امریکی لارنس آف عریبیا

حرف راز - اوریا مقبول جان

09 ستمبر 2019

Americi lorance of Areebia

امریکی صدر جارج بش نے جنوری 2009 ء میں میڈل آف فریڈم دیتے ہوئے،اسے ''امریکہ United States کا لارنس آف عریبیا ''کہہ کر پکارا ۔اس شخص سے میری ملاقات مسجد وزیر خان لاہور میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان Pakistan میں امریکی سفارتخانہ ''صوفی اسلام'' کی ترویج کے لئے مزارات اور تاریخی مساجد کی ازسرنو تزئین کے لیے سرمایہ فراہم کر رہا تھا۔ بحیثیت ڈائریکٹر جنرل، محکمہ آثارقدیمہ میرے لئے اس ذمہ داری کو نبھانا جہاں ذہنی تکلیف کا باعث تھا، وہیں یہ تعلق مجھے خطے میں امریکہ United States کی چالوں اور مسلم اُمہ میں نقب زنی کے راستوں سے بھی آشنا کرتا تھا۔ بہت سا سرمایہ براہ راست مشائخ عظام اور گدی نشین حضرات کو ملتا جبکہ ایسے قدیم مزارات و مساجد جن کا ذمہ محکمہ آثار قدیمہ کے پاس تھا، اس کے لئے امریکی سفارت خانہ ہم سے رابطہ کرتا۔ مسجدوزیرخان ان میں سے ایک تھی جس کے قدیمی بازار کی مرمت کے لئے فنڈ فراہم کیے گئے۔ سب سے پہلا جھگڑا اس بات پر ہوا کہ جب امریکی سفیر اس کام کی تکمیل دیکھنے آئے گا تو افتتاح پر امریکی مدد کی تختی لگی ہونی چاہیے۔ میں نے انکار کیا کہ ہم اللہ کے گھر پر کسی کی تختی نہیں لگاتے۔ ناراضگی کے عالم میں یہ شخص مسجد وزیر خان آیا۔ ایک حیران کن معلومات کا حامل، عربی اور فارسی پر عبور رکھنے والا اور اسلامی مسالک و تاریخ کے زیر و بم سے آشنا۔۔۔ امریکی سفیر، ریان سی کروکر۔ ایک عرصے سے میں نے یہ عادت بنا رکھی ہے کہ میں کسی بھی غیر ملکی سے ملاقات سے پہلے اس کی گذشتہ زندگی، تعلیم اور دیگر معاملات کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کرتا ہوں۔ اس طرح مجھے اس کے سوال میں چھپے مقصد کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور جواب دینے میں بھی آسانی رہتی ہے۔ اس شخص کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تو حیرت میں گم ہوگیا۔ امریکی ایئر فورس میں ملازم باپ کی وجہ سے وہ بچپن میں مراکش اور ترکی میں رہا اور اسلامی تہذیب سے آشنا ہوا۔ فارن سروس Russia میں آنے کے بعد اس نے فارسی زبان سیکھی اور شاہ ایران Iran کے دور میں 1972ء میں خرم شہر میں امریکی قونصلیٹ مقرر ہوگیا۔ اسکے بعد دوہا، قطر میں کمرشل کونصلر مقرر کیا گیا اور اس نے عربی میں دلچسپی پیدا کرلی۔ یہیں سے وہ تیونس کے فارن سروس Russia عربی انسٹیٹیوٹ میں دو سال کے لیے عربی سیکھنے چلا گیا۔ اب اس کی تربیت مکمل ہوچکی تھی، وہ مسلم دنیا کیلئے ماہر سفارتکار تھا۔ اسے مسلم دنیا کے سب سے زیادہ جنگ زدہ علاقے لبنان میں 1981ء میں امریکی سفارتخانے کے سیاسی سیکشن کے انچارج کے طور پر بھیجا گیا۔ اسکے بیروت پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد 16ستمبر 1982 ء کو شام چھ بجے سے لیکر 18ستمبر 1982ء تک رات آٹھ بجے تک لبنان کی سیکولر سیاسی تنظیم ''حزب الکتائب لبنانیہ '' کے ملیشیا نے صابرہ شطیلہ کے فلسطینی مہاجر کیمپوں پر اسرائیل کے وزیر دفاع ایریل شیرون کی مدد اور نگرانی میں قتل و غارت کیا۔یہ قتل عام انسانی تاریخ کا بدترین قتل عام سمجھا جاتا ہے جس میں ساڑھے تین ہزار فلسطینیوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا تھا، جن میں معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔ اس قتل عام کی نگرانی ایریل شیرون نے اسرائیل سے بیروت آکر امریکیوں سے ملاقات کے بعد شطیلہ کیمپ سے دو سو میٹر دور ایک پانچ منزلہ عمارت میں بیٹھ کر کی تھی۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF)نے کیمپوں کو گھیرے میں لیا اور پھر سیکولر ملیشیا نے قتل عام کیا ۔ ریان سی کروکر اپنے امریکی دفتر میں اس آپریشن کی نگرانی کرتا رہا۔ حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اسے کچھ دیر کے لئے امریکہ United States واپس بلالیا گیا، لیکن جلد ہی دوبارہ بیروت بھیج دیا گیا۔ بیروت کا امریکی سفارتخانہ اس وقت امریکی سی آئی اے کا مرکز بھی تھا۔ اس قتل عام کے بعد اس ہیڈکوارٹر سے 18 اپریل 1983ء کو ایک شخص نے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں دیگر ستر کے قریب لوگوں کے علاوہ سی آئی اے کا علاقائی سربراہ رابرٹ ایمز (Robert Ams) اپنے سولہ اہم ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ ریان سی کروکر اس حملے میں بچ نکلا اور اسے امریکہ United States میں محکمہ خارجہ کے عرب اسرائیلی معاملات کے ڈیسک کا سربراہ بنا دیا گیا۔ عرب دنیا اب اس کے نام سے واقف ہو چکی تھی اسی لئے 1998 ء میں جب وہ شام میں سفیر تھا تو دمشق کے عوام کا غصے سے بھرا ہوا ہجوم اس کے گھر میں داخل ہوا اور اسے اجاڑ کر رکھ دیا۔ گیارہ ستمبر 2001 ء کے بعد اس ''امریکی لارنس آف عریبیا'' کے کمالات کا اصل زمانہ شروع ہوا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا تو وہ وزارت خارجہ کے اہم لوگوں کے ساتھ جینوا جا پہنچا جہاں اس کی 70ء کے زمانے کی ایرانی سفارت کاری اور فارسی زبان کی مہارت کام آئی اور اس نے وہاں خفیہ طور پر ایران Iran کے حکام کو قائل کر لیا کہ طالبان اور القاعدہ دراصل امریکہ United States اور ایران Iran کے مشترکہ دشمن ہیں۔ یوں تقریباً ایک سال تک ایران Iran نے افغانستان Afghanistan میں امریکی اور نیٹو افواج کی بھرپور مدد کی۔ ریان سی کروکر نے نومبر 2013 ء کے نیویارک ٹائمز میں اپنے مضمون ''Talk to Iran, it works'' میں تمام تفصیلات بتائی ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ کیسے مختلف مقامات پر ایرانی حکام سے ملاقاتیں کرتا رہا، کیسے انہوں نے القاعدہ کے لوگوں کو پکڑنے میں امریکہ United States کی مدد کی اور کس طرح شمالی اتحاد کے ذریعے ہمیں افغان طالبان سے لڑنے میں ہر طرح کی کمک فراہم کی۔ ریان سی کروکر کے مطابق ایران Iran افغانستان Afghanistan پر حملے کا سب سے مضبوط محرک (Proponent) تھا (میں نے اسی کا انگریزی لفظ وضاحت کے لیے استعمال کیا ہے)۔ اس نے بتایا کہ بون میں افغان عبوری حکومت کا قیام اور حامد کرزئی کی صدارت دراصل امریکہ United States ایران Iran معاہدے کا ہی نتیجہ تھی۔ انہی کامیابیوں کے نتیجے میں کروکر کو جنوری 2002ء میں افغانستان Afghanistan کے امور کا نگران اور کابل میں نئے کھلنے والے سفارتخانے کا ''charge de affairs'' لگا دیا گیا۔ یہاں اس نے ایک بار پھر ایرانیوں کے ساتھ لاتعداد سیکورٹی اور افغان ترقیاتی منصوبوں کے معاہدے کیے۔ لیکن اس کے بقول اس کی تمام کوششوں کو جارج بش کی اس تقریر نے خراب کر دیا جس میں اس نے ایران Iran کو برائی کا مرکز ''Axis of Evil'' قرار دے دیا۔ اس کے بقول ہم ایرانیوں کے ساتھ معاہدے کے نزدیک تھے جس کے تحت انہوں نے گلبدین حکمتیار کو افغان حکومت کے حوالے کرنا تھا اور پھر امریکہ United States کے۔ لیکن کروکر افغانستان Afghanistan میں امریکی سفارتخانہ مضبوط کرتا رہا اور بالآخر 2004ء میں پاکستان Pakistan میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب رینڈ کارپوریشن کی مشہورِ زمانہ رپورٹ سول ڈیموکریٹک اسلام (civil democratic Islam) آچکی تھی اور امریکی انتظامیہ نے اسے اپنے لیے مشعل راہ کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ اس رپورٹ کے نزدیک پوری امت مسلمہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دو ایسے گروہ جو اسلام کی نشاۃثانیہ پر یقین رکھتے ہیں، جن سے امریکہ United States کو جنگ کرنا ہے،جبکہ تیسرا گروہ وہ ہے جو سیکولر، لبرل ہیں وہ پہلے ہی سے ساتھ ہیں مگر جس چوتھے گروہ کو ساتھ ملانا ہے وہ ماڈریٹ اسلام کے قائل ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت امریکہ United States کا یہ لارنس آف عریبیا، ''ریان سی کروکر'' پاکستان Pakistan میں تین سال سفیر رہا۔ مسجد وزیر خان میں اس کے ساتھ میری ملاقات تقریبا ایک گھنٹے پر محیط تھی۔ وہ مراکش سے لے کر برونائی تک ہر ملک کے مسلمانوں کی کمزوریوں اور صلاحیتوں سے بخوبی واقف تھا، اسے اسلامی تاریخ پر عبور حاصل تھا اور وہ عربی مصادر اور فارسی محاورے سے آشنا تھا۔ پاکستان Pakistan میں پرویز مشرف کے ذریعے سیکولر اخلاقیات کے نفاذ اور چوہدری شجاعت کی سربراہی میں صوفی کونسل بنوانے کے بعد وہ 2007 ء میں عراق Iraq میں تعینات ہو گیا، جہاں امریکی آشیرباد سے نئی نئی حکومت بنی تھی اور سنی اور شیعہ مل کر اس حکومت کے خلاف متحد تھے۔ مقتدی الصدر کی کارروائیوں نے دہلا کر رکھا ہوا تھا۔ ریان سی کروکر کی آمد نے نقشہ ہی بدل دیا۔ اس دفعہ اس نے ایران Iran سے کھل کر میڈیا کی چکاچوند میں ملاقات کی اورمعاہدے کے تحت ایرانیوں نے مقتدی الصدر کے ملیشیا سے ہاتھ کھینچ کر امریکی کاسہ لیس عراق Iraq حکومت کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ ایرانی مدد سے وزیراعظم نور المالکی کی افواج نے اپریل 2008ء میں پورے عراق Iraq میں دہشت گردی کے نام پر قتل عام کا آغاز کردیا۔ کروکر کو میڈل آف فریڈم عطا ہوا اور لارنس آف عریبیاکہہ کر پکارا گیا اور پھر 25 جولائی 2001ء کو اسے افغانستان Afghanistan میں دوبارہ سفیر مقرر کیا گیا،جہاں وہ ایک سال تک رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد سب سے پہلی آواز اسی ''لارنس آف عریبیا ''کی بلند ہوئی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ افغان امریکہ United States معاہدے کا ڈرافٹ انتہائی خطرناک (Very Dangerous)ہے۔یہ انتہائی خطرناک کس لئے ہے اور اس معاہدے سے خوفزدہ کون ہے؟ کل بات ہو گی۔

 319