کمیابی؟

ماجرا - بلال الرشید

07 ستمبر 2019

Kamyabi

یہ دنیا کچھ اصولوں پر چل رہی ہے ۔انسان جب بھی کوئی پراجیکٹ بناتا ہے تو معیشت کا سب سے بنیادی اصول مدنظر رکھتے ہوئے اسے مرتب کیا جاتا ہے ۔ یہ اصول کہتا ہے: وسائل محدود ہیں ۔ resources are scarce۔ اس وجہ سے آپ وسائل کا زیاں نہیں کر سکتے ۔ اس زمین سے اُگنے والی گندم محدود ہے ۔اس میں سب سے بڑی سرمایہ کاری وقت کی ہوتی ہے ۔کئی مہینوں کے بعد جا کر یہ فصل پکتی ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ سردیوں میں حرارت حاصل کرنے کے لیے گندم کی فصل کو آگ لگا دیں ۔ یہ اسی طرح ہے‘ جس طرح سخت سردی میں آپ ایک بہت گہرے گڑھے کی تہہ میں کھڑے ہوئے ہیں‘ اوپر جانے کے لیے آپ کے پاس لکڑی کی ایک سیڑھی ہے ‘ لیکن آپ گڑھے سے باہر نکل کر گھر جا کر بستر میں آرام کرنے کی بجائے اس لکڑی کی سیڑھی کو آگ لگا کر ہاتھ سینکنا شروع کر دیں تو کون آپ کو عقلمند کہے گا؟

اسی طرح زمین پر وسائل محدود ہیں ۔ یورپ میں وسائل میں جو چیز سب سے زیادہ مہنگی ہے ‘ وہ انسانی خدمات ہیں ۔ وہاں لیبر بہت مہنگی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان Pakistan اور بھارت India میں قائم کردہ کال سینٹرز سے یورپ میں بہت سی خدمات دی جا تی ہیں ۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ایسے ممالک میں جا کر اپنے سیٹ اَپ قائم کرتی ہیں جہاں لیبر سستی ہے ۔ انسانی خدمات‘ لیبر اِس قدر قیمتی ہیں کہ جس کا اندازہ بھی لگایا نہیں جا سکتا۔ اپنی اپنی فیلڈ کے جو ٹاپ سپیشلسٹ ہیں ‘ان میں سے بعض کی ایک دن کی تنخواہ لاکھوں میں ہوتی ہے ۔ ٹاپ بینکرز‘ صحافی ‘ سرجن اور آڈیٹرز وغیرہ ۔ بنیادی طور پر یہ انسانی مہارت ہی ہے کہ جس کا کوئی بھی نعم البدل دنیا میں نہیں ہے ۔

لیکن اس کے مقابلے میں آپ یہ دیکھیں کہ جہاں خالق اپنی قوت دکھاتا ہے ‘ وہاں کسی بھی انسانی صلاحیت کی ایک ٹکے کی بھی حیثیت نہیں اور نہ ہی وہاں وسائل کی کوئی کمیابی نظر آتی ہے ۔ دس بارہ کروڑ سال تک ہائیڈروجن کے بادل اکھٹے ہوتے رہے ؛حتیٰ کہ آگ بھڑک اٹھی اور سورج کی پیدائش ہو گئی ۔ چٹانیں او رمٹی کے بڑے بڑے پہاڑ اس سورج کے گرد کروڑوں سالوں تک گھومتے رہے ‘ آپس میں ٹکراتے اور جڑتے رہے اور حتیٰ کہ سیارے بننے لگے ۔ انسان اور انسانی مہارت اس سارے عمل میں کہاں تھی ؟ وہ انسان جو یہ سوچتا ہے کہ ایک پہاڑ کو اگر میں اپنے بلڈوزر اور کرین سے اپنی جگہ سے ہٹا نہ دوں تو ہائوسنگ سوسائٹی کیسے بنے گی ؟ آپ یہ دیکھیں کہ سورج تخلیق ہو رہا ہے ‘ سیارے بن رہے ہیں ۔ کوئی کرین نہیں ‘ کوئی مشین نہیں صرف law of gravityاستعمال ہو رہا ہے ۔کس لیول کی کنسٹرکشن اور وہ بھی پردے میں رہتے ہوئے۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ زمین پر تو ہم وسائل کی کمی سے مرے جا رہے ہیں‘ جب سورج اور سیارے وجود میں آرہے تھے‘ اس وقت وسائل کی یہ کمیابی کہاں گئی۔ اگر آپ کے پاس ایسا لباس اور ایسی شٹل موجود ہو کہ آپ سورج کے اندر جا کر اپنی مرضی کے مٹھی بھر عناصر اٹھا کے لا سکیں تو آپ کی 70نسلیں عیش کر سکتی ہیں ۔ یہ عناصر ‘ جن کی کمیابی کی وجہ سے زمین پر ان کے لیے جنگیں ہوتی ہیں ‘ خلا میں ہر کہیں انتہائی وافر مقدار میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ وہاں کسی کمیابی اور scarcityکا تصور تک نہیں ۔ کبھی کبھی کوئی شہابِ ثاقب زمین پہ آگرتا ہے تو اس سے انسانوں کو قیمتی عناصر حاصل ہوتے ہیں ‘ جن کی باقاعدہ خرید و فروخت ہوتی ہے ۔

کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ ایک سورج ہوتا ‘ اس کے گرد زمین گھومتی رہتی تو کیا اتنی ہی کائنات انسان کے لیے کافی نہیں تھی ۔ کہاں یہ کہ سو ارب کہکشائیں اور ایک ایک کہکشاں میں سینکڑوں ارب سورج ۔ ایسا لگتاہے کہ تخلیق کرنے والے نے اپنی تخلیقی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح زمین پر اتنی زندگی کافی ہوتی کہ ایک انسان ہوتا‘ اس کے علاوہ گھوڑا‘ بکرا اور زیادہ سے زیادہ ہرن کافی تعداد میں پیدا کر دیے جاتے ۔ انسان اپنی پروٹین کی ضروریات ان سے پوری کر سکتا تھا ۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ کہیں رنگ بدلتا ہوا گرگٹ ہے ‘ کہیں خوبصورت بلی‘ کہیں ناچتا ہوا مور ۔اس وقت ‘ جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ‘ دنیا میں 86لاکھ قسم کی مخلوقات اپنی زندگی گزار رہی ہیں ۔ ان سب مخلوقات کے جسموں میں گردے ہیں ‘ جگر ہیں ‘ جلد ہے ‘ کیلشیم اور فاسفورس کی بنی ہوئی ہڈیاں ہیں ۔ جب انسان ان سب کو دیکھتا ہے تو کبھی اسے ایسا لگتاہے کہ جیسے تخلیق کرنے والے نے اپنی تخلیقی قوت کا ایک مظاہرہ کیا ہے ۔ ایسا ہی ہوتاہے ۔ ایک بہت بڑے ادیب کو اگر پانچویں کا طالبِ علم کسی چھوٹے سے موضوع پر ایک مضمون لکھنے کو کہے تو وہ ادیب اپنی تخلیقی صلاحیت کی وجہ سے مجبور ہوگا ۔ اس کا لکھا ہوا بتائے گا کہ کس نے یہ مضمون لکھا ہے ‘ گو کہ پانچویں جماعت کے بچّے کی فر مائش پر یہ لکھا گیا ہے ۔ ایک بہت بڑے مصورکو کہیں کہ ذرا جلدی سے ایک عام سی پینٹنگ بنا دے ۔ وہ عام سی پینٹنگ کیسے بنائے؟ جو نزاکتوں کو سمجھتا ہے ‘ وہ تو انہیں نظر انداز کر ہی نہیں سکتا ۔

اس کے علاوہ آپ رنگوں کو دیکھیں ۔ اگر سب چیزیں ہمیں سفید اور سیاہ رنگوں میں نظر آتیں تو کیا تھا ؟ لیکن رنگوں کی صورت میں خدا نے کیا چیز تخلیق کی ہے ‘ یہ ایک آرٹسٹ ہی جان سکتاہے ۔ اور اللہ خود بھی فرماتا ہے : رنگ تو اللہ کا ہے اور اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا؟ یہی صورتِ حال چہروں اور انگلیوں کے نشانات کی ہے۔ سات ارب انسان آج زندہ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اور انگلیوں کے نشانات دوسروں سے منفرد ہیں ؛ حتیٰ کہ جڑواں بچوں میں بھی ۔ یہاں آکر بھی ایسا ہی محسوس ہوتاہے کہ خالق اپنی تخلیقی قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انسان کے سر پہ جو بال ہوتے ہیں ‘ ان کی اوسط تعداد فی کس ایک لاکھ ہوتی ہے ۔ یہ تعدا دبہت زیادہ ہے ۔ 20ہزار بالوں سے پورا سر بہت اچھی طرح کور ہو سکتاہے ۔ اس طرح کہ دیکھنے والے کو علم ہی نہ ہو کہ درمیان میں بال کم ہیں ۔بال ٹرانسپلانٹ کرنے کے ایک سیشن میں زیادہ سے زیادہ تین ہزار بال سامنے کے حصے میں لگائے جاتے ہیں اور اس سے انسان کی شکل ہی بدل کے رہ جاتی ہے ۔ آپ کبھی کھلونوں کی دوکان میں پڑی ہوئی کسی گڑیا کے سر پہ موجودمصنوعی بال دیکھیں ۔وہ صرف سامنے اور پیچھے بالوں کی ایک ایک تہہ لگاتے ہیں اورانہیں لمبا رکھ کے پورا سر کور کرلیتے ہیں ۔ وجہ ؟ اگر پورے سر میں بیٹھ کر ایک ایک بال انسان لگاتا رہے تو ایک گڑیا پر اسے مہینہ لگ جائے گا ۔ اتنا وقت کس کے پاس ہے ؟

لیکن جو تخلیق کر رہا تھا ‘ اس کے پاس وقت ‘ قوت‘ ڈیزائن اور وسائل ‘ کسی بھی چیز کی کوئی کمی تھی ہی نہیں ۔ خدا کبھی بھی یہ نہیں کہے گا کہ اتنی زیادہ انسانی شکلیں تخلیق کی جا چکی ہیں کہ مزید شکلیں تخلیق کرنا ممکن نہیں ۔ نہ ہی وہ وقت بچانے کے لیے پندرہ بیس ہزار بالوں سے آپ کا سر ڈھکنے کی کوشش کرے گا ۔ اتنی عالیشان ہے وہ ذات ۔ انسان سوچتا ہے تو سوچتا ہی رہ جاتا ہے ۔

 157