مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ماسکو کانفرنس سے حل ہوگا

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

10 ستمبر 2019

Masla Kashmir Moscow Conference sy hal hoga

بھارتی Indian حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر پر احمقانہ پیش رفت کے بعد پاکستان Pakistan نے خطے‘ عالمی برادری اور اسلامی برادری میں جو سفارتکاری کی اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی Indian سفاکیت کے بعد کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان Pakistan کسی مصالحت یا مصلحت کو ایک طرف رکھ کر اس پر جنگی انداز میں آگے بڑھے گا۔ حق اور انصاف کی لڑائی میں ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ درست سمت میں آگے بڑھنے کے لئے جرأت مندانہ طرزِ عمل اختیار کرنا پڑتا ہے۔ تقسیم ہند سے لمحۂ موجود تک پاکستان Pakistan نے مصلحت اور لحاظ پسندانہ رویہ اختیار کیے رکھا اور مفاہمت کے تمام راستے اختیار کرکے دیکھا۔ مذاکرات‘ مکالمے اور بات چیت کے لئے بھی ہر طرح کی کوششیں کی جاچکیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں ‘ انسانی حقوق کے اداروں کی یقین دہانیوں‘ مہذب دنیا کی تشویش اور عالمی قوتوں کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر انحصار کرکے دیکھ لیا۔ بھارت India سے معاہدہ تاشقند‘ شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور کے تحت معاملات کو باہمی گفتگو سے حل کرنے کی سعی بھی کی جاچکی ہے‘ لیکن حقیقت یہی ہے کہ نرم روی اور شرافت کی کوئی قدر نہیں۔

پاکستان Pakistan کے عوام کو تاریخ کا ادراک ہے کہ جب سے ہندوستان کی تقسیم ہوئی کشمیر پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان وجہ ٔتنازعہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تین باقاعدہ جنگیں اور ایک غیر اعلان جنگ ہو چکی ہے۔ پہلی جنگ 1947-48ء میں ہوئی اور موجودہ آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد ہوا۔ اسی جنگ کی بنیاد پر بھارت India اقوام متحدہ میں گیا تھا‘ جہاں وہ قراردادیں پاس ہوئی تھی جن کی بازگشت ا بھی تک سنائی دیتی ہے؛ اگرچہ عالمی طاقتوں کی سازشوں سے ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ پھر 1965ء میں دونوں ممالک ایک بار پھر ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوئے‘ اس کی بنیادی وجہ بھی مسئلہ کشمیر Kashmir Issue ہی تھا۔ اس جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند ہوا۔ سوویت یونین میں ہونے والے اس معاہدے میں پاکستان Pakistan کی طرف سے صدر ایوب خان اور بھارت India کی طرف سے وزیر اعظم Prime Minister لال بہادر شاستری شامل ہوئے تھے۔ روسی وزیراعظم کوسی گن نے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے اہم تنازعہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کارگل‘ حاجی پیر کی اہم چوکیاں جو شاہراہ سری نگر کی طرف سے اہم حساس خطہ ہے‘ جس پر بھارت India نے 6ستمبر 1965ء کو قبضہ کر لیا تھا وہ روسی وزیراعظم کی کوششوں سے پاکستان Pakistan کے حوالے کرنے کے دستاویزات پر دستخط ہوئے اور اسی معاہدے کے فورا ًبعد بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister لال بہادر شاستری حرکت قلب بند ہونے سے سدھار گئے۔ معاہدہ تاشقند کے دوران صدر ایوب خان اوروزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان غلط فہمی پیدا ہوگی‘ جس کے پس پردہ وزارت خارجہ کے اہم سینئر افسران اور وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری الطاف گوہر تھے جومعاہدہ تاشقند کے چھ ماہ کے اندر حکومت سے علیحدہ ہوگئے اور انہوں نے صدر ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کی بنیاد بھی رکھی جس کے نتیجے میں صدر ایوب خان حکومت سے 25 مارچ 1969ء کو مستعفی ہوگئے اور عوام کو ایک اور مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا جس کی قیادت جنرل یحییٰ خان کے پاس تھی۔

اس دور میں 1970ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے پر شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان Pakistan کے خلاف انقلابی اور عوامی تحریک چلائی جس کو بھارت India نے پوری طرح سپورٹ کیا ۔جب وہاں سیاسی قیادت نے بغاوت کا روپ دھارا تو بھارتی Indian افواج نے عوامی لیگ کو مدد دینے کے لیے مشرقی پاکستان Pakistan میں مداخلت کی اور دونوں ممالک میں جنگ چھڑ گئی ۔سیاسی قیادت مغربی پاکستان Pakistan میں بھی جنرل یحییٰ خان کے درپردہ خلاف تھی اور ذوالفقارعلی بھٹو بھی عالمی طاقتوں کے ارادوں کو بھانپ چکے تھے‘ لہٰذا انہوں نے نیم دلی سے جنرل یحییٰ خان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی بجائے صدر نکسن سے درپردہ مفاہمت کر لی ۔ 16 دسمبر 1971 ء کو سقوط ڈھاکہ کا عظیم غم پاکستان Pakistan کو دیکھنا پڑا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد جنرل یحییٰ خان نے حکومت ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کردی اور 2 جولائی 1977ء کو شملہ معاہدے کے تحت کشمیر کے خطہ متارکۂ جنگ کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کرتے ہوئے کارگل اور وادی لیپا کے اہم علاقے بھارتی Indian حکومت کے حوالے کر دیئے گئے۔ شملہ معاہدے کے بعد پاکستان Pakistan حساس خطے سے محروم ہوکر سری نگرکی شاہراہ سے بہت دور چلا گیا‘ یہی وہ معاہدہ ہے جس کا آج بھی بھارت India عالمی طور پر اپنے موقف کے لیے پیش کرتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اسے کامیاب بنانے کی پاکستانی کوشش کو بھارت India نے کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے بھارت India کی وحدت کا شیرازہ بکھر نے کا امکان پیدا ہو چکاہے۔ بھارت India کی آٹھ ریاستوں میں سے علیحدگی کی تحریک زور پکڑ چکی ہے اور موجودہ تناظر میں نظر آتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت India سے عنقریب آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے‘ اور اس میں اقوام متحدہ اور امریکہ United States کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اب اقوام متحدہ کی قرار دادیں بظاہر بے معنی ہوگئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے 89 لاکھ عوام مسلح بغاوت پر اتر آئے ہیں اور بھارتی Indian حکومت نے 40 دنوں سے کرفیو لگا کریہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت India مقبوضہ کشمیر پر اپنی حکمرانی کی رٹ سے محروم ہوچکا ہے۔ میری ناقص رائے میں کشمیر پر بھارت India کے غاصبانہ قبضے سے نجات دلانے کے لئے روسی صدر پیوٹن کی میزبانی میں ماسکو کانفرنس کشمیر کی آزادی کا واحد حل ہے‘ جو تاشقند پلس کے زمرے میں آتی ہے۔ 1965ء کی جنگ کے بعد روسی وزیراعظم کوسی گن نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کانفرنس میں جموں کشمیر کے تنازع کے بارے میں روسی وزیراعظم سے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا اور بھارت India کو وارننگ دی تھی کہ روس Russia آئندہ سلامتی کونسل میں کشمیر کے تنازعے پر ویٹو کا استعمال نہیں کرے گا۔ بد قسمتی سے اعلان تاشقند کو سبوتاژ کرنے میں امریکی صدر جانسن اور ہنری کسنجر کا اہم کردار رہا ‘جنہوں نے روسی کاوشوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان Pakistan باضابطہ طور پر روس Russia کے صدر پیوٹن سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرے ۔چین China ‘ایران‘ پاکستان‘ افغانستان Afghanistan اور وسط ایشیا کے ممالک اور بھارت India برصغیر کے خطے میں جرمنی کی طرز پر مفاہمت کی پالیسی اختیار کریں جبکہ پاکستان Pakistan کو مشرق وسطیٰ کے کاروباری مفاد کے چنگل سے نکلنا ہوگا۔

چیئرمین صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی تحقیقات کرنے والی پاکستان Pakistan مسلم لیگ (ن) کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سامنے دو درجن سے زائد پارٹی سینیٹر پیش ہو چکے ہیں۔ پاکستان Pakistan مسلم لیگ (ن )کے 30 سینیٹرز میں سے اسحاق ڈار لندن میں ہونے کی وجہ سے تاحال مفرور ہیں۔ ایوان بالا میں اس وقت پارٹی کے 29 سینیٹرز موجود ہیں‘ اب تک کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والوں میں کامران مائیکل ‘ راحیلہ مگسی‘ جنرل قیوم ‘ آغا شاہ زیب درانی‘ کلثوم پروین‘ رانا محمودالحسن ‘ نزہت صادق ‘ غوث محمد خان نیازی‘ عائشہ رضا فاروق‘ اسد اشرف اور دیگر سے انٹرویو لیے گئے ہیں اور ابھی تک منحرف سینیٹرز کا کھوج لگانے والی کمیٹی کے چار اجلاس خاموشی سے ہوگئے ‘لیکن ابھی تک نتائج سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان سے بھی بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری کی ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے تقریباً تمام سینیٹرز پیش ہوئے ہیں اور اپنی وفاداری کی یقین دہانی کرائی گئی‘ جن میں شیریں رحمان‘ گیان چند‘ کرشناکماری روبینہ خالد‘ اسلام الدین شیخ‘ ر خسانہ زبیری اور دیگر سینٹر سے پوچھ گچھ کی گئی‘ لیکن اس کے نتائج عوام کے سامنے پیش نہ ہونے کے امکانات ہیں۔

 91