جاوید اقبال کو چیئرمین نیب بنانے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

13 ستمبر 2019

Chairman Nab ko lagwany ki Story samny

اسلام آباد: جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگوانے کیلئے ایک مشترکہ دوست نے اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کیا تھا۔

اس مشترکہ دوست نے یہ تک پیشکش کی تھی کہ ریٹائرڈ جسٹس تقرر سے پہلے ہی اپنا دستخط شدہ استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ وہ اپنے قابل بھروسہ ہونے کو ثابت کر سکیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے مشترکہ دوست سے کہا تھا کہ انہیں مذکورہ استعفے کی ضرورت نہیں ہے اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کے تقرر کے حق میں فیصلہ کیا۔

تاہم، یہ معلوم نہیں کہ مشترکہ دوست جاوید اقبال کے تقرر کیلئے خود ہی اصرار کررہے تھے یا انہیں ریٹائرڈ جج نے ایسا کرنے کیلئے کہا تھا۔

اسی دوران ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے ہمدردوں نے پہلے ہی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif سے رابطہ کیا تھا تاکہ انہیں چیئرمین نیب لگوانے کیلئے حمایت حاصل کی جاسکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ Khursheed Shah ذاتی طور پر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو نیب کا سربراہ لگانے کے حامی نہیں تھے لیکن ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ آصف زرداری نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی حمایت کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے بھی اس وقت کے وزیراعظم شاہد عباسی سے بات کی تھی اور شائستگی سے جاوید اقبال کا نام پیش کرتے ہوئے ان کے نام پر غور کرنے کیلئے کہا تھا۔

جو لوگ جاوید اقبال کے چیئرمین نیب تقرر کیلئے حمایت جمع کررہے تھے ان میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی ایک بڑی شخصیت بھی شامل ہے۔

جمعرات کو شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا کے ساتھ غیر رسمی بات چیت میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگانے پر قوم سے معذرت کی۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین نیب کا نام پیپلز پارٹی سے آیا تھا اور تقرر اتفاق رائے سے کیا گیا تھا۔

عباسی نے کہا کہ نیب کے قیام کا بنیادی مقصد مسلم لیگ نون کو تقسیم کرنا ہے۔ عباسی فی الوقت ایل این جی ٹرمینل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کی حراست میں ہیں۔

شاہد عباسی کی جانب سے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب لگانے پر معذرت کا اظہار، چیف جسٹس پاکستان Pakistan جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بیان کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان Pakistan نے کہا تھا کہ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ ملک میں احتساب کا عمل غیر متوازن اور سیاسی انجینئرنگ کا حصہ ہے۔

نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کا یہ اصرار رہا ہے کہ بیورو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے پر یقین نہیں رکھتا اور بلا امتیاز احتساب کا عمل جاری ہے۔

 169