انجام مختلف کیسے ہوگا؟

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

13 ستمبر 2019

Anjaam Mukhtalif kasy hoga

پی ٹی آئی PTI کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے کہ پائوں کہیں رکھتے ہیں اور جا کہیں پڑتے ہے اور ان کے اپنے فالورز اور ووٹرز بھی اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔

اس میںکس کا قصور ہے؟

ایک تو وہی روایتی جواب دیا جاسکتا ہے کہ سارا قصور عوام کا ہے جو ستر سالوں کا گند ایک سال میں صاف کرنے کے خواہش مند ہیں اور صبر نام کی چیز نہیں ہے‘ لہٰذا چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی شور مچ جاتا ہے۔ ممکن ہے اس بات میں صداقت ہو‘ لیکن سوال یہ ہے کہ عوام ایسے کیوں ہوگئے ہیں‘ وہ راتوں رات اپنے مسائل کا حل کیوںچاہتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں عمران خان Imran Khan صاحب کے بائیس برسوں کی تقریروں کو پھر سے سننا اور سمجھنا ہوگا ۔ عمران خان Imran Khan لوگوں کو یقین کرا بیٹھے تھے کہ وہ راتوں رات چیزیں درست کر دیں گے ۔ زرداری نواز شریف Nawaz Sharif یا بینظیر بھٹو کو کچھ بھی کہیں ‘وہ الیکشن کے دنوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی بات نہیں کرتے تھے۔ اگر کرتے بھی تو لوگوں نے یقین نہیں کرنا تھا‘ کیونکہ وہ اس سے پہلے اقتدار میں آچکے تھے اور لوگ دیکھ چکے تھے کہ وہ جو کہتے ہیں اس کے برعکس ہی کرتے ہیں ۔ لوگ اگرچہ انہیں ووٹ دیتے رہے لیکن یقین کم ہی تھا کہ وہ بہت بڑا چمتکار کر گزریں گے۔ نواز شریف Nawaz Sharif کی تقریروں کا زیادہ تر زور اس پر ہوتا کہ پیپلز پارٹی نے کیسے ملک کو لوٹا اور ہم لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے‘ یا پھر اکانومی کو آسمان پر لے جائیں گے‘ جبکہ پیپلز پارٹی کا نعرہ زیادہ تر نوکریاں دینے تک محدود تھا یا بھٹو کی پھانسی ۔ ان دونوں نے کبھی ملک کے اصل مسائل پر بات نہیں کی کہ ادارے ختم ہوگئے ہیں‘ انہیں دوبارہ کیسے اپنے پائوں پر کھڑا کریں گے۔ ملک کی اکانومی نیچے جارہی ہے‘ جبکہ ان خاندانوں کا اپنا کاروبار آسمان کو چھو رہا ہے۔ ان دونوں کو اداروں کی مضبوطی سوٹ نہیں کرتی تھی‘ کیونکہ انہوںنے کرپٹ اداروں کے ذریعے ہی کمائی کرنی تھی ۔ انہیں اچھے افسران سوٹ نہیں کرتے تھے جو ان کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ مجھے یاد ہے 2013 ء میں چین China کے دورے میں نواز شریف Nawaz Sharif نے ایک پریس کانفرنس میں ہم صحافیوں سے کہا تھا کہ انہیں اب سینئر بیوروکریٹس کی ضرورت نہیں ہے‘ انہیں اب نوجوان اور go getters قسم کے بابوز چاہئیں‘ جو ان کے کہنے پر کام کریں‘ انہیں رولز نہ سمجھائیں ۔ جن نوجوان افسران کو وہ ماڈل کے طور پر لائے وہ دونوں آج کل نیب کی قید میں ہیں۔ ایک کا نام فواد حسن فواد ہے اور دوسرا احد چیمہ ہے۔ ان نوجوان افسران نے اپنی ٹیم تیار کی جس نے ہاؤس آف شریف کو دولت اکٹھی کرنے کے نئے نئے طریقے بتائے۔ ایک دن میرے دوست ارشد شریف نے سٹوری بریک کی کہ کیسے چینی کمپنی کو پراکسی کے طور پر استعمال کر کے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین شاہد تارڑ نے قطر میں سیف الرحمن کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے کہ سکھر کراچی موٹر وے کا ڈھائی ارب ڈالر billion dollor ز کا ٹھیکہ انہیں دیں گے۔ سامنے چینی اور پیچھے ہاؤس آف شریف اور ان کے فرنٹ مین تھے۔ جب سکینڈل آیا تو فواد حسن فواد ٹی وی چینل پر بیٹھ کر اس ڈرٹی ڈیل کا دفاع کررہے تھے اور شرط یہ رکھی کہ اس میں وہ رپورٹر نہیں بیٹھے گا جس نے یہ سکینڈل بریک کیا تھا ۔ ارشد شریف آج بھی نئے نئے سکینڈلز بریک کررہا ہے جبکہ فواد حسن فواد عرصہ ہوا نیب کی قید میں ہے۔

عمران خان Imran Khan صاحب اور ان کی ٹیم‘ دونوں یہ سب کچھ دیکھ بھی رہے تھے اور اس کا فائدہ بھی اٹھارہے تھے کہ کیسے میڈیا شریف حکومت کو ایکسپوز کررہا ہے اور وہ اپنی تقریروں میں مزید جوش خطابت کا شکار ہوتے گئے۔ جوں جوں ہاؤس آف شریف لاہور اور اسلام آباد Islamabad میں بیوروکریسی کے ذریعے طاقت پکڑتا گیا‘ عمران خان Imran Khan کے نعروں میں شدت آتی گئی کہ وہ ایسی گورننس متعارف کرائیں گے کہ دنیا دیکھے گی۔ عمران خان Imran Khan کو ایک بڑا ایڈوانٹیج اپنے مخالفوں پر یہ تھا کہ وہ اس سے پہلے اقتدار میں نہیں آئے تھے‘ لہٰذا وہ جو بھی چاہتے دعویٰ کرسکتے تھے۔ ان کے مخالفین کے پاس ایسا کوئی ایڈوانٹیج نہیں تھا‘ کیونکہ پیپلز پارٹی کو وہ پانچ برس پاور میں دیکھ چکے تھے‘ جبکہ نواز شریف Nawaz Sharif بھی تیسری دفعہ وزیراعظم بنے تھے۔ یوں عمران خان Imran Khan روزانہ کی بنیاد پر جوش کواوپر لے گئے۔ شریف اور زرداری یہ نہ جان سکے کہ دنیا بدل رہی ہے‘ انہیں بھی بدلنا ہوگا ۔ پرانے ہتھکنڈوں سے حکومت نہیں چل پائے گی۔ نئی نسل اب سوشل میڈیا پر بیٹھی ہے‘ جو آسانی سے اپنے بزرگوں کی طرح وضع داری اور لحاظ نہیں کرتی۔ وہ نوجوان کسی کو بھی شک کا فائدہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔

اب مزے کی بات یہ ہے کہ عمران خان Imran Khan وزیراعظم بن کر اسی سوچ کے ساتھ چل رہے ہیں جو کبھی نواز شریف Nawaz Sharif اور زرداری کی تھی ۔ وہ بھی یہ سوچ کر حکمرانی کررہے ہیں کہ وہی کرو جو من بھائے‘ لوگوں کی پروا کون کرتا ہے۔ انہوں نے ہر وہ وعدہ توڑا ہے جو عوام سے کیا تھا ۔ ان کی بھی شریف خاندان کی طرح سوچ بن گئی ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے۔ یہی سوچ کر پیپلز پارٹی پنجاب سے ہاتھ دھو بیٹھی اور شریف خاندان بھی پنجاب میں الیکشن ہار گیا ۔ پاکستان Pakistan کی قسمت کے فیصلے پنجاب کرتا ہے‘ کیونکہ یہاں بارہ کروڑ لوگ آباد ‘ہیں‘ جہاں ایک سو چوالیس سے زائد سیٹیں ہیں اور جو پنجاب سے جیت جائے وہ اسلام آباد Islamabad پر حکومت کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے بہت سارے مہربان ناراض ہوجائیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی بھی اگر کرپشن‘ بیڈ گورننس کے خلاف کوئی ردعمل آتا ہے تو وہ پنجاب ہی سے آتا ہے۔ یہ نہیں کہ پنجاب میں کرپشن نہیں ۔ کرپشن بہت ہے‘ کیونکہ اس کا بجٹ بڑا ہے‘ لیکن ابھی بھی یہ پنجاب کا میڈیا ہے جو کرپشن کے خلاف رپورٹنگ کرتا رہتا ہے اور اسے ایشو بنائے رکھتا ہے۔ میں نے کم ہی باقی صوبوں کی لیڈر شپ کو کرپشن کے خلاف بات کرتے دیکھا ہے۔ اگر بات کی بھی ہے تو صرف منہ زبانی‘ لہٰذا عمران خان Imran Khan کا اوپر آنا ایک فطری سی بات تھی ۔ عمران خان Imran Khan نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اب اصولوں کے ساتھ سیاست نہیں کرسکتے‘ انہیں رومن کی طرح وہی کرنا ہوگا جو روم میں کیا جاتا ہے۔ شریفوں اور زرداریوں کی کرپشن ا ور بیڈ گورننس سے تنگ آئے عوام نے بھی یہ سوچ کر آنکھیں دوسری طرف کر لیں کہ چلیں عمران خان Imran Khan کو موقع دیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان Imran Khan اس موقع سے فائدہ اٹھا سکے؟ مجھے یاد ہے جب وزیراعظم بننے کے بعد ان کی ٹی وی اینکرز سے پہلی ملاقات ہوئی تو لگ رہا تھا کہ وہ سب کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ ہم ان کے ماڈل آف گورننس کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کریں ‘نہ کہ پرانے انداز میں رپورٹنگ کریں‘ جس طرح زرداری اور شریف دور میں کرتے رہے۔ ہم سب کواندازہ ہوگیاتھا کہ عمران خان Imran Khan کے کچھ اور ارادے ہیں‘ اس لیے وہ سو دن مانگ رہے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے‘ حالانکہ ہم ان کی باتوں اور نعروں سے یہ توقع کیے بیٹھے تھے کہ وہ ہم سب سے کہیں گے کہ آپ لوگ پہلے دن سے ہی میرے پہلے فیصلے سے ہی مجھے جج کریں۔ وہ دراصل وقت مانگ رہے تھے ‘جب انہوں نے اپنے قریبی دوستوں اور ملازمین کو نوازنا تھا ا ور بہت سارے یو ٹرن لینے تھے۔ دوستوں اور پارٹی کے ڈونرز کو مشیر بنا کر کابینہ میں لانا تھا اور سیاسی اتحادیوں کے نالائق افسران کو اعلیٰ پوسٹنگزدینی تھیں۔ عمران خان Imran Khan یہ بات بھول گئے تھے کہ ان کا ووٹ بینک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سے بہت مختلف ہے۔ وہ ایک سال تک انتظار کرتے رہے‘ لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جو ان سے پہلے شریف اور زرداری کھیلتے رہے تھے۔ یوں عمران خان‘ جن پر اعتماد تھا کہ وہ درست بندے کو درست جگہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ نے بیوروکریٹس کی وہ کلاس متعارف کروائی کہ اب پورے پنجاب میں پارٹی کو جگہ نہیں مل رہی جہاں یہ جا کر چھپ جائے اور اپنے ووٹررز اور فالورز سے جان چھڑائے۔

عمران خان Imran Khan صاحب سے بھی اپنے ووٹرز اور فالورز کو سمجھنے میں وہی غلطی ہوئی ہے جو زرداری اور شریف نے کی تھی ۔ ان دونوں نے اپنے ووٹرز کے ردعمل کو سنجیدہ نہیں لیا ۔ شریف اور زرداری کا انجام ہمارے سامنے ہے ۔ اب عمران خان Imran Khan بھی اپنے فالورز اور ووٹرز کو اسی طرح سنجیدہ نہیں لے رہے بلکہ اپنی غلطیوں پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ جب غلطیاں ایک جیسی ہوںگی تو زرداری اور شریفوں سے انجام کیسے مختلف ہوسکتا ہے؟

 282