افغانستان Afghanistan پر ٹرمپ کی ’’آنے والی تھاں‘‘ واپسی

برملا - نصرت جاوید

10 ستمبر 2019

Afghanistan sy Trump ki Wapsi

یہ کالم لکھنے سے قبل سوشل میڈیا کا سرسری جائزہ لیا۔محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوچکی تھی۔ مذکورہ ویڈیو میں وزیر اعظم Prime Minister کی معاون خصوصی متنبہ کررہی ہیں کہ ان دنوں اقتدار میں موجود افراد نے اگر کماحقہ پرفارم نہ کیا تو ان کی چھٹی ہوجائے گی۔ وزیر اعلیٰ ہی نہیں وزیر اعظم Prime Minister کو بھی اپنی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

ذاتی طورپر مجھے اس ویڈیو میں کوئی قابل توجہ شے نظر نہیں آئی۔محض جوش خطابت کی روانی تھی۔سوشل میڈیا پر چھائے ’’محققین‘‘ مگر اصرار کررہے ہیں کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے ذریعے حکومتی نظام کے ’’حقیقی‘‘ نگہبانوں اور پاسبانوں کا ’’پیغام‘‘ دیا گیا ہے۔’’وارننگ‘‘ نما پیغام میں بجائے لطف اندوز ہونے کے پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔مجھے گماں تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے مقامی اور عالمی سیاست کے بارے میں ہماری ہمہ وقت رہ نمائی فرمانے والے خواتین وحضرات امریکی صدر کے ان تین ٹویٹس کی تشریح فرمارہے ہوں گے جو ہمارے ہاں اتوار کی صبح نمودار ہوئے۔ان کے ذریعے ڈونلڈٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ طالبان کے ایک وفد سے کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کرنا چاہ رہا تھا۔طالبان نے مگر گزشتہ جمعرات کو کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ٹریفک پر نگاہ رکھنے والے ایک ناکے پر حملہ کردیا۔اس حملے کی وجہ سے ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا۔اپنے "Great-Great"فوجی کی ہلاکت سے خفاہوکر امریکی صدر نے طالبان کے وفد کی میزبانی سے انکار کردیا۔نظر بظاہر طالبان کے ساتھ دوحہ میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری مذاکرت اب ’’ختم‘‘ کردئیے گئے ہیں۔سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ مذکورہ مذاکرات سے اگر ’’مثبت‘‘ نتائج برآمد ہونے کی توقع باقی نہیں رہی تو زلمے خلیل زاد بدستور اپنے منصب پر فائز ہے یا نہیں۔آخری خبریں آنے تک نہ تو اس سے استعفیٰ طلب کیا گیا نہ ہی خلیل زاد نے ازخود اس خواہش کا اظہار کیا۔دریں اثناء اتوار کی چھٹی سے لطف اٹھانے کے بجائے امریکی وزیر خارجہ اس دن صبح سے شام تک امریکہ United States میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے متعلق اہم ٹی وی نیٹ ورکس کے تقریباََ تمام مشہور پروگراموں میں شرکت کرتا رہا۔ اس کی ’’چھٹی‘‘ ڈونلڈٹرمپ کے طالبان کے ضمن میں لئے فیصلے کی وضاحتیں بیان کرنے میں غارت ہوگئی۔

سوشل میڈیا پرعقل کل بنے خواتین وحضرات عالمانہ رعونت سے مجھے یہ سمجھا سکتے ہیں کہ ’’تجھ کو پرائی کیا پڑی…‘‘ امریکہ United States جانے اور طالبان۔ ہمارا ان سے کیا لینا دینا۔کاش معاملہ اتنا ہی سادہ ہوتا۔ یاد دلانے کو مجبور ہوں کہ وائٹ ہائوس پہنچنے کے بعد ٹرمپ پاکستان Pakistan کے خلاف انتہائی تضحیک آمیز زبان میں ٹویٹس لکھتا رہا۔اس نے ہمیں ’’جھوٹا‘‘ اور ’’دوغلا‘‘ پکارا۔ مسلسل الزام لگاتا رہا کہ اس کے ملک سے ’’اربوں ڈالر‘‘ لینے کے باوجود ہم افغانستان Afghanistan میں امریکہ United States کی مدد کرنے کے بجائے اس کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہے۔ہمیں Moreoverوالی تکلیف پہنچانے کے لئے اس نے جنوبی ایشیاء کے بارے میں ایک نئی پالیسی کا اعلان بھی کردیا۔ اس پالیسی کے ذریعے ہمارے ازلی شریک یعنی بھارت India کو اس خطے کا تھانے دار بنانے کا عندیہ دیا گیا۔ہمارے علاوہ چین China کو بھی تکلیف پہنچانے کے لئے امریکہ United States سائوتھ چائنہ سمندر کو Indo-Pacificپکارنا شروع ہوگیا۔پاکستان Pakistan ان دنوں سیاسی بحران کا شکار تھا۔نواز شریف Nawaz Sharif وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات نااہل ٹھہرائے گئے۔ بعدازاں احتساب عدالت میں چلائے مقدمات کے نتیجے میں جیل بھیج دئیے گئے۔ان کی فراغت کے بعد شاہد خاقان عباسی نے نئے انتخابات تک وزارتِ عظمیٰ چلائی۔ امریکہ United States سے معاملات سنوانے کی کوشش بھی کی۔ ’’نجی دورے‘‘ کے نام پر امریکہ United States گئے۔ وہاں عام مسافروں کی طرح ایئرپورٹ پر ہاتھ اٹھاکر تلاشی دی۔ہم نے موصوف کا مذاق اڑایا۔ تاہم وہ امریکی نائب صدر سے ملاقات میں کامیاب ہوگئے۔ ایک سابق امریکی وزیر خارجہ بھی پاکستان Pakistan آیا۔ اس وزیر خارجہ کی ان دنوں پاکستان Pakistan کے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے واشنگٹن میں ایک ملاقات بھی ہوئی۔پاک-امریکہ United States تعلقات مگر سنورنہ پائے۔ پھر پاکستان Pakistan میں نئے انتخابات ہوئے اور عمران خان Imran Khan صاحب وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے۔عمران حکومت کے اقتدار کے فقط چھ ماہ بعد امریکی صدر پاکستان Pakistan کی تعریف کرنا شروع ہوگیا۔ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کو بہت چائو سے واشنگٹن بلایا گیا۔انہیں مدعو کرنے کی کاوشیں اپریل کے اواخر میں شروع ہوگئی تھیں۔ عمران خان Imran Khan صاحب نے مگر امریکی پیغام بروں کو احساس دلایا کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات کے لئے بے چین China نہیں ہیں۔ واشنگٹن جولائی تک انتظار کرے۔کئی امریکی سفارت کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کا صدر پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کے Hard to Getرویے کو اپنے لئے Snubشمار کرے گا۔ایسا مگر ہوا نہیں۔ وائٹ ہائوس جولائی میں عمران خان Imran Khan صاحب سے ملاقات کے لئے وقت نکالنے کو مجبور ہوگیا۔ بالآخر 22جولائی کے روز امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات ہوگئی۔باقاعدہ مذاکرات سے قبل اس دن امریکی صدر نے ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کو دائیں ہاتھ بٹھاکر مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کا بھی اعلان کردیا۔امریکی صدر کی اہلیہ نے عمران خان Imran Khan صاحب کے ساتھ بہت اشتیاق سے تصویر کھچوائی۔ وزیر اعظم Prime Minister نے واشنگٹن میں مقیم پاکستانیوں کے ایک ہجوم سے تاریخی خطاب بھی کیا۔واشنگٹن سے اسلام آباد Islamabad لوٹ کر وزیر اعظم Prime Minister صاحب نے اپنے استقبال کے لئے آئے وزراء کو ایئرپورٹ پر بتایا کہ انہیں یوں محسوس ہورہا ہے کہ وہ ایک اور ورلڈکپ جیت کر پاکستان Pakistan واپس آئے ہیں۔جزئیات سمیت یہ تمہید باندھنے کا مقصد آپ کو احساس دلوانا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کی واشنگٹن میں گرم جوش پذیرائی کا اصل سبب افغانستان Afghanistan تھا۔ہماری چاپلوسی کا واحد مقصد پاکستان Pakistan کو اس امرپر آمادہ کرنا تھا کہ وہ افغانستان Afghanistan میںٹرمپ کی ترجیحات اور ٹائم ٹیبل کے مطابق ’’امن‘‘ کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے۔متوقع کردار کو یقینی بنانے کے لئے IMFسے پاکستان Pakistan کے لئے ایک بیل آئوٹ پیکیج کے اجراء میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ہماری معیشت کی ’’بحالی‘‘ اور ’’استحکام‘‘ کو یقینی بنانے کے لئے IMFنے بلکہ اپنے دو پسندیدہ ماہرینِ معیشت ڈاکٹر حفیظ شیخ اور رضاباقر ہماری حکومت کی ’’نذر‘‘ کئے۔ وزارتِ خزانہ کی کلید ان دنوں شیخ صاحب کے پاس ہے۔ رضاباقر سٹیٹ بینک آف پاکستان Pakistan کو خودمختار بنائے چلے جارہے ہیں۔

IMFسے بیل آئوٹ پیکیج کے حصول کے بعد ہمیں امید یہ بھی ہے کہ امریکہ United States اب FATFسے ہماری جان چھڑانے میں مدد گار ہوگا۔ اتوار کی صبح پاکستان Pakistan میں موصول ہوئے ٹویٹس سے مگر بنیادی پیغام یہ ملا ہے کہ افغانستان Afghanistan کے حوالے سے ٹرمپ نے جو منصوبہ بنارکھا تھا اس کی ترجیحات اور ٹائم ٹیبل کے مطابق پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچ رہا۔ افغانستان Afghanistan کے حوالے سے معاملات ’’آنے والی تھاں‘‘ پرواپس آگئے ہیں۔افغانستان Afghanistan کے حوالے سے ٹرمپ کی لگائی گیم اگر اس کی خواہشات کے مطابق طے شدہ اہداف تک نہیں پہنچ رہی تو پاکستان Pakistan کے بارے میں واشنگٹن میں حال ہی میں دکھائی گرم جوشی بھی برقرار نہیں رہے گی۔ گرم جوشی سردمہری میں تبدیل ہونا شروع ہوجائے تو اسے دیگر حالات میں نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ممکنہ سرد مہری کا اظہار مگر IMFاور FATFکی فیصلہ سازی کے ذریعے ’’سزا‘‘ دیتی نظر آئے تو ہمارے لئے فکر مند ہونا ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر چھائے عقلِ کل خواتین وحضرات کی اس تناظر میں بے اعتنائی پر بخدا مجھے رشک آتا ہے۔کاش میں ان جیسا اطمینانِ قلب حاصل کرسکوں۔ اپنی توجہ محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے فرمودات پر مرکوز رکھوں اور ان فرمودات میں موجود ’’پیغام‘‘ کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرسکوں۔

 120