکھ کر طالبان سے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کردیا۔اب وہ طالبان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کی بڑھک لگارہا ہے۔ ہفتے کی سہ پہر اس کے دفتر نے سرکاری طورپر تصدیق کردی ہے کہ چند ہفتے قبل ’’پاک-افغان سرحدی علاقے‘‘ میں ہوئی ایک کارروائی کے ذریعے اسامہ بن لادن کے وارث حمزہ بن لادن کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ ’’القاعدہ‘‘ پر ایک ’’کمرتوڑ‘‘ حملے کے بعد ’’طالبان‘‘ کے خلاف سنگین ترین کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔افغانستان Afghanistan سے امریکی افواج کی جلدازجلد واپسی نظر بظاہر ڈونلڈٹرمپ کی فوری ترجیح نہیں رہی۔پاکستان Pakistan کے ساتھ دوستی کے دعوے البتہ بدستور جاری ہیں۔دریں اثناء 26اگست کے روز مودی کی فرانس میں ٹرمپ سے ملاقات ہوگئی۔ اس ملاقات کے بعد بھارت India کے ساتھ امریکہ United States تعلقات میں نئی گرم جوشی اُبھرتی نظر آرہی ہے۔بھارت India کو خوب اندازہ ہے کہ ٹرمپ جنونی حد تک اپنے America Firstکے نعرے پر عملدرآمد ہوتا ہوا دکھانا چاہ رہا ہے۔اس ضمن میں اسے شکوہ ہے کہ بھارت India کے ساتھ امریکہ United States کو تجارت میں سالانہ 60ارب ڈالر billion dollor کا گھاٹا ہوتا ہے۔اس خسارے سے اُکتاکر اس نے حالیہ بھارتی Indian انتخابات کے کڑے مراحل کے دوران اپنے ملک میں بھارت India سے آنے والی کئی درآمدات پر بھاری ڈیوٹی عائد کردی تھی۔نئی دہلی میں منصوبہ اب یہ تیار ہوا ہے کہ نریندرمودی کے امریکہ United States پہنچنے سے قبل ’’محدود‘‘ کہلاتے ایک نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کردیا جائے۔ اس کی بدولت امریکہ United States کو اپنی کئی زرعی اشیاء اور مشینری بھارت India کو برآمد کرنے میں بے پناہ آسانیاں مل جائیں گی۔ ٹرمپ خوش ہوجائے گا اور Moreکی امید بھی باندھ لے گا۔شاید ممکنہ تجارتی سہولتیں حاصل کرنے کے بعد امریکی صدر نے ہوسٹن میں ہونے والے بھارتی Indian نژاد لوگوں کے اجتماع میں ’’تھینک یو‘‘ کہنے کو شرکت کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تجارتی مفادات کے حصول کے لئے منافع خور ذہنوں کی جانب سے ہوئے مول تول کا بھارت India اور امریکہ United States کے لئے Win-Winدِکھتا بندوبست ہوجانے کے بعد۔ تجارتی مفادات کا غلاموں کی طرح محتاج ہوئی اس دُنیا میں 80لاکھ کشمیریوں پر مسلط ہوئے عذاب پر دردمندی سے غور کی فرصت ہی کسی کو میسر نہیں۔ اس ظالم دُنیا سے خیر کی خبر کا انتظار کرنا خوش گمانی ہے۔اس کے سوا کچھ نہیں۔

 157