’’کیونکہ میں ہندو ہوں‘‘

قلم کمان - حامد میر

05 ستمبر 2019

Kyun kay main Hindu hon

برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ کے سٹی کونسل ہال میں منعقدہ کشمیر سیمینار میں اظہارِ خیال کے بعد باہر آیا تو ایک پرانے دوست کو سامنے کھڑا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس دوست کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور آج کل کیمرج یونیورسٹی میں استاد ہے۔ جب بھی ملتا ہے سب سے پہلے ٹوٹی پھوٹی اردو میں یہ یقین دہانی حاصل کرتا ہے ’’تم اپنے کالم میں میرا نام نہیں لکھے گا اور نہ موتی بھائی کو یہ بتائے گا کہ میں تم کو ملا تھا‘‘۔ میں ہمیشہ اس کو یہ پوچھتا ہوں کہ تم موتی بھائی سے کیوں گھبراتے ہو؟ وہ ہمیشہ یہ جواب دیتا ہے کہ موتی بھائی بہت بہادر آدمی ہے، وہ حسینہ واجد کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے ہم نہیں، اگر اس کو پتا چل گیا کہ ہم بنگلہ دیش سے بھاگ گیا ہے تو اس کو برا لگے گا۔ میں اسے ہمیشہ پروفیسر کہہ کر مخاطب کرتا ہوں اور وہ مجھے بلڈی سویلین کہہ کر خوش ہوتا ہے۔ وہ مجھے ملنے کیلئے کیمرج سے بریڈ فورڈ آیا تھا اور لنچ کی دعوت دے رہا تھا۔ میں نے بتایا کہ سیدھا آکسفورڈ جا رہاں ہوں، وہاں سے اگلے دن لندن جانا ہے تم لندن آجائو۔ پروفیسر مایوس ہو گیا، کچھ سوچ کر کہا آکسفورڈ یونیورسٹی میں تو چھٹیاں ہیں تم کس کے پاس جا رہے ہو؟ میں نے بتایا کہ وہاں بھی ایک استاد ڈاکٹر عدیل ملک سے نیاز مندی ہے، ان سے ملنا ہے، تم بھی ساتھ چلو۔ اس نے کہا مجھے بھی آکسفورڈ میں ایک کام ہے، کیا تم کل صبح مجھے صرف آدھ گھنٹہ دے سکتے ہو؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو پروفیسر نے آکسفورڈ کی بروڈا سٹریٹ پر بلیک ویل بک شاپ کے قریب اپنے ایک دوست کے کافی ہائوس کا ایڈریس دے دیا۔ اسی شام ڈاکٹر عدیل ملک کے ہاتھ کی پکی لذیذ چکن کڑاہی کھا کر میں نے پروفیسر کو فون کیا کہ صبح ملنے کے بجائے آج رات کو مل لیتے ہیں۔ اس نے بتایا وہ آکسفورڈ سے دو گھنٹے دور ہے اس لئے کل صبح ہی ملے گا۔

اگلے دن صبح ہی صبح میں پروفیسر کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا بڑے دنوں سے تم نے موتی بھائی کے اخبار میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے بتایا کہ موتی بھائی سے حسینہ واجد ناراض ہے اس لئے میں ان کے اخبار میں نہیں لکھ رہا تاکہ ان کیلئے کوئی مشکل پیدا نہ ہو۔ پروفیسر نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولا کہ ہمارے سیاستدان اقتدار میں آکر بدل جاتے ہیں جیسے کہ عمران خان Imran Khan بھی بدل گیا ہے۔ میں نے مسکرا کر اس کا طنز نظر انداز کر دیا۔ ہم نے کافی پی لی تو پروفیسر مجھے بروڈ اسٹریٹ پر لے آیا اور سامنے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ یہاں کی یادگار شہداء ہے۔ 1555ء میں برطانیہ کی ملکہ میری ٹیوڈر نے پارلیمنٹ کے ذریعہ کچھ پادریوں کو یہاں موت کی سزا دی تھی، انہیں زندہ جلا دیا گیا کیونکہ ملکہ کو ان پروٹسنٹ پادریوں کے ساتھ مذہبی اختلاف تھا۔ ان پادریوں کی یاد میں اس جگہ پر ایک مینار قائم کیا گیا جسے ہم یادگارِ شہداء کہتے ہیں۔ پروفیسر نے کہا کہ ڈھاکا کا مینارِ شہداء تم نے دیکھا ہے، وہ بنگالی زبان کے لئے مارے جانے والوں کی یادگار ہے۔ آکسفورڈ کا مینارِ شہداء اپنے مذہبی عقائد کیلئے زندہ جلائے جانے والوں کی یادگار ہے۔ یہ کہانی سنا کر پروفیسر مجھے واپس کافی ہائوس میں لے آیا اور بتانے لگا کہ پاکستان Pakistan کے چھ وزرائےاعظم اس آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، فیروز خان نون، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور عمران خان۔ بھارت India کے دو وزیراعظم اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ اس یونیورسٹی کے سابق طالبعلم تھے۔ بھارت India اور پاکستان Pakistan کو برطانیہ کی ملکہ میری ٹیوڈر کے نقشِ قدم پر نہیں چلنا چاہئے اور مذہبی اختلاف کی بنیاد پر اقلیتوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے۔ میں نے وضاحت کی کہ پاکستان Pakistan میں اقلیتوں کے خلاف انفرادی طور پر زیادتی ہو جاتی ہے لیکن ریاست اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے۔ پروفیسر نے کافی کا دوبارہ آرڈر دیا اور کہا کہ آج میں تمہیں اپنی ریسرچ کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ ملکہ میری ٹیوڈر کو ’’بلڈی میری‘‘ کہا جاتا ہے اور میں اپنی ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بھارتی Indian وزیراعظم نریندر مودی narendra modi اس دور کا ’’بلڈی مودی‘‘ ہے۔ پروفیسر نے بتایا کہ وہ آسام اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے پس منظر پر ریسرچ کر رہا تھا لہٰذا اسے ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس RSS کے نظریات کو سمجھنے کا موقع ملا۔ وہ یہ جان کر سخت پریشان تھا کہ بھارت India کی حکمران جماعت دراصل ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس RSS کی طرح ’’اکھنڈبھارت‘‘ پر یقین رکھتی ہے اور صرف جموں و کشمیر Kashmir کو اپنا اٹوٹ انگ نہیں سمجھتی بلکہ آنے والے وقت میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، میانمار اور افغانستان Afghanistan پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہے جس کے باعث تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

پروفیسر اپنا آئی پیڈ کھول چکا تھا اور مجھے بتا رہا تھا کہ ’’بلڈی مودی‘‘ بڑی ہوشیاری سے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia ، متحدہ عرب امارات united arab emirates اور بحرین سے ایوارڈ حاصل کر رہا ہے اور بھارت India میں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ پروفیسر نے کہا کہ آپ لوگوں کو کشمیر کے علاوہ آسام کے مسلمانوں کا المیہ بھی سمجھنا چاہئے۔ بی جے پی BJP کہتی ہے کہ سکھ، جین اور بدھ مت کو ماننے والے دراصل ہندو ہیں، یہ سب ہندو بن جائیں۔ اسلام اور عیسائیت غیر ملکی مذاہب ہیں، بی جے پی BJP ناصرف پورے جنوبی ایشیا کو ہندو اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے بلکہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو زبردستی ہندو بنانا چاہتی ہے۔ پروفیسر نے کہا کہ برصغیر میں اسلام عربوں کے ذریعہ آیا، کشمیر میں اسلام وسطِ ایشیا اور ایران Iran کے راستے سے آیا۔ آج مودی عربوں کی آنکھ کا تارا ہے، وسط ایشیائی ریاستوں سے بھی اچھے تعلقات رکھتا ہے لیکن بھارت، پاکستان Pakistan اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کے صوفی بزرگ حضرت شاہ جلال ؒقونیا میں پیدا ہوئے اور مکہ میں پلے بڑھے، پاکستان Pakistan کے صوفی بزرگ داتا گنج بخش ؒاور بھارت India کے بزرگ خواجہ معین الدین چشتی ؒافغانستان Afghanistan سے آئے۔ بلڈی مودی افغانستان Afghanistan کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن پاکستان، بھارت India اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ میں نے پروفیسر سے پوچھا کیا تم یہ ریسرچ کتاب کی صورت میں شائع کرو گے؟ پروفیسر نے نظریں جھکا کر کہا پہلے اپنے خاندان کو بنگلہ دیش سے نکالوں گا پھر کتاب شائع کروں گا، بلڈی مودی میرے خاندان کو وہاں تباہ کر دے گا۔ اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے اور وہ لرزتے ہاتھوں میں کافی کا کپ تھامے خوفزدہ لہجے میں کہہ رہا تھا میں بھارت India کے مسلمانوں کیلئے ایک بہت بڑی تباہی آتے دیکھ رہا ہوں، ان کا قصور یہ ہے کہ وہ کئی صدیوں پہلے عرب تاجروں کے توسط سے مسلمان ہو گئے تھے، آج وہی عرب تجارت کی خاطر بلڈی مودی کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے ہیں اور مقامی مسلمانوں کو نظر انداز کر چکے ہیں۔ پروفیسر سے اجازت طلب کی تو اس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا ’’بس یہی بتانا تھا کہ صرف پاکستان Pakistan نہیں بلکہ بنگلہ دیش سے افغانستان Afghanistan تک پورا جنوبی ایشیا خطرے میں ہے لیکن میرا نام ظاہر نہ کرنا میری فیملی ابھی تک بنگلہ دیش میں ہے، بلڈی مودی میرا فیملی کو نہیں چھوڑے گا کیونکہ میں ہندو ہوں لیکن سب ہندو مودی جیسا نہیں ہوتا‘‘۔

 147